حلال و حرام کا معیار: وحیِ الٰہی یا انسانی عقل؟

درس نمبر: 261، سورۃ الانعام، آیات: 115 تا 118

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. دین کی بنیاد اکثریت کی رائے یا وہم و گمان پر نہیں بلکہ صرف وحی پر ہے۔
  2. عقل کا صحیح استعمال یہ ہے کہ کائنات میں غور و فکر کیا جائے اور وحی کو سمجھنے میں اس سے کام لیا جائے۔
  3. اللہ تعالیٰ کے واضح احکام کے مقابلے میں عقلی گھوڑے دوڑانے کے بجائے مکمل تسلیم و رضا کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
  4. حلال اور حرام کا فیصلہ انسانی عقل یا analysis پر نہیں بلکہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کے حکم پر موقوف ہے۔
  5. جان کے خطرے جیسی شدید مجبوری کی صورت میں حرام چیز کو بھی صرف بقدرِ ضرورت استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔
  6. مسلمان کی اطاعت احکام کی مصلحتیں سمجھنے پر موقوف نہیں ہے بلکہ اللہ کا حکم بے چون و چرا ماننا ضروری ہے۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (115) وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ (116) اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖ ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ (117) فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ (118) وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآىٕهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ (119) وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ (120) وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓـٕهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ (121)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.

ترجمہ: اور تمہارے ربّ کا کلام سچائی اور انصاف میں کامل ہے۔ اُس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ وہ ہر بات سننے والا، ہر بات جاننے والا ہے ﴿115﴾ اور اگر تم زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کے پیچھے چلوگے تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے گمراہ کر ڈالیں گے۔ وہ تو وہم و گمان کے سوا کسی چیز کے پیچھے نہیں چلتے، اور اُن کا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ خیالی اندازے لگاتے رہیں ﴿116﴾ یقین رکھو کہ تمہارا ربّ خوب جانتا ہے کہ کون اپنے راستے سے بھٹک رہا ہے، اور وہی ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو صحیح راستے پر ہیں ﴿117﴾ چنانچہ ہر اُس (حلال) جانور میں سے کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، اگر تم واقعی اُس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو۔ ﴿118﴾

یہاں پر ایک بات آئی ہے کہ اگر تم

ترجمہ: اکثریت کے پیچھے چلوگے تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے گمراہ کر ڈالیں گے۔

تو اس سے پتہ چلا کہ اکثریت جو ہے گمراہی پر ہے۔ مطلب جو اکثریت ہے وہ گمراہی پر ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ان کا جو نظام ہے اکثریت کا، وہ وحی پر نہیں بنیاد اس کی۔ اس کی بنیاد وہم و گمان پر ہے۔ جیسے ہم لوگ بعض لوگ بات چیت میں کہتے ہیں کہ میرے خیال میں ایسا ہونا چاہیے مذہب کی باتوں میں۔ تو یہ خیال کا مطلب ہے ظاہر ہے گمان۔ تو یہ گمان والی باتیں نہیں چلتیں مذہب میں۔ اس میں وحی کی بات چلتی ہے۔ یعنی وحی ہو تو اس کے اوپر بات کرتے ہیں۔ ہاں البتہ وحی نے جس چیز کو سوچنے کے لیے پیش کیا ہو، جیسے لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ یا اس قسم کی جو آیتیں ہیں مطلب اس میں آتا ہے کہ تاکہ تم عقل سے کام لو۔ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ، یہ آیتِ کریمہ بھی بتا رہی ہے کہ انسان کی جو عقل ہے اللہ پاک نے جو دی ہوئی ہے اس کے ذریعے سے سوچے، اور غور کرے ان چیزوں کے اندر۔ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے ذریعے سے اللہ، قدرتوں کی پہچان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ یہ مطلب گویا ہے کہ عقل کا صحیح ڈومین ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ انسان جو ہے وہ وحی کو سمجھنے کی کوشش کرنے میں عقل سے کام لے۔ یعنی عقل سے کام لینے سے مراد یہ ہے کہ جیسے مختلف بزرگوں، مختلف علمائے کرام نے کام وہ بات کی ہو، ان کے اندر غور کر لے راجح مرجوح۔ اور یہ ہے کہ اس طریقے سے جو ترتیب ہے اور راویوں کی مختلف اس کے اندر انسان جو عقلی بصیرت ہے جس کو فقاہت کہتے ہیں، اس سے کام لے کر وہ پھر بات کرتے ہیں اجتہاد کر سکتے ہیں جس چیز میں اجتہاد کی گنجائش ہو۔ تو وہاں پر بھی عقل کی بات چلتی ہے۔ لیکن، لیکن جس چیز کے بارے میں واضح اللہ پاک نے فرمایا ہو کسی چیز کے بارے میں، تو وہاں عقلی گھوڑے نہیں دوڑائے جاتے۔ وہاں پر انسان کو وہ بات دیکھنی ہے جو اللہ نے بتائی ہے، اللہ کے رسول نے بتائی ہے۔ صحابہ کرام کا طریقہ کیا تھا دیکھیں؟ صحابہ کرام کا طریقہ یہ تھا کہ جب کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے کچھ پوچھتے تو یہ جواب دیتے اللہ اور اللہ کا رسول بہتر جانتا ہے۔ یا جو بات وہ سمجھتے ہوں گے تو ان کو بتا دیتے۔ لیکن یہ ہے کہ زیادہ تر یہی بات کہتے ہیں کہ واللہ و رسولہ اعلم، اللہ اور رسول کو پتہ ہے۔ ان کو زیادہ پتہ ہے۔ تو وہ چونکہ یعنی وحی سے استفادہ کرنا چاہتے تھے لہٰذا ہر چیز میں ان کی کوشش ہوتی کہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بتائیں تو اس پر ہم عمل کر لیں۔ تو یہاں پر یہ والی بات ہے کہ وحی کی بات بالکل سامنے ہو گئی کہتا ہے ہاں یہ تو ٹھیک ہے لیکن یہ لیکن میں سارا گڑبڑ کر لیں گے۔ نہیں، یہ لیکن ویکن نہیں چلتا، جب وہ بات ٹھیک ہے تو پھر لیکن کدھر گیا؟ یہ باتیں۔ تو صحیح طور پہ لینا پڑتا ہے۔ تو یہ والی بات رہی کہ

ترجمہ: یقین رکھو کہ تمہارا ربّ خوب جانتا ہے کہ کون اپنے راستے سے بھٹک رہا ہے، اور وہی ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو صحیح راستے پر ہیں ﴿117﴾ چنانچہ ہر اُس (حلال) جانور میں سے کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، اگر تم واقعی اُس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو۔﴿118﴾

اب یہاں اگر کوئی عقل سے، دنیاوی عقل سے کام لے، تو کہتے ہیں بھئی اللہ کا نام اگر لیا گیا ہے تو اس سے گوشت میں کیا تبدیلی آ گئی؟ مطلب اگر وہ مطلب یہ کہتے ہیں کوئی analysis وہ کرتے ہیں، بھئی گوشت اللہ کا نام اگر نہیں لیا گوشت تو وہی ہے، تو اس میں کیا تبدیلی آ گئی؟ تو وہاں پر اس کو بتایا جائے گا کہ یہ خراب اور صحیح، گندا اور پاک ان چیزوں پہ ہم نہیں جاتے۔ کہتے ہیں حلال اور حرام، حلال اور حرام کا تعلق اللہ کے حکم سے ہے۔ حلال اور حرام کا تعلق کس چیز کے ساتھ ہے؟ اللہ کے حکم کے ساتھ ہے۔ اللہ پاک کا حکم جس چیز کا حلال کا ہو گا وہ حلال ہو گا، جس چیز کے حرام کا ہو گا حرام کا ہو گا، یہ انسان کی عقل کی باتیں نہیں ہیں۔ یہ بات صحیح نہیں ہے۔ باقی عام باتوں میں آپ صحیح اور غلط کی باتیں کر سکتے ہو، صاف اور گندے کی بات کر سکتے ہو۔ وہ تمہاری اپنی analysis ہے ان چیزوں کے بارے میں جن کا تعلق حلال اور حرام کے ساتھ نہیں ہے۔ اس میں بات کر سکتے ہو۔ یعنی ایک بالکل ایک چیز صاف ہو گی، لیکن وہ حرام ہو گی۔ اب سور کا گوشت آپ کتنی ہی دفعہ دھو لیں، تو اس سے کیا وہ پاک ہو جائے گا؟ اس کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ لہٰذا اس کو جو شراب کو آپ کس طریقے سے خوبصورت سے خوبصورت برتن میں، صاف سے صاف برتن میں ڈالیں تو کیا پاک ہو جائے گا؟ حلال ہو جائے گا؟ تو نہیں مطلب وہ نہیں ہو سکتا۔ مطلب وہاں پر یہ والی باتیں نہیں ہیں۔ وہاں پر حکم ہے اللہ کا۔ تو جو اللہ کا حکم ہے اس کو ماننا پڑے گا، اس کے اندر کوئی اور ادھر ادھر ہیچ پیچ نہیں کرنی۔

ترجمہ: اور تمہارے لئے کونسی رکاوٹ ہے جس کی بنا پر تم اُس جانور میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لے لیا گیا ہو؟ حالانکہ اُس نے وہ چیزیں تمہیں تفصیل سے بتادی ہیں جو اُس نے تمہارے لئے (عام حالات میں) حرام قرار دی ہیں، البتہ جن کو کھانے پر تم بالکل مجبور ہی ہوجاؤ، (تو ان حرام چیزوں کی بھی بقدرِ ضرورت اجازت ہوجاتی ہے) اور بہت سے لوگ کسی علم کی بنیاد پر نہیں، (بلکہ صرف) اپنی خواہشات کی بنیاد پر دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں۔ بلاشبہ تمہارا ربّ حد سے گزرنے والوں کو خوب جانتا ہے ﴿119﴾

اب یہاں پر یہ والی بات آ گئی کہ انسان کی اپنی جان کی حفاظت کتنی اہم ہے کہ اگر انسان کو خطرہ ہو کہ بس مطلب یہ فاقے کی وجہ سے میں مر جاؤں گا قوۃ لا یموت والی بات ہو جائے۔ اس صورت میں پھر ان کو حرام سے بھی بقدرِ ضرورت لینے کی گنجائش آ جائے گی۔ اس کے اوپر گرفت نہیں ہو گی۔ لیکن اس کو مزے لے کے نہ کھائے بلکہ ضرورتاً کھا لے، جیسے کوئی دوائی کھاتا ہے کوئی اس طرح کھاتا ہے۔ تو اس قسم کی بات ہوتی ہے۔ جیسے تو بہرحال یہی والی بات ہے کہ ضرورت والی بات ہو۔ تو یہ بات ہے کہ یہاں پر یہ فرماتے ہیں کہ

پیچھے ان لوگوں کا ذکر تھا جو محض خیالی اندازوں پر اپنے دین کی بنیاد رکھتے تھے۔

حاشیہ: پیچھے اُن لوگوں کا ذکر تھا جو محض خیالی اندازوں پر اپنے دین کی بنیاد رکھے ہوئے ہیں۔ اُن کی اس گمراہی کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے، اُس کو یہ حرام کہتے تھے، اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حرام کہا ہے، اُسے یہ حلال سمجھتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ کچھ کافروں نے مسلمانوں پر یہ اعتراض کیا کہ جس جانور کو اللہ تعالیٰ قتل کرے،

دیکھو نا یہ، یہ لاجیک، عقل والی بات۔

حاشیہ: جس جانور کو اللہ تعالیٰ قتل کرے، یعنی وہ اپنی طبعی موت مرجائے، اُس کو تو تم مردار قرار دے کر حرام سمجھتے ہو، اور جس جانور کو تم خود اپنے ہاتھوں سے قتل کرتے ہو، اُس کو حلال قرار دیتے ہو۔

یعنی یہ، مطلب ہے، ان لوگوں نے بھی… تو جواب کیا ہے؟

حاشیہ: اِس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حلال و حرام کا فیصلہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے۔ اُس نے واضح فرمادیا ہے کہ جس جانور پر اللہ کا نام لے کر اُسے ذبح کیا جائے وہ حلال ہوتا ہے، اور جو ذبح کئے بغیر مرجائے یا جسے ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو وہ حرام ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے بعد اپنے من گھڑت خیالات کی بنا پر حلال و حرام کا فیصلہ کرنا ایسے شخص کا کام نہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان رکھتا ہو۔ یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ کفار کی مذکورہ اعتراض کے جواب میں یہ مصلحت بھی بتائی جاسکتی تھی کہ جس جانور کو باقاعدہ ذبح کیا جاتا ہے اُس کا خون اچھی طرح بہہ جاتا ہے، اِس کے برخلاف جو جانور خود مرجاتا ہے، اُس کا خون جسم ہی میں رہ جاتا ہے جس سے پورا گوشت خراب ہوجاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ حکمت بیان فرمانے کے بجائے یہ کہنے پر اکتفا فرمایا کہ جو چیزیں حرام ہیں وہ اللہ نے خود بیان فرمادی ہیں، لہٰذا اُس کے احکام کے مقابلے میں خیالی گھوڑے دوڑانا مؤمن کا کام نہیں۔

یہ ٹریفک کے قوانین ہیں۔ کوئی ٹریفک کی خلاف ورزی کر لے، اس کو پکڑ لیا جائے۔ وہ کہتا ہے نہیں نہیں یہ زیادہ بہتر ہے، دیکھو میں جو بتاتا ہوں اس سے یہ فائدہ ہے اس سے یہ فائدہ ہے۔ کہتا ہے اپنے فائدے اپنے پاس رکھو، چالان چالان کر دیں گے۔ پہلے تم یہ بھرو پھر اس کے بعد تجویز بھیج دو۔ تو مطلب ظاہر ہے یہاں کوئی بات سنتا ہے؟ نہیں سنتا۔ مطلب ظاہر ہے مطلب جو قانون ہے اس کے مطابق وہ کرنا پڑتا ہے۔ تو یہاں پر یہ بات ہے کہ قانون کے مقابلے میں جو بات ہوتی ہے ان کو مختصر بتایا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ بحث نہیں کی جاتی۔ بحث تو پارلیمنٹ میں ہو گی۔ وہاں اس کے ساتھ بحث نہیں کی جاتی۔ وہ کہتے ہیں Order is order۔ بس ٹھیک ہے۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ یہاں پر بھی اس قسم کی بات ہے۔ تو اللہ تعالیٰ تو قادرِ مطلق ہے، مالک الملک ہے، اس کے سامنے کون بول سکتا ہے؟ تو جیسے اللہ پاک نے فرما دیا، مطلب کچھ دلائل والی بات نہیں کی۔ فرمایا کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے، بس بات ختم۔

حاشیہ: لہٰذا اُس کے احکام کے مقابلے میں خیالی گھوڑے دوڑانا مؤمن کا کام نہیں۔ اِس طرح یہ واضح فرمادیا کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم میں یقیناً مصلحتیں ہوتی ہیں، لیکن مسلمان کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ اپنی اطاعت کو ان مصلحتوں کے سمجھنے پر موقوف رکھے۔ اُس کا فریضہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم آجائے تو بے چون و چرا اُس کی تعمیل کرے، چاہے اس کی مصلحت اس کی سمجھ میں آرہی ہو یا نہ آرہی ہو۔

تو میرے خیال میں اتنا کافی ہے کیونکہ آگے ذرا بڑا، لمبا مضمون ہے۔ تو اس وجہ سے اس کو فی الحال مؤخر کر لیتے ہیں۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو قرآن پر، قرآن کو سمجھ کر، اس پر صحیح طریقے سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور قبولیت کے ساتھ۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔

حلال و حرام کا معیار: وحیِ الٰہی یا انسانی عقل؟ - درسِ قرآن - پہلا دور