حقیقی امن کا راستہ: توحید، توہم پرستی کا رد اور تقلیدِ آباء کی حقیقت
درس نمبر: 252، سورۃ الانعام، آیات: 80 تا 83
- سچا امن اور ہدایت صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو توحید پر ایمان لاتے ہیں اور اسے شرک سے پاک رکھتے ہیں۔
- اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت ملنے کے بعد آباؤ اجداد کی اندھی تقلید اور ان کے شرک کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
- نفع و نقصان صرف اللہ کے اختیار میں ہے، اس لیے بے بنیاد دیوتاؤں کے بجائے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے سے ڈرنا چاہیے۔
- اپنی پریشانیوں کو توہمات اور مزارات سے جوڑ کر رسم و رواج کی خلاف ورزی سے ڈرنا مشرکانہ خیالات کا ہی تسلسل ہے۔
- قرآن و حدیث کی رو سے شرک ایک ظلمِ عظیم ہے جس کی ہر شکل سے خود کو محفوظ رکھنا لازم ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ أَمَّا بَعْدُ۔
فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْــٴًـاؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًاؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ(80) وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًاؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (81) اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ (82)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔
ترجمہ: اور (پھر یہ ہوا کہ) اُن کی قوم نے اُن سے حجت شروع کردی۔
حاشیہ: سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے حجت کرتے ہوئے ان کی قوم نے دو باتیں کہیں۔ ایک یہ کہ ہم برسوں سے اپنے باپ دادوں کو ان بتوں اور ستاروں کی پوجا کرتے دیکھ رہے ہیں۔ ان سب کو گمراہ سمجھنا ہمارے بس سے باہر ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کا جواب پہلے جملے میں یہ دیا ہے کہ ان باپ دادوں کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی وحی نہیں آئی تھی، اور مذکورہ بالا عقلی دلائل کے علاوہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی بھی آئی ہے۔ لہٰذا اللہ کی دی ہوئی ہدایت کے بعد میں شرک کو کیسے درست تسلیم کر سکتا ہوں؟ دوسری بات ان کی قوم نے یہ کہی ہوگی کہ اگر تم نے ہمارے بتوں اور ستاروں کی خدائی سے انکار کیا تو وہ تمہیں تباہ کر ڈالیں گے۔ اس کے جواب میں انہوں نے فرمایا کہ میں ان بے بنیاد دیوتاؤں سے نہیں ڈرتا، بلکہ ڈرنا تمہیں چاہئے کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ بے بنیاد دیوتاؤں کو اس کی خدائی میں شریک مان رہے ہو۔ نقصان اگر پہنچا سکتا ہے تو وہ صرف اللہ تعالیٰ ہے، کوئی اور نہیں۔ اور جو لوگ اس کی توحید پر ایمان لاتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ نے امن اور چین عطا فرمایا ہے۔
یہ بات ابھی بھی، ظاہر ہے، موجودہ دور میں جو مشرکین ہیں ان کے ہاں چلتی ہے۔ مشرکین جو ہوتے ہیں وہ اپنی دنیا چونکہ آخرت پر تو یقین نہیں رکھتے تو اپنی دنیا کے ساتھ ساری چیزوں کو attach کرتے ہیں۔ یعنی وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری جو بیماری ہے، ہماری جو تکلیفیں ہیں، ہماری پریشانی ہیں، اس کے مقابلے میں ہمارے لئے جو امن کے راستے ہیں اور خوشی کے راستے ہیں۔ ان سب کے لیے جو انہوں نے جو بھی سوچا ہوتا ہے یا جو چلا آ رہا ہوتا ہے جیسے ابھی اس میں کہہ دیا کہ جو چلا آ رہا ہوتا ہے ان کے باپ دادوں کی طرف سے۔ تو وہ اس میں شک میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ہم اس میں اس کے خلاف کریں گے تو ہمیں بڑا نقصان ہو جائے گا۔ میں اس کی ایک ادنیٰ مثال آپ کو دیتا ہوں کہ ہمارے گھروں کے اندر خواتین میں کچھ وہمی باتیں پائی جاتی تھیں۔ ابھی بھی شاید پائی جاتی ہوں گی جہاں جہاں جہالت ہے۔ کہ اگر کسی نے فلاں دن جھاڑو دے دیا تو یہ ہو جائے گا۔ اگر یہ، مطلب یہ ہے کہ فلاں دن یہ شعبان کے مہینے میں شادی کی تو یہ ہو جائے گا۔ فلاں کام کر لیا تو یہ ہو جائے گا۔ انہوں نے چیزوں کو assume کیا ہوا تھا۔ تو بیشک آپ کتنے ہی دلائل دیتے نا تو وہ ڈر رہے ہوتے تھے کہ اگر ہم نے یہ کر لیا تو یہ بڑا مسئلہ ہو جائے گا۔ تو اس وجہ سے ان کو (سمجھانا) بڑا مشکل ہوتا تھا۔ یہ بڑی بوڑھیاں، عورتیں، بوڑھے لوگ، وہ ان چیزوں پر اتنے پکے ہوتے تھے کہ بیشک آپ کتنے ہی دلائل ان کو دے دیں، وہ دلائل کی بات نہیں سنتے تھے، وہ صرف بس اپنا ظاہری خوف اسی طرح کرتے تھے۔ اب اسی طریقے سے جو لوگ یعنی ہمارے جو اولیاء اللہ کے جو مزارات ہوتے ہیں ان میں جو اس کے ساتھ انہوں نے کچھ چیزیں اس طرح وابستہ کی ہوتی ہیں تو وہ بھی اسی طرح ڈرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پتہ نہیں اگر ہم نے ایسا کیا تو پتہ نہیں کیا ہو جائے گا۔ حالانکہ اگر عقل سے کام لیا جائے تو جن بزرگوں کے نام لیتے ہیں انہوں نے پوری زندگی خود کیسے گزاری؟ آیا انہوں نے ان چیزوں میں گزاری ہے؟ اچھا پوری زندگی کیا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے گزاری ہے، اپنی طرف دعوت دیتے گزاری ہے؟ آدمی خود دیکھ لے مطلب ان کی history پڑھے ان کا جو طریقہ کار ہے وہ پڑھے تو ساری چیزیں سمجھ میں آ جائیں گی۔ تو یہ چیز ہے کہ یہ آباؤ اجداد کی طرف سے جو آئی بات ہے یہ بھی ابھی تک چلی آ رہی ہے کہ اگر آپ ان کو کہہ دیں کہ بھئی یہ وہ ہمارے باپ دادا تو یہ کیا سارے غلط تھے؟ ہمارے کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے جو کاکا خیل قوم میں وہ تو وہاں یہ عرس وغیرہ، اب تو ہر جگہ عرس تو ایک تماشہ ہے ایک میلہ ہوتا ہے۔ تو وہاں بھی میلہ بن گیا۔ تو ہمارے چچا تھے، ظاہر ہے بڑے عالم تھے، تو انہوں نے منبر پر بیٹھ کے اس کے خلاف بیان کر لیا کہ یہ ساری باتیں لغو ہیں اور اولیاء اللہ کے اوپر بہتان ہیں اس قسم کی چیزیں تو یہ نہیں ہونی چاہیں۔ تو ایک بہت بڑے آدمی خاندانی لحاظ سے بھی وہ اٹھے اور کہتے ہیں کیا ہمارے باپ دادا سب غلط تھے؟ بالکل وہی پرانی بات۔ مطلب یہ ہے کہ اس میں کوئی نئی بات نہیں تھی۔ ہمارے کیا ہمارے باپ دادا سارے غلط تھے؟ تو یہ، یہ چیزیں ابھی تک چلی آ رہی ہیں اور اسی طریقے سے وہ چیزیں ہوتی ہیں۔ ہاں البتہ اللہ کا شکر ہے کہ یہاں پر اس حد تک نہیں ہے کہ اس کو سجدہ کریں یا کوئی اس طرح کریں لیکن بعض جاہل کرتے بھی ہیں۔ پاکپتن شریف پہ پتہ نہیں لوگ سجدے کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟ تو بعض جاہل کرتے بھی ہیں لیکن مطلب یہ ہے کہ چلو اس علاقے میں ایسے نہیں ہے کہ جو سجدے تو کرتے ہیں لیکن یہ ہے کہ کم از کم یہ باتیں ان میں بھی پائی جاتی ہیں۔ تو اللہ جل شانہٗ ہم سب کو ان چیزوں سے خلاصی نصیب فرمائے۔ بہت زیادہ خطرناک باتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کام میں کسی کو شریک کرنا بہت ہی خطرناک بات ہے۔
ترجمہ: ابراہیم نے (اُن سے) کہا: ”کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں حجت کرتے ہو جبکہ اُس نے مجھے ہدایت دے دی ہے؟ اور جن چیزوں کو تم اللہ کے ساتھ شریک مانتے ہو، میں اُن سے نہیں ڈرتا (کہ وہ مجھے کوئی نقصان پہنچادیں گی) اِلا یہ کہ میرا پروردگار (مجھے) کچھ (نقصان پہنچانا) چاہے (تو وہ ہر حال میں پہنچے گا) میرے پروردگار کا علم ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ کیا تم پھر بھی کوئی نصیحت نہیں مانتے؟ ﴿80﴾ اور جن چیزوں کو تم نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے، میں اُن سے کیسے ڈر سکتا ہوں جبکہ تم اُن چیزوں کو اللہ کا شریک ماننے سے نہیں ڈرتے جن کے بارے میں اُس نے تم پر کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے؟ اب اگر تمہارے پاس کوئی علم ہے تو بتاؤ کہ ہم دو فریقوں میں سے کون بے خوف رہنے کا زیادہ مستحق ہے؟ ﴿81﴾ (حقیقت تو یہ ہے کہ) جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور اُنہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ کسی ظلم کا شائبہ بھی آنے نہیں دیا،
حاشیہ: ایک صحیح حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت میں لفظ ”ظلم“ کی تشریح شرک سے فرمائی ہے،
اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ۔ قرآن پاک کی نص سے بھی۔
حاشیہ: شرک سے فرمائی ہے، کیونکہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے شرک کو ظلم عظیم قرار دیا ہے۔
اللہ جل شانہٗ ہم سب کو اس ظلم عظیم سے محفوظ فرما دے، چاہے کسی بھی رنگ میں ہو۔ ہاں اللہ کو پتہ ہے جس کسی بھی رنگ میں ہو اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ فرمائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔