عظمتِ باری تعالیٰ، حقیقتِ توحید اور انسانی اختیار و جوابدہی
درس نمبر: 258، سورۃ الانعام، آیات: 101 تا 107
کمالِ توحید اور شانِ خالقیت
ادراکِ بصارت سے ماورا صفتِ لطافت
دلائلِ بصیرت اور ذاتی ذمہ داری
تنوعِ آیات اور کفار کے بے بنیاد الزامات
اتباعِ وحی اور مشرکین سے اعراض
مشیتِ الٰہی، مقصدِ آزمائش اور حدودِ رسالت
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ؕ اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ ؕ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ(101) ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُ ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ(102) لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ(103) قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآىٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ(104) وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ(105) اِتَّبِـعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ(106) وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا ؕ وَ مَا جَعَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ(107)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: وہ تو آسمانوں اور زمین کا موجد ہے۔ اُس کا کوئی بیٹا کہاں ہوسکتا ہے، جبکہ اُس کی کوئی بیوی نہیں؟ اُسی نے ہر چیز پیدا کی ہے، اور وہ ہر چیز کا پورا پورا علم رکھتا ہے﴿101﴾ لوگو! وہ ہے اللہ جو تمہارا پالنے والا ہے! اُس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ہر چیز کا خالق ہے۔ لہٰذا اُس کی عبادت کرو۔ وہ ہر چیز کی نگرانی کرنے والا ہے ﴿102﴾ نگاہیں اُس کو نہیں پاسکتیں، اور وہ تمام نگاہوں کو پالیتا ہے۔ اُس کی ذات اتنی ہی لطیف ہے، اور وہ اتنا ہی باخبر ہے۔﴿103﴾
حاشیہ: یعنی اُس کی ذات اتنی لطیف ہے کہ کوئی نگاہ اس کو نہیں پاسکتی، اور وہ اتنا باخبر ہے کہ ہر نگاہ کو پالیتا ہے،
یہ اصل میں اللہ جل شانہ کی صفات کی بات ہو رہی ہے۔ کہ اللہ جل شانہ ساری چیزوں کا احاطہ کرتا ہے۔ ایک ہی وقت میں، آن میں۔ بلکہ اس کے لیے ماضی، حال، مستقبل سب ایک ہے۔ جبکہ ہم لوگ اللہ جل شانہ کے بارے میں جو علم اس نے خود ہمیں دیا ہے وہ تو ہے، مطلب جو بتایا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ ہم کچھ بھی نہیں جانتے۔ کیونکہ ہماری آنکھیں یہ طاقت نہیں رکھتیں یہاں پر اس دنیا میں کہ ہم اللہ پاک کو دیکھ سکیں۔ اور اللہ پاک کے جو تمام حالات ہیں وہ ہمیں معلوم نہیں۔ جبکہ وہ ہمارے ہر حال کی خبر رکھتا ہے اور سب کی، جو جہاں پر ہے جیسے بھی ہے، سب کی پوری طرح خبر رکھتا ہے۔
حاشیہ: اس جملے کی یہ تفسیر علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ نے متعدد مفسرین سے نقل کی ہے، اور سیاق و سباق کے لحاظ سے نہایت مناسب ہے۔ یہاں یہ واضح رہے کہ لطافت بھی عام بول چال میں جسم ہی کی صفت ہوتی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ جسم سے پاک ہے، لیکن لطافت کا اعلیٰ ترین درجہ وہ ہے جو جسمیت کے ہر شائبہ سے ماورا ہو۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کو لطیف اسی معنی میں کہا گیا ہے۔
یعنی یہاں پر ایک نکتہ حضرت نے بتا دیا۔ اور وہ یہ کہ لطیف جس کو ہم کہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی ایسی چیز جو باریک ہو۔ تو مطلب یہ ہے کہ گویا کہ تھوڑا اس میں بات آ سکتی ہے کہ جیسے کوئی جسم ہو اور وہ لطیف ہو۔ تو عام طور پر لوگ اس کو یعنی یوں جانتے ہیں۔ حالانکہ ہمارے ہاں یہ نہیں ہے، جو محققین ہیں ان کے ہاں یہ چیز نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسے ہم نقشبندی سلسلے کے لطائف کی بات کرتے ہیں۔ تو وہ لطیفہ وہ جسم تو نہیں ہے۔ وہ تو جسم سے، یعنی مطلب یہ ہے، ماورا چیز ہے۔ لیکن اس کو ہم لطیف کہتے ہیں اور اس کی جمع لطائف ہے۔ لیکن عام بول چال میں، عام طور پر، جس کو، جو بہت باریک چیز ہو تو ہم کہتے ہیں یہ لطیف ہے۔ تو یہ فرمایا کہ یہ جسم کے اللہ تعالیٰ چونکہ جسم سے پاک ہے۔ تو اس میں لطائف، لطافت کا مطلب یہ ہے کہ وہ اعلیٰ ترین درجہ ہے جو جسمیت کے ہر شائبے سے پاک ہو۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کو بھی لطیف اس معنی میں کہا گیا ہے۔
ترجمہ: (اے پیغمبر! ان لوگوں سے کہو کہ:) ’’تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے بصیرت کے سامان پہنچ چکے ہیں۔ اب جو شخص آنکھیں کھول کر دیکھے گا، وہ اپنا ہی بھلا کرے گا، اور جو شخص اندھا بن جائے گا، وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ اور مجھے تمہاری حفاظت کی ذمہ داری نہیں سونپی گئی ہے۔﴿104﴾
حاشیہ: یعنی مجھ پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی گئی ہے کہ تم میں سے ہر شخص کو زبردستی مسلمان کرکے کفر کے نقصان سے بچاؤں۔ میرا کام سمجھا دینا ہے۔ ماننا نہ ماننا تمہارا کام ہے۔
ترجمہ: اسی طرح ہم آیتیں مختلف طریقوں سے بار بار واضح کرتے ہیں، (تاکہ تم انہیں لوگوں تک پہنچادو) اور بالآخر یہ لوگ تو یوں کہیں کہ: ’’تم نے کسی سے سیکھا ہے‘‘
حاشیہ: ہٹ دھرم قسم کے کافروں کو کبھی یہ کہتے ہوئے تو شرم آتی تھی کہ یہ کلام خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑ لیا ہے، کیونکہ وہ آپ کے اسلوب سے اچھی طرح واقف تھے، اور یہ بھی جانتے تھے کہ آپ اُمّی ہیں، اور کسی کتاب سے خود پڑھ کر یہ کلام نہیں بناسکتے، لہٰذا وہ قرآن کریم کے بارے میں یہ کہا کرتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلام کسی سے سیکھا ہے، اور اسے اللہ کا کلام قرار دے کر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ لیکن کس سے سیکھا ہے؟ وہ بھی نہیں بتاسکتے تھے۔ کبھی کبھی وہ ایک لوہار کا نام لیتے تھے جس کی تردید سورہ نحل میں آنے والی ہے۔
وہ میرے خیال میں کوئی عیسائی تھا جو لوہار تھا اور وہ دوسری جگہ سے آیا ہوا تھا، اس کی زبان عربی نہیں تھی، عجمی تھے۔ تو جواب یہی دیا گیا تھا نا کہ وہ تو عجمی ہے، تو یہ تو قرآن مطلب عربی مبین میں ہے، تو مطلب کیسے وہ اس سے سیکھ سکتے ہیں۔ مطلب اس کا جواب یہ دیا گیا تھا کہ تم لوگ جس کو کہتے ہو تو وہ تو عجمی ہے۔ تو یہ بات وہ یعنی فرمائی گئی۔
ترجمہ: اور جو لوگ علم سے کام لیتے ہیں، اُن کے لئے ہم حق کو آشکار کردیں ﴿105﴾ (اے پیغمبر!) تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے جو وحی بھیجی گئی ہے، تم اسی کی پیروی کرو، اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور جو لوگ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں، اُن سے بے پروا ہوجاؤ ﴿106﴾ اگر اللہ چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے۔
یعنی اگر زبردستی اگر اللہ تعالیٰ کسی کو مسلمان بنانا چاہتا تو یہ نہیں کر سکتے تھے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ جل شانہ چونکہ خالق ہے تمام چیزوں کا اور مالک ہے تمام چیزوں کا، لیکن کسب کا وہ چونکہ انسان کو دیا گیا ہے۔ تو جب وہ ارادہ کر لیتے ہیں انسان، تو اس کے ساتھ جب اپنا ارادہ شامل کر لیتے ہیں تو ہو جاتا ہے۔ اور جب اپنا ارادہ شامل نہیں کرتے تو وہ کام نہیں ہو جاتا۔ مثلاً کوئی کسی کو قتل کرنا چاہتا ہے لیکن اللہ پاک کو منظور نہ ہو تو نہیں قتل کر سکتا۔ وہ ایک دفعہ پتا نہیں Northern Area میں وہ کچھ تھا مطلب جو ہے تو ایک صاحب کے، مطلب پیٹ کے اوپر کلاشنکوف رکھ کر full burst چڑھا دیا۔ وہ گولیاں اِدھر اُدھر چلی گئیں، وہ نہیں مرا۔ اب وہ کیسے ہو سکتا ہے، پیٹ کے اندر یہ صلاحیت کدھر ہے کہ وہ کلاشنکوف کی گولیوں کو آگے پیچھے کر سکے۔ لیکن بس جو ہے اللہ پاک کو منظور نہیں تھا تو۔ اور جب اللہ کو منظور ہوتا ہے تو بس تھپڑ بھی دے تو اسی سے بھی مر جاتا ہے۔ مطلب ظاہر ہے انسان کو انسان کچھ نہیں کر سکتا۔
ترجمہ: ہم نے نہ تمہیں ان کی حفاظت پر مقرر کیا ہے، اور نہ تم ان کے کاموں کے ذمہ دار ہو۔ ﴿107﴾
یہ بات ہے کہ انسان وہ خود وہ یعنی اپنے عمل کا ذمہ دار ہے۔ باقی یہ ہے کہ صرف تبلیغ انسان کر سکتا ہے۔ تو اس میں یہ ہے
حاشیہ: کہ اللہ تعالیٰ اگر چاہتا تو سارے انسانوں کو زبردستی ایک ہی دین کا پابند بنادیتا، لیکن درحقیقت انسان کو دُنیا میں بھیجنے کا بنیادی مقصد امتحان ہے، اور اس امتحان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان زور زبردستی سے نہیں، بلکہ خود اپنی سمجھ سے کام لے کر ان دلائل پر غور کرے جو پوری کائنات میں بکھرے پڑے ہیں، اور پھر اپنی مرضی سے توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان لائے۔ انبیائے کرام ان دلائل کی طرف متوجہ کرنے کے لئے بھیجے جاتے ہیں، اور آسمانی کتابیں اس امتحان کو آسان کرنے کے لئے نازل کی جاتی ہیں، مگر ان سے فائدہ وہی اُٹھاتے ہیں جن کے دل میں حق کی طلب ہو۔ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کفار کے طرزِ عمل پر مغموم رہتے تھے، اس لئے آپ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ اپنا فرض ادا کرچکے ہیں۔ ان لوگوں کے اعمال کی کوئی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔
یہ بات ہے۔ تو اللہ جل شانہ ہم سب کو خود یہ طلب نصیب فرما دے کہ ہم لوگ ٹھیک ہونا چاہیں۔ اور اللہ ہماری مدد کر لے، بس ہمیں اللہ پاک اپنا بنا دے۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ۔ وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ۔ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ ۔ بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔