سورۃ الانعام کا تعارف: توحید، تخلیقِ انسان اور اللہ کے علمِ محیط کا بیان

درس نمبر 235: سورۃ الانعام، آیت نمبر 1 تا 3

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. سورۃ انعام ایک مکی سورت ہے جس میں توحید، رسالت اور آخرت کے بنیادی عقائد کو مختلف دلائل کے ذریعے ثابت کیا گیا ہے۔
  2. اس سورت میں کفار کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے مشرکانہ رسوم کی تردید کی گئی ہے اور مظلوم مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے۔
  3. عربی میں انعام چوپایوں کو کہتے ہیں اور مشرکین کے مویشیوں سے متعلق بے بنیاد عقائد کی تردید کی وجہ سے سورت کا یہ نام ہے۔
  4. اللہ تعالیٰ نے کائنات، روشنی اور اندھیرے کو پیدا کیا اور انسان کی انفرادی موت اور دوبارہ زندہ ہونے کی متعین میعاد مقرر کی ہے۔
  5. کائنات اور فلکیات کے وسیع نظام کو جاننے کے باوجود ہدایت اسی کو ملتی ہے جس میں طلب ہو اور جسے اللہ ہدایت دینا چاہے۔

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على خاتم النبيين، اما بعد فاعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم

معزز خواتین و حضرات آج الحمدللہ نئی سورت شروع ہو رہی ہے سورۃ انعام۔

یہ سورت چونکہ مکہ مکرمہ کے اس دور میں نازل ہوئی تھی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتِ اسلام اپنے ابتدائی دور میں تھی، اس لئے اس میں اسلام کے بنیادی عقائد یعنی توحید، رسالت اور آخرت کو مختلف دلائل کے ذریعے ثابت کیا گیا ہے، اور ان عقائد پر جو اعتراضات کفار کی طرف سے اُٹھائے جاتے تھے، ان کا جواب دیا گیا ہے۔ اس دور میں مسلمانوں پر کفارِ مکہ کی طرف سے طرح طرح کے ظلم توڑے جارہے تھے، اس لئے ان کو تسلی بھی دی گئی ہے۔ کفارِ مکہ اپنے مشرکانہ عقائد کے نتیجے میں جن بے ہودہ رسموں اور بے بنیاد خیالات میں مبتلا تھے، ان کی تردید فرمائی گئی ہے۔ عربی زبان میں ''انعام'' چوپایوں کو کہتے ہیں۔ عرب کے مشرکین مویشیوں کے بارے میں بہت سے غلط عقیدے رکھتے تھے، مثلاً ان کو بتوں کے نام پر وقف کر کے ان کا کھانا حرام سمجھتے تھے۔ چونکہ اس سورت میں ان بے بنیاد عقائد کی تردید کی گئی ہے، (دیکھئے آیات: 136 تا 146) اس لئے اس کا نام سورۃ الانعام رکھا گیا ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ چند آیتوں کو چھوڑ کر یہ پوری سورت ایک ہی مرتبہ نازل ہوئی تھی، لیکن علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر ''روح المعانی'' میں ان روایتوں پر تنقید کی ہے۔ واللہ سبحانہ اعلم۔

ہاں ایک غلط فہمی میرے خیال میں دور ہونی چاہیے۔ یہ اصل میں سورۃ اَنعام ہے لیکن اکثر اس کو اِنعام پڑھا جاتا ہے۔ اِنعام اور چیز ہے۔ اور یہاں پر چونکہ چوپایوں کا ذکر ہے تو یہ انعام ہے سورۃ انعام۔

اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ۬ ؕ-ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ (1) هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا ؕ-وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ (2) وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ ؕ-یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ (3)

جیسے کہا گیا ہے

یہ سورت مکی ہے، اور اس میں ایک سو پینسٹھ آیتیں اور بیس رکوع ہیں۔

ترجمہ: شروع اللہ کے نام سے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے۔

ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور اندھیریاں اور روشنی بنائی۔ پھر بھی جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ دوسروں کو (خدائی میں) اپنے پروردگار کے برابر قرار دے رہے ہیں ﴿1﴾ وہی ذات ہے جس نے تم کو گیلی مٹی سے پیدا کیا، پھر (تمہاری زندگی کی) ایک میعاد مقرر کردی۔ اور (دوبارہ زندہ ہونے کی) ایک متعین میعاد اسی کے پاس ہے۔ پھر بھی تم شک میں پڑے ہوئے ہو ﴿2﴾ اور وہی اللہ آسمانوں میں بھی ہے، اور زمین میں بھی۔ وہ تمہارے چھپے ہوئے بھید بھی جانتا ہے، اور کھلے ہوئے حالات بھی، اور جو کچھ کمائی تم کر رہے ہو، اس سے بھی واقف ہے ﴿3﴾

حاشیہ: یعنی ایک میعاد تو ہر انسان کی انفرادی زندگی کی ہے کہ وہ کب تک جئے گا، شروع میں تو اس کا علم کسی کو نہیں ہوتا، مگر جب کوئی شخص مر جاتا ہے تو ہر ایک کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کی عمر کتنی تھی۔ لیکن مرنے کے بعد جو دوسری زندگی آنے والی ہے، وہ کب آئے گی؟ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔

تو یہ اس سورت کی ابتدا ہے۔ اور اس میں جو فرمایا ہے نا کہ اللہ پاک نے اندھیریاں اور روشنی بنائی ہے۔ تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ اللہ جل شانہ نے پوری کائنات کو جب پیدا کیا تو اس میں جو روشنی کے ذرائع بنا دیے اس کے ذریعے سے روشنی پیدا ہوتی گئی اور اندھیرا جو پہلے سے موجود ہوتا تھا تو اس کو بدل لیتے تھے روشنی سے۔

تو ارے اللہ پاک کا بہت وسیع و عریض نظام ہے ہم لوگ اس کو تصور بھی نہیں کر سکتے کہ کائنات کتنا وسیع ہے۔ اور اس میں کتنے کہکشائیں ہیں اور کتنے اس میں ستارے ہیں ہر کہکشاں میں۔ اور اس کی کتنی وسعت ہے اور ہر ستارہ کتنا بڑا ہے یہ بہت اللہ تعالی کا عجیب نظام ہے۔ یہ فلکیات کے علم میں جو علوم، معلومات ہوتے ہیں وہ بڑے حیران کن ہوتے ہیں۔ لیکن ہدایت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے جس کو بھی اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کو دیتا ہے۔ تو بعض لوگوں میں طلب نہیں ہوتی ہدایت کی تو ان تمام معلومات کو جانتے ہوئے بھی اہل ایمان نہیں ہوتے ہیں۔

اللہ تعالی ہم سب کی حفاظت فرما دے۔ ہمیں کامل ایمان والا مستقل استقامت والے اعمال والا اور قبولیت والی زندگی ہمیں نصیب فرما دے۔ وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔

سورۃ الانعام کا تعارف: توحید، تخلیقِ انسان اور اللہ کے علمِ محیط کا بیان - درسِ قرآن - پہلا دور