نظامِ قدرت اور معرفتِ الٰہی
درس نمبر: 257، سورۃ الانعام، آیات: 98 تا 100
- کائنات کے تمام سسٹمز کو چلانے والا محرک اول صرف اللہ تعالیٰ ہے اور اسی کی پہچان ہی اصل معرفت ہے۔
- انسان کے قیام کے لیے ایک مستقل ٹھکانہ اور ایک عارضی جگہ مقرر کی گئی ہے جس کی تفسیر ماں کے رحم، دنیا یا قبر سے کی گئی ہے۔
- بظاہر ایک جیسے نظر آنے والے پھلوں اور نباتات میں مختلف صفات اور خواص کا پایا جانا اللہ تعالیٰ کی قدرت کی واضح نشانیاں ہیں۔
- کائنات کی ہر مفید اور بظاہر بری چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، لہٰذا شیطان کو نقصان دہ اشیاء کا خالق قرار دینا باطل عقیدہ ہے۔
- زندگی کی بظاہر ناپسندیدہ رکاوٹیں اور نفس کی خواہشات دراصل ایک ابتلا ہیں جن کا مقصد انسان کو آزمانا اور اس کی ترقی کے راستے کھولنا ہے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ(98) وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِ جُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖ ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ(99) وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍ ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ (100)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ
ترجمہ: وہی ہے جس نے تم سب کو ایک جان سے پیدا کیا، پھر ہر شخص کا ایک مستقر ہے، اور ایک امانت رکھنے کی جگہ
حاشیہ: مستقر اُس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی شخص باقاعدہ اپنا ٹھکانا بنالے۔ اس کے برعکس امانت رکھنے کی جگہ پر قیام عارضی قسم کا ہوتا ہے، اس لئے وہاں رہائش کا باقاعدہ انتظام نہیں کیا جاتا۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس آیت کی تفسیر مختلف طریقوں سے کی گئی ہے۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے اس کی یہ تفسیر منقول ہے کہ مستقر سے مراد دُنیا ہے جہاں انسان باقاعدہ اپنی رہائش کا ٹھکانا بنالیتا ہے، اور امانت رکھنے کی جگہ سے مراد قبر ہے جس میں انسان کو مرنے کے بعد عارضی طور سے رکھا جاتا ہے۔ پھر وہاں سے اسے آخرت میں جنت یا جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔ البتہ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ نے ان لفظوں کی تفسیر اس طرح کی ہے کہ مستقر سے مراد ماں کا پیٹ ہے جس میں بچہ مہینوں ٹھہرا رہتا ہے، اور امانت رکھنے کی جگہ سے مراد باپ کی صلب ہے جس میں نطفہ عارضی طور سے رہتا ہے، پھر ماں کے رحم میں منتقل ہوجاتا ہے۔ بعض مفسرین نے اس کے برعکس مستقر باپ کی صلب کو قرار دیا ہے، اور امانت رکھنے کی جگہ ماں کے رحم کو، کیونکہ بچہ وہاں عارضی طور پر رہتا ہے (روح المعانی)۔
ترجمہ: ہم نے ساری نشانیاں ایک ایک کرکے کھول دی ہیں، (مگر) اُن لوگوں کے لئے جو سمجھ سے کام لیں ﴿98﴾ اور اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا۔ پھر ہم نے اُس کے ذریعے ہر قسم کی کونپلیں اُگائیں۔ ان (کونپلوں) سے ہم نے سبزیاں پیدا کیں جن سے ہم تہہ برتہہ دانے نکالتے ہیں، اور کھجور کے گابھوں سے پھلوں کے وہ گچھے نکلتے ہیں جو (پھل کے بوجھ سے) جھکے جاتے ہیں، اور ہم نے انگوروں کے باغ اُگائے، اور زیتون اور انار! جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں، اور ایک دوسرے سے مختلف بھی۔
حاشیہ: اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ بعض پھل دیکھنے میں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوتے ہیں، اور بعض صورت اور ذائقے میں ایک دوسرے سے مختلف بھی ہوتے ہیں۔ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ جو پھل دیکھنے میں ملتے جلتے نظر آتے ہیں، ان کی خصوصیات ایک دوسرے سے الگ ہوتی ہیں۔
ترجمہ: جب یہ درخت پھل دیتے ہیں تو ان کے پھلوں اور اُن کے پکنے کی کیفیت کو غور سے دیکھو۔ لوگو! ان سب چیزوں میں بڑی نشانیاں ہیں، (مگر) اُن لوگوں کے لئے جو ایمان لائیں ﴿99﴾ اور لوگوں نے جنّات کو اللہ کے ساتھ خدائی میں شریک قرار دے لیا،
حاشیہ: جنات سے مراد شیطان ہیں، اور یہ اُن لوگوں کے باطل عقیدے کی طرف اشارہ ہے جو یہ کہتے تھے کہ تمام مفید مخلوقات تو اللہ نے پیدا کی ہیں، مگر درندے، سانپ، بچھو اور دوسرے موذی جانور، بلکہ تمام بُری چیزیں شیطان نے پیدا کی ہیں، اور وہی اُن کا خالق ہے۔ ان لوگوں نے بظاہر ان بُری چیزوں کی تخلیق کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے سے پرہیز کیا، لیکن اتنا نہ سمجھ سکے کہ شیطان خود اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے، اور وہ سب سے بُری مخلوق ہے۔ اگر بُری چیزیں شیطان کی پیدا کی ہوئی ہیں تو خود اُس بُری مخلوق کو کس نے پیدا کیا؟ اس کے علاوہ جو چیزیں ہمیں بُری نظر آتی ہیں، اُن کی تخلیق میں بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمتیں ہیں، اور اُن کی تخلیق کو بُرا فعل نہیں کہا جاسکتا، بقول اقبال مرحوم:
نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
کوئی بُرا نہیں قدرت کے کارخانے میں
ترجمہ: حالانکہ اللہ نے ہی اُن کو پیدا کیا ہے۔ اور سمجھ بوجھ کے بغیر اُس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں تراش لیں،
یہ عیسائیوں کے عقیدے کے بارے میں ہے کہ انہوں
حاشیہ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہا تھا، اور عرب کے مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔
ترجمہ: حالانکہ اللہ کے بارے میں جو باتیں یہ بناتے ہیں، وہ اُن سب سے پاک اور بالا و برتر ہے ﴿100﴾
اللہ جل شانہ کی قدرت اور جو اللہ پاک کی جو مخلوقات ہیں، اس میں اللہ پاک کی معرفت ہوتی ہے۔ تو یہ سب چیزیں اللہ جل شانہ نے یہ بیان فرمائی ہیں کہ یہاں پر کیا کیا اللہ پاک نے پیدا فرمایا ہے۔ اصل میں ہمارے جو سائنسدان حضرات ہیں وہ یقیناً اپنا اپنا کام کر رہے ہیں اور کرنا بھی چاہیے۔ لیکن جو conclusions ہیں ان میں پھر ظاہر ہے غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو یہ اس طرح کرتے ہیں کہ یہ cause and effect کے ذریعے سے study کر کے مختلف، مطلب، نتائج نکالتے ہیں کہ یہ action ہوا، تو اس کے ذریعے سے یہ ہوا، تو پھر اس کے ذریعے سے یہ ہوا، اور ساری چیزیں وہ بیان کرتے ہیں۔ اور ان میں اتنے گم ہو جاتے ہیں نا کہ جو اصل سب کو پیدا کرنے والے ہیں، اور اس کے بارے میں یہ کچھ نہیں کہتے، نہ جانتے ہیں، نہ جاننا چاہتے ہیں۔ یہی اصل میں بنیادی معرفت ہوتی ہے جس سے یہ محروم ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ ایک اور بھی ہے۔ وہ یہ بھی ہے کہ یہ ہر چیز کو اپنے اپنے طور پر study کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے زراعت کو اپنے طور پر study کریں گے، environment کو اپنے طور پر study کریں گے، اور جو مختلف چیزیں جو بنی ہوئی ہیں سمندروں میں یا جو ان جگہوں پر، ان کو بھی اپنے اپنے طور پر geology وغیرہ کے مطابق study کرتے ہیں۔ تو یہ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی ہوتی کہ یہ ساری چیزیں جو ہیں نا ایک اللہ کی بنائی ہوئی ہیں۔ مطلب یہ گویا کہ تعدد کی طرف جاتے ہیں، ہر چیز کا الگ الگ مطلب وہ کرتے ہیں۔ حالانکہ جو بنیاد ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہے۔ اس کی میں مثال اکثر دیا کرتا ہوں کہ جیسے بجلی ہے۔ اب بجلی چلی جائے تو ساری چیزیں رک جاتی ہیں، ایک پنکھا بھی رک جاتا ہے، AC بھی رک جاتا ہے، فریج بھی رک جاتا ہے، بلب بھی بجھ جاتا ہے، پرنٹر بھی بند ہو جاتا ہے، مطلب ساری چیزیں جتنی بھی بجلی سے چلنے والی چیزیں ہیں، وہ سب بند ہو جاتی ہیں۔ اور جب بجلی آ جاتی ہے تو یہ سارے چل پڑتے ہیں۔ اب ظاہر ہے مطلب ہر ایک بالکل مختلف ہے، different ہے، لیکن سب کی جو چلانے والی چیز ہے اس کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بجلی ہے۔ بجلی بند ہو جائے تو یہ سارے بند ہو جاتے ہیں۔ تو اسی طرح جتنے بھی systems ہیں وہ جو کام کر رہے ہیں، وہ systems اپنے اپنے طور پہ ٹھیک ہیں، ان کی جو study ہے وہ تمام چیزیں صحیح ہیں، لیکن جو محرک اول ہے، مطلب جو ان ساری چیزوں کو پیدا کرنے والا ہے، ان ساری چیزوں کو چلانے والا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ تو یہاں پر دیکھیں پھلوں کے بارے میں فرمایا کہ ایک جیسے پھل نظر آتے ہیں لیکن اس میں صفات مختلف ہوتی ہیں۔ تو اس سے پتا چلتا ہے کہ اللہ پاک نے اس کے اندر یہ تبدیلی پیدا کی ہے۔ پھر اس کے بعد مطلب ظاہر ہے کہ یہ جو اس کے مختلف procedures ہیں، ہر چیز کی الگ الگ procedure ہے جیسے کوئی پیدا کس طرح ہوتا ہے، پھر پکتا کیسے ہے، پھر مطلب اس کے خراب کیسے ہوتا ہے، تو ساری چیزیں مطلب ان کے الگ الگ systems کے تابع ہیں۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو سب چیزیں ایک طرف سے ہی guided ہوتی ہیں۔ تو یہ چیز اللہ پاک نے اس میں بتا دی ہے کہ مختلف چیزیں جو چل رہی ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اللہ پاک کی تخلیق سے وجود میں آئی ہیں۔ تو اس میں اللہ پاک کی طرف سے بڑی نشانیاں ہیں جو لوگ ایمان لاتے ہیں اس پر۔ بعض نے کچھ چیزوں کو ذرا different سمجھ کر اپنے ان کے لیے الگ نظریے بنا لیے۔ جن میں سے ایک تو یہ ہے کہ شیطان۔ اب اپنے خیال میں انہوں نے یہ سوچا کہ جو اچھی چیزیں ہیں وہ تو اللہ نے بنا لیں۔ لیکن جو بری چیزیں ہیں تو اللہ پاک تو بری چیزیں نہیں بناتے۔ تو وہ شیطان نے بنائی ہیں۔ تو یہ ظاہر ہے مطلب بظاہر تو ان کا خیال گویا کہ اللہ پاک کے لیے پاک نظر آتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ سب چیزوں کا پیدا کرنے والا اللہ ہے، اس کے جیسے چیزوں کے اندر مختلف خواص رکھے ہیں، تو خواص مختلف ہو سکتے ہیں۔ ان کا استعمال مختلف ہو سکتا ہے۔ تو اچھائی برائی بھی آپس میں مختلف ہے۔ لیکن اس کا پیدا کرنے والا ایک ہے۔ لیکن جو بری چیز ہمیں نظر آتی ہے وہ ضروری نہیں کہ ہر چیز میں بری ہو۔ ہر چیز میں بری ہونا وہ نہیں ہے۔ وہ تو اصل میں اس میں دیکھتا ہے کہ ابتلا ہے، امتحان ہے۔ تو بطور test دیکھا جاتا ہے کہ اچھا اگر ان کو اس طرح کیا جائے تو پھر یہ کیا کرتے ہیں۔ اب دیکھیں نفس ہے نا یہ بھی تو اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے۔ لیکن اس نفس کے اندر مختلف خواہشات ہیں اور وہ خواہشات اتنی زیادہ powerful ہوتی ہیں کہ اس کے لیے لوگ اللہ پاک کے حکم کو بھول جاتے ہیں۔ اب اگر کسی نے اس حالت میں بھی اللہ کو یاد رکھا۔ اور اللہ کو نہ بھولے تو یقیناً کریڈٹ ہے۔ تب ان کے لیے مفید ہوں گے۔ اب میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ جیسے مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ جو شہواتِ دنیا ہے، یہ ہمارے لیے حمام کے خس و خاشاک کی طرح ہے۔ یعنی اسی سے تقویٰ کا حمام روشن ہے۔ اب دیکھیں اگر یہ چیز نہ ہو تو ٹیسٹ کیسے ہوتا؟ ٹیسٹ کیسے ہوتا؟ مثلاً بھوک نہ ہوتی تو روزے کی فضیلت کیسے آتی؟ تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ جو چیز ہے وہ ہمارے سامنے آتی ہے۔ تو وہ بطور ٹیسٹ ہے۔ ابتلا ہے۔ اگر اچھی چیز آتی ہے یہ بھی ابتلا ہے کہ یہ شکر کرتا ہے یا نہیں کرتا۔ اور اگر تکلیف دہ چیز آتی ہے یا خراب چیز آتی ہے، وہ بھی ہمارا امتحان ہے۔ کہ اس سے بندہ اس پہ صبر کرتا ہے یا نہیں کرتا، اس سے بچتا ہے یا نہیں بچتا۔ چانس دیا ہوا ہے سب کو۔ لیکن اس چانس کو وہ کیسے avail کرتا ہے، کیسے مطلب اس پہ کام کرتا ہے۔ یہ ہر ایک کا اپنا اپنا ہے۔ تو اسی سے پھر ہر ایک کا موقع بنتا ہے کہ ترقی کا۔ یہ مطلب آپ کے آرمی لوگوں میں وہ جو نہیں ہوتے وہ ٹیسٹ جو لیتے ہیں۔ ISSB میں۔ obstacles وغیرہ۔ اب obstacles، وہ کہتے ہیں یار تمہیں کیا ضرورت پڑی، ہمارے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہو؟ کہتے ہیں اسی پہ تو ٹیسٹ ہو رہا ہے کہ آپ آگے چل سکیں گے یا نہیں چل سکیں گے۔ تو ٹیسٹ اس کے لیے نہیں ہوتا، دشمنی کے لیے نہیں ہوتا۔ وہ promotions کے لیے ہوتا ہے۔ یعنی اس کو آگے بڑھانے کے لیے ہوتا ہے۔ تو اصل میں یہی وہ چیز ہے جو کہ لوگوں کو سمجھ نہیں آتی۔ کہ یہ آپ کے لیے ایک راستہ ہے۔ اس راستے کے ذریعے سے آپ وہ کرتے ہیں۔ اب دیکھو ہم چلتے ہیں۔ تو نیوٹن کا تھرڈ قانون یہ ہے کہ آپ جس چیز پہ force apply کرتے ہو، جواب میں آپ کے اوپر وہی reaction کے طور پہ force apply ہوتا ہے۔ Every action is always equal and opposite reaction۔ آپ قدم آپ نے رکھا، زمین کو دبایا، زمین نے آپ کو دبایا۔ جواب میں، تو آپ کا قدم آگے چلا۔ مطلب ظاہر، ورنہ یہ ہے کہ پھر آپ نہیں چل سکتے تھے۔ یہ friction جو ہے، friction کی وجہ سے تو آپ کی گاڑیاں چل رہی ہیں۔ حالانکہ friction کیا چیز ہے؟ ایک resistance ہے نا۔ یعنی آپ کے راستے کی رکاوٹ ہے۔ لیکن اس رکاوٹ نے آپ کی گاڑی چلنے کے لیے راستہ بنایا ہوا ہے۔ آپ ذرا سا بالکل smooth surface کے اوپر چل کے دکھائیں نا۔ یہ مری میں جب یہ برف باری ہو جاتی ہے اور پھر کورا ہو جاتا ہے۔ تو پھر کتنی گاڑیاں slip ہوتی ہیں؟ وہ تو بڑی smooth ہوتی ہے۔ Smoothness تو بڑی اچھی چیز ہے۔ لیکن اس نے آپ کی موت کا سامان کر دیا۔ جبکہ وہ کھردرا پن جو ہے، وہ آپ کی زندگی ہے۔ یعنی اس کے ذریعے سے آپ کی بچت ہے۔ یہ tyres نہیں ہوتے، tyres کے اوپر وہ بنے ہوتے ہیں یہ grooves، ختم ہو جاتے ہیں پھر کیا ہوتا ہے؟ کہتے ہیں tyre change کر لو۔ یہ پرانے ہو گئے، مطلب یہ ہے کہ اب یہ ٹھیک نہیں ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ہر جو چیز وہ کہتے ہیں every shining thing۔ تو یہ مطلب یہ ہے کہ جو آپ کو اچھی نظر آتی ہے ضروری نہیں کہ وہ آپ کے لیے اچھی ہو۔ جو آپ کو بری نظر آتی ہے، وہ ضروری نہیں کہ آپ کے لیے بری ہو۔ بس صرف یہ والی بات ہے کہ نتیجے کو دیکھو۔ What is the result؟ عَسَى اَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ۔ وَعَسَى اَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ۔ وَاللهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ۔ بارہا ایسی چیزیں ہوتی ہیں، تم پسند کرتے ہو، لیکن وہ تمہارے لیے اچھی نہیں ہوتیں۔ ہاں؟ اور بارہا ایسی چیزیں ہیں جو تم ناپسند کرتے ہو لیکن وہ تمہارے لیے اچھی ہوتی ہیں۔ اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ عطا فرمائے۔
وَاَخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ۔ وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ۔ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔