اپنی اصلاح کی فکر، دعوتِ دین کے جائز ذرائع اور وصیت و گواہی کے قرآنی احکام
درس نمبر 232: سورۃ المائدة، آیت نمبر 105 تا 108
- گمراہ لوگوں کی حالت پر صدمہ کرنے کے بجائے انسان کو اپنی فکر اور اصلاح پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔
- معاشرے میں بگاڑ کے وقت دوسروں پر تنقید کے بجائے انفرادی اصلاح ہی معاشرتی سدھار کا بہترین ذریعہ ہے۔
- دین کی دعوت اور تبلیغ کے لیے صرف شرعی اور جائز طریقے اختیار کرنے کا حکم ہے اور ناجائز ذرائع کا استعمال درست نہیں۔
- دعوت دینے والے کی ذمہ داری صرف پیغام حق پہنچانا ہے، لوگوں کو ہدایت پر مجبور کرنا اس کے ذمے نہیں ہے۔
- موت کے وقت وصیت کے لیے دو دیانت دار گواہ ضروری ہیں اور ان کی خیانت ثابت ہونے پر ورثاء قسم کھا کر اپنا حق لے سکتے ہیں۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ۔ أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۚ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۗ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ﴿105﴾
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِيْنَ الْوَصِيَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَيْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِى الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَةُ الْمَوْتِ ۗ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَيُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِيْ بِهٖ ثَمَنًا وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۙ وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ ۙ اللّٰهِ اِنَّآ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِيْنَ ﴿106﴾ فَاِنْ عُثِرَ عَلٰٓى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّآ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ يَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِيْنَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْاَوْلَيٰنِ فَيُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَآ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَمَا اعْتَدَيْنَآ ۖ اِنَّآ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ ﴿107﴾
ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ يَّأْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَآ اَوْ يَخَافُوْٓا اَنْ تُرَدَّ اَيْمَانٌۢ بَعْدَ اَيْمَانِهِمْ ط وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاسْمَعُوْا ط وَاللّٰهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ ﴿108﴾
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ۔
ترجمہ: اے ایمان والو! تم اپنی فکر کرو۔ اگر تم صحیح راستے پر ہوگے تو جو لوگ گمراہ ہیں وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے (72)۔
حاشیہ: کفار کی جو گمراہیاں پیچھے بیان ہوئی ہیں، ان کی وجہ سے مسلمانوں کو صدمہ ہوتا تھا کہ اپنی ان گمراہیوں کے خلاف واضح دلائل آجانے کے بعد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بار بار سمجھانے کے باوجود یہ لوگ اپنی گمراہیوں پر جمے ہوئے ہیں۔ اس آیت نے ان حضرات کو تسلی دی ہے کہ تبلیغ کا حق ادا کرنے کے بعد تمہیں ان کی گمراہیوں پر زیادہ صدمہ کرنے کی ضرورت نہیں، اور اب زیادہ فکر خود اپنی اصلاح کی کرنی چاہئے۔ لیکن جس بلیغ انداز میں یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے، اس میں ایک تو ان لوگوں کے لئے ہدایت کا بڑا سامان ہے جو ہر وقت دوسروں پر تنقید کرنے اور ان کے عیب تلاش کرنے میں تو بڑے شوق سے مشغول رہتے ہیں، مگر خود اپنے گریبان میں منہ ڈالنے کی زحمت نہیں اُٹھاتے۔ ان کو دوسروں کا تو چھوٹے سے چھوٹا عیب آسانی سے نظر آ جاتا ہے، مگر خود اپنی بڑی سے بڑی برائی کا احساس نہیں ہوتا۔ ہدایت یہ دی گئی ہے کہ اگر بالفرض تمہاری تنقید صحیح بھی ہو، اور دوسرے لوگ گمراہ بھی ہوں تب بھی تمہیں تو اپنے اعمال کا جواب دینا ہے، اس لئے اپنی فکر کرو، اور دوسروں پر تنقید کی فکر میں نہ پڑو۔ اس کے علاوہ جب معاشرے میں بدعملی کا چلن عام ہو جائے، تو اس وقت اصلاح کی طرف لوٹنے کا بھی بہترین نسخہ یہی ہے کہ ہر شخص دوسروں کے طرزِ عمل کو دیکھنے کے بجائے اپنی اصلاح کی فکر میں لگ جائے۔ جب افراد میں اپنی اصلاح کی فکر پیدا ہوگی تو چراغ سے چراغ جلے گا، اور رفتہ رفتہ معاشرہ بھی اصلاح کی طرف لوٹے گا۔
یہ ذرا اس میں تھوڑی سی تفصیل بھی بتائی جا سکتی ہے۔ آج کل کے حالات کے لحاظ سے۔ کہ بعض لوگ تبلیغ کے شوق میں وہ اپنے اعمال کو بھول جاتے ہیں حتی کہ غیر شرعی مطلب طریقے بھی استعمال کرنے لگ جاتے ہیں۔ حالانکہ صرف اور صرف جائز طریقوں کو استعمال کرنے کا حکم ہے۔ مثال کے طور پر یہ لوگ جو ہیں نا وہ ویڈیوز اس قسم کی اور چیزیں وہ تصویریں اور موسیقی اس قسم کی چیزیں وہ استعمال کرتے ہیں۔ تو یہ جائز نہیں ہے وہ تو تم اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہے ہو۔
وہ تو حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب نے ایک موقع پر فرمایا کہ بھئی اگر وہ لوگ کہیں کہ تم ناچ کی محفلیں قائم کرو پھر اس کے بعد ہم ٹھیک ہوں گے تو کیا آپ پھر بھی وہی کریں گے؟ مطلب وہ تو ظاہر ہے ہم تو ان کی ساری خواہشات پوری نہیں کر سکتے۔ ہاں ہم صحیح طریقے سے ان کو دعوت دیں اگر وہ مان لیں تو ٹھیک ہے نہیں مانیں گے تو ان کی اپنی غلطی ہے۔
مولانا یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کو ایک دفعہ کچھ لوگوں نے کہا حضرت آپ کے جو دروس ہیں اگر یہ ٹیلی ویژن پر ہو جائیں تو بہت اچھا ہو جائے گا بہت سارے لوگوں کا فائدہ ہو گا۔ تو حضرت نے بڑا زبردست جواب دیا۔ فرمایا ہمیں اللہ پاک نے جائز طریقوں سے تبلیغ کرنے کا مکلف بنایا ہے ناجائز طریقوں سے تبلیغ کرنے کا مکلف نہیں بنایا۔ اور یہ میرے خیال میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ اتنے بڑے عالم نے جو یہ کر سکتے تھے۔ ان کے لیے کوئی مشکل نہیں تھا تو انہوں نے اس سے انکار کر لیا۔
تو اسی طریقے سے ایک خاتون ہیں وہ ماشاءاللہ اس کی تبلیغی مساعی تھیں تو اس نے کچھ مردوں کو یعنی مطلب میسجز کے ذریعے سے ان کو دعوت دی۔ تو ان میں کچھ لوگ مطلب بقول ان کے وہ دین پر آ گئے یعنی انہوں نے برائیاں چھوڑ دیں۔ تو اب انہوں نے کہا کہ اب ہمیں اپنی تصویر بھیجیں۔ تو انہوں نے مجھ سے پوچھا، میں نے کہا، ہرگز تصویر نہ بھیجیں۔ یہ کونسا طریقہ ہے، مطلب شریعت کی خلاف ورزی ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ وہ تو بالکل سب کچھ پھر چھوڑ جائے گا، وہ تو کہتے ہیں کہ میں تو صحیح کر دوں گا، وہ کر دوں گا، میں چھوڑ دوں گا۔ میں نے کہا اس کی اپنی مرضی ہے۔ یہ وظیفہ تو مطلب آپ نے اپنا حق ادا کر لیا اس کو بات سمجھ آ گئی ہے۔ اور اب وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ اسی کے لیے ہے۔ ہمارا کام صرف ان تک پہنچانا ہے۔ باقی ان... میں نے کہا پھر رکو وہ آیۃ کریمہ آئی ہے آج بس اسی کے مطابق آئی ہوئی ہے یہ بھی بھیجوں گا۔ یہ میں نے کہا کہ وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ کس کے لیے ہے؟ ہمارے لیے تو یہ ہے، میں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ پاک فرماتے ہیں ہم نے تمہیں ان کے اوپر داروغہ نہیں بنایا۔
تو اب یہ مطلب ظاہر ہے کہ ہم لوگ یہ نہیں کر سکتے کسی کو دعوت دینے کے لیے ہم ناجائز طریقہ استعمال کر لیں۔ بلکہ اگر جیسے حاجی حضرت نے فرمایا کہ اگر کوئی اس قسم کی بات ہو جائے کہ حالات اتنے خراب ہو جائیں تو پھر اپنی اپنی اصلاح ہے بس۔ پھر انسان اپنی اپنی اصلاح کی فکر کر لے، پھر کسی اور کی ذمہ داری اس کے ذمے نہیں ہے۔ وہ تو پہلے بھی حدیث شریف میں آیا ہوا ہے کہ مطلب جو لوگ اپنی رائے پر جمے رہیں اور مطلب دوسرے کی بات سننے کے لیے تیار نہ ہوں، تو یہ ہے کہ اس وقت پھر اپنی اصلاح ہے۔ تو اصل میں یہی بات ہے کہ شیطان اسی موقع پر بھی مطلب چکر چلاتا ہے۔ کہ لوگوں کو دعوت کے انداز میں گویا کہ گمراہ کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں دعوت دے رہا ہوں حالانکہ اس کو دعوت دی جا رہی ہوتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے میں داعی ہوں حالانکہ وہ مدعو ہوتا ہے۔ تو یہ مطلب ظاہر ہے ان چیزوں کی بس تو یہ آیت کریمہ بالکل عین اس کے مطابق آ گئی کہ ایسا عمل کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ جو مومن ہیں ان کو اس قسم کے کام نہیں کرنے چاہئیں۔
ترجمہ: جب تم میں سے کوئی مرنے کے قریب ہو تو وصیت کرتے وقت آپس کے معاملات طے کرنے کے لیے گواہ بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ تم میں سے دو دیانت دار آدمی ہوں (جو تمہاری وصیت کے گواہ بنیں) یا اگر تم زمین میں سفر کر رہے ہو، اور وہیں تمہیں موت کی مصیبت پیش آجائے تو غیروں (یعنی غیر مسلموں) میں سے دو شخص ہو جائیں (73)۔ پھر اگر تمہیں کوئی شک پڑ جائے تو ان دو گواہوں کو نماز کے بعد روک سکتے ہو، اور وہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ ہم اس گواہی کے بدلے کوئی مالی فائدہ لینا نہیں چاہتے، چاہے معاملہ ہمارے کسی رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو، اور اللہ نے ہم پر جس گواہی کی ذمہ داری ڈالی ہے، اس کو ہم نہیں چھپائیں گے، ورنہ ہم گنہگاروں میں شمار ہوں گے ﴿106﴾ پھر بعد میں اگر یہ پتہ چلے کہ انہوں نے (جھوٹ بول کر) اپنے اُوپر گناہ کا بوجھ اُٹھا لیا ہے تو اُن لوگوں میں سے دو آدمی ان کی جگہ (گواہی کے لئے) کھڑے ہو جائیں جن کے خلاف ان پہلے دو آدمیوں نے گناہ اپنے سر لیا تھا (74)۔
حاشیہ: یہ ترجمہ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ کی اختیار کردہ تفسیر پر مبنی ہے جس کی رو سے ”الاولیان“ سے مراد پہلے دو گواہ ہیں جنہوں نے خیانت کی تھی۔
کہ اس میں یہ والی بات ہے کہ جو خیانت کرے پھر اس کے بعد ان کے ساتھی مطلب یعنی کیا تو یہ طریقہ اس میں بتایا گیا ہے۔
یہ میرے خیال میں دوبارہ میں پڑھ لیتا ہوں کیونکہ اس کے آپس میں ڈانڈے ملانے کے لیے ضروری ہے کہ سمجھ میں آ جائے۔
ترجمہ: جب تم میں سے کوئی مرنے کے قریب ہو تو وصیت کرتے وقت آپس کے معاملات طے کرنے کے لئے گواہ بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ
یعنی گواہ کیسے بنائے جائیں؟
ترجمہ: تم میں سے دو دیانت دار آدمی ہوں (جو تمہاری وصیت کے گواہ بنیں)
کیونکہ انسان جو فوت ہو جاتا ہے تو وہ تو پھر بعد میں خود تو نہیں ہوتا۔ تو وہی گواہی مطلب ظاہر ہے وہ سب کچھ ہوتے ہیں۔
ترجمہ: یا اگر تم زمین میں سفر کر رہے ہو، اور وہیں تمہیں موت کی مصیبت پیش آجائے تو غیروں (یعنی غیر مسلموں) میں سے دو شخص ہو جائیں (73)۔ پھر اگر تمہیں کوئی شک پڑ جائے تو ان دو گواہوں کو نماز کے بعد روک سکتے ہو، اور وہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ ہم اس گواہی کے بدلے کوئی مالی فائدہ لینا نہیں چاہتے، چاہے معاملہ ہمارے کسی رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو، اور اللہ نے ہم پر جس گواہی کی ذمہ داری ڈالی ہے، اس کو ہم نہیں چھپائیں گے، ورنہ ہم گنہگاروں میں شمار ہوں گے ﴿106﴾
ترجمہ: پھر بعد میں اگر یہ پتہ چلے کہ انہوں نے (جھوٹ بول کر) اپنے اُوپر گناہ کا بوجھ اُٹھا لیا ہے تو اُن لوگوں میں سے دو آدمی ان کی جگہ (گواہی کے لئے) کھڑے ہو جائیں جن کے خلاف ان پہلے دو آدمیوں نے گناہ اپنے سر لیا تھا (74)۔
تو یہاں پر یہ مطلب یہ ہے، وہ جو حضرت نے یہ بات فرمائی کہ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اولیان سے مراد پہلے دو گواہ ہیں جنہوں نے خیانت کی تھی۔
اس کے بعد پھر دو گواہ ہوں جو کہ سچ بتائیں۔
ترجمہ: اور وہ اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی ان پہلے دو آدمیوں کی گواہی کے مقابلے میں زیادہ سچی ہے، اور ہم نے (اس گواہی میں) کوئی زیادتی نہیں کی ہے، ورنہ ہم ظالموں میں شمار ہوں گے ﴿107﴾
ترجمہ: اس طریقے میں اس بات کی زیادہ امید ہے کہ لوگ (شروع ہی میں) ٹھیک ٹھیک گواہی دیں یا اس بات سے ڈریں کہ (جھوٹی گواہی کی صورت میں) ان کی قسموں کے بعد لوٹا کر دوسری قسمیں لی جائیں گی (جو ہماری تردید کردیں گی)۔ اور اللہ سے ڈرو، اور (جو کچھ اس کی طرف سے کہا گیا ہے اسے قبول کرنے کی نیت سے) سنو۔
حاشیہ: یہ آیات ایک خاص واقعے کے پس منظر میں نازل ہوئی ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک مسلمان جس کا نام بدیل تھا، تجارت کی غرض سے اپنے دو عیسائی ساتھیوں تمیم اور عدی کے ساتھ شام گیا۔ وہاں پہنچ کر وہ بیمار ہو گیا، اور اسے اندازہ ہو گیا کہ وہ بچ نہیں سکے گا۔ چنانچہ اس نے اپنے دو ساتھیوں کو وصیت کی کہ میرا سارا سامان میرے وارثوں کو پہنچا دینا۔ ساتھ ہی اس نے یہ ہوشیاری کی کہ سارے سامان کی ایک فہرست بنا کر خفیہ طور سے اسی سامان کے اندر چھپادی۔ عیسائی ساتھیوں کو فہرست کا پتہ نہ چل سکا۔ انہوں نے سامان وارثوں کو پہنچایا، مگر اس میں ایک چاندی کا پیالہ تھا جس پر سونے کا ملمع چڑھا ہوا تھا، اور جس کی قیمت ایک ہزار درہم بتائی گئی ہے، وہ نکال کر اپنے پاس رکھ لیا۔ جب وارثوں کو بدیل کی بنائی ہوئی فہرست سامان میں سے ہاتھ لگی تو ان کو اس پیالے کا پتہ چلا، اور انہوں نے تمیم اور عدی سے مطالبہ کیا، انہوں نے صاف قسم کھالی کہ ہم نے سامان میں سے کوئی چیز نہ لی ہے، نہ چھپائی ہے۔ لیکن کچھ عرصے کے بعد بدیل کے وارثوں کو پتہ چلا کہ وہ پیالہ انہوں نے مکہ مکرمہ میں ایک سنار کو فروخت کیا ہے۔ اس پر تمیم اور عدی نے اپنا موقف بدلا اور کہا کہ دراصل یہ پیالہ ہم نے بدیل سے خرید لیا تھا، اور چونکہ خریداری کا کوئی گواہ ہمارے پاس نہیں تھا اس لئے ہم نے پہلے اس بات کا ذکر نہیں کیا تھا۔ اب چونکہ وہ خریداری کے مدعی تھے، اور مدعی پر لازم ہوتا ہے کہ وہ گواہ پیش کرے، اور یہ پیش نہ کر سکے تو قاعدے کے مطابق وارثوں میں سے بدیل کے قریب ترین دو عزیزوں نے قسم کھائی کہ پیالہ بدیل کی ملکیت تھا، اور یہ عیسائی جھوٹ بول رہے ہیں۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں فیصلہ کر دیا اور عیسائیوں کو پیالے کی قیمت دینی پڑی۔ یہ فیصلہ اسی آیت کریمہ کی روشنی میں ہوا جس میں اس قسم کی صورتِ حال کے لئے ایک عام حکم بھی بتا دیا گیا۔
یعنی اس کے اندر ساری بات اس طرح آ گئی کہ جو اور ذرائع ہوتے ہیں، ان ذرائع سے یعنی ان کی تحقیق کی جائے کہ مطلب پہلے والے لوگ سچے ہیں یا جھوٹے ہیں۔ کیونکہ اس میں دیکھیں نا پوری ایک ترتیب ہے۔ کہ ان لوگوں نے پیالہ نکال دیا۔ اب پیالہ نکال دیا تو اس کا تو پتہ نہیں چل سکتا تھا لیکن وہ چونکہ لسٹ اس نے رکھی ہوئی تھی۔ اب لسٹ سے پیالہ ملا نہیں، تو اس سے پتہ چل گیا کہ پیالہ... لیکن وہ انہوں نے قسم کھائی کہ نہیں ہم نے تو اس میں سے کوئی چیز نہیں نکالی۔ اب آگے یہ بات ہو گئی کہ وہ کسی جگہ انہوں نے بیچ دیا وہ پیالہ۔ تو وہ جب پیالہ بیچ دیا تو اس کا پتہ چل گیا کہ یہ پیالہ تو انہوں نے بیچ دیا تو اس کا مطلب ہے کہ وہی چیز ہے۔ تو پھر اس پہ بات آ گئی کہ یہ پیالے کے ثبوت گواہ واقعی اس کا تھا، اس کے گواہ موجود تھے۔ اس کے گواہ موجود تھے لیکن یہ انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے اسے خرید لیا تھا۔ جب خرید لیا تھا تو اس کے گواہ ان کے پاس ہونے چاہیے تھے۔ کیونکہ ظاہر ہے مطلب ہے جیسے ان کے پاس اس کی ملکیت کے گواہ ہونے چاہئیں، اس طرح خریداری کے بھی گواہ ہونے چاہئیں۔ وہ گواہی ان کے پاس پیش نہیں کر سکے۔ لہٰذا فیصلہ ان کے وارثوں کے حق میں دے دیا گیا اور ان کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑی۔
تو یہ مطلب اس طریقے سے اس context میں اگر ہم دیکھیں تو پھر یہ بات سمجھ میں آ سکتی ہے۔ ورنہ شاید یہ بات سمجھ میں آنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو یہ مثال بھی یہاں پر آ گئی ہے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔