﴿وَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ عَنِ الطَّاعُونِ فَأَخْبَرَهَا أَنَّهٗ كَانَ عَذَابًا يَبْعَثُهُ اللهُ تَعَالَى عَلٰى مَنْ يَشَآءُ فَجَعَلَهُ اللهُ تَعَالٰی رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ، فَلَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَقَعُ فِي الطَّاعُونِ، فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهٖ صَابِرًا مُحْتَسِبًا يَعْلَمُ أَنَّهٗ لَا يُصِيبُهٗ إِلَّا مَا كَتَبَ اللهُ لَهٗ إِلَّا كَانَ لَهٗ مِثْلُ أَجْرِ الشَّهِيدِ﴾ (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ)
”حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے طاعون کے متعلق دریافت کیا، آپ ﷺ نے ان کو بتایا طاعون عذاب الٰہی تھا جن لوگوں پر چاہتا تھا مسلط کر دیتا تھا اب اللہ نے اس کو ایمانداروں کے لئے رحمت بنا دیا ہے پس جو مؤمن انسان طاعون کی بیماری میں مبتلا ہو جائے وہ صبر اور طلب ثواب کی نیت سے اپنے شہر میں ہی رہے اس بات پر یقین کر لے کہ اللہ نے جو لکھ دیا ہے وہ پہنچ کر رہے گا تو اس کو شہید کے برابر ثواب ملے گا۔“
صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے زمانہ میں چھ مرتبہ طاعون کی بیماری آئی تھینبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے عہد میں چھ مرتبہ طاعون کی بیماری آئی۔
طاعون شیرویہ 6 ھ میں آیا۔
طاعون عمواس 17ھ یا 18ھ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں شام کے علاقے رملہ اور بیت المقدس کے درمیان کی بستی میں آیا اس میں تقریباً 25 ہزار اموات واقع ہوئیں۔
50 ھ میں کوفہ میں آیا۔ اس طاعون میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوا۔
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں 67 ھ میں آیا اس کو طاعون جارف کہتے ہیں اس میں تین دن میں دو لاکھ دس ہزار اموات ہوئیں۔
طاعون فتیات عبدالملک بن مروان کے دور 87 ھ میں آیا اس کو طاعون فتیات اس لئے کہتے ہیں کہ اس طاعون کی ابتداء جوان لڑکیوں سے ہوئی۔
100 ھ میں عدی بن ارطاة میں آیا۔
فَلَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَقَعُ فِي الطَّاعُونِ فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا۔کوئی بندہ نہیں جو طاعون کی بیماری میں مبتلا ہو جائے اور وہ اپنے شہر میں ہی صبر کرتا ہو طلب ثواب کی نیت سے۔ طاعون یا اس قسم کی وبائی بیماری میں اللہ کی ذات پر اعتماد کرے اور تقدیر پر راضی رہے کہ جو حالات بھی آئیں گے وہ میری تقدیر کے مطابق ہی آئیں گے میرے یہاں سے بھاگنے سے میرے حالات تبدیل نہیں ہوں گے اور اس صورت میں جزع فزع اور ناشکری کا اظہار بھی نہ کرے۔ اس صورت میں اگر اس کی موت واقع ہو جاتی ہے تو وہ شہادت کے درجے پر فائز ہو جائے گا۔ یہ حکم اس لئے ہے کہ وبائی بیماری دوسری جگہ نہ پھیلے۔یہی حکم دوسرے شہر کے لوگوں کے لئے بھی ہے کہ وہ طاعون زدہ شہر میں جانے سے اجتناب کریں جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں جب طاعون آیا تو وہ بھی اس جگہ تشریف نہیں لے گئے۔
کیا وبائی بیماری منتقل ہوتی ہے؟اسلام میں اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے جیسا کہ قرآن مجید میں آتا ہے:﴿لَنْ يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾ (توبہ: 51)ہرگز ہرگز نہیں آئے گی ہم پر کوئی مصیبت بجز اس کے جو اللہ جل شانہ نے لکھ دی ہے اور اللہ پر ہی بھروسہ کرنا ہے ایمان والوں کو۔
اسی طرح ایک حدیث میں ارشاد ہے:لَا عَدْوَىٰ وَلَا طِيَرَةَ فِي الْإِسْلَامِ (اسلام میں بیماری لگنے کی حقیقت ہے اور نہ بدشگونی ہے)۔
اگر بیماری منتقل نہیں ہوتی تو وہاں سے نکلنے سے کیوں منع کیا گیا؟یہ منع صرف اس لئے کیا گیا کہ کچے ایمان والے کا عقیدہ خراب نہ ہو جائے کہ میں فلاں جگہ چلا گیا تھا اس لئے یہ بیماری لگ گئی۔ آپ ﷺ نے ایک جذامی آدمی کے ساتھ کھانا کھایا اس بات کو بتانے کے لئے کہ جو تقدیر میں لکھا ہے وہی ہو گا
ہمارے شیخ رحمۃ اللہ علیہ بھی اسباب کے اوپر پورا عمل کرتے تھے لیکن اس حدیث شریف پہ بھی حضرت نے عمل کیا، ایک دفعہ ایک ٹی بی والے بیمار ڈاکٹر بنے، انہوں نے خود مجھے بتایا، حضرت نے مجھے اپنے ساتھ کھانے پر بٹھایا اور ہم دونوں نے ایک پلیٹ میں کھایا۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یعنی تقدیر پر تو ایسے ہی مانو لیکن اسباب کی دنیا میں اسباب کا احترام کریں۔ اس لیے اسباب کا خیال رکھیں کیونکہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے احکامات ہیں۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو صحیح سمجھ عطا فرما دے۔ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم وتب علینا انک انت التواب الرحیم۔
تجزیہ اور خلاصہ: بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع اور بہترین عنوان: طاعون اور وبائی امراض: اسلامی نقطہ نظر، توکل اور احتیاطی تدابیر متبادل عنوان: وبائی امراض میں مومن کا طرزِ عمل: صبر، احتساب اور عقیدہ تقدیر
اہم موضوعات: • طاعون کے بارے میں حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا کی تشریح۔ • طاعون: کافروں کے لیے عذاب اور مومنوں کے لیے رحمت۔ • اسلامی تاریخ میں آنے والے چھ بڑے طاعون اور اموات کی تفصیل۔ • وبائی مرض میں صبر، احتساب اور اپنے شہر میں ٹھہرنے کا اجر (شہادت)۔ • بیماری کے متعدی ہونے کا اسلامی تصور (لا عدویٰ) بمقابلہ اسباب کا اختیار۔ • توکل علی اللہ اور تقدیر پر ایمان کی اہمیت۔ • اسباب کے دائرے میں احتیاط اور سنت نبوی ﷺ کا متوازن عمل۔
خلاصہ: اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے طاعون اور وبائی امراض کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کو واضح کیا ہے۔ آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کی روشنی میں فرمایا کہ طاعون اللہ کی طرف سے کافروں کے لیے عذاب جبکہ مومنوں کے لیے رحمت اور شہادت کا ذریعہ ہے۔ حضرت شیخ نے اسلامی تاریخ کے چھ بڑے طاعون (طاعون شیرویہ، طاعون عمواس، طاعون جارف وغیرہ) کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان میں صحابہ کرام اور لاکھوں مسلمانوں کی شہادتیں ہوئیں۔
حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے وبائی مرض میں مبتلا علاقے سے بھاگنے یا وہاں جانے کی ممانعت کی حکمت بیان کی کہ اس سے تقدیر پر ایمان کمزور ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ آپ نے واضح کیا کہ اسلام میں بیماری بذاتِ خود متعدی نہیں ہوتی بلکہ اللہ کے حکم سے لگتی ہے، تاہم اسباب کی دنیا میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ آخر میں حضرت شیخ نے اپنے شیخ کا واقعہ سنایا جنہوں نے ٹی بی کے مریض کے ساتھ کھانا کھا کر توکل کی مثال قائم کی، مگر ساتھ ہی اسباب کے احترام کی بھی تلقین فرمائی۔