آیاتِ کونیہ اور جدید سائنس کی روشنی میں فہمِ قرآن

درس نمبر: 256، سورۃ الانعام، آیات: 95 تا 97

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. کائنات کے عام فہم قدرتی نظاموں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بے شمار نشانیاں موجود ہیں جو غور و فکر کا تقاضا کرتی ہیں۔
  2. انسان کی اپنی خواہشات ان واضح نشانیوں اور حقائق کو تسلیم کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہیں۔
  3. سورج، چاند اور ستاروں کا انتہائی باریک اور پیچیدہ حساب اللہ پاک کی کامل حکمرانی اور مکمل علم کی دلیل ہے۔
  4. کائنات اور اس کے نظاموں کے حوالے سے انسان پر اللہ کی نشانیاں اس کے حاصل کردہ علم کے تناسب سے کھلتی ہیں۔
  5. قرآن مجید پر تدبر اور اس کی نشانیوں کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے جدید علوم کو قدیم علوم کے ساتھ جوڑنا ناگزیر ہے۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰىؕ یُخْرِ جُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِ جُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ(95) فَالِقُ الْاِصْبَاحِۚ وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًاؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ(96) وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ(97) وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ(98) وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِ جُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًاۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ(99) وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠ (100)

صَدَقَ ٱللَّهُ ٱلْعَلِيُّ ٱلْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ ٱلنَّبِيُّ ٱلْكَرِيمُ۔

ترجمہ: بیشک اللہ ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا ہے۔ وہ جاندار چیزوں کو بے جان چیزوں سے نکال لاتا ہے، اور وہی بے جان چیزوں کو جاندار چیزوں سے نکالنے والا ہے۔

اللہ جل شانہ کی قدرتوں کی نشانیاں بے شمار ہیں۔ یہ سائنسدان لوگ جو ریسرچ کرتے ہیں تو ان کو اللہ جل شانہ کی قدرتوں کی بے انتہا نشانیاں نظر آتی ہیں۔ لیکن کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو عوام کو بھی سمجھ آتی ہیں، آسانی کے ساتھ، اس کے لیے کوئی بہت زیادہ لمبی چوڑی ریسرچ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تو قرآن چونکہ سب کے لیے ہے، لہذا اس میں ایسی مثالیں دی گئی ہیں جو عوام کو بھی سمجھ میں آتی ہیں۔ مطلب آسانی کے ساتھ سمجھ میں آتی ہیں، اگر اس پر غور کیا جائے تو بہت آسانی سے۔ جیسے یہ کہ

حاشیہ: بے جان سے جاندار کو نکالنے کی مثال یہ ہے کہ انڈے سے مرغی نکل آتی ہے، اور جاندار سے بے جان کے نکلنے کی مثال جی سے مرغی سے انڈا۔

مطلب یہ ہے کہ اب ظاہر ہے کوئی انڈے کو کھاتا ہے تو اس کو ذبح تو نہیں کرتا، مطلب یہ ہے کہ وہ بے جان ہے، لیکن مرغی سے پیدا ہوتا ہے، مرغی جاندار ہے۔ پھر اسی مرغی کے انڈے کے اوپر جب مرغی بیٹھتی ہے، کچھ خاص دنوں کے بعد اس میں جاندار پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی طریقے سے یہ جو دانے ہوتے ہیں، گٹھلیاں جو ہوتی ہیں، یا بیج ہوتے ہیں، اب اس میں کوئی درخت وغیرہ تو نظر نہیں آتا، لیکن جس وقت آپ اس کو بوتے ہیں، پانی دیتے ہیں ایک وقت میں، پھر وہ پھٹتا ہے، اور پھر اس میں سے پودا نکل آتا ہے، کونپل نکل آتی ہے۔ پھر آہستہ آہستہ بڑی ہوتی ہے، پھر کوئی بڑا درخت ہو جاتا ہے، یا پودا بن جاتا ہے۔ تو یہ اس کا مطلب ہے کہ یہ اللہ پاک کے نظام ہیں اور اللہ جل شانہ نے اس نظام کے ذریعے پوری کائنات کو چلایا ہوا ہے۔ بہرحال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی مثال دیتے ہیں کہ

إِنَّ ٱللهَ فَالِقُ ٱلْحَبِّ وَٱلنَّوَىٰ،

یہ مثال، یہ سب کو پتہ ہے۔ اس میں ہے کہ کوئی ایسی بات نہیں ہے، جتنے بھی کسان ہیں سارے اس کو مطلب جانتے ہیں، کس طرح ہوتا ہے۔ یعنی دیکھیں میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ یہ ڈاکٹر صاحب تھے ہمارے، میرا ہاتھ ٹوٹ گیا تھا تو وہ مطلب اس کا آپریشن کرنے والے تھے۔ تو اللہ کا شکر ہے کہ مجھے اللہ پاک نے بڑے آپریشن سے بچا دیا۔ وہ ویسے ہی اللہ تعالیٰ نے اس کو مطلب وہ کر لیا تو سیٹ کر لیا تو اس نے پھر پلستر اس پہ چڑھا دیا۔ تو اس دوران چونکہ مجھے local anesthesia دیا گیا تھا تو میں ہوش میں تھا، صرف میرا ہاتھ سن تھا۔ تو میرے ساتھ وہ باتیں بھی کرتا جاتا اور کام بھی کرتا جاتا تھا۔ تو مجھے کہتے ہیں شاہ صاحب! ہم لوگ اور کچھ نہیں کرتے۔ ہم لوگ ٹوٹی ہوئی ہڈی کو جو ہوتا ہے، اس کے جو حصے ہوتے ہیں اس کو آمنے سامنے کرکے اس کو باندھ دیتے ہیں۔ بس یہ ہمارا کام ہوتا ہے، باقی کام وہ تو اللہ تعالیٰ خود کرتا ہے۔ اس میں سے کیسے مواد نکلتا ہے، ادھر سے بھی نکلتا ہے، ادھر سے بھی نکلتا ہے، پھر آپس میں مل جاتا ہے۔ وہ پھر سٹیبل ہو جاتا ہے، پھر اس کے بعد سٹرانگ ہو جاتا ہے۔ پھر ماشاءاللہ ہم پلستر کھول لیتے ہیں اور جوڑا ہوتا ہے۔ تو یہ سارا کام اللہ پاک خود، اس میں ہمارا کوئی contribution نہیں ہے۔ اور بات بالکل صحیح ہے۔ یعنی اس میں کون ہے جو کہ انکار کرے؟ کم از کم ڈاکٹر تو انکار نہیں کر سکتا۔ تو ڈاکٹر ہڈیوں کو جوڑتا نہیں ہے۔ ہڈی کو جوڑنے کے لیے تیار کرتا ہے۔ ہڈی کو جوڑنے کے لیے کیا کرتا ہے؟ تیار کرتا ہے، پھر اس کے بعد خود بخود وہ جڑتی ہے، اس میں وہ کوئی مطلب وہ نظام نہیں ہے۔ اور یہ ایسی بات ہے نا جس کی simulation تو بہت مشکل ہے اگر کمپیوٹر simulation اس کی کی جائے، کیسے کریں گے؟ ہاں مطلب یہ ہے کہ یہ جو چیزیں ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یہ یہ جو مطلب چیزیں ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ نے اب یہ اس کو اس کے علم کا پتہ ہے۔ اس طرح ایک eye specialist نے مجھے آنکھوں کے بارے میں بتایا۔ اور بھی بہت ساری یہ وہ چیزیں ہیں جو سائنسدانوں کو مطلب معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن یہ جو اس قسم کی مثال ہے فَالِقُ ٱلْحَبِّ وَٱلنَّوَىٰ۔ یہ عام جو کسان ہیں ان سب کو پتہ ہے کہ ایسا ہوتا ہے۔ ہمارا کام صرف بیج ڈالنا ہے۔ اس کے بعد یہ اللہ پاک کا کام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ہم نہیں کر سکتے۔ وہ تو اللہ تعالیٰ اس کے اندر پھر وہ جان ڈالتا ہے پھر اس کو پھاڑتا ہے پھر اس کے بعد اس سے نکل اتا ہے۔ لیکن یہ چیزیں چونکہ اتنی common ہیں۔ کہ اس کی commonness نے۔ لوگوں کو اس سے غافل کر دیا ہے۔ مطلب یہ جیسے وہ نہیں ہوتا it is part of the game لوگ کہتے ہیں نا بس یہ تو بس وہ تو ایسے ہی ہے۔ take it as granted والی بات ہے مطلب جیسے وہ کہتے ہیں بھئی ٹھیک ہے اس طرح بس لے لو۔ تو یہ ساری چیزیں مطلب اس قسم کی ہیں کہ وہ لوگوں نے granted لی ہوئی ہیں مطلب اس کے اس کے اوپر غور نہیں کرتے۔ تو قرآن میں یہ بات ہے کہ اس پر غور کرنے۔ تدبر فی القرآن کیا چیز ہے؟ وہ یہی ہے کہ اس کے اندر غور کر لو اللہ پاک نے اشارہ دے دیا نا تو اس اشارے سے کام لے لو۔ اس پہ چلو اس سے آگے بڑھو۔ تو آپ کو بہت کچھ اور چیزیں مل جائیں گی جو غور سے ملا کرتی ہیں۔ جو چیزیں بغیر غور کے بھی ملتی ہیں وہ تو عام طور پر وہ تو ہیں عام لوگوں کے لیے بھی ہوتی ہیں۔ لیکن اگر آپ اس پر غور کریں تو آپ کو اور بہت ساری چیزیں مل جائیں گی جو غور کرنے والوں کو ملا کرتی ہیں ویسے نہیں ملتیں۔

يُخْرِجُ الْحَىَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَىِّ ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ ﴿95﴾

ترجمہ: لوگو! وہ ہے اللہ! پھر کوئی تمہیں بہکا کر کس اوندھی طرف لئے جا رہا ہے؟ ﴿95﴾

حاشیہ: اس ترجمے میں دو باتیں قابل ذکر ہیں۔ ایک یہ کہ بظاہر قرآن کریم میں ”لوگو!“ کا لفظ نظر نہیں آرہا، لیکن در حقیقت یہ ”ذلکم“ میں جمع مخاطب کی ضمیر کا ترجمہ ہے۔ عربی کے قاعدے سے یہ جمع کی ضمیر مشار الیہ کی جمع نہیں ہوتی، بلکہ مخاطب کی جمع ہوتی ہے۔ دوسرے ”کوئی تمہیں بہکا کر کس اوندھی طرف لئے جارہا ہے“ اس ترجمے میں ”تؤفکون“ کے صیغہ مجہول کی رعایت کی گئی ہے۔ اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ یہ ان کی خواہشات ہیں جو انہیں گمراہ کر رہی ہیں۔

مطلب یہ ہے کہ یعنی یہ جو چیزیں ہیں کہ مطلب اللہ پاک نے تو یہ ساری چیزیں کھلی رکھی ہیں۔ کھلی کتاب کی طرح رکھی ہیں۔ ہر چیز مطلب اس میں کھلی ہے۔ لیکن ہماری جو خواہشات ہیں نا اس کے ساتھ یہ چیز ٹکراتی ہے۔ ہماری خواہش یہ ہے کہ ہم لوگ اس کی طرف نہ غور کریں۔ یعنی وہی ابراہیم علیہ السلام والی بات اگر ہم یاد کر لیں۔ کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا نا کہ وہ دیکھو یہ انہوں نے کہا کہ تم نے بت ہمارے توڑے ہیں۔ میں نے کیا توڑے یہ تو اس سے پوچھو بڑے بت سے پوچھو۔ تو اس نے کہا کہ یہ تو بات بھی نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا پھر تم خدا اس کو کیسے مانتے ہو؟ تو تھوڑی دیر کے لیے just for an instant۔ سب نے کہا ہاں ہم ہی ظالم ہیں۔ یعنی ہم لوگ ہیں کہ وہ یعنی وہ نہیں ہاں۔ تو فوراً بعد دوبارہ وہی اوندھی والی بات اب سمجھ میں آ گئی سمجھ میں آ گئی نا بات۔ اس آیت کو اس آیت کے ساتھ ملا کر پڑھو تو ساری بات سمجھ میں آ جائے گی۔ تو ان کو فوراً وہ resist کر لیا ان کے اپنے سسٹم نے۔ جو شرک کا سسٹم تھا اس نے resist کر لیا۔ تو فوراً وہ گویا کہ جیسے ایک مطلب جاگ اٹھے اور کہا کہ اب وہ جو اپنے خداؤں کی مدد کرو جو مطلب ہے۔ اب یہ کیا چیز تھی یعنی message تو اس نے receive بھی کر لیا message ملا اور message receive کر لیا۔ لیکن فوراً پھر کس چیز نے reject کروایا؟ اپنی ان کی خواہشات نے۔ ان کی خواہشات نے۔ اب یہ خواہشات جو ہیں نا ان کو کہتے ہیں

ترجمہ: لوگو! وہ ہے اللہ! پھر کوئی تمہیں بہکا کر کس اوندھی طرف لئے جا رہا ہے؟ ﴿95﴾ وہی ہے جس کے حکم سے صبح کو پو پھٹتی ہے،

سبحان اللہ۔

ترجمہ: اور اُسی نے رات کو سکون کا وقت بنایا ہے،

اب یہ چیزیں بہت common ہیں اتنی common ہیں کہ لوگ اس کے سمجھنے سے غافل ہو گئے ہیں۔ پو پھٹنا کوئی معمولی بات ہے؟ بہت بڑے systems involve ہیں اس میں۔ ہاں سورج کا اور زمین کا اور اس کی حرکتوں کا اور پانچ قسم کی حرکتیں ہیں مطلب ظاہر ہے وہ ظاہر ہے وہ ساری چیزیں involve ہیں۔ یہ ظاہر ہے پھر سائنسدانوں کا کام ہے۔ اس میں غور کرنا اور یہ اس میں اس کے اندر تمام چیزوں کو۔ تو اب دیکھو اسی آیت کے مطابق آگے آ رہا ہے ادھر ذرا سا ماشاءاللہ اس پہ اچھی طرح غور کر لیں۔ بہت معرفت کی آیتیں ہیں۔

ترجمہ: اور اُسی نے رات کو سکون کا وقت بنایا ہے، اور سورج اور چاند کو ایک حساب کا پابند!

مطلب یہ ہے کہ یہ جو ساتھ آ رہا ہے یہ calculations کی ہو سکتی ہیں حساب کا پابند بنایا ہے اگر کوئی حساب کرنا چاہے تو اس کی calculation ہو سکتی ہے۔ تمہاری astronomy میں اس کی calculation ہوتی ہے نا astronomical calculations۔ اس کی ہوتی ہے باقاعدہ، سائنس دانوں نے بہت باریکی کی حد تک حساب کیا ہے۔ یعنی زمین کی جو حرکات ہیں، لوگ سمجھتے ہیں دو حرکتیں ہیں، سائنس دان کہتے ہیں نہیں پانچ حرکتیں ہیں۔ ہاں پانچ حرکتیں ہیں۔ ایک دو تو معلوم ہی ہیں نا وہ جو ایک سورج کے گرد اور ایک محور کے گرد۔ تیسری یہ ہے کہ یہ جو محور کے گرد حرکت ہے، تو یہ جو محور ہے، یہ بھی حرکت کرتا ہے۔ تین قسم کی حرکت کرتا ہے۔ کیسے؟ کہ یہ محور اگر اس طرح ہے تو یہ اس طرح to and fro جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہاں، پھر اس کے بعد یہ صرف اس طرف نہیں جا رہا ہے بلکہ اس طرح اس طرح ہوتے ہوئے پورا اس طرح چکر لگا رہا ہے، پورا مطلب ہے یعنی وہ یہ خود بھی اس طرح angle اس کا گھوم رہا ہے قیف کی طرح۔ ٹھیک ہے نا، پھر اس کے بعد وہ جو جو اس طرح جا رہا ہے وہ سیدھا نہیں جا رہا بلکہ زنجیر کی شکل میں جا رہا ہے۔ اور ہر کڑی انیس سال کی ہوتی ہے۔ اللہ کی شان آگے دیکھو نا

ترجمہ: یہ سب کچھ اُس ذات کی منصوبہ بندی ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، علم بھی کامل ﴿96﴾

تمام چیزوں پر اس کی حکومت بھی ہے اور ساتھ اس کا علم بھی کامل ہے مطلب ہر چیز اس کے precise precision precise most وہ بالکل ہر چیز باریکی کی حد تک اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔

ترجمہ: اور اُسی نے تمہارے لئے ستارے بنائے ہیں، تاکہ تم اُن کے ذریعے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں راستے معلوم کر سکو۔

مطلب یہ ہے کہ ہدایت کا نظام اللہ پاک نے گویا کہ راستوں کی navigation کا نظام اللہ پاک نے۔ ابھی بھی ships جو چلتی ہیں اگرچہ بہت ترقی ہوئی ہے بڑے زبردست قسم کے وہ instruments مطلب اس کے اندر موجود ہوتے ہیں لیکن اب بھی calibration جب کرتے ہیں وہ ستاروں کے ذریعے کرتے ہیں۔ وہ calibration جو کرتے ہیں نا وہ ستاروں کے ذریعے کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ ستارے بہت فاصلے پہ ہیں۔ اب دیکھو فاصلوں کی وجہ بھی سمجھ میں آگئی۔ وہ بہت فاصلے پہ ہیں اس وجہ سے ان فاصلوں کی وجہ سے اس کے اندر change بہت عرصے کے بعد آتا ہے۔ نتیجتاً وہ fixed ہوتا ہے ہمارے لیے۔ مطلب ہمارے لیے reference مطلب fixed ہوتا ہے باقی باقی چیزیں change c ہو رہی ہیں۔ تو fixed اس سسٹم کے ساتھ کہ مطلب آپ نے کچھ compare کرنا ہے نا directions۔ بھئی کوئی چیز اگر fixed نہیں ہے، اب دیکھو کائنات میں ساری چیزیں پھر ایک دفعہ ایک جگہ تو یہی فرمایا كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ تو ہر چیز تو پھر رہی ہے تو یہ ستارے بھی پھر رہے ہیں۔ لیکن اگر یہ قریب ہوتے، تو پھر یہ fixed نہیں تھے ہمارے لیے۔ تو دور ہونے کی وجہ سے مطلب یہ ہمارے لیے fixed ہیں۔ مطلب جہاز جب اگر دور جا رہا ہو نا تو آپ سمجھیں کہ جیسے کہ ہاں یا چیز اگر جہاز سے دیکھیں تو آپ کو سمجھے کہ جیسے کھڑی ہیں۔ مطلب یہ ہے نا بہت تھوڑی speed کے ساتھ changes ہو رہی ہوتی ہیں حالانکہ وہ بہت تیز جا رہا ہوتا ہے تو دور فاصلے کو پھر جتنا فاصلہ دور ہو گا اتنا زیادہ وہ اس کی fixation ہو گی۔ تو اب یہ نظام اللہ پاک نے بنایا ہوا ہے کہ ان ستاروں کے ذریعے سے باقاعدہ یعنی آپ اپنے instruments کو calibrate کر سکتے ہیں۔ ورنہ صحیح بات ہے ہر چیز اپنے طور پہ جب پھر رہی ہے مجھے بتاؤ پھر راستہ کیسے پاؤ گے؟ مطلب یہ پھر کیا کرو گے کیونکہ آپ کے instruments وہ electronics جو جو بھی ہیں وہ electronic میں تو error آتا ہے۔ اور آ سکتا ہے، اس error کو کیسے remove کرو گے؟ اس کے لیے کوئی fixed سسٹم کی ضرورت ہے کہ مطلب جس کو آپ وہ کر سکتے ہیں۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ نہیں اللہ پاک نے اس کو ابھی بھی ان ستاروں کو ہمارے لیے navigation کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔

ترجمہ: ہم نے ساری نشانیاں ایک ایک کر کے کھول دی ہیں، (مگر) اُن لوگوں کے لئے جو علم سے کام لیں ﴿97﴾

جو علم سے کام لیں۔ اب دیکھو نا یہ ساری چیزیں آپس میں interconnected ہیں نا۔ یعنی جو علم ہے انسان اس وقت کون سا علم ہے؟ مطلب یہ ہے کہ وہ چیز کیونکہ سائنس observation اور experiments ہے نا تو observation سائنس ہی کے ذریعے سے ہوتی ہیں نا جو بھی observe چاہے عالم ہی observe کرے گا وہ سائنس ہی اس وقت کر رہا ہے نا۔ مطلب اس وقت تو اس کے اس کے لیے تو وہ سائنس ہی ہو جائے گا۔ تو یہ ہے کہ

ترجمہ: (مگر) اُن لوگوں کے لئے جو علم سے کام لیں ﴿97﴾

تو یہاں پر اگر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ جو علم ہے، وہ کون سا علم ہے؟ ان چیزوں کا علم ہے۔ تو وہ اگر کوئی ان سے کام لے، اس میں غور و تدبر کرے، تو سبحان اللہ یہ بہت، بہت، بہت بڑا کام ہوگا۔ اور ہمارے اوپر اللہ پاک مزید نشانیاں کھولے گا۔ اب دیکھیں، ذرا تھوڑا سا غور کر لیں، اس آیت کے ترجمے کو اس طرح بھی treat کر سکتا ہوں۔ کہ ساری نشانیاں سب کے لیے کھلی ہوئی ہیں، لیکن اس پہ سوالات اٹھیں گے۔ ایک عام آدمی بہت ساری چیزوں کو نہیں جانتا اگرچہ وہ ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ جتنا جتنا علم جس کا ہے، اتنی اتنی اس پہ کھلی ہوئی ہیں۔ جس کا تھوڑا علم ہے اس پہ تھوڑی نشانیاں کھلی ہوئی ہیں۔ جس کا علم زیادہ ہے اس پہ زیادہ نشانیاں کھلی ہوئی ہیں۔ ٹھیک ہے نشانیاں کھلی ہیں لیکن آپ کو علم کتنا ہے؟ مطلب اس کے حساب سے۔ تو اب اگر آپ اپنے علم کو بڑھاتے جائیں تو نشانیاں مزید کھلتی جائیں گی، کھلتی جائیں گی، کھلتی جائیں گی، کھلتی جائیں گی کہ جس کو کہتے ہیں information اتنا زیادہ ہو گا کہ آپ اس کو سنبھال نہیں سکیں گے۔ جیسے ہمارے NASA کا جو مطلب ہے، مطلب اگر آپ ان کی websites پہ جائیں تو information information information information۔ اب اس information کو سمجھنے کے لیے بھی بہت بڑے علم کی ضرورت ہے۔ information پڑی ہوئی ہے۔ یا آپ کے پاس medical prescriptions جب آ جاتی ہیں وہ دوائی کے ساتھ آتی ہیں نا تو ساری چیزیں اس پہ لکھی ہوتی ہیں لیکن کیا آپ سمجھتے ہیں؟ اس کے لیے کسی علم کی ضرورت ہوتی ہے یا pharmacy کے علم کی ضرورت ہوتی ہے یا ڈاکٹری کے علم کی ضرورت ہوتی ہے آپ جب اس علم کے ذریعے سے اس کو دیکھتے ہیں تو اس میں سارا کچھ کھلا پڑا ہوتا ہے۔ لیکن اس کے لیے جاننے کے لیے prerequisite knowledge کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو اس وجہ سے اگر ہم لوگ اس میں غور کر لیں۔ اب اگر چاہیں تو ذرا تھوڑا سا وَٱللهُ أَعْلَمُ میں اگر کوئی اس کام کو کر رہا ہو جس کا قرآن میں یہ ذکر ہے۔ تو یہ دین کا کام ہو گا یا نہیں ہو گا؟ تو یہ ماشاءاللہ وہ یعنی آج کل کے لحاظ سے تو اس کو آپ لوگ note کر لیں اس بیان کو یہ ہمارے جو ہے جہانگیرہ میں جو مدرسہ ہے۔ تو اس کے لیے بہت بڑا یعنی مطلب یعنی کہ وہ motivation ہے۔ کہ اس چیز کو حاصل کرنے کے لیے کیا کرنا پڑے گا؟ تو اس کے لیے جدید اور قدیم علم کو اکٹھا کرنا پڑے گا۔ جو ہمارا وہ ہے۔ تو اس میں یہ ہے کہ یعنی اس کے لحاظ سے پھر وہ ہم اس کو تیار کر لیں کہ جو جدید علم ہے وہ ہمارے قرآن کا جو معروف علم ہے۔ اس کے ساتھ اس کو ملا دیا جائے۔ تو اس طریقے سے ماشاءاللہ یعنی قرآن کے اندر غور کا ایک ذریعہ بن جائے گا۔ تو یہ تو صرف ایک علم کے بارے میں ہے نا جو astronomy کا ہے۔ اس طرح medical کا بھی ہے، اس طرح society کا بھی ہے، اس طرح اور بہت سارے علوم ہیں جو قرآن میں بکھرے پڑے ہوئے ہیں۔ اور اس چیز کو حاصل کرنے کے لیے جیسے sociology ہے۔ تو sociology کو آپ learn کریں گے اس علم کو learn تو آپ کو قرآن کے اندر جو sociology سے متعلق ہے وہ چیزیں آپ پر کھلتی جائیں گی۔ اب دیکھ لو چیزیں independent یہاں پر کچھ لوگ ہیں جو اس علم کو جانتے ہیں یعنی تفسیروں کا اور اس میں تمام چیزوں کا مطلب جو حضرات نے کیا تفسیر میں کیا ہوتا ہے؟ اس وقت کا available knowledge جو ہوتا ہے اس کو یعنی قرآن کے ساتھ unite کیا گیا ہوتا ہے، یہی بات ہوتی ہے نا۔ تو اب اگر پانچ سو سال پہلے کام کیا گیا ہے تو اس میں تو پانچ سو سال پہلے کی چیزیں ہوں گی نا اس کے ساتھ relate کی گئی ہوں گی۔ اب اتنا پانچ سو سال گزرنے کے بعد پھر جو آج کل کی چیزیں ہیں اس کے ساتھ correlate کرنا پڑے گا۔ تو اس وجہ سے اس کی continuous ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ تو ایک مسلسل ایک continuous ضرورت ہے جو کہ مطلب ہمیں وہ کرنا پڑے گا۔