دین میں ایمان اور اطمینانِ قلب: نزولِ مائدہ کا واقعہ اور اللہ کی حجت

درس نمبر 233: سورۃ المائدة، آیت نمبر 109 تا 115

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. قرآن کریم اپنے احکام کے ساتھ آخرت یا پچھلی امتوں کا ذکر کرتا ہے تاکہ ان احکام پر عمل کے لیے آخرت کی فکر پیدا ہو۔
  2. انبیاء کرام قیامت کے دن دلوں کے مخفی حالات سے لاعلمی کا اظہار کریں گے کیونکہ وہ دنیا میں صرف ظاہری اعمال پر فیصلہ کرتے تھے۔
  3. قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان پر کیے گئے انعامات اور تائید کے لیے دیے گئے معجزات یاد دلائے گا۔
  4. حواریوں کی جانب سے آسمانی خوان کی درخواست کا مقصد ایمان کا فقدان نہیں بلکہ دلی اطمینان، مزید یقین اور حق کی گواہی تھا۔
  5. مطلوبہ معجزے کی فرمائش پوری ہونے کے بعد بھی کفر کرنے والوں کے لیے مہلت نہیں بچتی اور ان پر سخت ترین عذاب نازل ہوتا ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَوٰةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ ؕقَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا ؕ-اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ(109) اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَ ۘ-اِذْ اَیَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا ۚوَ اِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ ۚ-وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْــٴَـةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْهَا فَتَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِئُ الْاَ كْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ ۚ-وَ اِذْ تُخْرِ جُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِیْ ۚ-وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ(110) وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ ۚ-قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ(111) اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآىٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ؕ-قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(112) قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَىٕنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ (113)قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآىٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَ ۚ-وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ(114) قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَیْكُمْ ۚ-فَمَنْ یَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّیْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ (115)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: وہ دن یاد کرو جب اللہ تمام رسولوں کو جمع کرے گا، اور کہے گا کہ ”تمہیں کیا جواب دیا گیا تھا؟“ وہ کہیں گے کہ ”ہمیں کچھ علم (75) نہیں، پوشیدہ باتوں کا تمام تر علم تو آپ ہی کے پاس ہے“ ﴿109﴾

حاشیہ: قرآن کریم کا یہ خاص طریقہ ہے کہ جب وہ اپنے احکام بیان فرماتا ہے تو اس کے ساتھ آخرت کا کوئی ذکر یا پچھلی امتوں کی فرماں برداری یا نافرمانی کا بھی ذکر فرماتا ہے، تاکہ ان احکام پر عمل کرنے کے لئے آخرت کی فکر پیدا ہو، چنانچہ وصیت کے مذکورہ بالا احکام کے بعد اب آخرت کے کچھ مناظر بیان فرمائے گئے ہیں، اور چونکہ کچھ پہلے عیسائیوں کے غلط عقائد کا تذکرہ تھا، اس لئے خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے آخرت میں جو مکالمہ ہوگا اس کا خاص طور پر ذکر فرمایا گیا ہے۔ اور شروع کی اس آیت میں تمام پیغمبروں سے اس سوال کا ذکر ہے کہ ان کی اُمتوں نے ان کی دعوت کا کیا جواب دیا تھا؟ اس کے جواب میں انہوں نے اپنی لاعلمی کا جو اظہار کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دُنیا میں تو لوگوں کے ظاہری بیانات پر ہی فیصلہ کرنے کے مجاز تھے، لہٰذا جس کسی نے ایمان کا دعویٰ کیا ہم نے اسے معتبر سمجھ لیا، لیکن یہ معلوم کرنے کا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں تھا کہ اس کے دل میں کیا ہے؟ آج جبکہ فیصلہ دلوں کے حال کے مطابق ہونے والا ہے، ہم یقین کے ساتھ کسی کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے، کیونکہ دلوں کا پوشیدہ حال تو صرف آپ ہی جانتے ہیں۔ البتہ جب لوگوں کے ظاہری ردّ عمل ہی کے بارے میں انبیائے کرام سے گواہی لی جائے گی تو وہ ان کے ظاہری اعمال کی گواہی دیں گے، جس کا ذکر سورۂ نساء (41:4) اور سورۂ نحل (89:16) وغیرہ میں آیا ہے۔

ترجمہ: (یہ واقعہ اس دن ہوگا) جب اللہ کہے گا: ’’اے عیسیٰ ابن مریم! میرا انعام یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کیا تھا، جب میں نے روح القدس کے ذریعے تمہاری مدد کی تھی۔ تم لوگوں سے گہوارے میں بھی بات کرتے تھے، اور بڑی عمر میں بھی۔ اور جب میں نے تمہیں کتاب و حکمت اور تورات و انجیل کی تعلیم دی تھی، اور جب تم میرے حکم سے گارے سے پرندے کی جیسی شکل بناتے تھے، پھر اس میں پھونک مارتے تھے تو وہ میرے حکم سے (سچ مچ کا) پرندہ بن جاتا تھا، اور تم مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کر دیتے تھے، اور جب تم میرے حکم سے مُردوں کو (زندہ) نکال کھڑا کرتے تھے، اور جب میں نے بنی اسرائیل کو اُس وقت تم سے دُور رکھا جب تم ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے، اور ان میں سے جو کافر تھے انہوں نے کہا تھا کہ یہ کھلے جادو کے سوا کچھ نہیں۔‘‘﴿110﴾

ترجمہ: جب میں نے حواریوں کے دل میں یہ بات ڈالی کہ: ’’تم مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ‘‘ تو انہوں نے کہا: ’’ہم ایمان لے آئے، اور آپ گواہ رہئے کہ ہم فرماں بردار ہیں۔‘‘﴿111﴾

ترجمہ: (اور ان کے اس واقعے کا بھی ذکر سنو) جب حواریوں نے کہا تھا کہ: ’’اے عیسیٰ ابن مریم! کیا آپ کا پروردگار ایسا کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے (کھانے کا) ایک خوان اُتارے؟‘‘ عیسیٰ نے کہا: ’’اللہ سے ڈرو، اگر تم مؤمن ہو۔‘‘﴿112﴾

حاشیہ: یعنی ایک مؤمن کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے معجزات کی فرمائش کرے،

اور یہ اصل میں معجزات کی بات اور ہے لیکن یہ جو الفاظ ہیں نا کہ "کر سکتا ہے؟" اللہ پاک تو سب کچھ کر سکتا ہے نا، تو ظاہر مطلب ہے کہ یہ تو الفاظ گویا کہ یہ سمجھ لیں، اس کا دوسری طرف بھی معنی لے سکتے ہیں۔

حاشیہ: کیونکہ ایسی فرمائشیں تو عام طور پر کافر لوگ کرتے رہے ہیں۔ البتہ جب انہوں نے یہ وضاحت کی کہ خدانخواستہ اس فرمائش کا منشاء ایمان کا فقدان نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ کر مکمل اطمینان کا حصول اور ادائے شکر ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دُعا فرمادی۔

ترجمہ: انہوں نے کہا: ’’ہم چاہتے ہیں کہ اس خوان سے کھانا کھائیں، اور اس کے ذریعے ہمارے دل پوری طرح مطمئن ہو جائیں، اور ہمیں (پہلے سے زیادہ یقین کے ساتھ) یہ معلوم ہو جائے کہ آپ نے ہم سے جو کچھ کہا ہے وہ سچ ہے، اور ہم اس پر گواہی دینے والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘﴿113﴾

یہ اصل میں واقعتاً انسان، ایمان کے طور پہ جانتا ہے۔ لیکن یقین اس کو بالمشاہدہ جو چیزیں وہ دیکھتا ہے تو وہ مزید اطمینان ہو جاتا ہے، اور وہ کہتے ہیں، مطلب چونکہ وہ ظاہر ہے وہ معجزات ہوتے ہی ہیں نبی کے، اس کو ثابت قدمی کے لیے۔ تو وہ، تو کافر لوگ تو اس طرح کرتے ہیں لیکن مسلمانوں کو اس سے اطمینان ہوتا ہے۔ اور اطمینان یہ ہے کہ وہ ثابت قدمی کے لیے ایک ذریعہ ہوتا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ ہم اطمینان کے لیے کرنا چاہتے ہیں، ایمان ہمارے پاس پہلے سے موجود ہے۔ اور ایمان تو ہم سب رکھتے ہیں۔ لیکن یہ ہے کہ اس سے ہمیں مزید یقین ہو جائے گا اور اطمینان ہو جائے گا۔

ترجمہ: یہ معلوم ہو جائے کہ آپ نے ہم سے جو کچھ کہا ہے وہ سچ ہے، اور ہم اس پر گواہی دینے والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘﴿113﴾ (چنانچہ) عیسیٰ ابن مریم نے درخواست کی کہ: ’’یا اللہ! ہم پر آسمان سے ایک خوان اُتار دیجئے جو ہمارے لئے اور ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لئے ایک خوشی کا موقع بن جائے، اور آپ کی طرف سے ایک نشانی ہو۔ اور ہمیں یہ نعمت عطا فرما ہی دیجئے، اور آپ سب سے بہتر عطا فرمانے والے ہیں۔‘‘﴿114﴾ اللہ نے کہا کہ: ’’میں بیشک تم پر وہ خوان اُتار دُوں گا، لیکن اس کے بعد تم میں سے جو شخص بھی کفر کرے گا اس کو میں ایسی سزا دُوں گا جو دُنیا جہان کے کسی بھی شخص کو نہیں دُوں گا۔‘‘﴿115﴾

حاشیہ: قرآن کریم نے یہ بیان نہیں فرمایا کہ پھر وہ خوان آسمان سے اُترا یا نہیں۔ جامع ترمذی کی ایک روایت میں حضرت عمار بن یاسرؓ کا یہ قول مروی ہے کہ خوان اُترا تھا، پھر جن لوگوں نے نافرمانی کی وہ دُنیا ہی میں عذاب کے شکار ہوئے۔

ایسی چیزیں دیکھو نا، اصل میں تو یعنی پیغمبر کی بات پر یقین کرنا ایمان ہوتا ہے۔ تو اگر اس طرح ایک چیز آ بھی جائے، پھر اس کے بعد بھی نہ کریں پھر تو بڑی سخت بات ہے۔ اب دیکھیں، پہلے جو تھا وہ حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ جو چیزیں ہو رہی تھیں وہ سارے معجزات ہی تھے۔ یعنی مردہ شخص کو کہنا کہ جی اٹھو تو وہ جی اٹھتا تھا۔ اس طریقے سے وہ پرندے کی وہ گارے سے شکل بناتا ہے، اس میں وہ پھونک مارتا ہے، تو وہ سچ مچ کا پرندہ بن جاتا تھا۔ کوڑھی وغیرہ کا وہ علاج کرتے تھے۔ یہ سارے معجزات ہی تھے۔ تو اس کے بعد اگر کسی کو یقین نہیں آتا تھا تو پھر تو اور سخت بات ہے۔ لیکن یہاں تو خود فرمائشی معجزہ تھا۔ اس کے ہونے کے بعد پھر تو چانس نہیں ہوتا۔ کیونکہ مثال کے طور پر ایک شخص ہے، کہتا ہے اگر تم یہ کام کر لو تو پھر تیری بات میں مان لیتا ہوں۔ مثلا کوئی کہتا ہے نا کہ بھئی تم قسم کھاؤ تو پھر میں۔ اب وہ قسم کھا لے اور پھر بھی نہ مانے تو اگر اس کے پاس طاقت ہے تو اس کو پھر کیا کرے گا؟ پھر اس کے پاس علاج تو کوئی اور نہیں ہوگا، پھر تو وہ طاقت ہی استعمال کرے گا۔ تو اس طریقے سے اگر کسی نے اللہ تعالی سے درخواست کی کسی خاص معجزے کی اور وہ اس طرح ہی ہو جائے۔ اس کے بعد تو پھر اس کے پاس کوئی چیز نہیں رہتی نا بچنے کی۔ پھر تو تباہی ہے۔ تو یہ بات فرمائی ہے اللہ پاک نے کہ اس کے بعد میں چھوڑوں گا نہیں اگر پھر بھی نہ مانے تو۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔