تسلسلِ نبوت اور رسالتِ محمدیﷺ کے عقلی و تاریخی دلائل
درس نمبر: 253، سورۃ الانعام، آیات: 82 تا 89
- حقیقی امن اور صحیح ہدایت صرف ان لوگوں کا حق ہے جو اپنے ایمان میں شرک کا کوئی شائبہ نہیں آنے دیتے۔
- اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو منتخب کر کے انہیں ہدایت، کتاب، حکمت اور نبوت عطا فرمائی۔
- حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نبی ماننے والے مشرکینِ عرب کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے انکار محض بے بنیاد ضد ہے۔
- نبوت کسی کے ذاتی عمل کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ یہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کا چناؤ ہے۔
- منکرین کے رسالت جھٹلانے کی کوئی پروا نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق کے لیے صحابہ کرام کی جماعت مقرر فرما دی ہے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ (82)
اس کا چونکہ ترجمہ رہ گیا تھا اس آیت کا۔
ترجمہ: (حقیقت تو یہ ہے کہ) جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور اُنہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ کسی ظلم کا شائبہ بھی آنے نہیں دیا، امن اور چین تو بس اُنہی کا حق ہے، اور وہی ہیں جو صحیح راستے پر پہنچ چکے ہیں۔“ ﴿82﴾
یہ کل اصل میں ظلم کی بات تو ہو رہی تھی کہ ظلم سے مراد شرک یہاں پر لیا گیا ہے۔ کیونکہ قرآن پاک میں بھی ایک جگہ پر ہے اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی ایک حدیث شریف میں مروی ہے۔ جس میں ظلم کی تشریح شرک سے فرمائی گئی ہے۔
وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ(83) وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَؕ كُلًّا هَدَیْنَاۚ وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ (84) وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ (85) وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ (86) وَ مِنْ اٰبَآىٕهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(87) ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(88) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ(89) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْؕ قُلْ لَّاۤ اَسْــٴـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًاؕاِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ (90)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔
ترجمہ: یہ ہماری وہ کامیاب دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے مقابلے میں عطا کی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کر دیتے ہیں۔ بیشک تمہارے رَبّ کی حکمت بھی بڑی ہے، علم بھی کامل ہے ﴿83﴾اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق (جیسا بیٹا) اور یعقوب (جیسا پوتا) عطا کیا۔ (ان میں سے) ہر ایک کو ہم نے ہدایت دی، اور نوح کو ہم نے پہلے ہی ہدایت دی تھی، اور اُن کی اولاد میں سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کو بھی۔ اور اسی طرح ہم نیک کام کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں ﴿84﴾ اور زکریا، یحییٰ، عیسیٰ اور الیاس کو (بھی ہدایت عطا فرمائی)۔ یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے ﴿85﴾ نیز اسماعیل، الیسع، یونس اور لوط کو بھی۔ اور ان سب کو ہم نے دُنیا جہان کے لوگوں پر فضیلت بخشی تھی ﴿86﴾ اور ان کے باپ دادوں، ان کی اولادوں اور ان کے بھائیوں میں سے بھی بہت سے لوگوں کو۔ ہم نے اِن سب کو منتخب کر کے راہِ راست تک پہنچا دیا تھا ﴿87﴾ یہ اللہ کی دی ہوئی ہدایت ہے جس کے ذریعے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے راہِ راست تک پہنچا دیتا ہے۔ اور اگر وہ شرک کرنے لگتے تو ان کے سارے (نیک) اعمال اکارت ہو جاتے ﴿88﴾ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب، حکمت اور نبوت عطا کی تھی۔
حاشیہ: مشرکین عرب نبوت و رسالت ہی کے منکر تھے۔ اُن کے جواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اولاد میں جو پیغمبر گزرے ہیں اُن کا حوالہ دیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تو عرب کے بت پرست بھی مانتے تھے۔ اُن سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر وہ پیغمبر ہو سکتے ہیں، اور ان کی اولاد میں نبوت کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے تو یہ کہنا کیسے درست ہو سکتا ہے کہ نبوت کوئی چیز نہیں ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول بنا کر بھیجنے میں آخر کونسی اشکال کی بات ہے جبکہ آپ کی نبوت کے دلائل روزِ روشن کی طرح واضح ہو چکے ہیں۔
اصل میں واقعی، یعنی بات تو ایک ہے۔ ابراہیم علیہ السلام جد ہیں انبیاء کے، اور بنی اسرائیل کے جتنے بھی انبیاء کرام تھے، وہ بھی سارے کے سارے ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔ اور جو بنی اسماعیل میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو یہ بھی حضرت کی اولاد میں سے ہیں۔ تو اگر ایک اولاد کو آپ برگزیدہ مانتے ہیں اور ابراہیم علیہ السلام نبی مانتے ہیں تو اول تو ظاہر ہے اگر ایسی بات ہے تو ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہونے میں سے ظاہر ہے وہی فضیلت ان میں بھی ہے۔ یہ بات ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر وہ نبی ہو سکتے ہیں تو یہ کیوں نبی نہیں ہو سکتے؟ تو پھر ان کی نبوت کا کیوں انکار کر سکتے ہو؟ اور تیسری بات جو اس میں مسلسل جو ارہی ہے، وہ یہ ہے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے چناؤ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان میں سے جس کو چن لیتے ہیں تو چن لیتے ہیں، انبیاء، نبوت تو ایسے ہی چناؤ پر ہوتی ہے۔ نبوت تو کسی کے عمل پر نہیں بلکہ چناؤ پر ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ ان کو چن لیتے ہیں پھر اللہ پاک ان کو ظاہر ہے ہدایت بھی عطا فرماتے ہیں اور ساتھ اللہ تعالیٰ ان سے کام بھی لیتے ہیں۔ تو جیسے ان کو چنا گیا تھا ابراہیم علیہ السلام کو اور ان کی باقی اولاد کو، اسی طرح اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چن لیا گیا ہے۔ تو یہ ان کو گویا کہ لاجیکل دلائل دیے جا رہے ہیں کہ خواہ مخواہ ضد نہیں کرنی چاہیے اور جو حق بات ہے اس کو سمجھنا چاہیے اور اس کو جاننا چاہیے۔
ترجمہ: اب اگر یہ (عرب کے) لوگ اس (نبوت) کا انکار کریں تو (کچھ پروا نہ کرو، کیونکہ) اس کے ماننے کے لئے ہم نے ایسے لوگ مقرر کر دیے ہیں جو اس کے منکر نہیں۔ ﴿89﴾
حاشیہ: یہاں سے بعض یہودیوں کی تردید مقصود ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتے ہوئے ایک مرتبہ اُن کے ایک سردار مالک بن صیف نے غصے میں آکر یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اللہ نے کسی انسان پر کچھ نازل نہیں کیا۔
تو غصے میں انسان عقل وہ کر دے، تو اپنے ابا واجداد کا جو وہ جو نبی تھے، تو ان پر تو اللہ پاک نے نازل کی تھی، تورات بھی نازل کی تھی اور عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل بھی نازل کی تھی۔ تو غصے میں آ کر اس نے گویا کہ اپنی جڑ بھی کاٹی۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ وہ صحابہ کرام کی طرف اشارہ ہے، کچھ حضرات پہلے سے موجود ہیں جو کہ ان کو مانتے ہیں۔ اس وجہ سے ہم لوگوں کو یہ جاننا چاہیے کہ یعنی یہ میں دوبارہ کر لیتا ہوں۔
فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ(89)
ترجمہ: اب اگر یہ (عرب کے) لوگ اس (نبوت) کا انکار کریں تو (کچھ پروا نہ کرو، کیونکہ) اس کے ماننے کے لئے ہم نے ایسے لوگ مقرر کر دیے ہیں جو اس کے منکر نہیں۔ ﴿۸۹﴾
تو ان سے مراد کون سے ہیں؟ اس سے مراد صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین ہیں۔ کیونکہ وہ پہلے سے مطلب صحابہ کرام کا یہی تھا کہ یہود میں جو مسلمان ہوئے تھے وہ بھی صحابہ کرام ہیں، عیسائیوں میں جو مسلمان ہوئے تھے وہ بھی صحابہ کرام اور جو قریش میں یا انصار میں مسلمان ہوئے تھے وہ بھی صحابہ کرام تھے۔ تو صحابہ کرام کی جو جماعت ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر گواہی دینے والی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کو ماننے والے اللہ پاک نے پیدا فرمائے ہیں۔ لہٰذا ان لوگوں کی باتوں کی کوئی پروا نہیں کرنی چاہیے۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔