طلبِ حق، شیطانی فریب اور قانونِ ہدایت

درس نمبر: 260، سورۃ الانعام، آیات: 111 تا 114

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. حق سے انکاری لوگ تمام مطلوبہ معجزات دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے اور اللہ انہیں مجبور نہیں کرتا کیونکہ زبردستی کا ایمان معتبر نہیں۔
  2. حق کے سچے متلاشی کے لیے ایک اشارہ کافی ہوتا ہے، جبکہ نہ ماننے والے محض ٹالنے کی خاطر نت نئے مطالبات کرتے ہیں۔
  3. اللہ تعالیٰ انسان کو ایمان پر مجبور کرنے کے بجائے حق اور باطل واضح کر دیتا ہے جو کہ دراصل ایک امتحان ہے۔
  4. شیاطین اور ان کے پیروکار وسوسوں اور چکنی چپڑی باتوں سے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو محض ایک آزمائش ہے۔
  5. قرآن مجید تمام معاملات کا فیصلہ کرنے والی برحق کتاب ہے، جس کا انکار صرف جہالت یا حسد اور عناد کی بنا پر کیا جاتا ہے۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰـكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ (111) وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا ؕ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ (112) وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْـٕدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ (113) اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ (114)۔

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔

ترجمہ: اور اگر بالفرض ہم ان کے پاس فرشتے بھیج دیتے، اور مردے ان سے باتیں کرنے لگتے، اور (ان کی مانگی ہوئی) ہر چیز ہم کھلی آنکھوں ان کے سامنے لاکر رکھ دیتے، تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں تھے، الاّ یہ کہ اللہ ہی چاہتا (کہ انہیں زبردستی ایمان پر مجبور کردے تو بات دوسری تھی، مگر ایسا ایمان نہ مطلوب ہے نہ معتبر۔)

یہاں پر، فرمایا گیا کہ

حاشیہ: یہ وہ باتیں ہیں جن کی وہ فرمائش کیا کرتے تھے۔ سورۂ فرقان (آیت نمبر 21) میں ان کا یہ مطالبہ مذکور ہے کہ ہمارے اُوپر فرشتے کیوں نازل نہیں کئے گئے؟ اور سورۂ دخان (آیت نمبر 36) میں یہ مطالبہ کہ ہمارے باپ دادوں کو زندہ کرکے ہمارے سامنے لاؤ۔

اصل میں، واقعتاً جب کسی نے کوئی کام کرنا ہوتا ہے یا طالب ہوتا ہے نا۔ تو وہ تلاش میں ہوتا ہے کہ مجھے پتا چل جائے۔ تو میں اس کے مطابق، تو اس کے لیے ایک اشارہ بھی کافی ہوتا ہے۔ لیکن جو طالب نہیں ہوتے۔ تو پھر وہ ادھر ادھر کی باتیں کرتے ہیں۔ صرف بات کو بڑھانے کے لیے۔ ماننا اس نے نہیں ہوتا۔ یہ آج کل بھی یہ چیز چلی آ رہی ہے۔ مثلاً مناظروں میں یہ چیز بہت زیادہ دیکھی جاتی ہے۔ کہ اگر ایک بات کا جواب دے دیا جائے تو اس میں پھر کوئی درمیان میں چیز نکالی جاتی ہے۔ تو یہ صرف اور صرف یعنی ٹالنے والی بات ہوتی ہے۔ تو اللہ جل شانہٗ نے اصول بیان فرما دیا۔ کہ اگر یہ ساری باتیں جو مطلب ہے کہ جو یہ مانگتے ہیں ان کا ہم اس طرح ہی کر دیتے جس طرح یہ چاہتے ہیں۔ تو پھر بھی ایمان لانے والے نہیں تھے کیونکہ اللہ کے علم میں تھا کہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ ہاں اگر اللہ پاک ان کو مجبور کرنا چاہتے تو پھر یہ کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے، پھر ان کو وہی کر، لیکن اللہ پاک کا یہ قانون نہیں ہے۔ اللہ پاک مجبور نہیں فرماتے، یہاں پر صرف یعنی دونوں باتیں سامنے رکھ لیتے ہیں، یہ صحیح ہے، یہ غلط ہے، یہ اچھا ہے، یہ برا ہے۔ یہ کرو یا نہ کرو، بس۔ اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ وہ نہیں کرتے، بس وہ بتا دیتے ہیں کہ یہ کام کیسا ہے، جیسے کفر کیا ہے، ایمان کیا ہے۔ کفر پر کیا ہوگا، ایمان پر کیا ہوگا۔ ایمان لے آؤ، کفر سے مطلب عذاب سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ اعمال میں بھی ایسی بات ہوتی ہے۔ تو اس وجہ سے جو لوگ کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے بات کافی ہوتی ہے جیسے صحابہ کرام جب ایمان لائے تھے۔ تو اس کے بعد پھر ان کا کام کیا ہوتا تھا اٰمَنَّا وَصَدَّقْنَا، اور جب سن لیتے سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا، اس کے علاوہ کوئی اور بات نہیں ہوتی تھی بس سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا والی بات ہوتی تھی۔ تو جو لوگ اس طرح ہوتے ہیں وہ تو پھر یہی کرتے ہیں۔ لیکن اگر ایسا نہیں کرتے، تو پھر وہ درمیان میں مطلب یہ دے، تو اگر وہ پورا ہو جائے کہتے ہیں اچھا اب یہ کر دو۔ پھر اگر وہ پورا ہو جائے کہتے ہیں اب یہ کر دو۔ تو یہ طریقہ جو ہوتا ہے نا وہ اپنے آپ کو نقصان دینے والا ہوتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ

ترجمہ: لیکن ان میں سے اکثر لوگ جہالت کی باتیں کرتے ہیں۔ ﴿111﴾

تو ظاہر ہے جہالت تو پھر ہے۔

حاشیہ: یعنی حقیقت تو یہ ہے کہ تمام معجزات دیکھ کر بھی یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ پھر بھی جو مطالبات کررہے ہیں، وہ محض جہالت پر مبنی ہیں۔

ترجمہ: اور (جس طرح یہ لوگ ہمارے نبی سے دُشمنی کررہے ہیں) اسی طرح ہم نے ہر (پچھلے) نبی کے لئے کوئی نہ کوئی دُشمن پیدا کیا تھا، یعنی انسانوں اور جنات میں سے شیطان قسم کے لوگ، جو دھوکا دینے کی خاطر ایک دوسرے کو بڑی چکنی چپڑی باتیں سکھاتے رہتے تھے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کرسکتے۔

حاشیہ: یہاں پھر وہی بات فرمائی جارہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو شیاطین کو یہ قدرت نہ دیتا، اور لوگوں کو زبردستی ایمان پر مجبور کردیتا، لیکن چونکہ مقصد امتحان ہے، اس لئے زبردستی کا ایمان معتبر نہیں۔

ترجمہ: لہٰذا ان کو اپنی افترا پردازیوں میں پڑا رہنے دو ﴿112﴾ اور (وہ انبیاء کے دُشمن چکنی چپڑی باتیں اس لئے بناتے تھے) تاکہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اُن کے دل ان باتوں کی طرف خوب مائل ہوجائیں، اور وہ ان میں مگن رہیں، اور ساری وہ حرکتیں کریں جو وہ کرنے والے تھے ﴿113﴾

یعنی انسان یہ ہے کہ چونکہ اس کو اختیار ہے دونوں طرح کی باتوں کا، تو جو مطلب شیاطین ہیں انہوں نے تو چونکہ کہا ہے کہ ہم دائیں طرف سے آئیں گے، بائیں طرف سے آئیں گے، آگے سے، پیچھے سے، تجھ تک نہیں پہنچنے دیں گے۔ تو یہ تو شیطان کا کام ہے، تو شیاطین وسوسے ڈالنے کے بڑے ماہر ہوتے ہیں۔ اور جو شیاطین کے چیلے ہوتے ہیں وہ بھی چکنی چپڑی باتیں بنانے کے بڑے ماہر ہوتے ہیں، وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جس سے جو عام لوگ ہیں وہ اگر غور نہ کریں تو پھسل سکتے ہیں۔ تو یہ اصل میں امتحان ہے،کہ ان میں غور کرنا چاہیے، حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے، اپنے آپ کو بچانا چاہیے، اچھے لوگوں کے ساتھ ہونا چاہیے تاکہ بروقت وہ اس قسم کی چیزوں سے بچ سکیں۔ اور جو شیاطین کو وسوسے کا اختیار دیا گیا ہے وہ صرف امتحان کے لیے ہے۔

ترجمہ: (اے پیغمبر! ان لوگوں سے کہو کہ:) ’’کیا میں اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو فیصل بناؤں، حالانکہ اُسی نے تمہاری طرف یہ کتاب نازل کرکے بھیجی ہے جس میں سارے (متنازعہ) معاملات کی تفصیل موجود ہے؟‘‘ اور جن لوگوں کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ یقین سے جانتے ہیں کہ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق لے کر نازل ہوئی ہے۔ لہٰذا تم شک کرنے والوں میں ہرگز شامل نہ ہونا ﴿114﴾

یہ اصل میں جو لوگ اہل کتاب تھے تو ان کو پہلے سے اس بات کا علم تھا کہ یہ جو کتاب ہے یہ حق ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو اس چیز کا پتا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی، لیکن صرف اور صرف عناد اور حسد اور کینے کی وجہ سے ان لوگوں نے انکار کر دیا۔ اور باقی لوگوں نے جہالت کی وجہ سے۔ تو جو لوگ جاہل نہیں تھے اور جو لوگ حاسد نہیں تھے تو ان کے اوپر جب حق کی بات پیش کی جاتی تو جب غور کرتے تو ان کو پتا چل جاتا تھا۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کو ایسے شیاطین کے شر سے محفوظ رکھے، اور حق کا متلاشی رکھے، اور حق تک ہمیں پہنچائے اور اسی پر قائم رکھے۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کو اپنا تعلق خاص نصیب فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِيْنَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۔ وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّتِ عَمَّا يَصِفُوْنَ۔ وَسَلَامٌ عَلٰى الْمُرْسَلِيْنَ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔

طلبِ حق، شیطانی فریب اور قانونِ ہدایت - درسِ قرآن - پہلا دور