بارگاہِ الٰہی میں مقبولیت کا معیار: مال و منصب کے بجائے تقویٰ اور سچی توبہ
درس نمبر: 246، سورۃ الانعام، آیات: 51 تا 54
- شفاعت صرف اللہ تعالیٰ کی اجازت سے ممکن ہے اور شرک کرنے والوں کے لیے آخرت میں کوئی سفارشی یا مددگار نہیں ہوگا۔
- ہر چیز کی عطا اور حقیقی مدد صرف اللہ کی طرف سے ہے، جبکہ مستقل طور پر کسی اور سے مانگنا اور اسے شریک سمجھنا شرک ہے۔
- اللہ کے نزدیک انسان کی اصل قدر و منزلت مال و دولت یا دنیاوی حیثیت کے بجائے ایمان اور تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔
- آخرت میں جنت اور جہنم کا فیصلہ انسان کی مالداری یا غربت کے بجائے خالصتاً اس کے اچھے اور برے اعمال پر ہوگا۔
- نادانی میں گناہ ہو جانے کے بعد سچی توبہ اور اپنی اصلاح کرنے والوں کے لیے اللہ کی رحمت اور مغفرت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ(51) وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ(52) وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَاؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ(53) وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(54)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: اور (اے پیغمبر!) تم اِس وحی کے ذریعے اُن لوگوں کو خبردار کرو جو اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ ان کو ان کے پروردگار کے پاس ایسی حالت میں جمع کر کے لایا جائے گا کہ اس کے سوا نہ ان کا کوئی یار و مددگار ہوگا، نہ کوئی سفارشی ،
اصل میں
حاشیہ: یہ درحقیقت مشرکین کے اس عقیدے کی تردید ہے کہ وہ اپنے دیوتاؤں کو اپنا مستقل سفارشی سمجھتے تھے۔ لہٰذا اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس شفاعت کی تردید نہیں ہوتی جو آپ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے مؤمنوں کے لئے کریں گے۔ کیونکہ دوسری آیتوں میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے شفاعت ممکن ہے (مثلاً دیکھئے: سورۃ بقرہ آیت نمبر 255)۔
مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ، قرآن شریف میں ہے نا ایک دوسری جگہ پر کہ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر شفاعت کر سکتا ہے۔ تو اجازت کے ساتھ تو کر سکتے ہیں۔ تو اجازت کے ساتھ تو نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کریں گے بلکہ جو حافظ صاحبان ہیں اپنے گھر والوں کی طرف سے کریں گے۔ اس طرح جو اور نیک لوگ ہیں وہ یہ ہے کہ دوسرے جو ان کے جاننے والے ہیں ان کی کریں گے۔ تو اجازت والی بات الگ ہے۔ لیکن جو اجازت نہیں ہے، تو ظاہر ہے مطلب ان کو وہ تو نہیں کر سکیں گے۔ اب اجازت کہاں پر نہیں ہے؟ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی نے شرک کر کے کسی کو اللہ کا شریک بنایا ہو۔ یعنی یوں سمجھ لیں کہ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ، یعنی وہ خدائی چلانے میں یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ہے، وہ کچھ کام مطلب وہ کرتے ہیں، کچھ کام اللہ کرتے ہیں۔ یہ بات نہیں ہے۔ مطلب کرتے تو سارے کام اللہ ہی ہیں۔ جیسے ہم سورۂ فاتحہ میں پڑھتے ہیں نا إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ، ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ تو کرتے تو اللہ پاک ہی سب۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ارشاد فرمایا: إِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللهُ يُعْطِي، بے شک میں تقسیم کرنے والا ہوں، اللہ پاک عطا فرمانے والے ہیں۔ تو یہ بات ہے کہ اگر اللہ سے مانگے اور اللہ تعالیٰ کسی کے ذریعے سے بھی دلوا دے تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان مستقل طور پر کسی اور سے مانگتا ہو اور اس کو اللہ پاک کا شریک سمجھتا ہو، وہ غلط بات ہے۔ تو یہ فرمایا
ترجمہ: کہ اس کے سوا نہ ان کا کوئی یار و مددگار ہوگا، نہ کوئی سفارشی ، تاکہ وہ لوگ تقویٰ اختیار کر لیں ﴿51﴾ اور اُن لوگوں کو اپنی مجلس سے نہ نکالنا جو صبح و شام اپنے پروردگار کو اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے پکارتے رہتے ہیں۔
حاشیہ: قریش مکہ کے کچھ سرداروں نے یہ کہا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد غریب اور کم حیثیت قسم کے لوگ بکثرت رہتے ہیں۔ ان کے ساتھ آپ کی مجلس میں بیٹھنا ہماری توہین ہے۔ اگر آپ ان لوگوں کو اپنی مجلس سے اٹھا دیں تو ہم آپ کی بات سننے کے لئے آسکتے ہیں۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔
یہ جو high-fi لوگ جو ہوتے ہیں نا معاشرے کے، تو وہ دوسرے لوگوں کو چونکہ کچھ نہیں سمجھتے۔ تو پھر وہ وہ جن کے ساتھ مطلب غریب لوگوں کا اٹھنا بیٹھنا ہو تو وہ اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ ہم کیسے اٹھیں گے بیٹھیں گے، مطلب یہ تو کمی لوگ ہیں، یہ ہے وہ ہے۔ تو اصل بات تو چونکہ تقویٰ کی ہے اور اللہ تعالیٰ پر ایمان کی ہے۔ تو جو غریب لوگ تھے جو اللہ پر ایمان لے آئے اور ان میں تقویٰ تھا تو اللہ تعالیٰ کے وہ بہت نزدیک تھے۔ تو لہٰذا مطلب یعنی ان کے لیے تو یعنی یہ بات نہیں ہو سکتی تھی نا کہ مطلب یہ ان کو اپنے ساتھ نہ بٹھائیں۔ تو یہ بات مطلب اس لیے ہوئی کہ یہ جو لوگ کہتے ہیں تو غلط کہتے ہیں، ان کے لیے آپ ایسا نہ کیا کریں۔ تو یہ فرمایا
ترجمہ: ان کے حساب میں جو اعمال ہیں اُن میں سے کسی کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے، اور تمہارے حساب میں جو اعمال ہیں اُن میں سے کسی کی ذمہ داری اُن پر نہیں ہے جس کی وجہ سے تم انہیں نکال باہر کرو، اور ظالموں میں شامل ہو جاؤ ﴿52﴾ اسی طرح ہم نے کچھ لوگوں کو کچھ دوسروں کے ذریعے آزمائش میں ڈالا ہے
حاشیہ: مطلب یہ ہے کہ غریب مسلمان اس حیثیت سے ان امیر کافروں کے لئے ایک آزمائش کا سبب بن گئے ہیں کہ آیا یہ لوگ اصل اہمیت حق بات کو دیتے ہیں یا صرف اس وجہ سے حق کا انکار کر دیتے ہیں کہ اس کے ماننے والے غریب لوگ ہیں۔
ہاں یہ بات ہے۔ اصل میں یہ جو مالداری کا غرّہ ہے یا طاقت کا غرّہ ہے یا رسوخ کا غرّہ ہوتا ہے، یہ انسان کو اللہ تعالیٰ سے دور کر دیتا ہے۔ مطلب انسان وہ سمجھتا ہے کہ میں یہ سب کچھ کر سکتا ہوں، میں یہ کر سکتا ہوں، میں وہ کر سکتا ہوں۔ حالانکہ ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ بعض لوگ ایسے ہوں گے جو پراگندہ بالوں والے ہوں گے، خشک کالوں والے ہوں گے اور مطلب یہ ہے کہ کوئی ان کو سلام نہیں کرے گا یا ان کے سلام نہیں لے گا یا ان کو اپنی محفلوں میں نہیں بلائے گا اور مطلب یہ ہے کہ ان سے کوئی مشورہ نہیں کرے گا، لیکن اللہ کے نزدیک ان کا مقام ایسا ہوگا کہ اگر وہ کسی بات پر قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کی لاج رکھنے کے لیے وہ کام کر دیں گے۔ یعنی ایسے غریب لوگ بھی ہو سکتے ہیں، کمزور لوگ ایسے ہو سکتے ہیں۔
کیونکہ اصل بات تو اللہ تعالیٰ کی ہے، تو ظاہر ہے وہ تو ان کی جو ظاہری صورت ہے وہ تو ایک آزمائش ہے
ترجمہ: تاکہ وہ (ان کے بارے میں) یہ کہیں کہ: ”کیا یہ ہیں وہ لوگ جن کو اللہ نے ہم سب کو چھوڑ کر احسان کرنے کے لئے چنا ہے؟“
حاشیہ: یہ کافروں کا فقرہ ہے جو وہ غریب مسلمانوں کے بارے میں طنزیہ انداز میں کہتے تھے۔ یعنی (معاذ اللہ) ساری دنیا میں سے یہی کم حیثیت لوگ اللہ تعالیٰ کو ملے تھے جن پر وہ احسان کر کے انہیں جنت کا مستحق قرار دے؟
تو اصل بات تو یہاں عمل کی ہے۔ عمل اگر مالدار آدمی کرے گا تو ٹھیک ہے۔ ان کو بھی اللہ تعالیٰ جنت نصیب فرمائے گا۔ اگر غریب آدمی کرے گا تو ان کو بھی اللہ پاک جنت نصیب فرمائے گا۔ یہ ریورس بھی ہو سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ مالدار کو ان کے اچھے اعمال کی وجہ سے جنت دے دے اور غریب کو ان کے برے اعمال کی وجہ سے جہنم بھیج دے۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ غریب کو اپنے اچھے اعمال کی وجہ سے جنت میں بھیج دے اور مالدار کو اپنے برے اعمال کی وجہ سے دوزخ میں بھیج دے۔ تو فیصلہ اعمال پر ہے۔
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
مطلب ہے کہ ہم لوگوں کو اللہ پاک کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور اللہ پاک کی بات ماننی چاہیے۔
ترجمہ: اور جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں تو ان سے کہو: ”سلامتی ہو تم پر! تمہارے پروردگار نے اپنے اوپر رحمت کا یہ معاملہ کرنا لازم کر لیا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی نادانی سے کوئی برا کام کر بیٹھے، پھر اس کے بعد توبہ کر لے اور اپنی اصلاح کر لے تو اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے ﴿54﴾
یعنی یہ ڈرنے کی بات نہیں ہے کہ اگر کوئی غلط کام کر چکا ہو تو وہ کہے کہ افوہ اب تو میری مغفرت نہیں ہو سکتی۔ نہیں ایسی بات نہیں ہے، اللہ پاک نے دروازہ کھلا رکھا ہے، توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ اگر کوئی توبہ کر لیتا ہے، اپنی بری باتوں سے وہ یعنی رجوع کر لیتا ہے، اور پھر اچھی باتوں پر آ جاتا ہے، اللہ پاک کا حکم ماننا شروع کر لیتا ہے، تو بس پھر اللہ پاک اس سے راضی ہو جائے گا، اور ان کے لیے اللہ پاک رحمت کے دروازے کھول لے گا، کیونکہ اللہ پاک غفور رحیم ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو دل سے توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور جب اس قسم کی بات ہو تو اس پر فوراً عمل کرنے سے ماشاء اللہ یعنی اللہ تعالیٰ اس عمل کا نور نصیب فرما دیتے ہیں۔ تو ہم بھی توبہ کر لیتے ہیں۔ اے اللہ ہم توبہ کرتے ہیں تمام گناہوں سے، چھوٹے ہیں یا بڑے، ہمیں معلوم ہیں یا نہیں، قصداً ہوئے یا خطا سے ہوئے ہیں، ظاہر کے یا باطن کے، اے اللہ ہم آئندہ کے لیے یہ گناہ نہیں کریں گے۔ اگر غلطی سے ہو گیا دوبارہ تو فوراً توبہ کریں گے۔ اے اللہ ہمیں اپنے حفظ و امان میں رکھیں اور اچھے اعمال کرنے کی توفیق عطا فرما دیں۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔