الحمد للہ رب العالمین۔ الصلاۃ والسلام علی خاتم النبیین۔ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَكْسِبُونَ الْإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا يَقْتَرِفُونَ۔
وقال الله تعالى:
قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا۔
وقال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم:
إِنَّ أَثْقَلَ شَيْءٍ يُوضَعُ فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُلُقٌ حَسَنٌ، وَإِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيَّ۔
وقال علیہ السلام:
إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ قَائِمِ اللَّيْلِ وَصَائِمِ النَّهَارِ۔
وقال علیہ السلام:
الْمُسْلِمُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ وَيَصْبِرُ عَلَىٰ أَذَاهُمْ أَفْضَلُ مِنَ الَّذِي لَا يُخَالِطُ النَّاسَ وَلَا يَصْبِرُ عَلَىٰ أَذَاهُمْ۔
وقال علیہ السلام:
أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا۔
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
معزز خواتین و حضرات!
اللہ جل شانہ ارشاد فرماتے ہیں کہ چھوڑو تم ظاہری گناہ اور باطنی گناہ۔ بے شک جو لوگ گناہ کرتے ہیں، عنقریب ان کو بدلہ دیا جائے گا اس کا، جو کہ وہ کرتے ہیں۔
یہاں یہ فرمایا گیا ظاہری گناہ اور باطنی گناہ۔
تو ظاہری گناہ کو تو سب لوگ جانتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص ہے، نماز نہیں پڑھتا، ظاہری گناہ ہے۔ داڑھی نہیں رکھی، ظاہری گناہ ہے۔ اس طرح دھوکہ کرتا ہے، ظاہری گناہ ہے۔ چغلی کھاتا ہے، ظاہری گناہ ہے۔ جھوٹ بولتا ہے، ظاہری گناہ ہے۔ تو ان ظاہری گناہوں کے چھوڑنے پر تو سب لوگ متفق ہیں۔
کیونکہ یہ گناہ مشہور ہیں، یہ نہیں ہے کہ چھپے ہوئے ہیں، سب لوگ ان کو گناہ سمجھتے ہیں۔ اور کافر لوگ ان کو بری باتیں سمجھتے ہیں۔ بھئی کیا خیال ہے کافر لوگ جھوٹ کو اچھا سمجھتے ہوں گے؟ اس طرح دھوکے کو کیا اچھا سمجھتے ہوں گے؟ ظاہر ہے وہ بھی اس کو برا سمجھتے ہیں۔ ہاں وہ گناہ والی بات نہیں کہتے، وہ کہتے ہیں یہ ٹھیک نہیں ہے۔
اور ان کے لیے سزائیں بھی انہوں نے مقرر کی ہوتی ہیں، قانون وغیرہ میں ان کی سزائیں ہوتی ہیں۔ اور جو مومنین ہیں، وہ تو خیر ہے، وہ تو ظاہر ہے، کون ہے جو مسلمان ہو اور کہے کہ جھوٹ بولنا گناہ نہیں ہے؟ یا دھوکہ کرنا گناہ نہیں ہے، یا بدنظری کرنا گناہ نہیں ہے، زنا کرنا گناہ نہیں ہے، چغلی کھانا گناہ نہیں ہے، کوئی بھی مومن یہ نہیں کہے گا کہ یہ گناہ نہیں ہے۔ سب کہتے ہیں یہ گناہ ہے۔
ہاں اس سے بچتے ہیں نہیں بچتے یہ علیحدہ سوال ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں گناہ نہیں اور بچنا بھی چاہتے ہیں۔ اور بچتے ہیں۔ کچھ لوگ گناہ سمجھتے ہیں اور بچنا چاہتے ہیں لیکن نہیں بچ پاتے۔ اور کچھ لوگ ہیں جو گناہ سمجھتے ہیں لیکن بچتے نہیں ہیں، اس کے لیے کوئی کوشش نہیں کرتے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ تو تین categories ہو گئیں۔
یعنی وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں، مومن ہیں، صحیح باتوں کو جانتے ہیں، ان کو مانتے ہیں، لیکن اس پر عمل کی کوشش نہیں کرتے۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو کوشش تو کرتے ہیں لیکن کامیاب نہیں ہوتے۔ تیسرے وہ لوگ ہیں جو کوشش کرتے ہیں اور کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ یقیناً فائدے کے لحاظ سے تو وہ سب سے آگے ہیں جو کوشش بھی کرتے ہیں اور کامیاب بھی ہوتے ہیں۔
تو ایسے لوگوں کا قرآن میں بھی ذکر ہے۔ مومن وہ ہیں، پورا ایک لسٹ بتائی ہے اللہ پاک نے۔
تو اس کا تو قرآن میں بھی ذکر ہے، احادیثِ شریفہ میں بھی اس کا ذکر ہے مختلف جگہوں پہ۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہ چاہتے ہیں لیکن ان کی کوشش کمزور ہے یا مکمل نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہ حاصل نہیں کر پاتے۔ تو ان کو اپنی کوششوں کو صحیح کرنا پڑے گا۔
مثال کے طور پر ایک شخص اصلاح کے لیے کسی غلط پیر سے بیعت ہوا۔ تو اصلاح تو چاہتا ہے نا وہ تو اصلاح چاہتا ہے۔ لیکن غلط پیر کے ساتھ، اس میں اس نے کوشش نہیں کی۔ غلط پیر تو آپ کی اصلاح تو نہیں کرے گا، وہ تو آپ کو صرف بس اپنی خدمت پر لگائے گا۔
آپ اس کی جیب بھرتے رہیں بس کافی ہے، اس سے زیادہ اس کی خواہش نہیں ہو گی۔ یہ ہوتے ہیں نا ہمارے پنجاب کے اور سندھ کے بعض علاقوں میں، خاندانی پیر ہوتے ہیں خاندانی پیر۔ بس خاندانی پیر کا یہ ہوتا ہے کہ وہ آ کر برکت کے لیے آپ کے ہاں ٹھہر جائیں گے، آپ ان کو اچھے اچھے کھانے کھلائیں گے، ہاں پھر وہ چلے جائیں گے، آپ تحفے تحائف دے دیں گے بس ہو گیا کام۔ آپ کا کام بھی ہو گیا اس کا کام بھی ہو گیا۔ ٹھیک ہے نا؟ یہ سلسلہ چلتا ہے۔
اس میں غرض کوئی نہیں ہوتی نہ مرید کی ہوتی ہے، نہ شیخ کی ہوتی ہے۔ کہ اصلاح ہو جائے بس وہ اس طرح ہی چل رہا ہوتا ہے سلسلہ۔ تو یہ بات نہیں۔ اس کے لیے پھر ضروری ہے کہ صحیح شیخ سے بیعت ہو جائے۔ جو اس کی اصلاح کرے۔ یہ ضروری ہے۔
تو میں عرض کر رہا تھا کہ یہ صرف اور صرف ابھی تک جو میں نے بات کی، ظاہری گناہوں کی کی ہے۔ ظاہری گناہوں کی، جن کو سب لوگ جانتے ہیں۔ لیکن کچھ گناہ ایسے ہیں جو باطنی گناہ ہیں۔ باطنی گناہ وہ ہیں جن کو عام لوگ نہیں جانتے، لیکن اللہ جانتے ہیں، اور خود بعض دفعہ انسان جانتا ہے، بعض دفعہ نہیں جانتا۔
آپ کہیں گے یہ کیسے ہوتا ہے کہ خود نہیں جانتا۔ بھئی ایسا ہے، بعض بیماریاں ایسی ہیں۔ جسمانی بیماریاں بھی بعض ایسی ہوتی ہیں جن کو انسان خود نہیں جانتا۔
اس کے لیے medical tests وغیرہ ہوتے ہیں، وہ سارا کچھ کرنے کے بعد پھر وہ چیزیں سامنے آتی ہیں کہ فلاں بیماری ہے۔ تو اس طرح بعض روحانی بیماریاں بھی ایسی ہوتی ہیں جن کو انسان نہیں جانتا کہ مجھ میں ہیں۔ جن میں سرفہرست تکبر ہے۔ جس میں تکبر ہوتا ہے وہ اس کو تکبر نہیں سمجھتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں تو خوددار ہوں۔ مجھ میں تو خودداری ہے۔
کیونکہ امتحان کے لیے یہ چیزیں بالکل ساتھ ساتھ parallel چلتی ہیں۔
مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ
یہ بالکل ساتھ ساتھ، خودداری اور تکبر یہ ساتھ ساتھ چلتے ہیں، تواضع اور احساسِ کمتری یہ ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ اس طرح کئی چیزیں ہیں۔ جو ساتھ ساتھ، حسد اور رشک، یہ ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
تو اب یہ بات ہے کہ جس کو حسد ہے وہ کہتا ہے جی مجھے تو رشک ہے۔ ہاں جس کو یعنی احساسِ کمتری ہے وہ سمجھتا ہے مجھ میں تو تواضع ہے۔
تو اس چیز کے لیے پھر مشائخ ہوتے ہیں۔ تو medical بیماریوں میں لوگوں کو indication ہو جاتی ہے لیکن وہ indication ضروری نہیں کہ اس بیماری کی ہو جس بیماری کا وہ سمجھتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ بیماری اور ہو، indication کسی اور چیز کی سمجھی جائے۔ تو medical tests سے پھر وہ چیزیں سامنے آ جاتی ہیں کہ وہ اصل بیماری کیا ہے۔
اب کسی کو کہتے ہیں جی یہاں پر درد ہے، ادھر، یہاں پر درد ہے، یہاں پر۔ اب وہ کہتے ہیں جی گیس ہے، دوسرا کہتا ہے یہ ہے، تیسرا کہتا ہے یہ ہے۔ جب test ہو جائے پتہ چل جائے اوہو پتے کا مسئلہ ہے۔ وہ تو آپریشن کرنا پڑے گا۔ مطلب اس قسم کی چیزیں ہوتی ہیں۔
اسی طریقے سے بعض دفعہ انسان سے کچھ غلط کام ہوتے ہیں، تو ان غلط کاموں سے ان کا ذہن چلا جاتا ہے کہ یہ کام تو ٹھیک نہیں ہے۔ لیکن کس وجہ سے ہیں، ان کو یہ معلوم نہیں ہوتا۔ تو پھر جب اپنے شیخ کو وہ باتیں بتاتے ہیں، اس سے وہ نتیجے نکالتے ہیں کہ اچھا یہ بیماری ہے۔
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو ایک صاحب نے خط لکھا۔ ان کے ایک مرید نے۔ ان کا بیٹا فوت ہو گیا تھا۔ تو اس نے خط لکھا اور خط میں ویسے ہی رسمی طور پر لکھ دیا کہ اپنی نوجوان بہو پر مجھے ترس آتا ہے۔
تو حضرت نے جواب میں باقی چیزوں کا جواب دیا، اور فرمایا آپ کے خط سے شہوت کی بو آتی ہے، توبہ کرو۔ دیکھو۔ اب ظاہر ہے کہ اس کو خود شاید احساس ہو یا نہ ہو، لیکن حضرت نے پکڑ لی بات، آپ کی بات سے مجھے شہوت کی بو آتی ہے، توبہ کر لیں۔
تو یہ چیز یعنی مشائخ کے ساتھ تعلق رکھنے سے پھر فائدہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ بعض دفعہ تو clear screening کر لیتے ہیں، بعض حضرات detail میں analysis کرنے کے بعد کچھ کہتے ہیں۔ مختلف طریقے ہوتے ہیں، جیسے medical tests بھی مختلف ہوتے ہیں اس طرح یہ بھی اپنے اپنے میدان ہیں۔
تو یہ جو مخفی بیماریاں ہوتی ہیں، تو اللہ پاک نے اس میں ہمیں کوئی چھوٹ نہیں دی کہ یہ چھوڑ دو کوئی بات نہیں۔ فرمایا، یہ دیکھیں قرآنِ پاک کی آیت نہیں سنی اس پر، کہ تم جو ظاہر گناہ ہیں ان کو بھی چھوڑو، پوشیدہ گناہوں کو بھی چھوڑ دو۔ تو ظاہر گناہ تو سب کو نظر آتے ہیں ان کے چھوڑنے پر تو انسان خود بھی کوشش اور محنت کر سکتا ہے۔
اگرچہ ممکن ہے غلط طریقہ اختیار کرنے سے کامیابی نہ ہو۔ لیکن جو باطنی گناہ ہیں ان میں تو پہلے diagnosis میں بہت مسئلہ ہوتا ہے۔ یعنی پہلے معلوم کرنا کہ ہے کیا؟ تو اس میں بھی شیخ کی ضرورت ہوتی ہے، اور پھر علاج میں بھی شیخ کی ضرورت ہوتی ہے۔
تو اس کے لیے ہمیں کچھ کوشش کرنی پڑے گی۔ کیونکہ اللہ پاک فرماتے ہیں، بے شک جو لوگ گناہ کرتے ہیں ان کو عنقریب بدلہ دیا جائے گا اس کا جو وہ کرتے ہیں۔ یعنی یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ چھوڑ دیا جائے گا ان کو۔ اللہ پاک کے پاس ہر ایک چیز کا حساب ہے۔ اس کے مطابق اللہ پاک پھر ان کے ساتھ معاملہ فرماتے ہیں۔
تو یہ موضوع کیا ہے؟ اخلاق کا ہے۔ باطنی بیماریوں کا جو مسئلہ ہے، دور کرنا کیا ہے؟ یہ اخلاق کا ہے۔ یعنی جس میں باطنی بیماری نہیں ہو تو وہ حسنِ خلق کہلاتا ہے۔ اور جس میں ہو تو سوءِ خلق ہے۔
تو حسنِ خلق پیدا کرنے کے لیے، اچھے اخلاق اپنے اندر لانے ہوتے ہیں۔ اور برے اخلاق کو چھوڑنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے کیا چیز ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زیادہ بھاری چیز جو قیامت کے دن میزانِ عمل میں رکھی جائے گی، وہ نیک خلق ہے۔
اور بے شک اللہ پاک ناپسند رکھتا ہے بد زبان بیہودہ گو کو۔ یعنی جو انسان... بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں، اللہ معاف فرمائے، اللہ تعالی کسی کو بھی ایسی بیماری میں مبتلا نہ کرے۔
بات بات پر گالی دیتے ہیں۔ بات بات پر، باتوں باتوں میں اس کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ میں نے گالی دی۔ اور گالی اس کی زبان سے نکل رہی ہوتی ہے۔ بہت بری عادت ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم آپس میں گالی گلوچ اختیار کرو تو پھر اللہ کی نظروں سے گر جاؤ گے۔ تو یہ بہت خطرناک بات ہے۔
لَا إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ ٱللَّٰهِ۔ تو یہ بات ہے کہ اگر ان چیزوں سے کوئی بچ جائے۔ تو قیامت کے دن میزانِ عمل میں یہ سب سے بڑی بات ہوگی۔ اصل میں جو اخلاق ہے نا اخلاق، اس میں گزشتہ ساری چیزیں تقریباً آ جاتی ہیں۔
وہ اس کا subset بن جاتا ہے۔ اب اگر کسی کا عقیدہ صحیح نہ ہو تو اس کے اخلاق کیسے صحیح ہوں گے؟ وہ اللہ کے لیے تو نہیں ہوں گے نا، تو جب اللہ کے لیے نہیں تو اخلاق نہیں ہوا۔ کاروباری بات ہو گئی۔ مثلاً کاروباری طور پر جن کے ساتھ کاروباری تعلق ہوتا ہے ان کے ساتھ بڑی زبردست قسم کی dealing اور manners اور کیا طریقہ کار ہو۔
لیکن اگر دیکھا جائے تو جیسے وہ کاروباری دنیا سے، ان کے کاروباری منافع سے کٹ جائیں تو بس پھر اس کے بعد کچھ بھی نہیں ہوتا۔ ہمارے دفتروں میں جو افسر لوگ ہوتے ہیں، جس وقت وہ افسر ہوتے ہیں تو subordinates ان کی اس حد تک خوشامد کرتے ہیں کہ ان کو خوشامد سے پاگل کر دیتے ہیں۔
اور سمجھتے ہیں کہ شاید واقعی مجھ میں یہ خوبیاں ہیں۔ اور دور دراز کی چیزیں ان کے سامنے لائیں گے، اوہ جی آپ تو ایسے ہیں، آپ تو ایسے۔ اور اس technique سے کہیں گے کہ وہ گمان کرے گا کہ ہاں واقعی مجھ میں ہے۔ لیکن جس دن retire ہو جائے اس کے اگلے دن کچھ بھی نہیں۔ پھر اس کو پتہ چل جائے، اوہو یار یہ لوگ تو میرے ساتھ مذاق کر رہے تھے، مجھے بیوقوف بنا رہے تھے۔
لیکن پھر کیا ہو سکتا ہے، وہ تو اب کیا ہو سکے گا؟ جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ وہ معاملہ تو اس طرح ہو جاتا ہے۔ تو اخلاق کی وجہ سے اگر کوئی کسی کی قدر کرتا ہے، وہ بعد میں بھی کرتا ہے۔ وہ بعد میں بھی کرتا ہے۔
لیکن افسری کی وجہ سے اگر کوئی کرتا ہے، تو وہ پھر اس وقت ہوتا ہے پھر بعد میں نہیں ہوتا۔ اور میرے خیال میں جو بہت high ranking officers ہوتے ہیں نا bureaucracy میں یا army میں جہاں پر بھی ہو، تو ان کا retirement کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہوتا ہے۔ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ میں نے اپنے بڑوں کے ساتھ کیا کیا تھا، میرے ساتھ بھی وہی ہوگا۔
تو ان کو اس loss کا بڑا غم ہوتا ہے۔ ہمارے صوفی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس اس قسم کے لوگ آتے تھے، روتے تھے، میں retire ہو رہا ہوں۔ تو کہتے، بھئی کیا ہو گیا بس، retire ہو رہے ہو تو مزے کرو پھر۔ لیکن ان کی پریشانی لاحق ہوتی تھی۔ کیونکہ ظاہر ہے کہ وہ مزے تو پھر نہیں ہوتے نا۔
تو اس وجہ سے جو اچھے اخلاق ہیں وہ دیرپا ہوتے ہیں ان کا معاملہ پھر بعد میں بھی ہوتا ہے۔ اس کا فائدہ بعد میں بھی ہوتا ہے۔ اور اگر صرف افسری کی وجہ سے ہو تو اس وقت تک تو ہے اس کے بعد کچھ بھی نہیں۔ اس کے بعد پھر معاملہ بلکہ بعض دفعہ تو دشمنی پہ بھی آ جاتے ہیں کیونکہ کچھ بدلے ودلے لینے ہوتے ہیں کچھ مسائل ہوتے ہیں اس کی وجہ سے بھی سلسلے شروع ہو جاتے ہیں۔
ارشاد فرمایا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بے شک مومن اچھے خلق کے سبب شب بیدار اور روزہ دار کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ اب دیکھو نا عبادت کی باتیں ہیں یہ۔
لیکن اچھے اخلاق والا یہ شب بیدار یعنی نفل پڑھنے والا، تہجد پڑھنے والا، ذکر کرنے والا، اس میں جو وقت لگانے والا ہے، وہ سمجھا جاتا ہے اللہ تعالی کے نزدیک۔ اور دن کو روزہ رکھنے والا۔ اب کتنی بڑی بات ہے۔ بھئی کیا بات ہے کہ اچھے اخلاق پیدا کرو اور بداخلاقی سے آپ کو ملتا کیا ہے مجھے بتاؤ؟ بداخلاقی سے کوئی چیز ملتی تو نہیں ہے۔
بعض دفعہ تو گناہ بے لذت ہوتا ہے۔ ایسے ایسے آدمی اپنے آپ کو خراب کرتا ہے۔ مثلاً یہ جھوٹ بولنا، خواہ مخواہ مزے کے لیے جھوٹ بولنا یا اپنی شیخی جتانے کے لیے... تو بھئی کیا ہو گیا؟ عزت اور ذلت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر اللہ پاک نے آپ کو عزت دینی ہوگی تو آپ کے اندر کوئی بھی صفت نہیں ہوگی پھر بھی اللہ تعالی آپ کے اندر پیدا کر لیں گے آپ کی عزت ہو جائے گی۔ اور اگر نہیں چاہیں گے تو آپ کے اندر ساری چیزیں موجود بھی ہوں تب بھی...
میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں اور مثال بہت بری ہے صرف سمجھانے کے لیے عرض کرتا ہوں کہ اللہ تعالی اگر کسی کی عزت کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو کوئی بڑی کارروائی کی ضرورت نہیں ہے مثلاً اس کی مجلس میں اس کی ریح نکل جائے تو بس ختم اس میں قصور اس کا کیا ہے؟ کم از کم کے پی کے میں تو اس کی عزت پھر باقی نہیں رہی نا۔ اب اس میں قصور اس کا کوئی نہیں ہے، مثلاً اس کی کوئی رشتہ دار لڑکی اغوا ہو جائے تو اس میں اس کا کوئی قصور نہیں ہے، لیکن اس کی عزت تو گئی۔
تو گھر بیٹھے بھی عزت کر لیتا ہے اللہ تعالی، کوئی اس کے لیے بڑی کارروائی کی ضرورت نہیں ہے۔ تو عزت و ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ تو اس کے لیے انسان جھوٹ کیوں بولے؟ کسی کو دبائے کیوں؟
بھئی دیکھو کھانے میں بھی برکت اللہ پاک ہی ڈالتے ہیں۔ بہت سارے لوگ ہیں، ان کے ساتھ ایک دن کا یعنی ایک وقت کا ہوتا ہے اگلے وقت کا نہیں ہوتا خوش و خرم رہتے ہیں۔ اللہ کا شکر کرتے ہیں اللہ تیرا شکر ہے تو نے مجھے دیا۔
کچھ لوگوں کے بینک بھرے ہوتے ہیں پریشان ہوتے ہیں۔ آدمی حیران ہوتا ہے کہ بھئی سمجھتا ہے پتہ نہیں یہ تو بالکل ہی ختم ہونے والا ہے۔ پتہ چلتا ہے کہ اس کے پاس تو یہی چیزیں ہیں۔ پریشان ہوتے ہیں۔ تو ایسی دولت سے کیا فائدہ؟ جو آپ کو نہ ظاہری فائدہ پہنچائے نہ باطنی فائدہ پہنچائے۔
کیا دوسرے لوگوں کے لیے جمع کرنے کے لیے تو نے دولت رکھی ہے؟ کہ تو جائے گا تو پھر دوسرے لوگ گلچھرے اڑائیں گے اور جن لوگوں کے اخلاق یہ ہوں گے کہ وہ جو گلچھرے اڑائیں گے، وہ کیا آپ کو یاد رکھیں گے؟ وہ زندگی میں یاد نہیں رکھتے تو بعد میں کیا یاد رکھیں گے؟ ہاں خوشامد کے لیے کریں گے۔ خوشامد کے لیے کریں گے لیکن اگر تھوڑا سا سائیڈ پہ ہو جائیں تو پھر ان کی باتیں سنو۔ پھر وہ کیا کہتے ہیں؟
بلکہ بعض لوگ تو اپنے دوستوں میں کہتے ہیں کبھی بڈھا مرے گا یار بس۔ وہ اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ مر جائے تو یہ چیزیں ہماری ہو جائیں۔
یہ نواب اودھ... نام مجھ سے بھول گیا، کچھ اچھا نام تھا اس کا۔ تو انگریزوں کے ساتھ ان کی dealing ہو رہی تھی۔ تو انگریزوں نے ان کو choice دی option دی کہ وظیفہ ہم آپ کا قائم کریں، اگر آپ تک ہی ہو تو زیادہ مقرر کر لیتے ہیں، صرف آپ کو ملے بعد میں کسی کو نہ ہو۔ اور اگر آپ چاہیں کہ بعد میں بھی چلتا رہے تو پھر اس کے حساب سے ہم کر لیں گے۔
تو اس نے صرف اپنے تک رکھا، کسی اور کے لیے نہیں رکھا۔ تو لوگوں نے ان کو بڑی ملامت کی کہ بھئی آپ نے اپنے بعد والوں کو بالکل محروم رکھا، ان کو شامل کرتے، ان کو بھی فائدہ ہوتا۔ انہوں نے کہا مجبوراً کیا ہے، انہوں نے کہا کیا مجبوراً، کہتے پھر یہ میری موت کی دعائیں کرتے۔ کہ جلدی مر جائے تاکہ ہمیں وظیفہ ملنا شروع ہو جائے۔ اب میری زندگی کی دعائیں کریں گے۔
کہ میری زندگی تک ان کے مزے ہوں گے۔ اس کے بعد تو نہیں ہوں گے۔ تو بات یہ ہے سب لوگ جانتے ہیں بھئی کیا ہو رہا ہے، ارد گرد آج کل کیا ہو رہا ہے۔ یہ ساری باتیں ہیں۔ تو ان کے لیے اللہ پاک کو کیوں ناراض کرتے ہو؟
اچھا ارشاد فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو مسلمان لوگوں سے ملتا ہے اور ان کی تکلیف پر صبر کرتا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو لوگوں سے نہیں ملتا اور ان کی تکلیف پر صبر نہیں کرتا۔ یعنی اس میں ان گوشہ نشین لوگوں کی، جو لوگوں سے تنگ آ کر گوشہ نشینی اختیار کرتے ہیں تو دور چلے جاتے ہیں تو باجماعت نماز سے محروم ہو جاتے ہیں اور بہت سارے نیک کاموں سے محروم ہو جاتے ہیں جو اجتماعی کام ہوتے ہیں ان سے محروم ہو جاتے ہیں، تو ظاہر ہے ان کے account میں کمی آ جائے گی۔
جبکہ دوسرے وقت میں لوگوں کی اس تکلیف پر صبر کرتے ہوئے وہ کام کریں جو اللہ پاک چاہتا ہے اور ان کے درمیان رہیں تو ظاہر ہے ان کو ان چیزوں کا فائدہ، اب سب سے بڑا فائدہ تو یہ صبر کرنے پر ملے گا۔
إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ
بے شک اللہ پاک صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اس پر ملے گا۔ باقی دوسرے جو فوائد ہیں وہ تو ایک additional چیز ہے۔
ارشاد فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مومنوں میں زیادہ کامل ایمان رکھنے والا وہ ہے جو ان میں اچھے اخلاق والا ہے۔ ابو داؤد اور دارمی کی روایت۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک ہوتا ہے ایمان اور ایک ہوتا ہے ایمان کے ثمرات۔
تو کامل ایمان اس کا ہوتا ہے جس کو حق الیقین حاصل ہو جائے۔ تو جس کو حق الیقین حاصل ہو جائے تو پھر وہ اخلاق اس کے اچھے ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ نہیں کیونکہ دیکھیں نا یہ اصل میں ایک چیز ہے، یقین کی جو quality ہے نا۔
جیسے مثال کے طور پر پمپ ہم مارتے ہیں نا ہوا کا یا پانی کا۔ تو تھوڑا اگر زور سے مارتے ہیں تو قریب پانی گرتا ہے۔ اور کم pressure ہوتا ہے۔ تھوڑا سا زیادہ مارتے ہیں نا تو پھر اور آگے جاتا ہے زیادہ pressure ہو جاتا ہے۔ دور تک پانی جائے گا۔ اور زیادہ ماریں گے تو اور دور تک جائے گا یہی بات ہے نا؟
تو ہمارے پاس ایمان کا جو حق الیقین کا درجہ کم ہوگا تو صرف عبادات تک درست ہوں گی۔ عبادات درست ہوں گی۔ کچھ اور زور کریں گے تو معاملات بھی درست ہونا شروع ہو جائیں گے۔ کچھ اور زور کریں گے تو معاشرت اور اخلاق کی باری آئے گی، وہ درست ہونا شروع ہو جائیں گے۔ تو گویا کہ حق الیقین کا اعلی درجہ کب ملے گا؟ جب یہ چیزیں بھی درست ہو جائیں گی۔ تو جس کی یہ چیزیں درست ہوں تو reverse engineering کے مطابق دیکھو کہ اس کا ایمان سب سے اعلی ہوا ہے نا، اس میں حق الیقین اس کو حاصل ہے نا اس کا۔ تو یہ بات ہے کہ جو اچھے اخلاق والا ہے یہ ماشاءاللہ زیادہ کامل الایمان ہے۔
ارشاد فرمایا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں مجھے سب سے زیادہ پیارا وہ شخص ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں۔ ظاہر ہے اوپر کی بات ہے۔ وہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے زیادہ وہ ہے جس کا ایمان کامل ہو تو اخلاق والے وہی ہوں گے۔ تو یہی فرمایا جن کے اخلاق اچھے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ مجھے سب سے زیادہ پیارا ہے۔
اب ایک شخص ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کثرت کے ساتھ ذکر کر رہا ہے، یہ کر رہا ہے وہ کر رہا ہے، لیکن اس کے اخلاق بہت برے ہیں۔ دوسرا آدمی یہ نہیں کر رہا، بس جو لازم حصہ ہے وہ کر رہا ہے لیکن اخلاق اس کے بڑے اچھے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس کے بارے میں فرما رہے ہیں جو مجھے زیادہ پیارا ہے؟ ظاہر ہے جس کے اخلاق زیادہ اچھے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو زیادہ پیارا سمجھتے ہیں۔ تو جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت ہو تو ان کے لیے بہت بڑا message ہے۔ بہت بڑا message ہے۔ کہ وہ کیا کریں؟ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے بن جائیں۔
ہمیشہ اپنے اخلاق کو درست رکھیں۔ اس میں اب میں آپ کو آسان طریقہ بتاتا ہوں۔ یہ کچھ بزرگوں کو جو حاصل تھا وہ بتاتا ہوں۔
شاہ اسحاق رحمۃ اللہ علیہ آخر عمر میں نابینا ہو گئے تھے۔ بیٹھے ہوئے تھے، ان کے جوتے ان کے سامنے رکھے ہوئے تھے تاکہ ڈھونڈنا مشکل نہ ہو۔ چونکہ نابینا تھے، کسی آدمی نے آ کر اٹھا لیا۔ حضرت کو تو پتہ نہیں چلا۔ لیکن تھوڑی دیر، چند قدم جا کے وہاں نابینا ہو گیا۔ اس نے رونا شروع کر لیا کہ مجھے تو نظر نہیں آ رہا میں اندھا ہو گیا ہوں۔ تو اس سے پوچھا لوگوں نے کیا ہو گیا؟ اس نے شاہ اسحاق صاحب کی طرف اشارہ کیا کہ میں نے اس کے جوتے اٹھا لیے اور بس شاید ان کی بددعا لگی ہے۔ تو میں نابینا ہو گیا ہوں۔
تو ان کو حضرت کے پاس لایا گیا۔ کہ حضرت یہ جوتے آپ کے چرا کے لے جا رہا تھا تو یہ نابینا ہو گیا۔ تو آپ نے اس کو بددعا دی ہوگی تو آپ دعا کر لیں کہ یہ ٹھیک ہو جائے۔ عمر بھر کی پھر محتاجی ہوگی۔ تو حضرت نے بڑی عجیب بات فرمائی۔ یہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے۔ فرمایا بھائی میں تو بددعا کسی کو نہیں دیتا۔ کیونکہ مجھے یہ بات بہت بری لگتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی امتی کو بددعا دوں اور اس کو کچھ ہو جائے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے پریشان ہوں۔ تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی امتی کو بددعا نہیں دیتا۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالی کا اس کے ساتھ جو معاملہ ہے اس میں میرا بس نہیں چلتا۔ تو اب دیکھ لیں ذرا غور فرمائیں کہ اس نے بددعا نہیں دی اور یہ reference آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، تو اللہ پاک نے پھر ان کے ساتھ کیا معاملہ رکھا؟ اللہ پاک ان کے حافظ و ناصر ہو گئے نا؟ انہوں نے بددعا نہیں دی لیکن اللہ پاک نے فوراً ان کے اوپر اپنا عتاب جاری کر دیا۔
حضرت مظہر جان جاناں رحمۃ اللہ علیہ، ان کا یہ حال تھا کہ وہ بہت نازک مزاج تھے۔ طبیعت اللہ تعالی نے جیسی بنائی تھی۔ اب بعض لوگوں کی طبیعت بڑی نازک ہوتی ہے تو یہ مثالی تھے اس مسئلے میں۔ خوبصورت چیزیں بہت، یعنی ان کو، بدصورت چیز کو دیکھ بھی نہیں سکتے تھے۔ ایک دن کوئی لحاف لایا تھا۔ تو صبح جب اٹھے تو ان کی آنکھوں میں سرخی لوگوں نے دیکھی انہوں نے کہا حضرت نیند نہیں آئی؟ کہتے بس وہ لحاف جو تھی اس کے اندر جو سلائی ہوئی تھی نا وہ ٹیڑھی میڑھی ہوئی تھی بس اس کی وجہ سے نیند نہیں آئی۔ اب کہاں بندے تھے، اس کو کیسے پتہ چلا۔ لیکن مزاج ہے بس نزاکت تو نزاکت بہت زیادہ تھی۔ اس نزاکت کی وجہ سے بعض دفعہ اتنا شدید مسئلہ ہو جاتا کہ حضرت کو سر میں درد ہو جاتا۔ اور ادھر حضرت کو سر میں درد ہو جاتا، ادھر اس شخص کو تکلیف ہو جاتی، کوئی مسئلہ ہو جاتا جس کی وجہ سے ایسا ہو چکا ہوتا۔ اب یہ روزمرہ کے واقعات ہو رہے تھے تو لوگ تنگ ہو گئے۔ تو ان کے ساتھیوں نے گزارش کی کہ کچھ تو سفارش کر لیں ہمارا مسئلہ ہے، اب کیا کریں انسان ہے غلطی تو ہوتی ہے۔ تو ہم کیا کریں؟ تو ان کے ساتھیوں نے کہا کہ حضرت تھوڑا معاف بھی کر لیا کریں اچھی بات ہے۔ انسان ہے غلطیاں کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا میں تو کبھی کسی کا برا نہیں سوچتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امتیوں کے لیے میں کیوں برا سوچوں گا؟ لیکن کیا کروں اللہ پاک معاف نہیں کرتے۔ اللہ تعالی معاف نہیں کرتے۔ تو جو اللہ کا ہو گیا وہ پھر اللہ ان کا ہو گیا۔ تو ایسا ہو جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جس کو بھی محبت ہے، ان کے لیے کھلی دلیل ہے۔ اس بات میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو امتی ہیں نا، ان کو تکلیف دینے سے پرہیز کیا جائے، اس کے اخلاق اچھے ہوں تو بس یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پیارا ہو گا۔
کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت سے بہت پیار ہے تو اخلاق کی اگر آپ definition دیکھ لیں جو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرات نے کی ہے، تو ظاہر ہے کسی کو تکلیف نہیں ہونی تو جب تکلیف نہیں ہوگی تو ظاہر ہے اس امتی کے ساتھ اس کو پریشانی نہیں ہوگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے خوش ہوں گے۔
اور صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول خدا! جو چیزیں انسان کو دی گئی ہیں ان میں سب سے عمدہ کیا چیز ہے؟ ارشاد فرمایا: اچھا خلق، اچھے اخلاق، اچھا خلق۔ یعنی اگر کسی کو یہ مل جائے تو یہ بہت بڑی دولت ہے۔ اگر کسی کو اچھے اخلاق مل جائیں۔ تندروئی اور اس قسم کی جو چیزیں ہوتی ہیں، بعض مزاجوں میں ہوتی ہیں تو نہیں، اس کو بتکلف درست کرنا چاہیے۔
ہاں البتہ استاد اور شیخ کا معاملہ الگ ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ جو بھی کرتے ہیں وہ اپنے شاگرد اور اپنے مرید کے لیے کرتے ہیں۔ کیونکہ جیسے مثال کے طور پر آپ کپڑا دھوتے ہیں تو کپڑے میں اگر میل اندر چلا گیا ہو کپڑوں میں اور نہیں نکلتا ہو تو پھر اس کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟ پھر اس کے ساتھ یہی کرتے ہیں کہ دھوتے بھی ہیں لیکن دھونے کے ساتھ اس کو اس سے پیٹتے بھی ہیں۔ نچوڑتے بھی ہیں بہت زور سے۔ اور صابن بھی اس میں چھوڑتے ہیں۔ تو یہ ساری چیزیں کیا ہیں؟ یہ ان کے لیے ہے نا بس کپڑے کے لیے کہ کپڑا صاف ہو جائے۔ تو اس طرح اگر شاگرد کو چیز صحیح سمجھ میں آ جائے، اس کی وجہ سے سختی کرتا ہے استاد، اور اگر شیخ کسی پہ سختی کرتا ہے تاکہ وہ نکھر جائے، اس سے برائیاں دور ہو جائیں۔ تو یہ اس کے لیے فائدے کی بات ہے۔ وہ اپنے لیے اس کو تھوڑا کرتے ہیں وہ اپنے نفس کو درمیان میں نہیں لائے گا۔ بلکہ کیا کرے گا؟ کہ اس کا فائدہ ہو۔ تو وہ بات الگ ہے۔ اکثر لوگ ان کو بھی ان معنوں میں لے لیتے ہیں۔ نہیں وہ والی بات الگ ہے۔ نرم لوگوں سے اصلاح نہیں ہوا کرتی۔ ہاں الا کہ کوئی اللہ پاک نے ایسا بنایا ہو کہ ان کی صحبت ہی میں اتنا اثر ہو کہ وہ کسی اور چیز کی ضرورت نہ ہو۔ وہ ایک علیحدہ چیز ہے۔ وہ اللہ تعالی کی طرف سے ایک انتظام ہے۔ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت۔ تو اس میں کسی اور چیز کی ضرورت تو نہیں تھی نا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ہی کافی تھی۔ لیکن باقی لوگوں سے تو یہ نہیں، عمر رضی اللہ عنہ کا درہ تو مشہور ہے نا۔ immediate صحابہ ہیں نا بالکل۔ تو عمر رضی اللہ عنہ کیا نرم گفتاری نہیں کر سکتے تھے؟ لیکن نہیں۔ ہاں البتہ نفس کے لیے نہیں کرتے تھے۔
ایک شخص تھے، اس طرح وہ کھانا کھا رہے تھے حضرت کے ساتھ۔ تو ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ بائیں ہاتھ سے کھا رہا ہے۔ تو ان کو ٹوکا کہتے ہیں دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔ تھوڑی دیر کے بعد دیکھا پھر بائیں ہاتھ سے کھا رہا ہے۔ پھر ٹوکا میں نے کہا نہیں تھا دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔ اب وہ چپ۔ پھر جب تیسری دفعہ ہو گیا تو انہوں نے کہا میں تمہیں بار بار کہہ رہا ہوں، کیا خیال ہے؟ تو اس پر انہوں نے کہا حضرت میرا دایاں ہاتھ شہید ہو گیا ہے جنگِ جہاد میں۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ رونے لگ گئے۔ اب یہ ہے للہیت۔ رونے لگ گئے افوہ میں نے آپ کو تکلیف پہنچائی۔ مجھے پتہ نہیں تھا دیکھو آپ ناڑا کیسے باندھتے ہوں گے؟ یہ کام کیسے کرتے ہوں گے؟ یہ کام کیسے کرتے ہوں گے؟ اب ان کی تکلیفوں کا احساس شروع کر لیا۔ تو ظاہر ہے وہ سختی کس چیز کے لیے تھی؟ وہ اللہ کے لیے تھی ان کے فائدے کے لیے تھی۔ وہ اپنے نفس کے لیے نہیں تھی اگر نفس کے لیے ہوتی پھر بھی ایسا...
تو یہی بات ہے کہ استاد اگر سختی کرتا ہے، امام ہارون الرشید اور امین الرشید، وہ گئے تھے نا تو استاد سے پڑھ رہے تھے، تو انہوں نے کچھ سختی کی ہوگی تو انہوں نے اپنے باپ سے شکایت کی۔ تو انہوں نے ان کی تختی پہ لکھا، فارسی میں تو خیر بعد میں کسی نے شعر میں بنا دیا ورنہ ظاہر ہے انہوں نے عربی میں لکھا ہو گا۔ تو انہوں نے کہا کہ ”جورِ استاد بہ ز مہرِ پدر“۔ یعنی استاد کی جو سختی ہے وہ والد کی محبت سے زیادہ بہتر ہے۔ والد کی محبت تجھے بگاڑ دے گی۔ اور استاد کی سختی تجھے بنا دے گی۔ تو یہ والی بات ہے کہ استاد کی جو سختی ہوتی ہے وہ بھی اپنے نفس کو اگر شامل نہ کرتا ہو۔ آج کل کے استادوں میں ذرا مسائل ہیں۔ وہ کبھی پڑھائی میں اتنا زیادہ وہ نہیں کرتے جتنا کہ پٹائی کرتے ہیں۔ وہ معاملہ الگ ہے۔ تو میں اس چیز کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ لیکن اصل استاد کی جو سختی ہوتی ہے وہ تو شاگرد کے فائدے کے لیے ہوتی ہے۔ اور اس طرح شیخ کی جو سختی ہوتی ہے جیسے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی تھی یا اس طرح جلال بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا شاہ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ جو کیا تھا۔ اس طرح اور حضرات، اکابر علماء ان سے بیعت تھے۔
تو شاہ عبد القدوس گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے ہیں۔ اور یہ شاہ جلال رحمۃ اللہ علیہ وہ ہیں، یعنی ان کے خلیفہ ہیں۔ تو ان کو کسی نے بتایا کہ آپ کے پاس اندر وہ چیز نہیں ہے جو کہ آپ کے ہاں ہوا کرتی تھی۔ تو اس پر یہ چلے گئے۔ اور کہتے ہیں پوچھا کہ آج کل کہاں پر حضرت کا فیض زیادہ ہے؟ تو لوگوں نے کہا شاہ جلال رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں۔ تو وہاں گئے تو ان کو پتہ چل گیا کہ صاحبزادے آ رہے ہیں تو وہ بڑے زبردست طریقے سے لاؤ لشکر کے ساتھ استقبال کے لیے باہر آئے اور ان کو ریسیو کر لیا، اور پھر دعوتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ان کے لیے سیر کا بندوبست کر دیا گیا سارا کچھ۔ تین دن تک تو مہمانی کا سلسلہ جاری رہا۔ تو انہوں نے کہا حضرت آپ کیا کر رہے ہیں؟ میں تو اس کے لیے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کس کے لیے آئے ہیں؟ حضرت وہ بتا دیں تاکہ میں وہ کروں۔ انہوں نے کہا میں تو وہ چیز جو آپ ہمارے گھر سے لے کے آئے تھے تو اس چیز کے لیے آیا ہوں۔ تو انہوں نے کہا کہ وہ چیز تو پھر اس لباس میں حاصل نہیں ہو سکتی جو آپ نے پہنا ہوا ہے۔ کہا حضرت آپ جیسے چاہیں میں اس طرح کر لیتا ہوں۔ تو خادموں کا لباس... پہلے اس سے تحقیق کرو کہ واقعی یہ بات کر رہے ہو، واقعی یہ بات کر رہے ہو؟ تسلی ہو گئی تو پھر ان سے یہ بات کی۔ پھر اس کے بعد ان کو خادموں والا لباس پہنا دیا گیا۔ اب دیکھو صاحبزادہ ہے۔ ان کے دل میں ان کی کتنی قدر ہے لیکن کیا کر رہا ہے اس کے ساتھ اب؟ خادموں کا لباس پہنا دیا اور فرمایا کہ حمام میں اب آگ ڈالتے جاؤ۔ یہ تمہارا کام ہے۔ کوئی اور کام تیرے ذمے نہیں ہے۔ کھانا تجھے وقت پہ ملے گا، سونا وقت پر ہے، نماز پڑھو گے اور بس یہی کام ہے، اس کے علاوہ اور کوئی کام نہیں۔ ذکر نہیں دیا۔ یہ بھی عجیب بات ہے۔ کیا دیا؟ خدمت دے دی۔ تو پھر کیا ہوا؟ چھ مہینے تک تو پوچھا بھی نہیں نا کہ اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔ چھ مہینے کے بعد ایک بھنگن کو بھیجتے ہیں کہ وہ جو گند وغیرہ ہے وہ اس طرح ڈال لو کہ کچھ اس کی طرف چلا جائے۔ اور اس طرح گرا دو غلطی سے، جیسے غلطی سے گر رہا ہو۔ اور دیکھو کہ یہ کیا کرتا ہے۔ وہاں جا کر ایسا ہوا تو اس نے اس طرح گھور کے دیکھا، کہتے ہیں نہ ہوا گنگوہ۔ یعنی گنگوہ ہوتا تو پھر میں تمہیں دیکھ لیتا کہ کیا ہونا ہے۔ تو خیر ایسا ہوا کہ اس کے بعد انہوں نے جا کر رپورٹ کر لی کہ اس طرح کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، اچھا ابھی کچھ خو بو باقی ہے صاحبزادگی کی۔ بھئی صاحبزادگی نکالنا بڑا مشکل کام ہے، یہ بات سمجھ میں آتی ہے، یہ آسان کام نہیں ہے۔ تو فرمایا ابھی ہے کچھ خو بو باقی۔ پھر اس کے بعد چھ مہینے اور کروایا۔ جب چھ مہینے گزر گئے پھر اس کے بعد ان کو بھیجا، ان سے کہا کہ اب ذرا اور قریب ہو کر گرانا۔ تو اب جو اس نے کیا تو اس نے گھور کے دیکھا تو صحیح لیکن منہ سے کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے جا کر رپورٹ دے دی کہ اب تو یہ ہے۔ انہوں نے کہا ماشاءاللہ کچھ فائدہ ہو گیا ہے۔ اب تیسری بار جب ان کو بھیجا تو ان سے کہا کہ جا کر اس کے پیروں پہ ڈال دینا۔ تو ڈال دیا تو پھر اس کے بعد انہوں نے اوہو میں غلط جگہ پر بیٹھا تھا آپ کو تکلیف ہو چکی ہوگی، اور اس کو اٹھا کے طغاری میں ڈالنا شروع کر لیا اور معافی بھی مانگنے لگا۔ اب وہ جا کے اس نے، میاں جی تو عجیب حالت ہو گئی اب تو یہ اس طرح کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا ماشاءاللہ کام ہو گیا، اب آخری کام۔ تو دو کتے شکاری ان کے حوالے کیے اور ان سے کہا کہ اس کو کسی حالت میں چھوڑنا نہیں ہے۔ اور شکار کے لیے جاتے ہیں۔ اب شکاری کتے موٹے تازے اور یہ تو لاغر ہو چکے تھے ظاہر ہے مجاہدوں کے ساتھ۔ تو پھر یہ کیا ہوا شکاری کتوں نے شکار کو دیکھا اس پہ جھپٹ پڑے۔ اور انہوں نے ڈر کی وجہ سے اپنی کمر کے ساتھ وہ رسی باندھی تھی تاکہ چلے نہ جائیں۔ تو یہ بالکل گر گئے۔ اور پھر یہ جھاڑیوں میں اور پتھروں کے اوپر گھسیٹتے گئے، لہولہان ہو گئے۔ اتنے میں حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت ہوئی ان کو اونگھ آئی اور زیارت ہوئی۔ کہا میں نے تو تجھ سے اتنی زیادہ خدمت نہیں لی تھی جو تو نے لی ہے میری اولاد سے۔ اتنی زیادہ خدمت تو نہیں لی تھی۔ تو حضرت جیسے بیدار ہوئے انہوں نے کہا اوئے اس باؤلے کو دیکھو کدھر ہے کدھر ہے ذرا معلوم کرو کدھر ہے۔ پتہ چلا کہ وہ کسی جھاڑی میں پڑے ہوئے ہیں اور چہرے خوشی سے گلنار ہیں۔ یعنی تکلیف میں ہیں لیکن چہرہ خوشی سے گلنار ہے تو کیا بات ہو گئی؟ انہوں نے کہا اللہ تعالی کی طرف سے تجلی ہوئی تھی۔ تو پھر اس کے بعد پھر دوبارہ اس تجلی کے شوق میں، محبت میں اپنے سانس کو روک دیا کہ مجھے دوبارہ وہ تجلی ہو تب میں سانس کو چھوڑوں گا۔ وہ بڑی مزیدار ہوتی ہے ظاہر ہے۔ تو اس پر ایسا ہوا کہ وہ جب اچانک پھر دوبارہ تجلی ہوئی تو یک دم جو سانس کھل گیا تو اس سے تین پسلیاں ٹوٹ گئیں۔ تو پھر غیب سے دوائی آ گئی ان کے منہ میں ڈال دی گئی اور ساتھ فرمایا، اپنے شیخ کو کہہ دو کہ آپ کو چوزوں کا شوربہ پلائے۔ تو ان سے کہا تو انہوں نے باقاعدہ علاج بھی شروع کیا۔ چوزوں کا شوربہ پلایا۔ جب صحت مند ہو گئے تو خلعت پہنا دی فرمایا مبارک ہو، جو چیز میں آپ کے گھر سے لے کر آیا تھا تم آج ہمارے گھر سے لے جا رہے ہو۔
تو اب دیکھو نا کیسی اصلاح کی؟ یہ طریقہ ہوتا ہے اصلاح کا، اصل میں یہ چیزیں نکالنا آسان نہیں ہوتا لوگ سمجھتے ہیں بس ٹھیک ہے جی آرام آرام سے۔ تو آرام آرام سے کپڑوں کو صاف کر لو۔ جو کپڑے دھونے والے ہیں ان سے پوچھو نا۔ آرام آرام سے صاف ہوتے ہیں؟ تو بس یہی بات ہوتی ہے۔ تو اس میں نرم نرم ہاتھ والی بات کوئی نہیں ہوتی۔ ہاں البتہ اس کے لیے ہر شخص کا معیار الگ ہے، کیوں؟ مثلاً ایک آدمی ہے وہ attendant ہے۔ ڈیوٹی کے لحاظ سے attendant ہے۔ اس کو کہہ دو گے جی فلاں بازار سے چیز لے آؤ۔ اس کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے، وہ اس کے لیے کیا مجاہدہ ہے، اس کا کام ہی یہی ہے۔ لیکن اگر آپ کسی وزیر سے کہہ دیں یا گورنر سے کہہ دیں جاؤ میرے لیے بازار سے فلاں چیز لاؤ۔ تو اس کے لیے جانے کا ارادہ کرنا ہی بہت بڑا مجاہدہ ہے۔ تو اس سے بہت بڑی اصلاح ہو جاتی ہے۔ بہت بڑی اصلاح ہو جاتی ہے کیونکہ ظاہر ہے جب اس کے...
تو حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے یہی کیا تھا۔ حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ، وہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس گورنر تھے۔ تو خلیفہ کے ساتھ اختلاف ہو گیا تو استعفی دے دیا اور حضرت کے پاس آئے کہ حضرت مجھے اپنا جیسا بنا لو۔ فرمایا بھئی آپ کے پاس تو اب کچھ نہیں کہ میں آپ سے لے لوں۔ چلو آپ یہ کرو کہ جاؤ جہاں تو نے گورنری کی ہے وہاں پر ایک سال آپ سبزی بیچیں۔ سبزی بیچیں! تو یہ باقاعدہ یہ سبزی، جیسے ریڑھا ہوتا ہے، جو بھی چیز ہو اس پہ آوازیں لگاتے ہیں اور لوگ جانتے تھے بھئی یہ تو اپنا گورنر ہے۔ تو یہ ساری چیزیں کیا ہیں؟ یہ ان کے لیے ہے نا بس کپڑے کے لیے کہ کپڑا صاف ہو جائے۔
تین سال ان سے سبزی بکوائی۔ پھر اس سے پوچھا بھئی تم اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو؟ کہتے ہیں، دنیا میں مجھ سے زیادہ خراب آدمی دنیا میں نہیں کوئی ہو گا۔ فرمایا اب ٹھیک ہو گیا۔ تو بس اللہ پاک نے پھر، حضرت نے ان کو اجازت دی لیکن اب ان تین سال سبزی بیچنے کا کیا اثر ہوا؟ آج کل نام جب جنید رحمۃ اللہ علیہ کا لیا جاتا ہے تو ساتھ شبلی کا نام بھی ہوتا ہے، جنید و شبلی۔ یعنی وہ بالکل ان کی true copy بن گئے، شبلی رحمۃ اللہ علیہ جنید رحمۃ اللہ صاحب کی true copy بن گئے۔ تو یہی چیز ہوتی ہے کہ اگر انسان اپنی اصلاح میں جو تکالیف ہیں وہ برداشت کر لے۔ اور اس پر صبر کر لے۔ تو پھر اللہ پاک اس کو نواز دیتے ہیں۔
یہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں یہ شیخ عبد القادر رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے تھے، بہت بڑے شیخ تھے۔ سرگودھا میں مدفون ہیں۔ تو ان کے خلفاء یہ حاجی عبد الوہاب صاحب بھی ان سے بیعت تھے، اس طرح اور بہت سارے اکابر علماء ان سے بیعت تھے۔ تو شاہ عبد القادر رحمۃ اللہ علیہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کے لیے آئے۔ تو حضرت نے ان سے کہا میں تو حضرت کی خانقاہ میں گیا تھا، ان کے شیخ کا نام لیا شاہ عبد الرحیم رحمۃ اللہ علیہ کا، میں نے آپ کو تو نہیں دیکھا تھا۔ تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت آپ نے ایک پنجابی جوان سرخ سفید، کبھی چارپائی ڈالنا کبھی چٹائی بچھانا کبھی کیا کبھی کیا کرتے ہوئے دیکھا تھا؟ کوئی ایسا نظر آیا تھا؟ کہتے ہیں ہاں یہ تو یاد ہے۔ فرمایا میں تھا۔ وہ میں تھا، فرمایا ہاں ہاں بھئی یہ نعمت تو خادموں کے پاس ہی اکثر جایا کرتی ہے۔ کیا فرمایا؟ یہ نعمت تو خادموں کے پاس ہی اکثر جایا کرتی ہے۔ یہ بات ہے۔
اپنے آپ کو مٹانا۔ اپنے آپ کو مٹانا یہ بڑی بات ہوتی ہے اور یہ کام ہے بڑا مشکل۔ یہ مٹانا اپنے آپ کو کہ:
مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے
کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے
تو یہ بات یہی ہے کہ اگر انسان اپنی جو انانیت ہے اس کو ختم کر لے، اور یہ شیخ کے، تصوف کا جو طریقہ ہے اس میں سب سے پہلے جو چیز ملتی ہے، سب سے پہلے جو چیز ملتی ہے، وہ یہی ملتی ہے۔ یعنی start ہو جاتی ہے۔ وہ کیا؟ کہ دنیا کے اندر کم از کم ایک شخص کو اپنے سے بڑا سمجھنا شروع کر لیتے ہیں۔ کہ یہ مجھے کچھ کہے گا تو میں رکوں گا نہیں۔ میں اس پر عمل کروں گا۔ یہ بات ہوتی ہے چاہے وہ عالم ہو، چاہے وہ افسر ہو، چاہے وہ کیا ہو۔ لیکن وہ اپنے آپ کو اس سے کم از کم کم سمجھنے لگتا ہے۔ اور یہی start ہوتا ہے۔ یہی ترقی ہوتی ہے۔ ورنہ پھر کیا ہوتا ہے؟ جب تک اس line پہ نہیں آیا ہوتا تو یہ چیز نہیں نکلتی، وہ اپنا مقام نظر آتا ہے ساری چیزیں نظر آتی ہیں سب کو بعض لوگوں کو اپنے سے کم سمجھتے ہیں۔ لیکن یہاں پر آ کر کیا ہوتا ہے کم از کم ایک کو اپنے سے بڑا خیال، بے شک وہ ہو نہ ہو لیکن یہ سمجھنے لگتا ہے۔ تو پھر کیا ہوتا ہے؟ اس کی اصلاح شروع ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اللہ پاک اس کے لیے اس کو دروازہ بنا لیتے ہیں۔
اب یہ بزرگوں کی باتیں، قرآن و حدیث کی باتیں نہیں، تجرباتی باتیں ہیں۔ تجرباتی باتیں ہیں کہ بھئی جو اپنے شیخ کو جتنا اونچا سمجھے گا، اتنا فیض اس کا زیادہ ہوگا۔ کیسے ہوگا؟ مثلاً اب دیکھو نا، یہاں سے پانی جا رہا ہے تو اس میں پریشر، اور اگر چھت کے برابر سے جائے تو پھر کتنا پریشر؟ ظاہر ہے کہ فرق ہوگا نا؟ تو جتنا آپ شیخ کو اوپر سمجھیں گے تو اتنا ہی آپ کے اوپر فیض کا اجراء زیادہ ہوگا۔ اور بلکہ اس کے بارے میں یہاں تک بزرگوں نے فرمایا: اگر کوئی کسی اپنے شیخ کو قطب الاقطاب سمجھے، اس کو قطب الاقطاب کا فیض ملے گا۔ کیوں؟ فیض دیتا اللہ تعالیٰ ہے، ظاہر ہے وہ انسان نہیں دیتا، انسان تو صرف ذریعہ بنتا ہے، صرف ذریعہ بنتا ہے۔ تو اللہ پاک نے جب اس کو ذریعہ بنانے کا فیصلہ فرما دیا اور آپ نے ارادہ کر لیا، تو اس کے بعد بس پھر آپ کا اس کے ساتھ جو condition ہے، جو آپ اس کو جیسے سمجھتے ہیں، اس کے حساب سے پھر آپ کو اللہ تعالیٰ دے گا۔ یہی بات ہے۔ تو میں نے واقعتاً بہت سارے حضرات کو اس طرح دیکھا کہ وہ جس طرح اپنے شیخ کو سمجھتے تھے، ان کے ساتھ بالکل ایسا ہی اللہ تعالیٰ نے معاملہ فرمایا۔ اور حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کا تو مشہور ہے نا کہ وہ حضرت کی ٹوپی کسی طرح غلطی سے، جو بے خیالی میں ترچھی ہو گئی تھی، اس طرح ٹوپی پڑ گئی تھی نا اس وقت اتفاق سے۔ تو کسی نے کہا جی کہ دیکھو نا لوگ کیا کیا کر رہے ہیں؟ کہتے ہیں وہ ہر شخص کے لیے اپنا طریقہ ہوتا ہے، ہر شخص کا قبلہ گاہ ہے۔
مَن قبلہ راست کردم
بر طرف کج کلاہے
میں نے اپنا قبلہ ان کے پیچھے کر لیا جن کی ٹوپی ٹیڑھی ہے، بر طرف کج کلاہے۔ تو پھر ظاہر ہے پھر اللہ پاک نے نواز دیا ان کو، ٹھیک ہے نا؟ تو یہ بات تو ہے۔ اس وجہ سے میں عرض کرتا ہوں کہ یعنی یہ راستہ اس طرح ہے کہ اس میں اپنی اصلاح کی نیت کرنی ہوتی ہے۔ اور اپنی اصلاح کی نیت کرتے ہوئے پھر جس کو اپنا وہ سمجھتے ہیں یعنی شیخ سمجھتے ہیں، پھر ان کا اپنے آپ کو محتاج سمجھے۔ اس لحاظ سے کہ وہ میرے لیے ذریعہ ہے، اب جو کچھ بھی اللہ پاک سے مجھے ملے گا اس ذریعے سے ملے گا۔ اور اس کو دیکھ کر کہ دنیا میں بے شک بہت بڑے بڑے لوگ موجود ہوں لیکن میرے لیے سب سے زیادہ یہی ہے، میرے لیے سب سے زیادہ یہی ہے۔ اور یہی سوچ انسان کی اصلاح کے اندر...
کیونکہ دیکھیں میں آپ کو ایک بات بتاؤں، اگر مثال کے طور پر کوئی ایسا شخص آپ کے لیے بڑا ہے جس کے پاس آپ نہیں ہیں، تو اس کا آپ کو کیا فائدہ؟ کوئی فائدہ ہے اس کا؟ تو آپ کو کوئی فائدہ نہیں، وہ تو اپنی جگہ پر ہے، آپ اپنی جگہ پر ہیں۔ لیکن جس سے آپ کا تعلق ہے، اگر آپ اس کو بڑا سمجھتے ہیں تو آپ کو direct فائدہ ملے گا یا نہیں ملے گا؟ اب شیطان کیا کرے گا؟ اس کو دکھائے گا: "اوہ وہ تو اس سے بڑا ہے۔" کہے تیری بات ہے ہی نہیں، چھوڑو یہ میرا کام ہے، جو کچھ بھی ہے۔ اس لیے ہمارے حضرات نے فیصلہ فرما دیا بھئی فضیلت اللہ کے علم میں ہے۔ وہ نہ سمجھو کہ فلاں افضل ہے یا فلاں افضل ہے، اپنے شیخ کو افضل نہ کہو، مفید کہو۔ میرے لیے سب سے زیادہ مفید یہی ہے۔
اب بتاؤ انسان کے لیے سب سے زیادہ مفید والد ہوتا ہے، چچا ہوتا ہے؟ چچا بے شک کتنا بڑا کیوں نہ ہو، لیکن آپ کے لیے تو چچا... والد ہی سب سے زیادہ مفید ہوگا نا؟ تو شیخ والد کی طرح ہے اور باقی لوگ، باقی بزرگان آپ کے چچا کی طرح ہیں۔ تو بے شک کتنے بڑے ہو جائیں لیکن آپ کا ان کے ساتھ تعلق نہیں ہے۔ ہاں، ادب ان کا ضرور کر لو جیسے چچا کا ادب ہوتا ہے، ادب ان کا ضرور کر لو لیکن یہ بات ہے کہ مانو بات کس کی؟ مانو بات اپنے شیخ کی۔
میرے ساتھ اس طرح ہوا تھا، رائیونڈ میں تھے، تو ایک بیان ہو گیا اس میں کچھ کہا گیا، دوسرے بیان میں کچھ کہا گیا، بالکل opposite۔ تو میرے سر میں درد ہو گیا۔ میں نے کہا میں کیا کروں؟ کس پر عمل کروں؟ تو جس وقت میں واپس آیا تو سیدھا حضرت کے پاس گیا پشاور۔ اور حضرت کو ساری story سنائی کہ اس طرح ہوا ہے۔ تو حضرت مسکرائے، فرمایا: "سننی سب کی ہے، مانو اس کی جس کو تو نے اپنا مربی بنایا ہے۔ ورنہ ایک آپ کو اس ٹانگ سے کھینچے گا، دوسرا آپ کو اس ٹانگ سے کھینچے گا، تمہارا کیا حشر ہو جائے گا؟" بات سمجھ میں آ گئی؟ اس کے بعد میں کسی کی مجلس میں جس... جب بھی گیا ہوں، میں عمل کی نیت سے نہیں بیٹھا ہوں۔ عمل تو میں نے شیخ کے طریقے پہ... سمجھ میں آ گئی نا بات؟ عمل میں نے شیخ کے طریقے پہ کرنا ہے۔ ہاں بیان سننی سب کی ہے، علمی فائدہ میں سب سے حاصل کر سکتا ہوں، عملی فائدہ اپنے شیخ سے حاصل کرتا ہوں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟
اب یہ ایسا اصول ہے کہ انسان ان شاء اللہ، ان شاء اللہ اس میں کبھی مسئلہ نہیں ہوگا۔ آپ... بہت سارے لوگ ہوتے ہیں جو کسی سلسلے میں بیعت ہوتے ہیں، تبلیغی جماعت میں جاتے ہیں، وہاں بیان سن لیتے ہیں، اس سے متاثر ہو جاتے ہیں، سارا کچھ چھوڑ دیتے ہیں۔ ہے تو، ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ وہ پھر تین سال، چار سال بعد پتہ چلتا ہے، "اوہ! میں نے کتنا نقصان کیا۔" پھر آتے ہیں: "جی حضرت معافی چاہتا ہوں، یہ کرتا ہوں، وہ کرتا ہوں، مجھ سے غلطی ہو گئی۔" بھئی تو پہلے سے سوچو نا یہ چیزیں، بھئی یہ چیز کیا ہے؟ یہ چیز بزرگی کی باتیں نہیں ہیں، یہ بزرگی نہیں اصلاح کی باتیں ہیں۔ آپ اپنے شیخ کو مصلح سمجھیں اور دوسرے لوگوں کو علم کا ذریعہ سمجھیں۔ بھئی علم آپ کہیں سے بھی... علم ہزار استادوں سے بھی حاصل کر سکتے ہو، علم کے لیے کوئی پابندی نہیں۔
حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے کتنے استاد تھے؟ بتائے جاتے ہیں، تقریباً چار ہزار بتائے جاتے ہیں۔ چار ہزار استاد بتائے جاتے ہیں، شیخ ایک ہی تھا۔ ٹھیک ہے نا؟ ان کسی استاد کے بارے میں بات نہیں کی جو اپنے شیخ کے بارے میں کی۔ "اگر یہ دو سال میں نے اپنے شیخ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ نہ گزارے ہوتے، تو امام ابو حنیفہ تو... نعمان ہلاک ہو جاتا۔" تو اس کا مطلب یہ ہے کہ شیخ کو عمل کے لیے ذریعہ بناؤ اور باقی لوگوں کو علم کے لیے ذریعہ بناؤ۔ بھئی آپ کے علم میں کوئی بات آ بھی گئی، تو اپنے شیخ سے پوچھو میں اس پر عمل کروں؟ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ عین ممکن ہے تمہارے لیے وہ بات نہ ہو، کسی اور کے لیے ٹھیک ہو، تمہارے لیے ٹھیک نہ ہو۔ کیونکہ بعض دفعہ لوگوں کے اپنے مزاج بھی ہوتے ہیں، حالات بھی ہوتے ہیں، تو بعض مزاجوں اور بعض حالات کے لیے بعض چیزیں ہوتی ہیں، بعض نہیں ہوتیں۔ بے شک وہ ٹھیک بھی ہوں، کیونکہ اس سے پھر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ تو ان بزرگوں کو ظاہری، ان کو اس کا احساس ہوتا ہے، تو آپ کو وہ بات بتائیں گے جو آپ کے لیے مفید ہو۔
مجھے حضرت نے بتایا تھا ایک دفعہ کہ آپ نے مراقبۂ موت نہیں کرنا اور موت کے بارے میں باتیں نہیں سننی۔ وہ میرے مزاج... ظاہر ہے اس طرح وہ حضرت کو پتہ تھا۔ اب رائیونڈ میں اجتماع میں میں جاتا تھا یا ویسے جاتا تھا، تو مولانا اسلم صاحب... ظاہر ہے وہ بہت یعنی ڈرانے والے بیان کیا کرتے تھے۔ کسی نے سنا ہے مولانا اسلم صاحب کا بیان؟ یعنی سنا ہے حاضرین میں سے؟ کسی نے نہیں سنا۔ ہاں، لیکن وہ بہت ڈرانے والی بات، اکثر انذار اس پہ غالب ہوتا تھا۔ تو مجھے اس کا پتہ تھا، میں ان کا بیان نہیں سنتا تھا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ میں... مجھے شوق ہو گیا کہ میں اسٹیج کے قریب جا کر بیان سن لوں تاکہ صحیح انداز میں سن لوں، کیونکہ جب انسان دیکھتا نہ ہو تو پھر ادھر ادھر ہو جاتا ہے۔ اب میں چل رہا تھا، چل رہا تھا، چل رہا تھا، چل رہا تھا... اسٹیج کے قریب پہنچ گیا۔ جی، اسٹیج بالکل میرے سامنے، تقریباً یہ جو ریلنگ ہے نا اس سے کچھ دگنا فاصلے پر۔ یعنی اسٹیج میں میں بیٹھ گیا۔
ایک بزرگ تشریف لائے، کرسی پر بیٹھ گئے۔ میں نے ساتھ والے سے پوچھا، "یہ کون بزرگ ہیں؟" انہوں نے کہا، "مولانا اسلم صاحب۔" میں نے کہا: انا للہ وانا الیہ راجعون۔
اب وہ حیران ہو گئے کہ ان کو کیا ہو گیا؟ مولانا اسلم صاحب کے ساتھ کیا بات ہو گئی کہ اس نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ لیا۔ خیر بہرحال، میں نے کہا اب بھاگ تو نہیں سکتا کیونکہ اب پھنس تو گیا ہوں، اب واپس جانا تو ایک بڑے مجمع کو توڑنے والی بات ہے۔ تو بس اب برداشت کرو۔ اب بس میں نے نیت کر لی کہ اب ٹھیک ہے جی، جو ہونا ہو گیا، ہو گیا۔
مولانا اسلم صاحب نے جب وہ، اس نے خطبہ مسنونہ پڑھا، تو پہلا فقرہ ان کی زبان سے نکلا: "اے، کیا مایوسی ہے! اللہ بہت کریم ہے۔" بس ماشاءاللہ! اتنا جمالی بیان کیا، اتنا ماشاءاللہ اس کا... تو میں نے کہا دیکھو اللہ کی شان، مجھے اللہ پاک کھینچ لائے اس کے لیے۔ یہ شیخ کی برکت تھی کہ چونکہ مجھے وہ نہیں سننا تھا تو جو نہیں سنوانا تھا اس میں میں نہیں آیا، لیکن آج ان کا یہ بیان ہونا تھا تو کہاں سے کھینچ کے لائے کہ آپ بیٹھو اور سنو۔ تو یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ شیخ کی بات مانو، شیخ کی بات سنو عمل کی نیت سے، دوسروں کی بات سنو علم کی نیت سے۔ اور پیش کرو اپنے شیخ پر، اگر آپ کا شیخ موجود ہے، تو اس پہ پیش کر لو کہ میں اس پر عمل کروں؟ میں نے یہ بات سنی ہے یا میں چاہتا ہوں اس طرح۔ تو پھر جو ہوگا تو پھر آپ کو بتا دیا جائے گا، مناسب جو آپ کے اس پہ حال ہو گا۔ تو بس یہی میں عرض کرنا چاہتا تھا۔
باقی صحیح میں عرض کرتا ہوں کہ جو اپنی اصلاح ہے نا، یہ بہت بڑی نیت ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جو فرمایا نا:
قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا
یعنی کامیاب ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا، اور تباہ و برباد ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کے تزکیے کو دبا دیا، اس کو ملیامیٹ کر دیا۔ تو ایسی صورت میں وہ فرمایا، اللہ پاک فرماتے ہیں تباہ و برباد ہو گیا۔ تو جو اپنی اصلاح کی نیت کرتا ہے تو کون سی چیز کی نیت کرتا ہے؟ اتنی بڑی کامیابی کی نیت کرتا ہے۔
اب دیکھو CSS کے امتحان وغیرہ جو لوگ دیتے ہیں، تو اس کے لیے پھر وہ تیاری بھی اس کے حساب سے کرتے ہیں۔ اپنی تمام چیزوں کو روک کر، سارا کچھ وہ اس کے حساب سے تیاری کرتے ہیں کہ ان کو اتنی بڑی چیز ملنے والی ہوتی ہے۔ تو اس کے لیے پھر اس کے حساب سے تیاری بھی کرنی ہوتی ہے۔ چاہے بہت ساری چیزیں ان کے مزاج کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں، لیکن وہ ان کو تیاری کرنی پڑتی ہے۔ تو اسی طریقے سے جب آپ نے اپنی اصلاح کی نیت کی نا، تو یہ بہت بڑی نیت ہے۔ اب اس نیت کے مقابلے میں کوئی بات نہ لاؤ۔ ساری باتیں اس کے ساتھ adjust کر لو کہ یہ کام تو ہونا ہے، ہاں باقی کام جو میں کروں گا تو ان میں اس طرح کروں گا کہ اس کام کو نقصان نہ پہنچے۔ یہ تو چلتا رہے۔
بہت سارے لوگ ہیں، میں آپ کو بات بتا دوں، مثلاً ان کے علمی مشاغل ہوتے ہیں۔ ٹھیک؟ شیخ تو علمی مشاغل سے نہیں روکتا، لیکن اپنے علمی مشاغل میں کوئی اتنا گم ہو جائے کہ اصلاح یاد ہی نہ رہے کہ یہ بھی ایک کام ہے۔ تو نقصان کیا ہوگا؟ کس کا ہوگا؟ ظاہر ہے علم تو آپ کو صرف علم کا ذریعہ ہے نا۔ اصلاح تو اپنے نفس کی اصلاح سے ہوتی ہے۔ جب تک نفس کی اصلاح نہ ہو تو آپ کی علمی باتوں سے اصلاح نہیں ہوگی۔
جیسے میں عرض کرتا ہوں، بانگِ دہل عرض کرتا ہوں، کہ کون مومن ہے، مسلمان ہے، جو جھوٹ کو برا نہیں سمجھتا؟ جو corruption کو جرم نہیں سمجھتا؟ جو بدنگاہی کو جرم نہیں سمجھتا؟ جو زنا کو جرم نہیں سمجھتا؟ جو قتل کو جرم نہیں سمجھتا؟ کون ایسا مسلمان ہوگا؟ سب سمجھتے ہیں، لیکن ان میں قاتل بھی ہیں، ان میں زانی بھی ہیں، ان میں corrupt بھی ہیں، ان میں جھوٹ بولنے والے بھی ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ اگر علم سے یہ چیز دور ہو سکتی تو پھر ان کو دور ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ علم تو ہر ایک کے پاس ہے، اس علم میں تو کمی نہیں ہے نا۔ یہ علم تو ہر ایک کے پاس ہے۔ اب اگر اس علم نے آپ کو بچایا نہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو علم صرف عمل کرنے کے لیے guide کا کام دے سکتا ہے، باقی یہ ہے کہ اصلاح کا نہیں، اصلاح کے لیے کچھ عمل کی ضرورت ہے، کچھ چیزوں کی ضرورت ہے۔
medical knowledge کی ساری کتابیں آپ کو یاد ہو جائیں، اور خدانخواستہ TB کے بیمار ہو جائیں آپ، TB کا علاج نہ کریں، تو اس کتابی علم سے آپ کی TB ٹھیک ہو جائے گی؟ وہ بے شک آپ کے پاس کتابوں کا ڈھیر لگا ہو اور سارے آپ کو یاد ہوں، لیکن آپ کو آپ کی TB اس وجہ سے ٹھیک نہیں ہوگی۔ جب تک آپ اس کے علاج کے لیے جائیں گے نہیں، اور علاج کے لیے جائیں گے بھی اس طرح کہ TB کی جو دوائی ہے نا، یہ ایسی دوائی ہے کہ اس میں آپ قضا نہیں کر سکتے۔ اگر آپ نے اس میں miss کر دیا نا، تو بس اپنے لیے مصیبت بنا دیا۔ وہ اس دوائی کے لیے resistant ہو جاؤ گے، پھر اگلی دوائی پہ جاؤ گے، اوپر کی دوائی پہ جاؤ گے، تو کسی step تک ہی جا سکتے ہیں، اس کے بعد تو پھر لاعلاج ہو جاؤ گے۔
ہمارے ایک ساتھی تھے اس کو TB ہو گئی۔ اس نے مجھ سے بات کی کہ اس طرح مجھے یہ ہو گیا۔ میں نے کہا، "بھئی علاج کرو اس کا، علاج موجود ہے۔" لیکن پہلے سے میں نے کہا، میں نے کہا: "یاد رکھو اس میں ایک مسئلہ ہے۔ ایک تو یہ بات ہے کہ آپ نے doctor کی بات پوری ماننی ہے، دوائی جس وقت کی بتا دے اسی وقت پہ روزانہ کھانی ہے، اس میں آپ نے miss نہیں کرنا۔ اور یہ بھی میں نے بتایا، دو تین مہینوں کے بعد بالکل ٹھیک ہو جاؤ گے تم۔ آپ کو TB کا کوئی مسئلہ اپنے اندر نظر نہیں آئے گا، لیکن ابھی آپ ٹھیک نہیں ہو چکے ہوں گے۔ ظاہری طور پر آپ ٹھیک ہو چکے ہوں گے لیکن اندر وہ چیز موجود ہو گی، تو کمزور ہو چکی ہوگی، لیکن موجود ضرور ہو گی۔ تو اگر آپ نے علاج چھوڑ دیا نا doctor کے کہنے کے بغیر، تو عین ممکن ہے کہ دوبارہ وہ... چونکہ علاج ختم ہو گیا تو اب دوبارہ وہ ابھر آئے۔ اس دفعہ اگر ابھر آئے گا تو اس دوائی سے ٹھیک نہیں ہوگا، کیونکہ وہ تو اس کے لیے resistant ہو گیا ہے۔ تو پھر آپ کو بڑا لمبا مسئلہ پڑے گا، تو ایک جس میں تو آپ نو مہینے کے علاج سے ٹھیک ہو گئے، پھر اٹھارہ مہینے کرنا پڑے گا۔" یہ میں نے اس کو سمجھا دیا، کیونکہ مجھے پتہ تھا اس چیز کا۔
چلا گیا، علاج شروع کیا۔ دو تین مہینے میں وہی ہو گیا جو میں نے کہہ دیا، اس کے ساتھ وہی ہو گیا۔ اس کے بعد کسی نے دم درود کا سلسلہ بتا دیا کہ بھئی یہ کیا کرتے ہو اس سے کرو، یہ کر دو وہ کر دو۔ تو وہ چلا گیا جی، اس نے وہ کروا دیا اور بس علاج چھوڑ دیا۔ علاج چھوڑ دیا، چار پانچ مہینے کے بعد ٹیلیفون آیا، رو رہا تھا۔ کہتے ہیں جی مجھے دوبارہ ہو گیا۔ میں نے کہا کیا علاج چھوڑ دیا تھا؟ کہتے ہیں ہاں۔ میں نے کہا کیوں چھوڑا تھا میں نے کہا نہیں تھا؟ کہتے ہیں فلاں نے کہا اس طرح... تو میں نے کہا بس پھر بھگتو اب۔ پھر دوبارہ اسی doctor کے پاس جانا ہے، کسی اور کے پاس نہیں، اسی کے پاس جانا ہے، اور اس کو بتانا ہے کہ میں نے یہ فضول کام کیا ہے، صحیح ٹھیک بتانا ہے۔ اور جیسے وہ آپ کو بتائے اس طریقے سے کرنا ہے اور اس دفعہ کوئی گنجائش نہیں ہے آپ کے پاس۔ اگر اس دفعہ لاعلاج ہو گئے تو بس پھر مزے کرو۔ تو پھر شکر الحمدللہ، اللہ نے توفیق دی تو، تو ٹھیک ہو گئے۔
تو مقصد یہ... یہ چیز ہے کہ اب آپ نے، یعنی جو doctor ان چیزوں کو جانتا ہے، ان روحانی امراض وغیرہ ہوتے ہیں، وہ جو ان کو جانتا ہے، تو آپ نے اس کی... اس کی بات ماننی ہے، اپنے نفس کی بات نہیں ماننی۔ اپنے نفس کا تو آپ علاج کروا رہے ہو۔ اس کی بات آپ کیسے سنیں گے؟ تو بس یہی بات ہے کہ نیت آپ نے جو کی ہے وہ نیت بہت بڑی ہے۔ اس بڑی نیت کے لیے بڑی کوشش کرنی پڑتی ہے، بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ اگر آپ بات صحیح طور پر مانتے جائیں تو اس پاپڑ بیلنے میں کمی ہو جائے گی خود بخود۔
وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا
راستہ کچھ بہتر کم ہو جائے گا، بہتر ہو جائے گا، کم ہو جائے گا۔ تو اگر آپ نے نہیں مانی تو پھر یہ راستہ لمبا ہو سکتا ہے، وہی نو مہینے 18 مہینے والی بات، لمبا ہو سکتا ہے۔ اس وجہ سے جو بھی سمجھدار ہوگا تو وہ تو بات مانے گا۔
اللہ تعالیٰ مجھے بھی ماننے کی توفیق عطا فرمائے، آپ کو بھی۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔
رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الأبْرَارِ۔
اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَحَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وسلم وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَحَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وسلم، أَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ