تکمیلِ دین، مقاصد اور ذرائع کا فرق اور بدعت کی حقیقت
درس نمبر 206: سورۃ المائدة، آیت نمبر 3
- سورۃ المائدہ کی آیت کا ترجمہ اور تفسیر (حرام گوشت اور جاہلیت کی رسومات)۔
- دینِ اسلام کی تکمیل اور اس پر اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام۔
- مقاصد اور ذرائع کے درمیان بنیادی فرق (Objectives vs Means)۔
- بدعت کی تعریف اور دین میں اضافے یا کمی کی ممانعت۔
- تزکیہ اور اصلاحِ نفس کے لیے مختلف جائز ذرائع کا استعمال۔
- حضرت مولانا منظور نعمانی اور شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہما کے مباحثے کا سبق آموز واقعہ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيّيْنَ، اَمَّا بَعْدُ۔ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ وَ الْمُنْخَنِقَۃُ وَ الْمَوْقُوْذَۃُ وَ الْمُتَرَدِّیَۃُ وَ النَّطِیْحَۃُ وَ مَاۤ اَکَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَکَّیْتُمْ ٭ وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ ؕ ذٰلِکُمْ فِسْقٌ ؕاَلْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِيْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ۚ اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا ؕ فَمَنِ اضْطُرَّ فِيْ مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ﴿3﴾
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: تم پر مردار جانور اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور حرام کر دیا گیا ہے جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو، اور وہ جو گلا گھٹنے سے مرا ہو، اور جسے چوٹ مار کر ہلاک کیا گیا ہو، اور جو اوپر سے گر کر مرا ہو، اور جسے کسی جانور نے سینگ مار کر ہلاک کیا ہو، اور جسے کسی درندے نے کھا لیا ہو، الایہ کہ تم (اس کے مرنے سے پہلے) اس کو ذبح کر چکے ہو، اور وہ (جانور بھی حرام ہے) جسے بتوں کی قربان گاہ پر ذبح کیا گیا ہو۔ اور یہ بات بھی (تمہارے لئے حرام ہے) کہ تم جوئے کے تیروں سے (گوشت وغیرہ) تقسیم کرو۔
حاشیہ: جاہلیت کے زمانے میں ایک طریقہ یہ تھا کہ ایک مشترک اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت قرعہ اندازی کے ذریعے تقسیم کرتے تھے اور قرعہ اندازی کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ مختلف تیروں پر حصوں کے نام لکھ کر ایک تھیلے میں ڈال دیتے تھے، پھر جس شخص کے نام جو حصہ نکل آیا، اسے گوشت میں سے اتنا حصہ دے دیا جاتا تھا، اور کسی کے نام پر کوئی ایسا تیر نکل آیا جس پر کوئی حصہ مقرر نہیں ہے تو اس کو کچھ بھی نہیں ملتا تھا۔
اسی طرح ایک طریقہ یہ تھا کہ جب کسی اہم معاملے کا فیصلہ کرنا ہوتا تو تیروں کے ذریعے فال نکالتے تھے، اور اس فال میں جو بات نکل آئے اس کی پیروی لازم سمجھتے تھے۔ ان تمام طریقوں کو آیت کریمہ نے ناجائز قرار دیا ہے، کیونکہ پہلی صورت میں یہ جوا ہے، اور دوسری صورت میں یا علم غیب کا دعویٰ ہے، یا کسی معقول وجہ کے بغیر کسی بات کو لازم سمجھنے کی خرابی ہے۔
بعض حضرات نے آیت کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ: ”اور یہ بات بھی (تمہارے لئے حرام ہے) کہ تم تیروں سے قسمت کا حال معلوم کرو۔“ یہ دوسرے طریقے کی طرف اشارہ ہے، اور آیت کے الفاظ میں اس ترجمے کی بھی گنجائش ہے۔
ترجمہ: آج کافر لوگ تمہارے دین (کے مغلوب ہونے) سے ناامید ہو گئے ہیں، لہٰذا ان سے مت ڈرو، اور میرا ڈر دل میں رکھو۔ آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی، اور تمہارے لئے اسلام کو دین کے طور پر (ہمیشہ کے لئے) پسند کر لیا۔
حاشیہ: صحیح احادیث میں آیا ہے کہ یہ آیت حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی تھی۔
اور یہ آیت جس وقت نازل ہوئی تھی، تو ایک یہودی نے اس کو سنا تھا۔ اور اس نے بعد میں کہا اپنے لوگوں سے کہ اگر ہم پر یہ نازل ہو جاتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے۔ یعنی اس دن کو اتنی خوشی اور نعمت ہوئی۔ تو عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات Quote کی گئی ہے کہ اس طرح یہودی نے کہا ہے۔ فرمایا: ہماری تو اس دن دو عیدیں تھیں۔ کیونکہ ایک جمعہ کا دن تھا اور ایک حج کا دن تھا۔ تو اس وجہ سے یہ کہ ہماری تو دو عیدیں تھیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں بھی اس کی بڑی خوشی ہے۔
اور اصل بات یہ ہے کہ واقعی ہے بھی بڑی خوشی کی بات۔ کیونکہ اس میں تین باتیں ہیں: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کر لیا۔ اس سے بڑی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ دین مکمل ہو گیا۔ اس کے بعد فرمایا: وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي اور تم پر میں نے اپنی نعمت کو تمام کر لیا۔ وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا اور دینِ اسلام کو تمہارے لیے پسند کر لیا۔
اب یہ بہت بڑی بات ہے۔ اب دیکھیں مسلمان جو ہیں یعنی اس پر بہت شکر کریں، اور الحمد للہ کہ اللہ پاک نے ہم لوگوں کو اسلام کے دین سے نوازا ہے جو اس وقت یعنی اللہ تعالیٰ کا مقبول دین ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔ تو جو اسلام پر ہے، وہی حق پر ہے۔ اور اس کے علاوہ ظاہر ہے مطلب کوئی حق پر نہیں ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اللہ پاک نے اس کے اندر جتنی نعمتیں رکھی ہیں وہ ہمیں اللہ پاک نے نصیب فرما دی ہیں۔ اور ساتھ یہ بات ہے کہ دین مکمل ہے۔ نہ اس میں کمی ہو سکتی ہے نہ اس میں زیادتی ہو سکتی ہے۔ کمی ظاہر ہے وہ تفریط ہے اور جو زیادتی ہے وہ افراط ہے۔ یہ دونوں منع ہیں۔ یعنی کسی دین کی بات کو جو ضروری ہے اس کو چھوڑنا، یا پھر کوئی بات دین میں نہ ہو اور اس کو دین کے نام پر کرنا، یہ دونوں باتیں ظاہر ہے مطلب ہے کہ جائز نہیں ہیں۔ لہٰذا اب ہم لوگوں کے لیے معیار بالکل طے ہے کہ اگر کوئی بات ایسی ہو تو ہم دیکھیں کہ اس وقت جو دین تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں جو دین تھا، اس سے کیا فرق پڑا ہے؟ تو اس میں دو باتیں ہیں۔ اس میں بھی زیادتی اور کمی ہوتی ہے۔
اس میں دو باتیں ہیں۔ آیا وہ چیز وہ دین کے بنیادی مقاصد میں سے ہے؟ یا وہ ذرائع میں سے ہے؟ اگر ذرائع میں ہے تو ذرائع متغیر ہوتے ہیں، وہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ اس میں فرق آتا ہے کیونکہ ذریعہ کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ تو اگر ایک ذریعے سے مقصد حاصل نہ ہوتا ہو تو دوسرے ذریعے سے اس کو حاصل کیا جا سکتا ہے، مطلب اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ لیکن اگر وہ مقاصد میں سے ہے تو مقاصد مکمل ہو چکے ہیں۔ اس میں درمیان میں کوئی فرق نہیں آ سکتا۔
جیسے مثال کے طور پر نمازیں ہیں، اب نمازوں میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ وضو میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ اس طرح روزے میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی، حج میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی, زکوٰۃ میں کوئی تبدیلی... ہاں البتہ ان چیزوں کو پورا کرنے کے جو ذرائع ہیں ان میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر علم ہے۔ اب علم جو ہے، مطلب یہ ہے کہ مجھے نماز کا جو علم ہے۔ تو وہ کس طریقے سے ملتا ہے؟ آیا کسی کتاب میں ملتا ہے؟ کسی Lecture میں ملتا ہے؟ کسی Internet کے ذریعے سے ملتا ہے؟ مجھے جس ذریعے سے بھی ملے وہ ٹھیک ہے۔ مطلب اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے مجھے جو بھی ہو لیکن علم وہی ہو جو اس وقت تھا، مطلب وہی ہو۔ باقی یہ ہے کہ یہ کس ذریعے سے مجھے ملا ہے؟
اس طریقے سے اللہ پاک نے ہمیں مکلف کر دیا ہے کہ ہم اپنی اصلاح کرائیں۔ {قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا} تو اب اس تزکیہ کے لیے کون سا ذریعہ اختیار کیا جاتا ہے؟ یہ بھی ذریعہ ہے۔ لہٰذا اس میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ کیونکہ حالات تبدیل ہوتے ہیں، لوگ تبدیل ہوتے ہیں، تو اس کے لیے پھر ذرائع بھی تبدیل ہوتے ہیں۔ پس جس کے لیے جو ذریعہ مناسب ہو، تزکیہ کے لیے، وہی تزکیہ جو اس وقت تزکیہ یعنی سمجھا جاتا تھا، تو اس کو حاصل کرنے کے لیے جو ذریعہ بھی استعمال کر لیں۔
اور یہی وہ چیز تھی جو کہ حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میں لکھی ہے۔ اور وہ فرماتے تھے کہ میں شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں حاضر ہوا۔ تو حضرت نے مجھے اپنے ساتھ پلنگ پر بٹھا دیا اور باقی ارد گرد کے لوگ یہ ذکر کر رہے تھے۔ ذکر بالجہر ہو رہا تھا جیسے طریقہ تھا۔ حضرت مولانا منظور نعمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ بہت نقاد تھے۔ تو ان کے دل میں بس یہ بات آئی کہ یہ کیا کر رہے ہیں؟ یہ کیا چیز ہے؟ تو حضرت سے پوچھا، انہوں نے کہا حضرت یہ کیا چیز ہے جو آپ کرا رہے ہیں؟ تو حضرت نے ان سے فرمایا کہ آپ بہت بڑے آدمی ہیں، بہت بڑے عالم ہیں، آپ بہت دین کا کام کر رہے ہیں، تو ہم تو اور کوئی کام نہیں کر سکتے تو بس میں نے اسی پر ان لوگوں کو لگایا ہوا ہے چلو کچھ نہ کچھ تو کر لیں۔ تو حضرت چپ ہو گئے لیکن رات کو پریشان تھے کہ حضرت نے مجھے جواب کے قابل نہیں سمجھا۔ یہ تو جواب نہیں ہے۔ لیکن مجھے جواب کے قابل کیوں نہیں سمجھا یہ سمجھ میں نہیں آیا۔ تو کہتے ہیں پوری رات میں پریشان رہا کہ میں کل صبح پوچھوں گا کہ حضرت آپ کی بات سے تو میری تشفی نہیں ہوئی۔ اب پھر دوسرے دن بھی حضرت نے اپنے ساتھ پلنگ پر بٹھا دیا۔ اب جب انہوں نے دیکھا تو انہوں نے حضرت سے پھر پوچھا تو انہوں نے پھر یہی جواب دے دیا۔
تو پھر رات کو بڑے پریشان، اب کہتے حضرت تو غلط نہیں ہو سکتے کیونکہ حضرت غلط ہوئے تو پھر ان کے شیخ بھی غلط، پھر ان کے شیخ بھی غلط، یہ معاملہ تو دور تک چلا جائے گا۔ لیکن غلطی میری ہے کیا؟ میری غلطی ہے لیکن ہے کیا؟ یہ پوچھوں گا۔
تو اگلے دن حضرت سے پوچھا انہوں نے کہا حضرت غلطی پر تو میں ہوں۔ آپ نہیں ہیں اتنی مجھے آج سمجھ ہے۔ بس فرق صرف یہ ہے کہ سمجھ یہ نہیں آیا کہ آپ یہ کیوں کر رہے ہیں؟ تو آپ ذرا تھوڑی سی میری تشفی کر لیں۔ بتا دیجیے تاکہ میری تسلی ہو جائے۔
انہوں نے فرمایا، "اچھا مولانا، شاید آپ اس کو بدعت تو نہیں سمجھتے؟" تو انہوں نے کہا، "حضرت کچھ بات تو ایسی ہی ہے۔" تو انہوں نے کہا، "پھر بدعت کی تعریف بھی تو ظاہر ہے آپ کو پتہ ہی ہو گی۔" تو انہوں نے کہا، "حضرت بہت ساری تعریفیں اس کی ہیں، لیکن میرے دل کو جو تعریف یعنی زیادہ لگی ہے وہ یہ ہے کہ دین کے کام کی کوئی شرعی دلیل نہ ہو تو بدعت ہے۔ دین کی بات کی کوئی شرعی دلیل نہ ہو تو یہ بدعت ہے۔" تو انہوں نے کہا، "اچھا... تو اچھا یہ بتاؤ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں لوگ علم کیسے حاصل کرتے تھے؟" انہوں نے کہا، "آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس کے ذریعے تھے۔ اس کے علاوہ اور کون سا ذریعہ تھا؟ قرآن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی بات بس وہی علم تھا۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس دنیا سے تشریف لے گئے پھر کیا ذریعہ تھا؟" تو انہوں نے کہا حضرت اس وقت جو میسر تھا وہی تھا۔ تو انہوں نے کہا، "بس یہی ہم بھی کرتے ہیں۔ اب علم کے جس طرح ذرائع مختلف ہو رہے ہیں، اس طریقے سے اصلاح کے جو ذرائع ہیں، یہ بھی مختلف ہو رہے ہیں۔ تو یہ بھی اصلاح کا ایک ذریعہ ہے۔"
تو حضرت خیر بہت ذہین تھے سمجھ گئے۔ تو فوراً ہاتھ بڑھا دیا کہ حضرت مجھے آپ بیعت فرما لیجیے۔ تو حضرت نے کہا بھئی بات یہ ہے کہ بیعت تو نہیں ہے ضروری۔ اصل تو اپنی اصلاح ضروری ہے۔ پہلے فرمایا کہ نہیں آپ مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہو جائیے، کیونکہ آپ کا ان کے ساتھ بہت تعلق ہے تو آپ ان سے... فرمایا حضرت وہ میرے استاد ہیں، ہمارے بڑے ہیں، لیکن یہ نعمت چونکہ آپ کے ذریعے سے ملی ہے لہٰذا میں آپ سے بیعت ہونا چاہتا ہوں۔ تو پھر حضرت نے فرمایا کہ بھئی میں نے بھی اپنے شیخ سے جب بیعت ہونا چاہا تو حضرت نے کہا کام شروع کر لو، تو بیعت اپنے وقت پر ہو جاؤ گے۔ تو دو سال کے بعد پھر مجھے بیعت کر لیا تھا۔ تو اس طرح حضرت نے ان کو کام پھر شروع کرا دیا اور پھر دو سال کے بعد ان کو بیعت کر لیا۔
مقصد یہ ہے کہ یہ جو چیز ہے، واقعتاً آج بھی بہت سارے لوگوں کے دلوں کا خلجان ہے کہ یہ کیا چیز ہے مطلب یہ ذکر بالجہر کیا چیز ہے اور یہ اس طرح یہ کیا چیز ہے؟ تو اس طرح الحمد للہ یہ ہماری کتاب ہے، چھوٹی سی کتاب ہے "تصوف کا خلاصہ"، تو اس میں اس کا سوال و جواب موجود ہے۔ اس کے بارے میں، یہ ذکر بالجہر کے بارے میں جو اشکالات ہیں اس کے جوابات دیے گئے ہیں۔ بلکہ اس میں یہ بھی آخر میں سوال ہے کہ اچھا ٹھیک ہے جی، ویسے تو ذکر بالجہر میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن یہ اجتماعی طور پر جو ذکر بالجہر ہوتا ہے، باقاعدہ یعنی ایک آدمی کراتا ہے سب کو، تو اس میں تو پھر کیا ہے؟
تو اس میں جواب دیا گیا ہے کہ جو جواب پہلے کا ہے، وہی جواب اس کا ہے۔ یہ ایک ذریعہ ہے تعلیم کے لیے کرایا جا رہا ہے۔ تو پھر ظاہر ہے اس کو ہم دین تو نہیں سمجھتے، دین پر آنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ایک اس کو دین سمجھنا ہوتا ہے، ایک اس کا دین پر آنے کا ذریعہ۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اس کو ہم صرف اصلاح کو اس میں منحصر نہیں سمجھتے۔ بہت سارے طریقے۔ مثال کے طور پر ایک شخص ہے مراقبے کے ذریعے سے۔ ٹھیک ہے جی وہ بھی صحیح ہے۔ کوئی سانس کے ذریعے سے ذکر کر رہا ہے تو بالکل وہ بھی ٹھیک ہے۔ کوئی اور طریقے سے ذکر کر رہا ہے تو اس پر ہم لوگ اعتراض تو نہیں کر رہے، ہم کہتے ہیں وہ بھی طریقہ ہے، یہ بھی طریقہ ہے۔ جس کو جس ذریعے سے بھی فائدہ ہو۔ تو اس سے ہمیں انکار نہیں ہے۔
تو بس یہی اصل میں بنیادی بات ہے کہ اگر ہم لوگ اس مقصد اور ذریعے والی بات کو سمجھ جائیں جو کہ حضرت مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر کافی زور دیا ہے، کہ جو ذرائع ہیں اور مقاصد ہیں ان کی پہچان ہو۔ تو مقاصد میں تبدیلی نہیں ہو سکتی اور ذرائع میں مسلسل تبدیلی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ذریعہ بذاتِ خود مقصود نہیں ہے۔ ذریعہ تو صرف مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ تو اگبر مقصد اس سے حاصل نہ ہو پھر بھی آپ اس کے ساتھ چمٹے ہیں، تو آپ نے اس کو مقصد بنا لیا۔ تو بدعت تو وہی ہو گئی نا کہ مطلب کہ آپ نے مقاصد میں اضافہ کرلیا تو بدعت تو وہ ہوگیا۔ بدعت یہ نہیں ہے کہ آپ نے ایک اور ذریعہ اس کے لیے بنا لیا۔ ہاں مگر یہ بات ہے کہ آپ اس پر یہ انحصار نہ کریں کہ نہیں بس صرف یہی ذریعہ ہے بلکہ اگر اس کے علاوہ کوئی اور ذریعہ بہتر نکل آیا تو اس کے لیے وہی ذریعہ ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو اس کی سمجھ عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔