سورۃ المائدہ کی روشنی میں شکاری جانوروں اور اہل کتاب کے طعام و نکاح کے احکام

درس نمبر 207: سورۃ المائدة، آیت نمبر 4 اور 5

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • سورۃ المائدہ کی آیات ۴ اور ۵ کی تلاوت و تفسیر۔
  • شکاری کتوں اور باز کے شکار کی حلت اور اس کی شرائط (بسم اللہ پڑھنا اور شکار کو مالک کے لیے روکنا)۔
  • دین کا کام خالصتاً اللہ کے لیے کرنے کی اہمیت اور دنیاوی مفاد سے گریز۔
  • اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کے ذبیحہ کے شرعی احکام اور موجودہ دور کے نام نہاد اہل کتاب کی حقیقت۔
  • یورپ اور مغربی ممالک میں حلال گوشت کے حوالے سے مسلمانوں کی غفلت اور نفسانی خواہشات کی پیروی۔
  • اہل کتاب عورتوں سے نکاح کے شرعی احکام، شرائط اور موجودہ دور میں ایمان و عقیدے کو لاحق خطرات۔
  • غامدی صاحب اور لبرل اسکالرز کے فتاویٰ کی حقیقت اور دین میں تحریف کی کوششوں سے بچاؤ کی تلقین۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ۔ أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔

اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا ؕ فَمَنِ اضْطُرَّ فِيْ مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ﴿4﴾ يَسْئَلُوْنَكَ مَاذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ ؕ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ ۙ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِيْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ ۖ فَكُلُوْا مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ ۖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ ﴿5﴾

ترجمہ: لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لئے کونسی چیزیں حلال ہیں؟ کہہ دو کہ "تمہارے لئے تمام پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں۔ اور جن شکاری جانوروں کو تم نے اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق سکھا سکھا کر (شکار کے لئے) سدھا لیا ہو، وہ جس جانور کو (شکار کر کے) تمہارے لئے روک رکھیں، اس میں سے تم کھا سکتے ہو، اور اس پر اللہ کا نام لیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ جلد حساب لینے والا ہے ﴿4﴾

حاشیہ: شکاری جانوروں مثلاً شکاری کتوں اور باز وغیرہ کے ذریعے حلال جانوروں کا شکار کر کے انہیں کھانا جن شرائط کے ساتھ جائز ہے ان کا بیان ہو رہا ہے۔ پہلی شرط یہ ہے کہ شکاری جانور کو سدھا لیا گیا ہو جس کی علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ جس جانور کا شکار کرے اسے خود نہ کھائے، بلکہ اپنے مالک کے لئے روک رکھے. دوسری شرط یہ ہے کہ شکار کرنے والا شکاری کتے کو کسی جانور پر چھوڑتے وقت اللہ کا نام لے، یعنی بسم اللہ پڑھے۔

ایک بزرگ نے اس کی ایک عجیب توجیہ بیان فرمائی اس حصے کی۔ فرمایا کہ جو حضرات دین کا کام کرتے ہیں یعنی لوگوں پہ محنت کرتے ہیں، ان کو اللہ کی طرف بلاتے ہیں، تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے گویا کہ وہ شکار کر رہے ہیں لوگوں کو اللہ کی طرف لانے کے لیے۔ لیکن اگر اس میں کوئی دنیا کے لیے اپنا حصہ ڈالیں تو یہ ناپسندیدہ ہو جائے گا، "حرام" تو چونکہ ایک شرعی لفظ ہے اس کو تو استعمال کرنا مشکل ہے، لیکن یہ ہے کہ ناپسندیدہ ہو جائے گا۔ تو اس وجہ سے جو لوگ بھی دین کا کام کرتے ہیں، اس میں اپنے لیے کوئی دنیا کا حصہ نہ رکھیں۔ صرف خالصتاً لِوَجْهِ اللّٰهِ یہ کام کریں، تو پھر تو ظاہر ہے وہ مقبول ہے ورنہ پھر یہ ہے کہ اس کے ساتھ مسائل پھر پیدا ہوں گے۔

تو واقعتاً یہ بات ملاحظہ کی ہے کہ اس میں، فرمایا کہ فقہ کی کتابوں میں تو یہ ہے کہ اگر کوئی کتا شکاری یا باز اس میں سے خود کھا لے تو پھر وہ حرام ہو جاتا ہے۔ مطلب وہ حرام ہو جائے گا۔ اس کو پھر دوبارہ سے سدھانا پڑے گا، اور پھر test لینا پڑے گا تین دفعہ کہ وہ یہ ہے کہ اس کو چھوڑے گا شکار پر اور دیکھے گا کہ آیا وہ شکار اپنے لیے لیتا ہے یا اس کو مالک کے لیے روک رکھتا ہے۔ تو تین دفعہ qualify جب وہ کر لے گا تو پھر اس کے بعد اس کا وہ شکار حلال ہوگا۔ تو یہ والی بات بہت زیادہ یعنی اہم ہے کہ شکاری کتوں یا باز وغیرہ کے لیے اس بات پر عمل کرنا پڑے گا۔

اَلْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ ۖ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ ۖ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴿5﴾

ترجمہ: آج تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئی ہیں، اور جن لوگوں کو (تم سے پہلے) کتاب دی گئی تھی، ان کا کھانا بھی تمہارے لئے حلال ہے، اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے حاشیہ: کھانے سے یہاں مراد ذبیحہ ہے، اہل کتاب یعنی یہودی اور عیسائی چونکہ جانور کے ذبح میں انہی شرائط کی رعایت رکھتے تھے جو اسلامی شریعت میں مقرر ہیں، اور وہ دوسرے غیر مسلموں سے اس معاملے میں ممتاز تھے کہ فی الجملہ آسمانی کتابوں کو مانتے تھے، اس لئے ان کے ذبح کئے ہوئے جانور مسلمانوں کے لئے جائز قرار دیئے گئے تھے، بشرطیکہ وہ جانور کو صحیح شرعی طریقے سے ذبح کریں، اور اس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام نہ لیں۔ آج کل کے یہودیوں اور عیسائیوں میں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو درحقیقت دہریے ہیں، خدا ہی کے قائل نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کا ذبیحہ بالکل حلال نہیں ہے، اور ان میں سے بعض اگرچہ عیسائی یا یہودی ہیں، مگر اپنے مذہب کے احکام کو چھوڑے ہوئے ہیں، اور ذبح کرنے میں شرعی شرائط کا لحاظ نہیں کرتے، اس لئے ان کا ذبیحہ بھی حلال نہیں ہے۔ اس مسئلے کی پوری تحقیق میرے والد ماجد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر "معارف القرآن" اور "جواہر الفقہ" میں موجود ہے۔ نیز میرا بھی عربی رسالہ "احکام الذبائح" اسی موضوع پر ہے، اس کا انگریزی ترجمہ بھی شائع ہو چکا ہے۔

یہ ذبیحہ کے بارے میں ہے۔ اصل میں نفس کی جو خواہش ہے اس کے سامنے ٹہرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ مثلاً یہ جو ذبیحہ والی بات ہے، یورپ وغیرہ لوگ چلے جاتے ہیں تو وہاں پر ظاہر ہے قرآن پاک کی یہ آیتیں انہوں نے پڑھی ہوتی ہیں، لیکن یا انہوں نے اس کے ساتھ تشریح نہیں پڑھی ہوتی، یا پھر یہ ہوتا ہے کہ اس کو نظر انداز کر لیتے ہیں۔ تو وہ وہیں پر اس قسم کی چیزیں کھانی شروع کر لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ چونکہ قرآن میں بتایا گیا ہے لہٰذا مطلب یہ ٹھیک ہے۔ حالانکہ ایسی بات نہیں ہے۔

ایک دفعہ ایسا ہوا کہ جرمنی میں ہمارے یہیں پر پاکستان سے ایک بہت بڑے افسر آئے ہوئے تھے کچھ training کے لیے۔ تو ظاہر ہے مطلب ہمارے ساتھ ملاقات ہو گئی تو میں نے ان کو اپنی طرف سے چونکہ مجھے جو معلومات ہوئی تھیں، کچھ ایسے stores میں نے ان کو بتا دیے دکھا دیے کہ یہاں سے حلال گوشت مل سکتا ہے۔ تو ایک دن میں جا رہا تھا راستے پہ، میں نے دیکھا کہ وہ ایک German store سے باہر نکل رہا تھا، جو مسلمان نہیں تھے۔ تو اس سے گوشت لے چکا تھا۔ میں نے اس سے کہا، میں نے آپ کو بتایا نہیں تھا کہ وہ حلال گوشت کہاں سے ملتا ہے؟ کہتے ہیں، "وہ صحیح ہے لیکن وہ چھوٹے جانوروں کو ذبح کرتے ہیں اور اس کا اتنا taste نہیں ہوتا، یہ ذرا میں بڑے جانور کا گوشت لے رہا تھا۔"

اور تھے پنجابی، مجھے بہت غصہ آ گیا۔ میں نے اسے کہا، خدا کے بندے وہاں تم ہمارا دماغ خراب کرتے ہو کہ پٹھان بڑا گوشت کھاتے ہیں۔ اور یہاں تم بڑے گوشت کھانے کے لیے حرام کھانے کے مرتکب ہو رہے ہو۔ اگر ہم غلطی کر چکے ہیں تو ہمارے لیے تو کوئی نہ کوئی ایک قسم کی بات تو ہوتی ہے کہ ہم عادی ہیں بڑے گوشت کے، تو چلو جی ہم نے ایک غلطی کر لی اس مقصد کے لیے۔ تمہارے لیے کیا گنجائش ہے؟ تم تو وہاں بڑے گوشت کو بہت برا سمجھتے ہو تو تم کیوں اس کے پیچھے پڑ گئے ہو؟ تو اس کو پھر میں نے خوب سنائی۔ میں نے کہا، خدا کے بندو تھوڑا سا اپنا خیال کر لیا کرو یہ کیا طریقہ ہے؟ صرف ایک taste کے لیے آپ ایک حرام کے مرتکب ہو رہے ہیں، بہت کتنی خراب بات ہے۔ تو یہ بات ایسی بات ہوتی ہے کہ جو لوگ ہیں، وہ اپنے نفس کی خواہش کو۔۔۔

اسی طرح یہ جو شادیاں ہیں، یہ مطلب یہودیوں کے ساتھ یہودینوں کے ساتھ اور یہ عیسائیوں جو ہوتے ہیں ان کے ساتھ شادیاں، اس میں بھی آج کل یہی مسئلہ ہے کہ ان کا جو مذہب ہے وہ اب نہیں ہے وہ، بلکہ ان کے اندر وہ مذہب کی بات ہی نہیں ہے۔ ایک دفعہ میں نے ہمارے colleague تھے، بکر اس کو کہتے تھے بکر، میں نے کہا کہ، "کیا آپ لوگ جو اپنے مذہبی جو احکامات ہیں ان پر عمل کرتے ہیں؟" تو وہ کہتے ہیں، "Yes, our religious people do." یعنی ہمارے مذہبی لوگ اس کو کرتے ہیں، یعنی جو پادری ہوتے ہیں اس قسم کے۔ تو مطلب یہ ہے کہ وہ یعنی آج کل ان کے ہاں یہ ہے، بس آزادی ہے۔ عیسائیوں میں تو بہت زیادہ ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ تو یعنی بہت ہی زیادہ، وہ تو اباحیت ہے بس ہر چیز کو جائز قرار دیتے ہیں۔ جو چیز مشہور ہو جائے اور چل پڑے تو اس کے لیے کوئی نہ کوئی جزیے نکال کے کہہ دیتے ہیں بس ٹھیک ہے جی یہ بھی جائز ہے۔ یہاں تک کہ clubs بھی بن گئے اور اس قسم کی چیزیں بھی بن گئیں۔ تو یہ مطلب ان کے ہاں تو مسئلہ ہی ہے۔

یہودیوں نے تھوڑا بہت اپنے آپ کو رکھا ہوتا ہے، مطلب وہ وہ کرتے ہیں، لیکن بہرحال ان کے اندر بھی بہت تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ تو ہم لوگوں کو خاص بس مسلمانوں والا طریقہ اختیار کرنا چاہیے، اور یہ باتیں اس وقت کے لحاظ سے تھیں جب مطلب یہ ہے کہ اس وقت لوگ اپنے مذہب پہ چلتے تھے۔

وہ آپ ﷺ کے ساتھ جو ملاقات ہوئی تھی جو وہ حاتم طائی کا بیٹا تو اس نے کچھ اس طرح بات کی تو آپ ﷺ نے فرمایا، "تم تو فلاں یعنی مسلک کے ہو تو تم نے یہ کام کس طرح کیا؟" تو ان کو حیرت ہوئی کہ میرے مسلک کا ان کو کیسے پتہ چلا؟ تو اس وقت لوگ ان کے اپنے مسلک ہوتے تھے اور وہ باقاعدہ اس کے مطابق چلتے تھے، آج کل وہ والی باتیں نہیں ہیں، وہ بس صرف نام کے عیسائی ہیں، یا یہودی ہیں، باقی ان کا وہ سارا کا سارا معاملہ آزادی کا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے اور اس قسم کی چیزوں میں مبتلا ہونے سے بچائے۔

یہ آگے یہ بات آ ہی رہی ہے۔

ترجمہ: نیز مومنوں میں سے پاک دامن عورتیں بھی اور ان لوگوں میں سے پاک دامن عورتیں بھی تمہارے لئے حلال ہیں جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی، جبکہ تم نے ان کو نکاح کی حفاظت میں لانے کے لئے ان کے مہر دے دیئے ہوں، نہ تو (بغیر نکاح کے) صرف ہوس نکالنا مقصود ہو، اور نہ خفیہ آشنائی پیدا کرنا۔ اور جو شخص ایمان سے انکار کرے، اس کا سارا کیا دھرا غارت ہو جائے گا، اور آخرت میں اس کا شمار خسارہ اٹھانے والوں میں ہوگا۔

حاشیہ: اہل کتاب کی دوسری خصوصیت یہ بیان کی گئی ہے کہ ان کی عورتوں سے نکاح بھی حلال ہے، لیکن یہاں بھی دو اہم نکتے یاد رکھنے ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ یہ حکم ان یہودی یا عیسائی خواتین کا ہے جو واقعی یہودی یا عیسائی ہوں۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، مغربی ممالک میں بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ مردم شماری کے حساب سے تو انہیں عیسائی یا یہودی گنا گیا ہے، لیکن نہ وہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں، نہ کسی پیغمبر یا کسی آسمانی کتاب پر۔ ایسے لوگ اہل کتاب میں شامل نہیں ہیں، نہ ان کا ذبیحہ حلال ہے، اور نہ ایسی عورتوں سے نکاح حلال ہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اگر کوئی عورت واقعی یہودی یا عیسائی ہو، لیکن اس بات کا قوی خطرہ ہو کہ وہ اپنے شوہر یا بچوں پر اثر ڈال کر انہیں اسلام سے دور کر دے گی تو ایسی عورت سے نکاح کرنا گناہ ہوگا، یہ اور بات ہے کہ اگر کسی نے نکاح کر لیا تو نکاح منعقد ہو جائے گا، اور اولاد کو حرام نہیں کہا جائے گا۔ آج کل چونکہ مسلمان عوام میں اپنے دین کی ضروری معلومات اور ان پر عمل کی بڑی کمی ہے، اس لئے اس معاملے میں بہت احتیاط لازم ہے۔

رشیا سے ایک آئے ہوئے تھے، doctor تھے۔ وہیں settled تھے، پاکستانی تھے۔ تو ان سے ملاقات ہو گئی حرم شریف میں، دوستی ہو گئی ملنا جلنا ہو گیا۔ تو اس میں اس نے مجھ سے درمیان میں مجھ سے ایک بات پوچھی کہ عیسائی عورت کے ساتھ میں رہ رہا ہوں۔ 30 سال سے رہ رہے تھے اور بغیر شادی کے، تو بچے بھی تھے ان کے۔ تو اس کا کیا ہے؟ میں نے کہا، یہ تو بہت غلط بات ہے۔ میں نے کہا، کم از کم تم اتنا تو کرو کہ فوراً جا کر ان کے ساتھ شادی کر لو۔ کم از کم کسی نہ کسی گنجائش میں تو آ جاؤ گے، پھر کوشش کر لو کہ وہ مسلمان ہو جائے۔ تو یہ بات کر لو۔ تو مجھے کہتے ہیں، "نہیں، وہ غامدی میرا دوست ہے، اس سے میں نے پوچھا اس نے کہا کوئی مسئلہ نہیں۔"

میں نے کہا کہ، پتہ نہیں غامدی کو کیسی عجیب لت پڑی ہوئی ہے کہ ہر چیز کو جائز قرار دے رہا ہے، مطلب یہ لت لگی ہے اس کو وہ بس پتہ نہیں اللہ پاک ایسے لوگوں کے شر سے بچائے۔ یعنی یہ گویا کہ اس کے لیے تیار بیٹھے ہیں کہ کسی جائز چیز کو ناجائز قرار دیں اور ناجائز چیز کو جائز قرار دیں۔

تو اس کی بہت ساری چیزیں اس قسم کی ہیں۔ لہٰذا ایسے لوگوں کی باتوں پر عمل نہیں کرنا چاہیے۔ ورنہ صحیح بات ہے اس قسم کے لوگ تو ایمان کے ڈاکو ہیں۔ یعنی ان کے ساتھ ان سے بات پوچھ پوچھ کر تو ایمان کو ہی خطرہ ہو جائے گا۔ تو ایسے لوگوں سے بالکل نہیں پوچھنا چاہیے۔ جو صحیح فکر رکھنے والے مسلمان علماء ہیں، ان کی باتوں پہ چلنا چاہیے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو آج کل کے ان فتنوں سے محفوظ فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔