حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اندازِ استدلال، حقیقتِ توحید اور قرآنِ مجید کا تاریخی اعجاز

درس نمبر: 251، سورۃ الانعام، آیات: 74 تا 79

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. قرآن میں بیان کردہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ اور اس کی تاریخی تصدیق قرآن کے کلام الٰہی ہونے کی دلیل ہے۔
  2. حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چاند، سورج اور ستاروں کے ڈوبنے کو اپنی قوم کے عقائد کی لغویت ظاہر کرنے کے لیے پیش کیا۔
  3. کائنات کی پرورش کرنے والا رب کوئی تغیر پذیر اور ناپائیدار چیز نہیں ہو سکتا۔
  4. بائبل اور تورات کے برعکس قرآن نے پہلی دفعہ صراحت کی کہ اس دور کے لوگ celestial bodies کی عبادت کرتے تھے۔
  5. twentieth century میں دریافت ہونے والے کتبوں نے قرآن کے بیان کردہ ان تاریخی حقائق کی مکمل تصدیق کر دی ہے۔
  6. یہ تاریخی شواہد قرآن کو اللہ کی کتاب تسلیم کرنے اور عقائد کو درست کرنے کی مضبوط دلیل ہیں۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةًۚ اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(74) وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ(75) فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًاۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ(76) فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّیْۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَىٕنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَ كُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ(77) فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ(78) اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ (79)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اور (اُس وقت کا ذکر سنو) جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا تھا کہ : ”کیا آپ بتوں کو خدا بنائے بیٹھے ہیں؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ اور آپ کی قوم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔“ ﴿74﴾ اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا نظارہ کراتے تھے ، اور مقصد یہ تھا کہ وہ مکمل یقین رکھنے والوں میں شامل ہوں ﴿75﴾ چنانچہ جب اُن پر رات چھائی تو اُنہوں نے ایک ستارا دیکھا۔ کہنے لگے: ”یہ میرا رَبّ ہے۔“

حاشیہ: حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق کے جس علاقے نینوا میں پیدا ہوئے تھے، وہاں کے لوگ بتوں اور ستاروں کو خدا مان کر ان کی عبادت کرتے تھے۔ ان کا باپ آزر بھی نہ صرف اسی عقیدے کا تھا، بلکہ خود بت تراشا کرتا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام شروع ہی سے توحید پر ایمان رکھتے تھے، اور شرک سے بیزار تھے۔ لیکن انہوں نے اپنی قوم کو غور و فکر کی دعوت دینے کے لئے یہ لطیف طریقہ اختیار فرمایا کہ چاند ستاروں اور سورج کو دیکھ کر پہلے اپنی قوم کی زبان میں بات کی۔ مقصد یہ تھا کہ یہ ستارہ تمہارے خیال میں میرا پروردگار ہے۔ آؤ دیکھتے ہیں کہ یہ بات تسلیم کرنے کے قابل ہے یا نہیں؟ چنانچہ جب ستارہ بھی ڈوبا اور چاند بھی، اور آخر میں سورج بھی، تو ہر موقع پر انہوں نے اپنی قوم کو یاد دلایا کہ یہ تو ناپائیدار اور تغیر پذیر چیزیں ہیں۔ جو چیز خود ناپائیدار ہو اور اُس پر تغیرات طاری ہوتے رہتے ہوں، اُس کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ پوری کائنات کی پرورش کر رہی ہے، کیسی غیر معقول بات ہے۔ لہٰذا انہوں نے چاند ستاروں یا سورج کو جو یہ کہا تھا کہ یہ میرا رَبّ ہے، وہ اپنے عقیدے کے مطابق نہیں، بلکہ اپنی قوم کے عقیدے کی لغویت ظاہر کرنے کے لئے فرمایا تھا۔

تو یہاں پر گویا کہ اس جیسے کہ میں نے ابھی بتایا ہے۔ کہ انہوں نے اپنی قوم کی زبان میں کہا۔ یعنی ان کو سمجھانے کے لیے کہ

ترجمہ: ”یہ میرا رَبّ ہے۔“ پھر جب وہ ڈوب گیا تو انہوں نے کہا: ”میں ڈوبنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“ ﴿76﴾ پھر جب انہوں نے چاند کو چمکتے دیکھا تو کہا کہ : ”یہ میرا رَبّ ہے۔“ لیکن جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہنے لگے: ”اگر میرا رَبّ مجھے ہدایت نہ دے تو میں یقیناً گمراہ لوگوں میں شامل ہو جاؤں۔“ ﴿77﴾ پھر جب انہوں نے سورج کو چمکتے دیکھا تو کہا: ”یہ میرا رَبّ ہے۔ یہ زیادہ بڑا ہے۔“ پھر جب وہ غروب ہوا تو انہوں نے کہا: ”اے میری قوم! جن جن چیزوں کو تم اللہ کی خدائی میں شریک قرار دیتے ہو، میں اُن سب سے بیزار ہوں ﴿78﴾ میں نے تو پوری طرح یکسو ہو کر اپنا رُخ اُس ذات کی طرف کرلیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں ۔“ ﴿79﴾

یہ اصل میں اس وقت کے دور کے جو عقائد تھے اس قوم کے، اس کی بنیاد پر یہ بات کی گئی ہے۔ ایک سکالر یہ بات کر رہا تھا کہ بائبل جو ہے اس میں شرک کی بات ہے دوسرے یعنی gods کو یعنی وہ کرتے تھے ان تورات میں۔ لیکن یہ تفصیل نہیں ہے کہ وہ کس طرح تھے۔ تو قرآن نے یعنی اتنے عرصے کے بعد ہزاروں سال بعد پہلی دفعہ یہ فرمایا کہ وہ اس طرح کرتے تھے۔ یعنی ستاروں کی بھی کرتے تھے اور چاند کی بھی کرتے تھے اور سورج کی بھی کرتے تھے۔ مطلب یہ celestial bodies ہیں، ان کی بھی عبادت کرتے تھے اور باقی بت پرستی بھی تھی۔ تو یہ قرآن نے پہلی دفعہ یعنی تشریح کر دی کہ اس طریقے سے۔ تو یہ مطلب یہ ہے کہ قرآن میں جو بتایا گیا ہے وہ آج، اتنے عرصے کے بعد twentieth century میں، وہ مطلب پتا چل گیا کہ یہ اس طریقے سے کرتے تھے۔ یعنی مطلب کہ وہ کتبے مل گئے اور ساری چیزیں، اس پہ تصویریں تھیں تو پتا چل گیا، اس سے پہلے کسی کو پتا نہیں تھا کہ کس طرح کرتے تھے۔ تو قرآن نے یہ چیز بتائی ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ واقعتاً قرآن اللہ کا کلام ہے۔ اور اللہ کے کلام میں کون سی چیز کی کمی ہو سکتی ہے؟ لیکن بہرحال جو لوگ پہلے سے نہیں مانتے ان کے لیے یہ ایک دلیل ہوتی ہے کہ وہ اس پر ایمان لائیں اور اس کو اللہ پاک کی کتاب سمجھیں اور اپنے عقائد کو اس کے مطابق درست کریں۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو صحیح عقائد رکھنے کی توفیق عطا فرما دے اور اس پر استقامت اور موت تک ہمیں اللہ اسی کے ساتھ رکھے۔