طہارت کے احکام، عدل و انصاف کی اہمیت اور اللہ کی نعمتوں پر شکر
درس نمبر 208: سورۃ المائدة، آیت نمبر 6 تا 11
- وضو، غسل اور تیمم کے شرعی و فقہی احکام۔
- بڑی ناپاکی (جنابت) اور چھوٹی ناپاکی کے تیمم کے مساوی طریقے اور نیت کا فرق۔
- مسلمانوں کا اللہ سے اطاعت کا عہد (سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا) اور اس کی پاسداری۔
- عدل و انصاف کی تلقین اور کسی قوم کی دشمنی میں ناانصافی سے ممانعت۔
- غزوہ عسفان کے دوران صلاۃ الخوف کا پس منظر اور کفار کے منصوبوں کی ناکامی۔
- اللہ پر کامل توکل (بھروسہ) اور اس کی نعمتوں پر شکر گزاری کی فضیلت۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ۔ أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا ۚ وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ مِنْهُ ۚ مَا يُرِيدُ اللّٰهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ حَرَجٍ وَلَٰكِنْ يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (6) وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَاقَهُ الَّذِي وَاثَقَكُم بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۚ إِنَّ اللّٰهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ﴿7﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلّٰهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ ۖ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۚ إِنَّ اللّٰهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ﴿8﴾
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنے چہرے، اور کہنیوں تک اپنے ہاتھ دھولو، اور اپنے سروں کا مسح کرو، اور اپنے پاؤں (بھی) ٹخنوں تک (دھو لیا کرو)۔ اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو سارے جسم کو (غسل کے ذریعے) خوب اچھی طرح پاک کرو۔ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت کرکے آیا ہو، یا تم نے عورتوں سے جسمانی ملاپ کیا ہو، اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرو،
حاشیہ: "قضائے حاجت کی جگہ سے آنا" درحقیقت اس چھوٹی ناپاکی کی طرف اشارہ ہے جس میں انسان پر نماز وغیرہ پڑھنے کے لئے صرف وضو واجب ہوتا ہے، اور "عورتوں سے ملاپ" اس بڑی ناپاکی کی طرف اشارہ ہے جس کو "جنابت" کہتے ہیں اور جس میں غسل واجب ہوتا ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ جب پانی میسر نہ ہو یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے اس کا استعمال ممکن نہ ہو تو ناپاکی چاہے چھوٹی ہو یا بڑی، دونوں صورتوں میں تیمم کی اجازت ہے، اور دونوں صورتوں میں اس کا طریقہ ایک ہی ہے۔
یعنی، اس مسئلے میں فقہی جزئیہ جو مرتب ہو رہا ہے وہ یہ مرتب ہو رہا ہے کہ جنابت کی، کا تیمم، جنابت سے پاک ہونے کا تیمم، اور وضو کا تیمم ایک ہے۔ نیت کا فرق ہوگا، لیکن یہ ہے کہ تیمم ایک ہی ہے۔ البتہ اگر جنابت سے پاکی کا تیمم کوئی نیت کرے، تو اس میں وضو خود بخود آ جاتا ہے۔
ترجمہ: اللہ تم پر کوئی تنگی مسلط کرنا نہیں چاہتا، لیکن یہ چاہتا ہے کہ تم کو پاک صاف کرے، اور یہ کہ تم پر اپنی نعمت تمام کر دے، تاکہ تم شکر گزار بنو۔ ﴿6﴾ اللہ نے تم پر جو انعام فرمایا ہے اسے اور اس عہد کو یاد رکھو جو اس نے تم سے لیا تھا۔ جب تم نے کہا تھا کہ: "ہم نے (اللہ کے احکام کو) اچھی طرح سن لیا ہے، اور اطاعت قبول کر لی ہے" اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ یقیناً سینوں کے بھید سے پوری طرح باخبر ہے ﴿7﴾ اے ایمان والو! ایسے بن جاؤ کہ اللہ (کے احکام کی پابندی) کے لئے ہر وقت تیار ہو، (اور) انصاف کی گواہی دینے والے ہو۔ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ناانصافی کرو۔ انصاف سے کام لو، یہی طریقہ تقویٰ سے قریب تر ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ یقیناً تمہارے تمام کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔ ﴿8﴾
اصل میں اللہ پاک.جو انعام ہم پر فرماتے رہتے ہیں تو اللہ پاک ہمیں حکم دیتے ہیں کہ اس کو، جو عہد اللہ پاک نے ہم سے لیا ہے اس کو ہم یاد رکھیں۔ جس وقت سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا مطلب یہ ہے کہ جو ہم نے اللہ کے احکامات کو سن لیے اور اطاعت قبول کر لی۔ اور یہ بات بھی ہے کہ جو بھی اللہ پاک کے احکامات ہیں، وہ ہر وقت کے لحاظ سے ہم اس کے لیے تیار رہیں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ انصاف کی گواہی ہم دیا کریں، اور اس سلسلے میں ہم کسی قوم کی دشمنی کی وجہ سے ناانصافی پر آمادہ نہ ہوں۔ یہ بہت اہم بات ہے۔
وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ۙ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ ﴿9﴾ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ ﴿10﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ أَن يَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ ۖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴿11﴾
ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ (آخرت میں) ان کو مغفرت اور زبردست ثواب حاصل ہوگا۔ ﴿9﴾ اور جن لوگوں نے کفر اپنایا اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا، وہ دوزخ کے باسی ہیں۔ ﴿10﴾ اے ایمان والو! اللہ نے تم پر جو انعام فرمایا اس کو یاد کرو۔ جب کچھ لوگوں نے ارادہ کیا تھا کہ تم پر دست درازی کریں، تو اللہ نے تمہیں نقصان پہنچانے سے ان کے ہاتھ روک دیئے
حاشیہ: یہ ان مختلف واقعات کی طرف اشارہ ہے جن میں کفار نے مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کے منصوبے بنائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سب کو خاک میں ملا دیا۔ ایسے واقعات بہت سے ہیں۔ ان میں سے کچھ واقعات مفسرین نے اس آیت کے تحت بھی ذکر کئے ہیں۔ مثلاً صحیح مسلم میں روایت ہے کہ مشرکین سے ایک جنگ کے دوران عسفان کے مقام پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز تمام صحابہ کو جماعت سے پڑھائی مشرکین کو پتہ چلا تو ان کو حسرت ہوئی کہ جماعت کے دوران مسلمانوں پر حملہ کر کے انہیں ختم کر دینے کا یہ بہترین موقع تھا۔ پھر انہوں نے منصوبہ بنایا کہ جب یہ حضرات عصر کی نماز پڑھیں گے تو ان پر ایک دم حملہ کر دیں گے۔ جس میں مسلمان دو حصوں میں تقسیم ہو کر نماز پڑھتے ہیں،اور ایک حصہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ (اس نماز کا طریقہ پیچھے سورہ نسا میں گزر چکا ہے) چناچہ مشرکین کا منصوبہ دھرا رہ گیا۔(روح المعانی)۔ مزید واقعات کے لیے دیکھیے معارف القرآن
ترجمہ: اور (اس نعمت کا شکر یہ ہے کہ) اللہ کا رعب دل میں رکھتے ہوئے عمل کرو، اور مومنوں کو صرف اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ ﴿11﴾
اللہ پاک ہم سب کو اپنے احکام کی سمجھ بھی عطا فرمائے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق بھی۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ. بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.