درس قرآن

درس نمبر 234: سورۃ المائدة، آیت نمبر 116 تا 120

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے ماننے والوں کے عقیدۂ تثلیث اور شرک سے مکمل براءت کا اعلان کریں گے۔
  2. انبیاء کرام نے صرف اللہ کی بندگی کا حکم دیا تھا، لوگوں نے نفسانی خواہشات اور رسوم و رواج کے تحت عقائد بگاڑ لیے۔
  3. روزِ قیامت سچے لوگوں کو ان کا سچا عقیدہ فائدہ پہنچائے گا اور یہی ان کے لیے زبردست کامیابی ہے۔
  4. قرآن مجید میں اہلِ کتاب اور مشرکین کے دلائل کے مکمل جوابات موجود ہیں کیونکہ یہ ہمہ گیر علم رکھنے والے اللہ کا کلام ہے۔
  5. انسان کی اصل کامیابی صحیح عقائد پر جم کر رہنے اور درست علم کے مطابق اخلاص کے ساتھ اعمال کرنے میں ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ۔ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

وَ إِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَ أُمِّيَ إِلٰهَيْنِ مِنْ دُونِ اللّٰهِ۔
قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ۔
إِنْ كُنْتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ۔
تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَ لَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ۔
إِنَّكَ أَنْتَ عَلّٰمُ الْغُيُوبِ۔
مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّي وَ رَبَّكُمْ۔
وَ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ۔
فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ۔
وَ أَنْتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ۔
إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَ إِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔
قَالَ اللّٰهُ هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِينَ صِدْقُهُمْ۔
لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهٰرُ خٰلِدِينَ فِيهَا أَبَدًا۔
رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوا عَنْهُ۔
ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ۔
لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْأَرْضِ وَ مَا فِيهِنَّ۔
وَ هُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَ صَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

اے عیسیٰ ابن مریم، کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے علاوہ دو معبود بناؤ؟ عیسائیوں کے بعض فرقے تو حضرت مریم علیہا السلام کو تثلیث کا حصہ قرار دے کر انہیں معبود مانتے تھے۔ دوسرے بعض فرقے اگرچہ انہیں تثلیث کا حصہ تو قرار نہیں دیتے تھے، لیکن جس طرح ان کی تصویریں کلیساؤں میں آویزاں کر کے ان کی پرستش کی جاتی ہے، وہ بھی ایک طرح ان سے ان کو خدائی میں شریک گرداننے کے مترادف تھی۔ اس لیے یہ سوال کیا گیا۔

وہ کہیں گے، ہم تو آپ کی ذات کو شرک سے پاک سمجھتے ہیں۔ میری مجال نہیں تھی کہ میں ایسی بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے ایسا کہا ہوتا تو آپ کو یقیناً معلوم ہو جاتا۔ آپ وہ باتیں جانتے ہیں جو میرے دل میں پوشیدہ ہیں، اور میں آپ کی پوشیدہ باتوں کو نہیں جانتا۔ یقیناً آپ کو تمام چھپی ہوئی باتوں کا پورا پورا علم ہے۔ میں نے ان لوگوں سے اس کے سوا کوئی بات نہیں کی جس کا مجھے آپ نے حکم دیا تھا، اور وہ یہ کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے، تمہارا بھی۔ اور جب تک میں ان کے درمیان موجود رہا، میں ان کے حالات سے واقف رہا۔ پھر جب آپ نے مجھے اٹھا لیا تو آپ خود ان کے نگران تھے، اور آپ ہر چیز کے گواہ ہیں۔ اگر آپ ان کو سزا دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں، اور اگر آپ انہیں معاف فرما دیں تو یقیناً آپ کا اقتدار بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل۔

اللہ کہے گا کہ یہ وہ دن ہے جس میں سچے لوگوں کو ان کا سچ فائدہ پہنچائے گا۔ ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے خوش ہے اور یہ ان سے خوش ہیں۔ یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔ تمام آسمان و زمین اور ان میں جو کچھ ہے وہ سب کی بادشاہی اللہ کے لیے ہے، اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

تو یہ اصل میں یہاں پر اس رکوع میں عیسیٰ علیہ السلام کے جو ماننے والے ہیں، ان کے عقیدۂ تثلیث کی گویا کہ مذمت کی گئی ہے، اور ساتھ یہ فرمایا کہ مطلب یہ کہ وہ خود اللہ کے سامنے کل قیامت کے دن وہ خود ہی مطلب اس چیز کا انکار کریں گے۔ مطلب یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ ان کے وہ کوئی سفارشی بنیں، وہ تو کہیں گے، جی ہم تو اس چیز سے بری ہیں۔ اور ہم تو بالکل ان چیزوں کے بارے میں، جو ہمیں حکم تھا وہی ہم نے پہنچایا ہے۔ لوگ اپنے آپ کو کتنا نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اصل بات تو یہی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ پاک کے پیغمبر تھے، اور وہ ایسی باتوں سے بری تھے جو یہ لوگ ان کے بارے میں کرتے تھے۔ نہ مریم علیہا السلام ایسی باتیں کیا کرتی تھیں۔ اور یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے طور پر ان باتوں کو بنا لیا۔ تو اب یہ ہے کہ یہ چیزیں جو ان کے اندر چلی آ رہی ہیں۔ تو جو سچا عقیدہ ہے، وہ تو سب کے سامنے آ جاتا ہے۔ لیکن جو لوگ مطلب ظاہر ہے وہ کسی وجہ سے اپنے نفس کی کچھ باتوں کی وجہ سے، یا مطلب یہ ہے کہ جو رسوم و رواج ہیں ان کی وجہ سے جو چلے آ رہے ہوتے ہیں، جو حق کو نہ جان سکے، تو پھر ان کا جو نقصان ہے وہ ان کو معلوم ہونا چاہیے۔ تو یہاں پر وہ بات بتائی گئی۔

اب چونکہ وہاں پر ان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں یہودی بھی تھے اور عیسائی بھی تھے۔ تو یہ جو قرآن ہے یہ نازل ہوتا رہا، اور ظاہر ہے مطلب ہے کہ یہودیوں تک بھی پہنچا اور عیسائیوں تک بھی پہنچا۔ جیسے یہود تو خیر پاس ہی تھے وہ مدینہ منورہ میں۔ لیکن جو عیسائی تھے، ان کے ساتھ خط و کتابت بھی ہوئی ہے۔ اور یہ ہے کہ قیصر تک یہ بات پہنچی ہے۔ اور اس طرح یہ ہے کہ نجاشی، وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہی مطلب بات پہنچی، تو وہ مسلمان ہو گئے تھے۔ تو اس طرح حاتم طائی جو تھے، وہ مطلب ان کا بیٹا وہ عیسائی تھا، تو ان کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے مان لیا، تو وہ مسلمان ہو گئے تھے۔ تو الغرض یہ ہے کہ قرآن کے اندر ان سب کے لیے جوابات موجود ہیں جو اہلِ کتاب ہیں۔ مشرکین کے دلائل کے اپنے طور پہ دلائل دیے ہیں۔ تو قرآن سے الحمد للہ ہمیں ان چیزوں کا پتہ چلتا ہے۔ کیونکہ قرآن جو نازل ہوا ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے، اللہ تعالیٰ کو ساری چیزوں کا پتہ ہے۔ جیسا کہ یہاں فرمایا گیا ہے۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو صحیح عقائد پر جم کر رہنے کی، اور اس کے مطابق صحیح اعمال، صحیح علم کے مطابق کرنے کی اخلاص کے ساتھ توفیق عطا فرمائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

تو یہاں پر سورۃ مائدہ پوری ہو رہی ہے۔ ان شاء اللہ العزیز، کل ہم سورۃ انعام شروع کریں گے۔

اللہ پاک ہم سب کو قرآن پاک کی قدردانی کی توفیق عطا فرمائے۔ اس پر عمل کرنے کی، اور اس سے تمام جو فوائد ہیں حاصل کرنے کی، ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔