مصیبت اور تکلیف کے وقت موت کی تمنا کرنے کی شرعی حیثیت

درس نمبر 51، جلد 1، باب 3: صبر کا بیان۔

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • موت کی تمنا کی ممانعت: دنیاوی تکلیف یا بیماری کی وجہ سے موت مانگنا منع ہے کیونکہ یہ بے صبری کی علامت ہے۔
    • مسنون دعا: اگر تکلیف شدید ہو تو فیصلہ اللہ پر چھوڑتے ہوئے یہ دعا کرنی چاہیے کہ "اے اللہ جب تک زندگی میرے لیے خیر ہے زندہ رکھ، اور جب وفات بہتر ہو تو وفات دے۔"
      • زندگی کی اہمیت: زندگی آخرت کی تیاری کا واحد موقع اور اللہ کی بڑی نعمت ہے، اسے ضائع کرنے کی آرزو نہیں کرنی چاہیے۔
        • تفویض الی اللہ: اپنے معاملات اور فیصلے اللہ کے سپرد کرنا (تفویض) بہترین عمل ہے کیونکہ انسان مستقبل اور انجام سے بے خبر ہے۔
          • موت کا فلسفہ: موت بذاتِ خود بری چیز نہیں بلکہ اللہ سے ملاقات کا پل ہے، لیکن اسے بے صبری میں مانگنا غلط ہے۔

            الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ: فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

            موت کی تمنا نہ کی جائے

            (40) ﴿وَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ أَصَابَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْيَقُلْ: اَللّٰهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِّي وَ تَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِّي﴾ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) ترجمہ: "حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی تکلیف کے آنے پر کوئی شخص موت کی آرزو نہ کرے اگر اس سے کوئی چارہ نہ ہو تو یہ کلمات کہے "اے اللہ مجھے اس وقت تک زندہ رکھئے جب تک میرے لئے زندہ رہنا بہتر ہے اور اس وقت فوت کر دیجئے جب میرے حق میں فوت ہونا بہتر ہو۔"

            تشریح: موت کی تمنا کرنا جائز نہیں

            موت کی تمنا کرنا اس لیے منع ہے کیونکہ مستقبل کا علم کسی کو نہیں کہ آئندہ زندگی اس کے حق میں بہتر ہوگی یا نہیں۔ موت کی تمنا کرنا منع اس لئے ہے کیونکہ مستقبل کا علم کسی کو نہیں کہ آئندہ زندگی اس کے حق میں بہتر ہوگی یا نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ مصیبت کے وقت میں موت کی تمنا کرنا اس میں بے صبری بھی پائی جاتی ہے حالانکہ شریعت میں مصیبت پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہاں اگر دعا ہی کرنی ہے تو حدیث بالا والی دعا کی جائے کہ جب تک میرے لئے زندہ رہنا بہتر ہے تو زندہ رکھ اور جب موت بہتر ہو تو موت دے دے۔ ہاں اگر کسی مقدس مقام یا شہادت کی تمنا کرتا ہے تو یہ جائز ہے۔

            تخریجِ حدیث:

            اخرجہ البخاری کتاب المرضی (باب ما جاء فی کفارة المرض) و صحیح مسلم فی الذکر (باب كراهة تمنى الموت لضر نزل به) و اخرجہ امام احمد فی مسندہ 12015/4، النسائی 1818، ابن حبان 2966 و البيهقی 377/3۔

            تو موت جو ہے یہ اصل میں یقیناً مومن کے لیے بہت بڑا تحفہ ہے۔ کیونکہ: الْمَوْتُ جِسْرٌ يُوصِلُ الْحَبِيبَ إِلَى الْحَبِيبِ۔ کہ موت ایک پل ہے، جو کہ حبیب کو حبیب کے ساتھ ملا دیتا ہے۔

            تو موت سے کراہت بھی نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاقات کا ایک ذریعہ ہے۔ لیکن زندگی بھی بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسی زندگی میں آخرت کے لیے تیاری ہے۔ موت کے بعد تو انسان کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ تو جتنا موقع انسان کو ملتا ہو، اس موقعے سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ مطلب زندگی کے جو لمحات ہیں، ان لمحات میں خیر کے کام کرنے چاہئیں۔ جو مال ہے، اس مال کو صحیح طریقے سے استعمال کرنا چاہیے۔ علم ہے، اس کو صحیح طور پہ کام میں لانا چاہیے۔ اور جو جان ہے، اس کو بھی صحیح طریقے سے استعمال کرنا چاہیے۔ تو اس سے ہمارے لیے آخرت میں ظاہر ہے فائدہ ہوگا۔کیونکہ آخرت کی ساری زندگی جو بعد والی ہے، وہ اسی مختصر زندگی پر منحصر ہے۔ لہذا اگر کوئی اس میں کچھ کرے گا، تو وہاں اس کا اجر پائے گا۔

            فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ، وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ.

            تو یہ بات تو بالکل صحیح ہے کہ یہ چونکہ موت کے بعد کی زندگی کے لیے تیاری اسی زندگی میں ہو سکتی ہے، لہذا زندگی کو ایک غنیمت سمجھنا چاہیے۔ ہاں، اب چونکہ پتہ نہیں ہے کہ میرے لیے موت بہتر ہے یا زندگی بہتر ہے، اور انسان اس طرح مشکل ہو اس کے لیے، تو اس وقت یہ دعا کر سکتا ہے... کہ جس وقت میرے لیے زندگی بہتر ہے تو زندگی ہو، اور جس وقت میرے لیے موت بہتر ہو تو موت ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑنے والی بات ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ساری چیزوں کو جانتا ہے۔ ہم نہیں جانتے، ہمیں کیا پتہ؟ لہذا ہم خود اپنے لیے یہ نہ مانگیں، ہاں اگر اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں تو پھر یہ "تفویض" ہے۔ تو تفویض تو... اس کا تو حکم قرآن میں بھی ہے: وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ.

            تو تفویض کا مسئلہ اور ہے، لیکن خود اپنے طور پہ جو موت کی تمنا ہے وہ بے صبری میں آتا ہے، تو ظاہر ہے اس وجہ سے اس طرح کرنے کی ممانعت ہے۔ ویسے جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ موت بذاتِ خود ایک محبوب چیز ہے، لیکن زندگی بھی تو ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے۔ تو ان دونوں کی قدر کرنا چاہیے، تب ہی اس قسم کی دعا اگر ہم کر لیں تو ٹھیک ہے، ورنہ پھر یہ ہے کہ اپنی ذمہ داری پہ کوئی چیز لینا بڑا مشکل کام ہے۔

            اللہ جل شانہ ہم سب کو وہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس پر اللہ پاک سب سے زیادہ راضی ہوتے ہیں۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.


            مصیبت اور تکلیف کے وقت موت کی تمنا کرنے کی شرعی حیثیت - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور