بنی اسرائیل کا اللہ سے وعدہ اور احکاماتِ الٰہی سے روگردانی کے نقصانات
درس نمبر 209: سورۃ المائدة، آیت نمبر 12 تا 14
- بنی اسرائیل سے اللہ تعالیٰ کا پختہ عہد اور بارہ نقباء (نگرانوں) کی تقرری۔
- نماز، زکوٰۃ کی ادائیگی، انبیاء پر ایمان اور قرضِ حسنہ کے بدلے جنت کی بشارت۔
- قرضِ حسنہ کا حقیقی مفہوم: غریبوں کی مدد اور نیک کاموں میں مال خرچ کرنا۔
- یہود کی عہد شکنی، کلامِ الٰہی میں تحریف اور اس کے نتیجے میں ان پر اللہ کی لعنت اور دلوں کی سختی۔
- عیسائیوں (نصاریٰ) کی دین سے غفلت اور اس کے عذاب کے طور پر ان کے فرقوں میں قیامت تک کے لیے باہمی بغض اور دشمنی۔
- حق پر قائم رہنے اور باطل سے بچنے کے لیے خصوصی دعا۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ۔ أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔
وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَ ۚ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا ۭ وَقَالَ اللّٰهُ اِنِّيْ مَعَكُمْ ۭ لَىِٕنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَاٰتَيْتُمُ الزَّكٰوةَ وَاٰمَنْتُمْ بِرُسُلِيْ وَعَزَّرْتُمُوْهُمْ وَاَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيْلِ ﴿12﴾فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِيَةً ۚ يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ ۙ وَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ ۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰي خَآىِٕنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ ﴿13﴾ وَ مِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰٓي اَخَذْنَا مِيْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ ۪ فَاَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَآءَ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۭ وَسَوْفَ يُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ ﴿14﴾
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: اور یقیناً اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا، اور ہم نے ان میں سے بارہ نگران مقرر کئے تھے، اور اللہ نے کہا تھا کہ ”میں تمہارے ساتھ ہوں، اگر تم نے نماز قائم کی، زکوٰۃ ادا کی، میرے پیغمبروں پر ایمان لائے، عزت سے ان کا ساتھ دیا اور اللہ کو اچھا قرض دیا
حاشیہ: بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے۔ چنانچہ جب ان سے یہ عہد لیا گیا تو ہر قبیلے کے سردار کو اپنے قبیلے کا نگران بنایا گیا تاکہ وہ عہد کی پابندی کرائے۔ اچھے قرض یا قرضِ حسن کا اصل مطلب تو وہ قرض ہے جو کوئی شخص کسی کو اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے دے دے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دینے کا مطلب یہ ہے کہ کسی غریب کی مدد کی جائے یا کسی اور نیک کام میں پیسے خرچ کیے جائیں۔
ترجمہ: تو یقین جانو کہ میں تمہاری برائیوں کا کفارہ کردوں گا، اور تمہیں ان باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ پھر اس کے بعد بھی تم میں سے جو شخص کفر اختیار کرے گا تو در حقیقت وہ سیدھی راہ سے بھٹک جائے گا“ ﴿12﴾
ترجمہ: پھر یہ ان کی عہد شکنی ہی تو تھی جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دُور کیا، اور ان کے دلوں کو سخت بنادیا۔ وہ باتوں کو اپنے موقع محل سے ہٹا دیتے ہیں۔ اور جس بات کی ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا ایک بڑا حصہ بھلا چکے ہیں، اور ان میں سے کچھ لوگوں کو چھوڑ کر تمہیں آئے دن ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ لہٰذا (فی الحال) انہیں معاف کردو اور درگزر سے کام لو۔ حاشیہ: یعنی اس قسم کی شرارتیں تو ان کی پرانی عادت ہے، لیکن آپ کو فی الحال سارے بنی اسرائیل کو کوئی اجتماعی سزا دینے کا حکم نہیں ہے۔ جب وقت آئے گا، اللہ تعالیٰ خود سزا دے گا۔
ترجمہ: بیشک اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ﴿13﴾اور جن لوگوں نے کہا تھا کہ ہم نصرانی ہیں، ان سے بھی ہم نے عہد لیا تھا، پھر جس چیز کی ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا ایک بڑا حصہ وہ بھی بھلا بیٹھے۔ چنانچہ ہم نے ان کے درمیان قیامت کے دن تک کے لیے دشمنی اور بغض پیدا کر دیا۔
عیسائی مذہب کے ماننے والے مختلف فرقوں میں بٹ گئے تھے۔ ان کے ہاں مذہبی اختلافات نے دشمنی اور خانہ جنگی کی شکل اختیار کر لی تھی۔ یہ اس خانہ جنگی کی طرف اشارہ ہے۔ اور اللہ انہیں عنقریب بتا دے گا کہ وہ کیا کچھ کرتے رہے۔
حاشیہ: عیسائی مذہب کے ماننے والے مختلف فرقوں میں بٹ گئے تھے، اور ان کے مذہبی اختلافات نے دُشمنی اور خانہ جنگی کی شکل اختیار کرلی تھی۔ یہ اس خانہ جنگی کی طرف اشارہ ہے۔
ترجمہ: اور اللہ انہیں عنقریب بتادے گا کہ وہ کیا کچھ کرتے رہے ہیں ﴿14﴾
حاشیہ: عیسائی مذہب کے ماننے والے مختلف فرقوں میں بٹ گئے تھے، اور ان کے مذہبی اختلافات نے دُشمنی اور خانہ جنگی کی شکل اختیار کرلی تھی۔ یہ اس خانہ جنگی کی طرف اشارہ ہے۔
ترجمہ: اور اللہ انہیں عنقریب بتادے گا کہ وہ کیا کچھ کرتے رہے ہیں ﴿14﴾
اللہ جل شانہ ہم سب کو حق پر قائم رکھے اور باطل کے ساتھ ملنے سے اللہ تعالیٰ ہمیں ہر طرح سے محفوظ فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔