ظالموں کا انجام اور باطل سہاروں کی حقیقت
درس نمبر: 255، سورۃ الانعام، آیات: 93 تا 94
- اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا اور جھوٹی وحی کا دعویٰ کرنا سب سے بڑا ظلم ہے۔
- موت کے ہولناک وقت فرشتے ظالموں کی جانیں نکالتے ہوئے انہیں ذلت کے عذاب کی وعید سناتے ہیں۔
- یہ عذاب اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرنے اور اس کی نشانیوں کے خلاف تکبر کرنے کا نتیجہ ہے۔
- قیامت کے دن انسان اپنا سب کچھ پیچھے چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے تن تنہا پیش ہوگا۔
- مشرکین کے تمام جھوٹے سفارشی اس دن گم ہو جائیں گے اور ان پر کیا گیا بھروسہ بے کار ثابت ہوگا۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَ لَمْ یُوْحَ اِلَیْهِ شَیْءٌ وَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ بَاسِطُوْۤا اَیْدِیْهِمْۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ(93) وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِیْكُمْ شُرَكٰٓؤُاؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۠ (94)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔
ترجمہ: اور اُس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے، یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی نازل کی گئی ہے، حالانکہ اُس پر کوئی وحی نازل نہ کی گئی ہو، اور اسی طرح وہ جو یہ کہے کہ میں بھی ویسا ہی کلام نازل کردوں گا جیسا اللہ نے نازل کیا ہے؟ اور اگر تم وہ وقت دیکھو (تو بڑا ہولناک منظر نظر آئے) جب ظالم لوگ موت کی سختیوں میں گرفتار ہوں گے، اور فرشتے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے، (کہہ رہے ہوں گے کہ ) ”اپنی جانیں نکالو، آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا، اس لئے کہ تم جھوٹی باتیں اللہ کے ذمے لگاتے تھے، اور اس لئے کہ تم اُس کی نشانیوں کے خلاف تکبر کا رویہ اختیار کرتے تھے ﴿93﴾ (پھر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا کہ:) ”تم ہمارے پاس اسی طرح تن تنہا آگئے ہو جیسے ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا، اور جو کچھ ہم نے تمہیں بخشا تھا وہ سب اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو، اور ہمیں تو تمہارے وہ سفارشی کہیں نظر نہیں آ رہے جن کے بارے میں تمہارا دعویٰ تھا کہ وہ تمہارے معاملات طے کرنے میں (ہمارے ساتھ) شریک ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے ساتھ تمہارے سارے تعلقات ٹوٹ چکے ہیں، اور جن (دیوتاؤں) کے بارے میں تمہیں بڑا زعم تھا، وہ سب تم سے گم ہوکر رہ گئے ہیں۔“ ﴿94﴾
مطلب یہ ہے کہ یہ مشرکین کے لیے مطلب تنبیہ ہے۔ کہ تم جن پر تکیہ کیے ہوئے ہو وہاں پر ان کا کوئی کام نہیں ہوگا۔ اور ان کا جو موت کا منظر ہے وہ بہت شدید خطرناک بتایا گیا ہے۔ اور وجہ یہ ہے کہ ایک تو یہ تکبر کرتے تھے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کے خلاف، اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کو نہیں تسلیم کرتے تھے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ وہ منسوب کرتے تھے، مطلب یہ اللہ کی طرف۔ کہ یہ گویا کہ یہ باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف۔
تو یہ باتیں خطرناک باتیں ہیں اللہ پاک ہم سب کو ایسی چیزوں سے بچائے اور ہمیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ صحیح تعلق نصیب فرمائے اور شریعت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے قبولیت کے ساتھ۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔