بنی اسرائیل کی سرکشی، اللہ کا فضل اور ہمارے لیے عبرت
درس نمبر 211: سورۃ المائدة، آیت نمبر 20 تا 25
- سورۃ المائدہ کی آیات اور سرزمین مقدس (فلسطین) میں داخلے کا حکم۔
- بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں اور ان کی ناشکری۔
- قومِ عمالقہ (قومِ عاد کی نسل) کے ڈیل ڈول سے بنی اسرائیل کا خوف زدہ ہونا۔
- حضرت یوشع اور حضرت کالب علیہما السلام کا ایمانی جذبہ اور قوم کو جہاد کی ترغیب۔
- بنی اسرائیل کا تکبر اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے گستاخی۔
- مانسہرہ اور سوات کے مقامی واقعے کے ذریعے جنگی چال اور خوف کی نفسیات کی مثال۔
- اپنی ذات کو اللہ کی نعمتوں کا مستحق (استحقاق) سمجھنے کا روحانی نقصان۔
- قرآنی واقعات کا اصل مقصد: امت مسلمہ کے لیے عبرت۔
الحمد للّٰہ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
وَاِذْ قَالَ مُوْسٰي لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْۢبِيَآءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا ۖ وَّاٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ ﴿20﴾ يٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِيْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِيْنَ ﴿21﴾ قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اِنَّ فِيْهَا قَوْمًا جَبَّارِيْنَ ۙ وَاِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى يَخْرُجُوْا مِنْهَا ۚ فَاِنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ ﴿22﴾ قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَيْهِمُ الْبَابَ ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ ۙ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْٓا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ﴿23﴾ قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَآ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِيْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ ﴿24﴾ قَالَ رَبِّ اِنِّيْ لَآ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِيْ وَاَخِيْ فَافْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ ﴿25﴾
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: اور اُس وقت کا دھیان کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ”اے میری قوم ! اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر نازل فرمائی ہے کہ اس نے تم میں نبی پیدا کئے، تمہیں حکمران بنایا، اور تمہیں وہ کچھ عطا کیا جو تم سے پہلے دُنیا جہان کے کسی فرد کو عطا نہیں کیا تھا ﴿20﴾ اے میری قوم ! اُس مقدس سرزمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے واسطے لکھ دی ہے،
حاشیہ: مقدس سرزمین سے مراد شام اور فلسطین کا علاقہ ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس علاقے کو انبیائے کرام کو مبعوث کرنے کے لئے منتخب فرمایا تھا اس لئے اس کو مقدس فرمایا گیا ہے۔ جس واقعے کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے وہ مختصراً یہ ہے کہ بنی اسرائیل کا اصل وطن شام اور بالخصوص فلسطین کا علاقہ تھا۔ فرعون نے مصر میں ان کو غلام بنا رکھا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرعون اور اس کا لشکر غرق ہو گیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ اب وہ فلسطین میں جا کر آباد ہوں۔ اس وقت فلسطین پر ایک کافر قوم کا قبضہ تھا جو عمالقہ کہلاتے تھے۔ لہٰذا اس حکم کا لازمی تقاضا یہ تھا کہ بنی اسرائیل فلسطین جا کر عمالقہ سے جہاد کریں۔ مگر ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وعدہ بھی کرلیا گیا تھا کہ جہاد کے نتیجے میں تمہیں فتح ہوگی، کیونکہ یہ سرزمین تمہارے مقدر میں لکھ دی گئی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس حکم کی تعمیل میں فلسطین کی طرف روانہ ہوئے۔ جب فلسطین کے قریب پہنچے تو بنی اسرائیل کو پتہ چلا کہ عمالقہ تو بڑے طاقتور لوگ ہیں۔ دراصل یہ لوگ قومِ عاد کی نسل سے تھے، اور بڑے زبردست ڈیل ڈول کے مالک تھے۔ بنی اسرائیل ان کے ڈیل ڈول سے ڈر گئے، اور یہ نہ سوچا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت بہت بڑی ہے اور اس نے فتح کا وعدہ کر رکھا ہے۔
ترجمہ: اور اپنی پشت کے بل پیچھے نہ لوٹو، ورنہ پلٹ کر نامراد جاؤ گے“ ﴿21﴾ وہ بولے، ”اے موسیٰ! اُس (ملک) میں تو بڑے طاقت ور لوگ رہتے ہیں، اور جب تک وہ لوگ وہاں سے نکل نہ جائیں، ہم ہرگز اس میں داخل نہیں ہوں گے۔ ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو بیشک ہم اس میں داخل ہوجائیں گے۔“ ﴿22﴾ جو لوگ (خدا کا) خوف رکھتے تھے، ان میں سے دو مرد جن کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا تھا،
حاشیہ: یہ دو صاحبان حضرت یوشع اور حضرت کالب علیہما السلام تھے جو ہر مرحلے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وفادار رہے تھے، اور بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت سے بھی سرفراز فرمایا۔ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم اللہ پر بھروسہ کر کے آگے بڑھو تو اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق تم ہی غالب رہو گے۔
ترجمہ: بول اُٹھے کہ ”تم اُن پر چڑھائی کر کے (شہر کے) دروازے میں گھس تو جاؤ۔ جب گھس جاؤ گے تو تم ہی غالب رہوگے۔ اور اپنا بھروسہ صرف اللہ پر رکھو، اگر تم واقعی صاحبِ ایمان ہو۔“ ﴿23﴾ وہ کہنے لگے ”اے موسیٰ! جب تک وہ لوگ اس (ملک) میں موجود ہیں، ہم ہرگز ہرگز اس میں قدم نہیں رکھیں گے۔ (اگر ان سے لڑنا ہے تو) بس تم اور تمہارا رَبّ چلے جاؤ، اور ان سے لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں“ ﴿24﴾ موسیٰ نے کہا ”اے میرے پروردگار! سوائے میری اپنی جان کے اور میرے بھائی کے کوئی میرے قابو میں نہیں ہے۔ اب آپ ہمارے اور ان نافرمان لوگوں کے درمیان الگ الگ فیصلہ کر دیجئے۔“ ﴿25﴾
اصل میں یہ قوم، بنی اسرائیل، یہ کافی سرکش قوم رہی ہے، مطلب زیادہ تر۔ اور ان کی سرکشی کی جو وجہ بظاہر نظر آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر بہت کرم فرمایا تھا اور ان کے ساتھ بہت، یعنی معاملہ خیر کا کیا گیا تھا، کہ ان میں انبیاء کرام تشریف لائے تھے اور ساتھ یہ ہے کہ ان کو، بعد میں حکومتیں بھی دی گئیں۔
تو یہ مطلب سمجھنے لگے کہ ہم تو منتخب لوگ ہیں اور بس یہ ہے کہ ہمارے ساتھ تو کوئی جیسے چہیتے لوگ ہوتے ہیں نا مطلب چہیتے لوگ، لاڈلے لوگ۔ تو یہ لاڈلے لوگ جو ہوتے ہیں، یہ ہمیشہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ساتھ لاڈ والا معاملہ کیا جائے گا۔ تو یہ مسئلہ مطلب چلا آ رہا تھا۔ تو پھر اللہ جل شانہ نے ان کے ساتھ وعدہ بھی فرما دیا تھا کہ تم صرف وہاں پر داخل ہو جاؤ، تو وہاں پر پھر اللہ پاک تمہارے ساتھ مدد فرمائیں گے اور تمہیں فتح دلائیں گے۔
لیکن یہ لوگ جب وہاں قریب گئے تو انہوں نے دیکھا کہ یہ لوگ تو بڑے اچھے ڈیل ڈول والے ہیں، تو ڈر گئے۔ یہ ہمارے علاقوں میں، مانسہرہ کا جو علاقہ ہے، اس علاقے میں یہ بٹگرام اور یہ الائی، سب علاقہ جو تھا۔ تو یہاں پر جو لوگ پہلے آباد تھے۔ تو ایسا ہوا کہ سوات کے جو لوگ تھے نا، وہ ان لوگوں نے ایک جنگی چال چلی۔ اور وہ چال یہ چلی کہ انہوں نے بہت بڑے، بڑے جوتے بنا لیے۔ یعنی جو انسانی اس سے بہت زیادہ لمبے تھے، مطلب جیسے کوئی مطلب پانچ فٹ کا جوتا ہو۔ تو اس طریقے سے مطلب ہے کہ وہ بڑے لمبے، لمبے عصا وہ دریا میں بہا دیے۔ تو وہ جب ان کی طرف آ رہے تھے وہ دریا، تو انہوں نے دیکھا کہ اوپر تو بہت ہی یعنی ڈیل ڈول والے لوگ ہیں۔ تو بس پھر انہوں نے وہ وہاں جا کر افواہ پھیلائی کہ وہ سواتی آ گئے۔ تو یہ وہ لوگ، پہلے اپنا علاقہ خالی کر کے بھاگ گئے۔ اور جا کر ان لوگوں نے ان کی زمینوں پر قبضہ کر دیا۔ گویا جنگی چال چلی۔
اچھا، تو بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اس میں انسان ڈر جاتا ہے اس طرح۔ تو یہ جو بنی اسرائیل تھے، تو عمالقہ قوم عاد سے چونکہ تعلق رکھتے تھے نسل کے لحاظ سے۔ تو یہ ان کا ڈیل ڈول بھی بڑا لمبا تڑنگا تھا۔ تو انہوں نے مطلب ظاہر ہے پھر وہ حوصلے ہار دیے، کہ ہم اس میں داخل نہیں ہوتے، وہ تو قوم جبارین ہیں۔ یہ تو، ہم وہاں نہیں جا سکتے۔
البتہ ایک ہوتا ہے نا عاجزی والا اسٹائل، ایک ہوتا ہے اکڑ والا۔ تو ان کا مقابلہ تو نہیں کر سکے، لیکن اللہ کے مقابلے میں، -نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ- اکڑ کرنے لگے۔ یہ بدبختی یہی بات تھی کہ وہاں پر انہوں نے یہ کہا کہ تو اور تیرا رب جایا جائے اور لڑو۔ تو یہ اور بہت، ظاہر ہے بہت، یعنی بڑی جسارت تھی۔ تو پھر اللہ پاک نے ان کو سزا دے دی۔
اور ادھر موسیٰ علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو دیکھا، اس حرکت کو تو، تو پھر بہت دلبرداشتہ ہوئے، اور پھر موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اے اللہ! میرا صرف اپنے بھائی پر اور اپنے آپ پر بس چلتا ہے تو ہمارے درمیان وہ الگ الگ فیصلہ کر دیجیے۔
یہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بھی ایسا ہوا تھا اور حضرت علی كَرَّمَ اللّٰهُ وَجْهَهُ کے ساتھ بھی ایسا ہوا تھا کہ ان کے جو ماننے والے، بظاہر تھے۔ انہوں نے بھی اس طرح، یعنی بہت زیادہ شرارتیں کیں اور من مانیاں کیں۔ تو علی رضی اللہ عنہ نے بھی اس قسم کے الفاظ ان کے بارے میں فرمائے تھے کہ انہی کی کتابوں میں، وہ کچھ الفاظ جو ہیں، کہ یہ تو ایسے اور یہ تو ویسے۔ تو یہ مطلب، بدبختی جب آ جاتی ہے نا، تو آدمی، انسان پھر وہ پھر اپنے آپ میں نہیں رہتا۔ اور جو نہیں بولنا چاہیے وہ بول لیتا ہے، جو نہیں کرنا چاہیے ہوتا ہے، وہ کر لیتا ہے۔ تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو فیصلہ آ جاتا ہے، تو اس فیصلے کے سامنے پھر کون ٹھہر سکتا ہے؟
اللہ جل شانہ ہم سب کو ایسے انجاموں سے بچائیں، اور کبھی بھی اپنے آپ کو کسی چیز کا مستحق نہ سمجھیں۔ یہ بہت بڑی بات ہے، کیونکہ دیکھو نا ان کو جو نقصان ہوا، زیادہ تر یہی بات ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو ان نعمتوں کا مستحق سمجھا جو اللہ پاک نے فضل سے دی تھیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو سمجھتے تو پھر کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو نہیں سمجھا بلکہ اس کو اپنا استحقاق سمجھا۔ اسی وجہ سے لاڈ چاہا۔ تو پھر نتیجہ کیا ہوا؟ ان کے ساتھ پھر کیا معاملہ ہوا؟
تو یہ ہمارے لیے یہ قرآن پاک میں جو سارے، جو واقعات آئے ہیں، یہ اصل میں ہماری عبرت کے لیے آئے ہوئے ہیں۔ کہ ہم لوگ اس سے عبرت سیکھیں اور وہ کام نہ کریں جو کہ وہ کر چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الحمد للہ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالحمد للہ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔