آیاتِ الٰہی کا استہزاء: اہلِ ایمان کی ذمہ داری اور مجرموں کا عبرتناک انجام

درس نمبر: 249، سورۃ الانعام، آیات: 68 تا 70

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. اللہ کی آیتوں کو برا بھلا کہنے والوں سے اس وقت تک الگ رہنا چاہیے جب تک وہ کسی اور بات میں مشغول نہ ہو جائیں۔
  2. اگر کبھی شیطان کے بھلانے سے ایسی محفل میں بیٹھ جائیں تو یاد آنے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہیے۔
  3. پرہیزگاروں پر ان لوگوں کے اعمال کی کوئی ذمہ داری نہیں، البتہ ان کا کام نصیحت کرنا ہے تاکہ وہ بھی پرہیز کرنے لگیں۔
  4. دین کو کھیل تماشا بنانے سے مراد اسلام کا مذاق اڑانا یا بے بنیاد رسموں پر مبنی کوئی دیگر دین اختیار کرنا ہے۔
  5. کفر اپنا کر اپنے اعمال کے سبب گرفتار ہونے والوں کی رہائی کے لیے نہ کوئی فدیہ قبول ہوگا اور نہ کوئی سفارشی ہوگا۔
  6. اللہ کے لیے ماضی، حال اور مستقبل ایک جیسے ہیں، اس لیے مستقبل کے عذاب کی جو بات فرمائی گئی ہے وہ بالکل موجود کی طرح ہے۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(68) وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰـكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ(69) وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَاؕ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْاۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ (70)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.

ترجمہ: اور جب تم اُن لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کو برا بھلا کہنے میں لگے ہوئے ہیں تو اُن سے اُس وقت تک کے لئے الگ ہو جاؤ جب تک وہ کسی اور بات میں مشغول نہ ہو جائیں۔ اور اگر کبھی شیطان تمہیں یہ بات بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو۔ ﴿68﴾ ان کے کھاتے میں جو اعمال ہیں ان کی کوئی ذمہ داری پرہیزگاروں پر عائد نہیں ہوتی۔ البتہ نصیحت کر دینا اُن کا کام ہے، شاید وہ بھی (ایسی باتوں سے) پرہیز کرنے لگیں ﴿69﴾ اور چھوڑ دو اُن لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے،

حاشیہ: اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جس دین کو انہیں اپنا نا چاہئے تھا، (یعنی اسلام) اُس کو قبول کرنے کے بجائے وہ اُس کا مذاق بناتے ہیں۔ اور یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ جو دین انہوں نے اختیار کر رکھا ہے، وہ کھیل تماشے جیسی بے بنیاد رسموں پر مشتمل ہے۔ اور دونوں صورتوں میں ان لوگوں کو چھوڑنے کا جو حکم دیا گیا ہے اس کامطلب وہی ہے کہ اُن کی اس قسم کی گفتگو میں اُن کے ساتھ مت بیٹھو جس میں وہ اللہ کی آیات کو استہزاء کا نشانہ بناتے ہوں۔

ترجمہ: اور جن کو دُنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا ہے، اور اس (قرآن) کے ذریعے (لوگوں کو) نصیحت کرتے رہو، تاکہ ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص اپنے اعمال کے سبب اس طرح گرفتار ہو جائے کہ اللہ (کے عذاب) سے بچانے کے لئے اللہ کو چھوڑ کر نہ کوئی اُس کا یار و مددگار بن سکے نہ سفارشی، اور اگر وہ (اپنی رہائی کے لئے) ہر طرح کا فدیہ بھی پیش کرنا چاہے تو اُس سے وہ قبول نہ کیا جائے۔ (چنانچہ) یہی (دین کو کھیل تماشا بنانے والے) وہ لوگ ہیں جو اپنے کئے کی بدولت گرفتار ہو گئے ہیں۔ چونکہ انہوں نے کفر اپنا رکھا تھا، اس لئے اُن کے لئے کھولتے ہوئے پانی کا مشروب اور ایک دُکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے۔ ﴿70﴾

اللہ جل شانہ کے لیے ماضی، حال، مستقبل، یہ ایک جیسے ہوتے ہیں۔ یعنی جو مستقبل کی بات اللہ پاک فرماتے ہیں تو اس کے لیے ایسے ہے جیسے موجود۔ تو اس لیے جو یعنی بات فرمائی ہے، یہ

ترجمہ: (چنانچہ) یہی (دین کو کھیل تماشا بنانے والے) وہ لوگ ہیں جو اپنے کئے کی بدولت گرفتار ہو گئے ہیں۔ چونکہ انہوں نے کفر اپنا رکھا تھا، اس لئے اُن کے لئے کھولتے ہوئے پانی کا مشروب اور ایک دُکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے۔﴿70﴾

اللہ جل شانہ ہم سب کو ایسے انجام سے محفوظ فرمائے، بہت برا انجام ہے۔ اللہ پاک ہمیں آخرت کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔

آیاتِ الٰہی کا استہزاء: اہلِ ایمان کی ذمہ داری اور مجرموں کا عبرتناک انجام - درسِ قرآن - پہلا دور