اللہ تعالیٰ کی قدر شناسی، نعمتِ ہدایت کی اہمیت اور کتمانِ حق کا انجام
درس نمبر: 254، سورۃ الانعام، آیات: 90 تا 92
- ہدایت اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے جس کے بغیر انسان کے لیے آخرت میں ابدی عذاب اور مکمل تباہی ہے۔
- غصے اور دشمنی میں آ کر اللہ کی نازل کردہ وحی اور واضح حقائق کا انکار کرنا انسان کو کفر تک لے جاتا ہے۔
- نفس کی فوری خواہشات کے پیروکار اپنے ذاتی مفادات کی خاطر معلوم حقائق چھپاتے ہیں اور سچے احکامات ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔
- انسان پر نفسانی خواہشات کے غالب آنے سے اس کا ایمان اور اعمال دونوں بری طرح متاثر ہو جاتے ہیں۔
- اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے، لوگوں کے کفر سے اس کی خدائی پر کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ انکار کرنے والے خود برباد ہوتے ہیں۔
- قرآن مجید پچھلی الہامی کتب کی تصدیق کرنے والی بابرکت کتاب ہے جس پر آخرت کے ماننے والے ایمان لاتے اور نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْؕ قُلْ لَّاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًاؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ (90)
ترجمہ: یہ لوگ (جن کا ذکر اوپر ہوا) وہ تھے جن کو اللہ نے (مخالفین کے رویے پر صبر کرنے کی) ہدایت کی تھی، لہٰذا (اے پیغمبر!) تم بھی انہی کے راستے پر چلو۔ (مخالفین سے) کہہ دو کہ میں تم سے اِس (دعوت) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ یہ تو دُنیا جہان کے سب لوگوں کے لئے ایک نصیحت ہے، اور بس ﴿90﴾
وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًاۚ وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْؕ قُلِ اللّٰهُۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ(91) وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَاؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ(92)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔
ترجمہ: اور ان (کافر) لوگوں نے جب یہ کہا کہ اللہ نے کسی انسان پر کچھ نازل نہیں کیا تو انہوں نے اللہ کی صحیح قدر نہیں پہچانی۔
اصل میں یہودیوں کا ایک سردار تھا مالک بن صیف۔ تو ایک دفعہ اس نے غصے میں آ کر یہاں تک کہہ دیا تھا حالانکہ خود یہودی تھے اور یہودی موسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے ہوتے تھے۔ اور موسیٰ علیہ السلام پر کتاب نازل ہوئی ہے تورات، لہٰذا کوئی یہودی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ پاک نے کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ لیکن اس یہودی نے اسلام دشمنی میں،
حاشیہ: غصے میں آ کر یہاں تک کہہ دیا کہ اللہ نے کسی انسان پر کچھ نازل نہیں کیا۔
جیسے آج کل کچھ لوگ مطلب غصے میں آ کر کچھ ایسی باتیں کر لیتے ہیں جس سے وہ کافر ہو جاتے ہیں۔ تو یہ کافر تو پہلے سے تھے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر رہے تھے۔ لیکن بہرحال غصے میں آ کر انہوں نے اس بڑی حقیقت سے بھی انکار کر دیا کہ اللہ پاک نے کچھ نازل نہیں کیا۔ تو اس کا گویا کہ یہاں پر اس طریقے سے ذکر آ گیا۔
اور یہ جو اس نے کیا، تو اصل میں اللہ پاک نے کتنی نعمتیں ہمیں دی ہیں اور اللہ پاک کی سب سے بڑی نعمت جو ہے وہ کیا ہے؟ ہدایت ہے۔ کیونکہ اگر ساری نعمتیں آپ کے پاس ہوں دنیا کی لیکن ہدایت نہ ہو تو موت کے ساتھ تو ساری نعمتیں ختم ہو جائیں گی دنیا کی اور آخرت کے عذاب شروع ہو جائیں گے۔ اور وہ اینڈ لیس ہیں، مطلب وہ کبھی اس کا خاتمہ نہیں ہو گا۔ تو مکمل تباہی ہے۔ اور ہدایت اگر کسی کو ملی ہو تو بے شک وہ دنیا میں تکلیفیں بھی اٹھا چکا ہو۔ تو موت کے بعد اس کی خوشی کا زمانہ آ گیا، خوشی کا دور آ جاتا ہے پھر اس کے بعد وہ مزے ہی مزے میں ہو گا۔ تو یہ دنیا کی جو باتیں ہیں ان کے اندر اتنا زیادہ مصروف ہو کر اتنی بڑی نعمت سے انکار کر لینا یہ بہت خطرناک بات ہے۔ تو یہ کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کوئی قدر نہیں پہچانی کہ اللہ پاک نے اتنی بڑی نعمت ہمیں دی ہے اور اس پر ہی وہ اس طرح بات کر رہے ہیں۔
ترجمہ: (ان سے) کہو کہ : ”وہ کتاب کس نے نازل کی تھی جو موسیٰ لے کر آئے تھے، جو لوگوں کے لئے روشنی اور ہدایت تھی، اور جس کو تم نے متفرق کاغذوں کی شکل میں رکھا ہوا ہے،
حاشیہ: یعنی پوری کتاب کو ظاہر کرنے کے بجائے تم نے اسے حصوں میں بانٹ رکھا ہے۔ جو حصے تمہارے مطلب کے مطابق ہوتے ہیں اُن کو تو عام لوگوں کے سامنے ظاہر کر دیتے ہو، مگر جو حصے تمہارے مفادات کے خلاف ہوتے ہیں، انہیں چھپا لیتے ہو۔
اصل میں ہوتا یوں تھا کہ جتنے بھی مذاہب آئے ہوئے ہیں، مذہب تو حق تھے انبیاء کرام کے ذریعے سے۔ تو مذہب تو حق تھے، موسیٰ علیہ السلام بھی حق تھے۔ اور عیسیٰ علیہ السلام بھی حق تھے۔ تو انہوں نے جو کچھ اپنی امت کو بتایا تھا اگر وہ صحیح ان کو مانتے۔ تو اس میں ذکر تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں گے اور ایسا ہو گا اور ایسا ہو گا، ساری باتیں اس میں تھیں۔ تو وہ خود فوراً مان لیتے جیسا کہ عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مان لیا، وہ بھی یہودی تھے۔ لیکن انسان کے پاس ساتھ جو نفس ہے نا نفس۔ یہ وہ فوری چیز چاہتا ہے۔ تو اگر اس کی فوری چیزیں کفر کے ساتھ ہوں۔ تو یہ پھر کفر سے بھی نہیں چوکتا، ہاں البتہ اگر کوئی اس کی تربیت کر لے اور نفس مطمئنہ بنا دے پھر تو بات الگ ہے ورنہ پھر یہ ہے کہ وہ کفر سے بھی نہیں چوکتا۔ یہ جو صالح علیہ السلام کے وقت میں اونٹنی والی بات ہوئی تھی اس وقت وہ جو ظالم تھا اس نے جو اونٹنی کو مارنا چاہا تو کیا وہ جانتا نہیں تھا کہ اللہ کی اونٹنی ہے؟ ان کے سامنے سارا کچھ ہوا تھا۔ لیکن نفس کی خواہش ان پر غالب آ گئی۔ اور اس کے مقابلے میں اللہ پاک کے نبی کی بات نہیں مانی اور تباہ و برباد ہو گئے۔ تو اس طریقے سے جو لوگ اپنے نفس کے پیروکار ہوتے ہیں تو وہ حق بات کو چھپا لیتے ہیں، ان کو جو معلوم بھی ہوتا ہے وہ نہیں بتاتے۔ اگر وہ عالم ہوں، عالم نہ ہوں تو بس عالم کی بات نہیں مانتے۔ لیکن اگر عالم ہوں تو وہ بات چھپا لیتے ہیں۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فیصلے کے لیے یہودی آئے تھے رجم کے بارے میں۔ تو عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ساتھ تھے۔ تو انہوں نے کہا جی ہماری تورات میں رجم کی بات نہیں ہے۔ تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تورات لے آؤ تو جس وقت وہ دکھا رہے تھے تو جو رجم کی آیت تھی نا اس کے اوپر انگوٹھا رکھا ہوا تھا۔ مطلب یہ کہ وہ نظر نہ آئے۔ تو عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو جانتے تھے انہوں نے فرمایا یا رسول اللہ! ان سے کہہ دو یہاں سے انگوٹھا ہٹا دیں۔ اور جس وقت انگوٹھا ہٹایا اس کے نیچے حکم لکھا ہوا تھا، جب لکھا ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر نافذ کر دیا اور رجم ہو گیا۔ تو اب یہ دیکھیں، عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معلوم تھا، ان کو بھی معلوم تھا تبھی تو انگوٹھا رکھا تھا۔ تو اسی طرح وہ چھپاتے تھے۔ تو ظاہر ہے، مطلب یہ ہے کہ یہی بات تھی، اس طرح عیسائیوں نے بھی چھپائیں۔ جو عیسیٰ علیہ السلام نے جو باتیں کیں وہ بھی یعنی مطلب بعض لوگ تو مناظروں میں مان بھی لیتے ہیں۔ پھر بھی رجوع نہیں کرتے۔ تو ایسی باتیں کہ جو نفس کی باتیں ہیں نا اگر یہ ایمان پر اثر انداز ہو جائیں تو ایمان متاثر ہو جاتا ہے۔ اور اگر یہ اعمال پر اثر انداز ہو جائیں تو اعمال متاثر ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ایمانوں کی حفاظت فرما دے اور اعمال کی بھی۔
ترجمہ: اور (جس کے ذریعے) تم کو اُن باتوں کی تعلیم دی گئی تھی جو نہ تم جانتے تھے، نہ تمہارے باپ دادا؟“ (اے پیغمبر! تم خود ہی اس سوال کے جواب میں) اتنا کہہ دو کہ : ”وہ کتاب اللہ نے نازل کی تھی۔“ پھر ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو کہ یہ اپنی بے ہودہ گفتگو میں مشغول رہ کر دل لگی کرتے رہیں ﴿91﴾
اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہٗ غنی ہے۔ تو جب غنی ہے تو اس وجہ سے اللہ پاک کو کسی کی پرواہ نہیں ہے۔ اس وقت تو وہ اپنے یعنی فضل سے یہ باتیں بتا رہے ہیں، قرآن کے ذریعے سے یا پرانی کتابوں جو دینی کتابیں تھیں ان کے ذریعے سے وہ بتا دیتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی نہیں مانتا تو اللہ کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اللہ جل شانہٗ اگر یہ سارے لوگ بھی کافر ہو جائیں تو اللہ پاک کی خدائی میں کیا فرق پڑے گا؟ اللہ تعالیٰ کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، ہاں وہ لوگ تباہ و برباد ہو جائیں گے۔
ترجمہ: اور (اسی طرح) یہ بڑی برکت والی کتاب ہے جو ہم نے اُتاری ہے، پچھلی آسمانی ہدایات کی تصدیق کرنے والی ہے، تاکہ تم اس کے ذریعے بستیوں کے مرکز (یعنی مکہ) اور اس کے ارد گرد کے لوگوں کو خبردار کرو۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں، اور وہ اپنی نماز کی پوری پوری نگہداشت کرتے ہیں ﴿92﴾۔
اللہ جل شانہٗ ہم سب کو حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔