مومن کی آزمائش: مصائب میں اللہ کی طرف رجوع

درس نمبر 48، جلد 1، باب 3: صبر کا بیان۔

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • تکلیف اور بیماری کا کفارہ (گناہوں کی معافی)۔
    • صبر کی اہمیت بمقابلہ جزع فزع۔
      • تکلیف کے وقت اللہ کی طرف رجوع۔
        • تقدیر الٰہی پر راضی رہنا۔
          • بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث کی تشریح۔

            مسلمان کی معمولی تکلیف سے بھی گناہ معاف ہوتے ہیں

            (37) ﴿وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ وَّ اَبِیْ هُرَیْرَةَ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ: مَا یُصِیْبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَّصَبٍ وَّ لَا وَصَبٍ وَّ لَا هَمٍّ وَّ لَا حَزَنٍ وَّ لَا اَذًى وَّ لَا غَمٍّ حَتّٰى الشَّوْکَةُ یُشَاکُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ خَطَایَاهُ﴾ (مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ).

            "حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کو تھکان، بیماری، غم، تکلیف اور کانٹا لگنے سے جو پریشانی ہوتی ہے اس کے بدلے میں اس کے صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ الوصب کے معنی بیماری کے ہیں۔"

            یہ فرمایا "حَتّٰى الشَّوْکَةِ یُشَاکُهَا اِلَّا کَفَّرَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ خَطَایَاهُ" یہاں تک کہ کانٹا لگنے سے جو پریشانی ہوتی ہے اس کے بدلے میں اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی آدمی کو کسی قسم کی کوئی راحت یا تکلیف پہنچے تو اس کا ذہن فوراً اللہ جل شانہ کی طرف جائے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اگر کوئی تکلیف پہنچی ہے تو اس پر صبر کرے اور اگر وہ صبر کے بجائے جزع و فزع اور تقدیر الہی کا شکوہ کرے تو ایک تو دنیاوی تکلیف ہو گی اس کے ساتھ ساتھ آخرت کے اجر و ثواب سے محروم ہو جائے گا بلکہ صرف یہی نہیں کہ آخرت کا اجر نہیں ہو گا بلکہ آخرت کے لئے یہ عمل وبال بن جائے گا۔ (1)

            مصیبت نام ہے اہل وفا کی آزمائش کا اسی میں آدمی کا حوصلہ معلوم ہوتا ہے

            أَخْرَجَهُ الْبُخَارِي كِتَابُ الْمَرْضَى فِي بَابِ مَا جَاءَ فِي كَفَّارَةِ الْمَرْضَى، وَقَوْلُهٗ تَعَالَى: مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهٖ، وَمُسْلِمٌ كِتَابُ الْبِرِّ بَابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهٗ مِنْ مَرَضٍ أَوْ حَزَنٍ أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا۔ رَوَاهُ إِمَامُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِه وَابْنُ حِبَّانَ وَالْبَيْهَقِيُّ


            اللہ جل شانہٗ ہم سب کو اسلام کے ایک ایک امر کی سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

            رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ


            مومن کی آزمائش: مصائب میں اللہ کی طرف رجوع - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور