محرم الحرام کی فضیلت، عاشورہ کے اعمال اور ہمارے گمشدہ اسلامی اقدار

خطبات الاحکام سے خطبہ نمبر 39: عاشورہ کے بیان میں

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
جامع مسجد فیڈرل بورڈ - سیکٹر H-8/4 اسلام آباد
  • اسلامی سال اور ہجری کیلنڈر کی اہمیت و پہچان۔
    • قوموں کی ترقی کا راز: اپنی زبان، تاریخ اور ثقافتی اقدار سے محبت۔
      • سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت، بصیرت اور ان کے قائم کردہ فلاحی نظام (Umar Laws) کا تذکرہ۔
        • عاشورہ (10 محرم) کے روزے کی فضیلت، تاریخ اور یہود کی مشابہت سے بچنے کے لیے 9 یا 11 محرم کا روزہ ملانے کا حکم۔
          • یومِ عاشورہ پر اپنے اہل و عیال پر رزق اور نفقہ میں وسعت کرنے کی برکات۔
            • چار اہم سنتوں کا احیاء: سلام پھیلانا، کھانا کھلانا، صلہ رحمی کرنا اور تہجد کی نماز ادا کرنا۔
              • روزمرہ کا معمول: نیکی کے ارادے کے ساتھ صبح کا آغاز اور صلاۃ التوبہ پڑھ کر دن کا اختتام۔
                • صحابہ کرام، امہات المومنین اور اہل بیت عظام کی محبت میں اعتدال اور کسی کے بھی ردعمل (Reaction) میں آکر افراط و تفریط سے گریز۔

                  اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

                  وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

                  أَمَّا بَعْدُ!

                  فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ

                  بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ




                  فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ

                  وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: "أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ".

                  وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: "صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَآءَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ".

                  وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: "صُوْمُوْا عَاشُورَاءَ وَخَالِفُوا فِيهِ الْيَهُودَ، وَصُومُوا قَبْلَهُ يَوْمًا وَبَعْدَهُ يَوْمًا".

                  وَكَانَ عَاشُورَاءُ يُصَامُ قَبْلَ رَمَضَانَ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ کانَ مَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ.

                  وَمِنَ الأَوَّلِ إِبَاحَةً وَبَرَكَةً التَّوْسِعَةُ فِيهِ عَلٰى عِيَالِهٖ فَقَدْ قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: "مَنْ وَسَّعَ عَلٰى عِيَالِهٖ فِي النَّفَقَةِ يَوْمَ عَاشُورَآءَ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ سَائِرَ سَنَتِهٖ".

                  وَمِنَ الثَّانِي اتِّخَاذُهُ عِيدًا وَمَوْسِمًا، أَوِ اتِّخَاذُهُ مَأْتَمًا مِنَ الْمَرَاثِي وَالنِّيَاحَةِ وَالْحُزْنِ بِذِكْرِ مَصَائِبِ أَهْلِ بَيْتٍ، وَاتِّخَاذِ الضَّرَائِحِ وَالأَعْلَامِ، وَمَا يُقَارِنُهَا مِنَ الْمَلَاهِي وَالشِّرْكِ وَالآثَامِ.

                  صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ

                  معزز خواتین و حضرات!

                  ہم بہت ساری چیزوں کو گم کر چکے ہیں۔ اپنے اقدار، اسلاف کے طریقے گم کر چکے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم اپنے اس سن کو بھی گم کر چکے ہیں، یہ جو ہمارا سن ہوتا ہے، تعارف ہوتا ہے، سال ہوتا ہے، اس کو بھی گم کر چکے ہیں۔ کسی سے پوچھا جائے کہ آپ کی یوم پیدائش کیا ہے؟ تو وہ کیا بتائے گا؟ وہ کہے گا فلاں "جنوری فلاں سن"۔ کوئی نہیں بتائے گا کہ 17 ربیع الاول فلاں سن۔ نہیں بتائے گا۔ پتہ ہی نہیں ہے! سوائے رمضان شریف کے اور عید کے چاند دیکھنے کا شاید کوئی اہتمام بھی نہیں ہوتا۔ حالانکہ ہماری جتنی عبادات ہیں، وہ سب اس کے ساتھ وابستہ ہیں۔

                  میں جرمنی میں تھا تو ایک دن میں اپنے Office گیا تو جو Secretary تھی، مجھے کہتی ہے:

                  Happy birthday to you.

                  میں نے کہا کیا کہا؟

                  Happy birthday to

                  میں نے کہا میرا birthday تو نہیں ہے۔ تو اس نے کہا یہ میرے پاس کاغذات پڑے ہوئے ہیں آپ کا 24 اپریل 1954 لکھا ہوا ہے۔

                  میں نے کہا یہ ہماری Date نہیں ہے۔ ہماری Date اور ہے، وہ اسلامی تاریخ ہے وہ یہ نہیں ہے۔ بس وہ پھر چپ ہو گئی۔ مطلب یہ ہے کہ اپنا تعارف ان چیزوں کے ساتھ کرنا چاہیے جو کہ ہماری ہیں۔

                  اس طرح یہ ہماری زبان، یہ بھی ہم گم کر چکے ہیں۔ اسرائیل جب بنا تھا تو Ben-Gurion جو اس کا وزیراعظم بنا تھا، Meeting ہو رہی تھی اس بات پر کہ ہماری سرکاری زبان کونسی ہونی چاہیے؟ چونکہ یہودی پوری دنیا کے مختلف ممالک میں آباد ہیں Europe میں، America میں، Russia میں، Asia میں، تو ہر ایک نے اپنی اپنی بولی بولی کہ فلاں ہونا چاہیے، فلاں ہونا چاہیے، فلاں ہونا چاہیے۔ Ben-Gurion چپ تھا۔ اخیر میں اس نے کہا: نہیں! عبرانی ہونا چاہیے۔ ہماری اپنی زبان کیا ہے؟ "عبرانی" ہے۔ اس کو کہتے ہیں زندہ قوم۔ حالانکہ عبرانی زبان مردہ زبان ہے، اس کو کوئی نہیں جانتا سوائے ان کے۔ لیکن وہ اپنی زبان کو دوسروں پہ نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ اور ہم لوگوں کے پاس پورا ایک ثقافت ہے، Culture ہے، Established facts ہیں، ہم اس کو نہیں سامنے رکھتے۔

                  یاد رکھیے ماشاءاللہ یہ فیڈرل بورڈ ہے اور تعلیمی ادارہ ہے۔ یہ مجھ سے لکھ کر لے لیں، میں ابھی جتنی مرتبہ آپ مجھ سے اسٹامپ بھروا سکتے ہیں میں بھروا کے لکھ دیتا ہوں: کوئی شخص، کوئی ملک کسی غیر کی زبان میں ترقی یافتہ نہیں ہو سکتا! کوئی ملک، کوئی شخص کسی غیر زبان میں ترقی یافتہ نہیں ہو سکتا۔ ترقی پذیر ہو سکتا ہے۔ یہ بات Fact ہے، اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ مجھے مثال دے دیں کوئی؟ کوئی ملک ایسا ہے جو ترقی یافتہ ہو اور کسی غیر ملک کی زبان میں ہو؟ نہیں۔ China سب سے مشکل زبان ہے۔ لکھنے کے لحاظ سے بھی بولنے کے لحاظ سے بھی۔ کیا وہ اپنی زبان چھوڑ دیں؟ جاپان، کیا وہ اپنی زبان چھوڑتے ہیں؟

                  جرمنی میں تھا تو ایک بڑے اچھے ڈاکٹر کے ساتھ میری Appointment تھی۔ کسی نے بھیجا تھا تو میں نے اس کے ساتھ انگریزی میں بات کی، اس نے مجھ سے میرے ساتھ جرمنی میں بات کی، German language میں ۔ مجھے کہتا ہے کہ آپ جرمن زبان کیوں نہیں بولتے؟ میں نے کہا میں ابھی ابھی آیا ہوں مجھے جرمن زبان نہیں آتی۔ توکہتا ہے پھر میں آپ کا علاج نہیں کرتا۔ علاج کے پیسے مجھے واپس کر دیے، علاج نہیں کیا میرا۔ تو جس نے مجھے بھیجا تھا ان کو میں نے جب کہا تو اس نے بڑا افسوس کیا کہ یہ تو بہت اچھا ڈاکٹر تھا میں کیا کروں؟ تو یہ بات ہے۔ ہم لوگ دوسروں کے پیچھے چلنے والے ہیں۔ جو دوسروں کے پیچھے چلتا ہے وہ کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتا۔

                  . They cannot be leaders, they are always led

                  یہ باتیں، اس وجہ سے سامنے آگئی ماشاءاللہ محرم کے مہینے کے لحاظ سے کہ محرم کا مہینہ ہمارے ہجری سن کی ابتدا ہے۔ دوسری بات میں عرض کرنا چاہوں گا کہ جو زندہ قومیں ہوتی ہیں نا وہ اپنے مشاہیر کو گم نہیں کرتیں۔ جیسے میں نے کہا نا کہ چیزیں ہم گم کر چکے ہیں۔ اب یکم محرم کو کون سا واقعہ ہوا ہے؟ ؟ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت۔ کتنے لوگوں کو پتہ ہو گا؟ بھئی دن ہم مناتے نہیں ہیں، یہ منانے والا کام ہمارا نہیں ہے، وہ اور لوگوں کا ہے۔ لیکن یاد رکھتے ہیں۔ یاد رکھتے ہیں۔ یاد رکھنا مقصود ہے، منانا مقصود نہیں ہے۔ اگر ہم عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو یاد رکھیں اور دن نہ منائیں۔ اگر ہم عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی بصیرت کو، فراست کو یاد رکھیں اور دن نہ منائیں، تو مقصود حاصل ہے۔ اور اگر دن منائیں خوب دھڑلے سے اور ان کے طریقے پہ نہ چلیں، ان کا طریقہ ہمیں معلوم ہی نہ ہو، تو ہمیں کیا فائدہ ہوا؟ ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔عمر رضی اللہ تعالی عنہ وہ شخص ہیں جن کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ "وہ جس راستے پہ چلتا ہے اس راستے پہ شیطان نہیں آ سکتا"۔ ۔ اور ایک صحابی جو قیصر کے دربار میں بلایا گیا تھا۔ ان سے پوچھا قیصر نے کہ خلیفہ امیر المومنین کیسے ہیں؟ اس نے کہا: "لَا يَخْدَعُ وَلَا يُخْدَعُ"۔ "نہ وہ دھوکہ دیتے ہیں نہ دھوکہ کھاتے ہیں"۔ تو قیصر حیران ہو گیا کہتا ہے دھوکہ نہ دینا یہ ایمانداری ہے، کہ ایمان والا ہے۔ اور دھوکہ نہ کھانا یہ عقلمندی ہے۔ یعنی وہ عقلمند ہے اس کو کوئی دھوکہ نہیں دے سکتا۔ تو عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی وہ شان تھی۔ اس وقت بھی اگر آپ دیکھیں Sweden, Norway وغیرہ میں جو Scandinavian countries ہیں، اس میں عمر لاز (Umar laws) باقاعدہ عمر کے نام سے نافذ ہیں، Umar laws۔ یعنی وہ Social security کے قوانین جو کہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے established کیے تھے۔ وہ باقاعدہ نافذ ہیں اور ہمارے ہاں؟ یاد بھی نہیں ہے۔ یاد بھی نہیں ہے۔ تو اس وجہ سے میں کہتا ہوں کہ ہمیں اپنے مشاہیر کو بھی گم نہیں کرنا چاہیے۔ یاد رکھنا چاہیے، ان کے طریقے پہ چلنا چاہیے۔اب ایک بات اور عرض کرنا چاہوں گا، چونکہ ان شاء اللہ محرم کا مہینہ شروع ہو جائے گا، اس میں جو 10 محرم ہے، اس کو "عاشورہ" کہتے ہیں۔ اس عاشورہ کا تعلق امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ نہیں ہے، یہ پہلے سے چلا آ رہا ہے آپ ﷺ کے وقت سے۔ آپ ﷺ نے جب یہودیوں کو دیکھا کہ روزہ رکھ رہے ہیں اس دن کو عاشورہ کو، پوچھا کہ "کیا وجہ ہے آپ کیوں روزہ رکھتے ہیں"؟ انہوں نے کہا کہ اس لیے کہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو اس دن نجات ہوئی تھی فرعون سے۔ فرمایا: "پھر تو ہم زیادہ مستحق ہیں کہ یہ روزہ رکھیں، کیونکہ موسیٰ ہمارے ہیں"۔ یہ ایک بات ہے کہ جتنے بھی پیغمبر آئے سب مسلمان تھے، سب اسلام کے پیغمبر تھے۔ موسیٰ علیہ السلام بھی، عیسیٰ علیہ السلام بھی، نوح علیہ السلام بھی، ابراہیم علیہ السلام بھی۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ :"موسیٰ ہمارے ہیں تو یہ پھر سب سے زیادہ حق ہمارا بنتا ہے کہ ہم ہی روزہ رکھیں"۔ صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ! کہیں مشابہت تو نہیں ہو جائے گی؟ کہیں مشابہت تو نہیں ہو جائے گی؟ فرمایا: اگر زندہ رہا تو ان شاء اللہ آئندہ سال میں اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ بھی ساتھ رکھوں گا۔ یعنی دو روزے رکھوں گا۔ جب دو روزے رکھ لیں گے مشابہت ختم ہو جائے گی۔ اب اصل چیز کو ختم نہیں کیا، مشابہت سے بھی نکل گئے۔

                  تو ہم لوگ یا 9 اور 10 کو رکھتے ہیں یا پھر 10 اور 11 کو رکھتے ہیں۔ اس کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ- حدیث شریف میں آپ کو سنا دیتا ہوں-، وَقَالَ عَلَیہ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ. میں امید کرتا ہوں کہ جو عاشورہ کا روزہ رکھے گا، یعنی 10 محرم کا، تو ایک سال پہلے کے گناہ اس کے معاف ہو جائیں گے۔ ایک سال پہلے کے گناہ اس کے معاف ہو جائیں گے۔ اور ساتھ ہی فرمایا: وَقَالَ عَلَیہ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: صُومُوا عَاشُورَاءَ وَخَالِفُوا فِيهِ الْيَهُودَ، وَصُومُوا قَبْلَهُ يَوْمًا وَبَعْدَهُ يَوْمًا. عاشورہ کا روزہ رکھا کرو اور اس میں یہود کی مخالفت کرو، اس کے ساتھ یا ایک دن پہلے روزہ رکھو یا اس کے ایک دن بعد کا روزہ رکھو۔ تو فضیلت بھی معلوم ہو گئی اور ساتھ ساتھ مشابہت سے بھی نکلنے کا حکم ہو گیا۔ اس سے ہمیں ایک نتیجہ ملتا ہے کہ مشابہت کسی بھی باطل مذہب کی یا باطل لوگوں کی یہ اتنی بری چیز ہے کہ دیکھو اتنی اچھی چیز کو بھی ساتھ نہیں ملایا۔ یعنی کچھ فرق ڈال کے جو ہے نا اس کو قبول فرما لیا۔ اور آج کل مشابہت کوئی مطلب ہی نہیں سمجھا جاتا بس لوگ کرتے جاتے ہیں۔ یہود و نصاریٰ کی مشابہت کرتے ہیں، ہندوؤں کی مشابہت کرتے ہیں۔ ہمارے بہت سی رسومات جو ہیں وہ ہندوؤں سے آئی ہیں۔ تھوڑی سی تحقیق کر لیں ان کی۔ ہندوؤں سے آئی ہیں۔ اس میں مشابہت کھلم کھلا ہو رہی ہے اور ہمیں پتہ بھی نہیں ہے۔ کچھ یہود و نصاریٰ سے آئی ہوئی ہیں۔

                  مقصد یہ ہے کہ ہم لوگوں کو کم از کم ان کے شعائر سے تو بچنا چاہیے نا۔ اگر ویسے مثال کے طور پر کپڑا وپڑا کی کوئی بات ہو تو علیحدہ بات لیکن شعائر جو ہیں وہ تو اس سے تو کم از کم بچنا چاہیے۔ لہذا اس پر غور کرنا چاہیے مفتیان کرام سے پوچھنا چاہیے کہ ان کے شعائر کون سے ہیں؟ میں اس وقت اس پہ اس لیے بات نہیں کرتا کہ بعض لوگ ناراض ہو جاتے ہیں، سمجھتے ہیں کہ بھئی یہ تو اس نے ہمارے اوپر چڑھائی کی، حالانکہ ایسی بات کوئی نہیں ہوتی، وہ دین کی بات ہوتی ہے۔ بھئی دین کی بات کیا بات ہے؟ اس میں کسی پہ چڑھائی تھوڑی ہے؟ وہ تو خیر خواہی والی بات ہوتی ہے۔ تو خیر خواہی کی بات ہے، اَلدِّيْنُ النَّصِيحَةُ، دین خیر خواہی ہے۔ لہذا جب بھی کسی مسلمان کے ساتھ ملیں تو ان کی خیر خواہی میں ان کے فائدے کی بات کرنی چاہیے۔

                  یہ بات میں عرض کر رہا ہوں کہ اس میں آپ ﷺ نے عاشورہ کا ایک اور فائدہ بھی بتایا ہے عاشورہ کے دن کا۔ فرمایا: وَكَانَ عَاشُورَآءُ يُصَامُ قَبْلَ رَمَضَانَ فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ كَانَ مَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ. فرمایا کہ عاشورہ کا روزہ پہلے رکھا جاتا تھا رمضان شریف کے فرض ہونے سے پہلے۔ جب رمضان شریف کا روزہ فرض ہو گیا تو اس کے بعد پھر فرمایا چاہے کوئی روزہ رکھے، چاہے کوئی روزہ نہ رکھے، مطلب مستحب ہو گیا۔ اور یاد رکھو کہ جب کوئی چیز پہلے فرض ہوتی ہے اور پھر بعد میں مستحب ہو جاتی ہے، تو باقی مستحبات سے وہ زیادہ آگے کی بات ہوتی ہے۔ تہجد کی بات لے لیں۔ پیغمبروں پہ فرض، عام لوگوں پہ فرض نہیں، لیکن اس کا اور باقی نوافل کا کتنا فرق ہے؟ بہت زیادہ فرق ہے۔ تو اس وجہ سے اس روزے کا اہتمام باقی نفلی روزوں کے مقابلے میں کافی اونچے درجے کی چیز ہے، ہمیں اس کو حاصل کرنا چاہیے۔

                  اور آگے یہ فرمایا: وَمِنَ الأَوَّلِ إِبَاحَةً وَبَرَكَةً التَّوْسِعَةُ فِيهِ عَلٰى عِيَالِهٖ. اس میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ اپنے عیال پر اس دن وسعت کرے خرچ کے لحاظ سے۔ اپنے عیال کے اوپر وسعت کرے خرچ کے لحاظ سے۔ وہ کیا ہے؟ فَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: مَنْ وَسَّعَ عَلٰى عِيَالِهٖ فِي النَّفَقَةِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ سَائِرَ سَنَتِهٖ. جس نے اپنے عیال کے اوپر وسعت کی یوم عاشورہ کو، تو پورے سال ماشاءاللہ ان کو وسعت حاصل ہو گی رزق میں۔ سبحان اللہ! تو یہ بہت اچھا موقع ہے، آج کل مہنگائی مہنگائی مہنگائی ٹھیک ہے جی مہنگائی ہے اس میں کوئی شک نہیں، لیکن دیکھو برکت والی چیزوں کو تو اختیار کرنا چاہیے نا۔

                  یہ میں آپ سے عرض کروں کہ برکت دنیا میں ایک ایسی چیز ہے جس کو مانتے سب ہیں لیکن ہوتا کیسے ہے؟ نظر نہیں آتا۔ نظر نہیں آتا لیکن ہے۔ بعض لوگوں کے مال میں برکت ہو جاتی ہے، بعض لوگوں کی اولاد میں برکت ہو جاتی ہے، بعض لوگوں کے علم میں برکت ہو جاتی ہے، بعض لوگوں کے ماشاءاللہ سوچ و فکر میں برکت ہو جاتی ہے۔ تو یہ برکت جو ہے ایسی چیز ہے کہ جس کو بھی اللہ تعالیٰ جس چیز میں بھی عطا فرما دے تو یہ بہت بڑی نعمت ہے۔ تو ایک بات میں عرض کرتا ہوں کہ جس چیز میں ایک وعدہ ہویا خبر ہو، اشارہ ہو، ایسی چیزوں کو ضرور حاصل کرنا چاہیے کیونکہ یہ دروازے ہوتے ہیں مختلف چیزوں کے حاصل کرنے کے۔

                  مثلاً: ایک حدیث شریف ہے جو میں ساتھیوں سے عرض کرتے رہتا ہوں: "أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصِلُوا الأَرْحَامَ، وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ." (رواہ عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ)۔ مطلب یہ ہے "سلام پھیلاؤ"۔ سبحان اللہ! آج کل یہ بہت کم ہو گیا ہے۔ مجھے بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کم از کم اس علاقے کے بارے میں کہتا ہوں کہ لوگ جان پہچان والوں کو سلام کرتے ہیں۔ سلام اسلامی ختم ہے! سلام اسلامی ختم ہے، سلام جان پہچان والا موجود ہے۔ میں جب پہلی دفعہ آیا تو جب میں نے سلام کیا کسی کو تو چونک پڑا کہ بھئی یہ کون سا رشتہ دار آ گیا، کون سا ملنے والا آ گیا؟ پھر جب میں آنکھیں جھکا کے آگے گزر گیا تو اس کو پتہ چل گیا کہ بھئی یہ تو ویسے سلام کیا ہے۔ پھر اس کے بعد میں سلام کرتا رہا، کرتا رہا، حتیٰ کہ الحمد للہ اس علاقے میں سلام، شکر ہے رائج ہو گیا۔ پھر اس کے بعد اگر مجھے خیال نہیں ہوتا تھا تو وہ سلام کر لیتے تھے۔

                  مقصد یہ ہے کہ سلام پھیلانا چاہیے، اب دیکھو حکم بھی ہے نا: "أَفْشُوا السَّلَامَ" تو سلام کو پھیلانا چاہیے، یہ دعا ہے۔ ہم کہتے ہیں نا "عید مبارک" یہ بھی دعا ہے۔ ، اس طریقے سے "السلام علیکم" بہترین دعا ہے۔ مجھے خوبی یاد ہے، مولانا محمد عمر پالن پوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ رائیونڈ میں، ایک دفعہ میں حاضر ہوا تھا حضرت کے پاس تو میں پیچھے بیٹھا ہوا تھا، جیسے حضرت تشریف لائے تو جماعت کے ساتھیوں کا ایک جم غفیر اندر گھس آیا، دو صفوں میں کھڑے ہو گئے، اور حضرت کی طرف متوجہ تھے کہ حضرت سے کوئی بات کر لیں۔ تو حضرت نے کہا: "السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! بزرگو اور دوستو میں نے بہت بڑی دعا آپ کے لیے کی ہے، آپ مہربانی کر کے چلے جائیں مجھے آرام کی ضرورت ہے۔ میں نے بہت بڑی دعا آپ کے لیے کی ہے۔" تو اس کا مطلب یہ ہے یہ بڑی دعا ہے۔ یہ بڑی دعا ہے۔ "السلام علیکم!" تم پر اللہ پاک کی طرف سے سلامتی ہو۔ تو کتنی بڑی دعا ہے! ۔ تو یہ دعا آپ کسی کو دیں تو آپ یقین جانیے جو دعا کسی مسلمان کو کوئی دیتا ہے، فرشتے اس کے لیے وہی دعا کرتے ہیں۔ تو آپ اگر کسی کے لیے "السلام علیکم" کہتے ہیں تو فرشتے آپ کے بارے میں کیا کہیں گے؟ ہاں، ماشاءاللہ آپ کے لیے ایک بڑی رحمت والی چیز ہے۔ تو اس وجہ سے سلام کو پھیلانا چاہیے، اپنے ساتھ خیر ہے۔ اور وہ جواب میں بھی پھر کہتے ہیں: "وعلیکم السلام"۔ بلکہ بتاتے ہیں کہ ذرا بہتر طریقے سے، جیسے کسی نے کہا "السلام علیکم" تو کہے "وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ"۔ اور اگر وہ کہتا ہے "السلام علیکم ورحمۃ اللہ" تو وہ کہتا ہے "وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ"۔ اور اگر کوئی کہتا ہے "السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ" پھر کہہ دے "وعلیک" پھر اسی پہ رک جائے، کیونکہ بہت زیادہ بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے بس جتنا ہے، مسنون طریقہ اس پہ رک جائیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ اس کو ہمیں پھیلانا چاہیے۔

                  دوسری بات؛ "وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ" لوگوں کو کھانا کھلاؤ۔ یہ چیز بھی تقریباً تقریباً اب ختم ہے۔ بہت Rare ہے۔ اور جو Rare ہے اللہ اس کو بھی محفوظ رکھے کہ بہت تیزی کے ساتھ وہ بھی ختم ہو رہا ہے۔ تو کھانا کھلانے کی باقاعدہ ترتیب ہونی چاہیے۔ یعنی اس کے لیے کوئی انتظام ہونا چاہیے۔پہلے گاؤں کی حالت یہ تھی اگر کوئی مہمان آتے تو حجرے ہوتے تھے ہمارے ہاں۔ تو حجرے کا مہمان ہوتا تھا، اور ہر ایک آدمی اپنے گھر سے اپنا کھانا اور ساتھ مہمان کا کھانا بھی لاتا تھا۔ دو آدمیوں کا کھانا لے آتے تھے۔ وہ سب جمع ہو کر سب کھاتے، ماشاءاللہ مہمان ادھر ٹھہر جاتے، باقی لوگ اپنے گھروں کو چلے جاتے۔ کتنا خوبصورت طریقہ تھا! کوئی فرق بھی نہیں پڑتا بھئی ایک آدمی کا کیا فرق پڑتا ہے گھر میں اگر وہ کرے؟ تو اس طریقے سے ماشاءاللہ ۔پہلے ہمارے گاؤں کے اندر اور مختلف جگہوں پہ، کم از کم جو میں جانتا ہوں، ایک روٹی فالتو پکائی جاتی تھی۔ ایک روٹی فالتو پکائی جاتی تھی اور وہ باہر کوئی جگہ بعض لوگوں نے بنائی ہوتی تھی جہاں پر رکھی جاتی تھی۔ اور جو لینے والے آتے تھے جو طالب علم ہوتے تھے، یا کوئی اور ماشاءاللہ اس طرح تو وہ حضرات آتے تھے اور وہیں سے اس کو اٹھا کے لے جاتے تھے۔ یہ طریقہ کار ہوتا تھا۔ اور باقاعدہ عورتوں سے میں نے سنا تھا کہ اس وقت وہ کہتی تھیں کہ کچھ کھانے والی چیز گھر سے باہر جانی چاہیے ورنہ برکت ختم ہو جاتی ہے۔ کوئی کھانے والی چیز گھر سے باہر لوگوں کے لیے جانی چاہیے ورنہ پھر برکت ختم ہو جاتی ہے۔ تو اس وجہ سے یہ کھانے والا نظام جو ہے نا پھر دوبارہ رائج کرنا چاہیے۔

                  تیسری بات؛ "وَصِلُوا الأَرْحَامَ" صلہ رحمی کرو۔ یہ چیز بھی تقریباً تقریباً اب ختم ہے۔ باقی لوگوں کے ساتھ دوستی ہو گی، رشتہ داروں کے ساتھ دشمنی ہو گی۔ رشتہ داروں کی معمولی بات برداشت نہیں کی جائے گی، اور باقی لوگوں کی بڑی بڑی باتیں برداشت ہو جائیں گی۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم لوگ دین کو جانتے نہیں کہ دین ہے کیا؟ اگر ہم لوگ اس میں صبر سے کام لیں، عزیمت سے کام لیں اور اگر رشتہ دار ہمیں تنگ کر رہے ہوں، مثلاً ہوتے ہیں بعض حضرات تنگ کرنے والے بھی ہوتے ہیں، اگر ہم صرف ان کا اس لیے خیال رکھیں کہ ہمارے رشتہ دار ہیں اور اللہ نے ان کا ہمارے اوپر حق رکھا ہے۔ تو ہم ان کے حق کا خیال رکھیں، یہ نہیں کرتے تو یہ ان کی بات ہے، ہمیں تو جو حکم ہے ہم تو کریں نا۔ یہ بہت اعلیٰ ظرفی کی بات ہے۔ اس پر اللہ پاک بہت زیادہ نوازتے ہیں۔ تو صلہ رحمی کرنی چاہیے۔

                  اور آخری بات کیا ہے؟ " وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ ، تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِالسَّلَامِ" جس وقت لوگ سو رہے ہوں اس وقت تم نماز پڑھو۔ کونسی نماز ہے یہ؟ تہجد کی نماز ہے۔ اس وقت خاموشی کے ساتھ اٹھو، دوسروں کو تنگ نہ کرو، شور شرابہ نہ کرو، آرام کے ساتھ ماشاءاللہ، اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر آہ و زاری شروع کر دو۔ نماز قائم کر لو۔ بہت خوبصورت نماز ہے۔ ایسی نماز ہے کہ اگر کسی کا دل اس میں لگ گیا نا، یہ ایک بہت بڑا تحفہ ہے جو روز و روزانہ ملتا ہے۔ یعنی اللہ جل شانہٗ کے ساتھ تعلق کا بہترین طریقہ ہے۔ اور بعض اولیاء اللہ فرماتے ہیں، بعض اچھے لوگ فرماتے ہیں کہ یہ ولایت کی کنجی ہے۔ یہ جو تہجد کی نماز ہے یہ ولایت کی کنجی ہے۔ کیونکہ جس نے اللہ کے سامنے اس وقت کھڑا ہونا سیکھا، تو گویا اللہ نے اس کو اپنی طرف مائل فرما دیا۔ اور جو اللہ تعالیٰ کی طرف مائل ہو گیا بس ظاہر ہے پھر اس کے بعد کیا کمی رہ گئی؟ یہ بات میں اس لیے عرض کر رہا تھا، شروع اس لیے کیا تھا کہ جو اس قسم کے وعدے ہوتے ہیں نا، ان وعدوں کو کبھی بھی نہ بھولنا۔ کیونکہ اللہ پاک نے دینے کے دروازے بنائے ہوئے ہیں۔

                  اب ایک آدمی کہتا ہے بھئی پورا دین تو نہیں ہے یہ، آپ کیا بات کر رہے ہیں؟ بھئی میں کہتا ہوں مجھے بھی پتہ ہے پورا دین نہیں ہے، لیکن اللہ پاک کسی کو قبول فرما لے ان چاروں کی وجہ سے، اور پھر ان کو پورا دین نصیب فرما دے، تو کیا مشکل ہے؟ قبولیت اس میں ہو جائے اور پھر اللہ پاک اس پہ پورے دین پر چلنا نصیب فرما دے۔ تو اس طریقے سے ہم لوگ ماشاءاللہ ان باتوں کا خیال رکھیں۔

                  ایک اور حدیث شریف ہے فرماتے ہیں: تم مجھے جو دو جبڑوں کے درمیان ہے اور جو دو رانوں کے درمیان ہے، ان کی حفاظت کی ضمانت دے دو، میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں! آپ ﷺ نے وعدہ فرمایا ہے۔ لہذا اپنی زبان کو قابو میں رکھنا، اور اپنی فرج کو قابو میں رکھنا بہت زیادہ بہت زیادہ ضروری ہے۔ یعنی گناہوں کی یہ یوں کہہ سکتے ہیں فیکٹریاں ہیں یہ، اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے۔ تو اگر یہ گناہوں کی فیکٹری ہم بند کر دیں، اور یہ چار چیزیں جو میں نے ابھی عرض کی ہیں یہ فیکٹریاں کھول دیں، تو سبحان اللہ کیا بات ہو جائے گی!

                  تو اس کے لیے ترتیب یہ ہے کہ انسان جب بھی صبح اٹھے، تو ارادہ کر لے ان چیزوں کا۔ اور جو بھی نیک کام ہوتے ہیں ان کا ارادہ کر کے اٹھے۔ اگر ارادہ اس نے کر لیا ہے اور اگر وہ عمل نصیب نہیں ہوا، پھر بھی اس کو ایک اجر مل جائے گا۔ اس ارادے کی وجہ سے ایک اجر مل جائے گا وہ واپس نہیں لیا جائے گا۔ اور اگر حکم پر عمل ہو گیا، سبحان اللہ! پھر تو دس گنا اجر کم از کم ہے۔ تو وہ ماشاءاللہ مل جائے گا۔ اور یہ جو حکمی موت ہو جس کو ہم نیند کہتے ہیں، اس سے پہلے پہلے استغفار۔ اور دو رکعت صلاۃ التوبہ پڑھے۔ دو رکعت صلاۃ التوبہ پڑھ کے جو گناہ اس دن ہو چکے ہیں اس سے معافی مانگے۔ کہ یا اللہ! مجھے معاف کر دے۔ بس اس کو اپنے لیے لازم سمجھے،صبح اٹھتے ہی نیک کاموں کی نیت اور رات کو سونے سے پہلے پہلے تمام گناہوں سے توبہ۔ دو رکعت صلاۃ التوبہ پڑھ کے انسان استغفار کرنا تو یہ ماشاءاللہ ہمارے نیکیوں کے Account کو بڑھانے کا بہت بڑا Source ہے ان شاء اللہ العزیز۔

                  خیر، وقت کم ہے، ایک ضروری بات عرض کرنا چاہتا ہوں، جو محرم کے حوالے سے ہے۔ محرم میں کچھ واقعات ایسے ہوئے ہیں جو دل کو پریشان کرنے والے ہیں۔ لیکن اس سے ہمیں عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ عبرت یہ حاصل کرنی چاہیے کہ دیکھو دنیا کی محبت اتنی خبیث چیز ہے کہ اتنے بڑے لوگوں کی مخالفت پہ لوگ کھڑے ہو گئے! کون لوگ تھے وہ؟ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو آپ ﷺ کے نواسے تھے، آپ ﷺ ان کے ساتھ کیا معاملہ کرتے تھے؟ یعنی ایک دفعہ حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کندھے پہ اٹھایا ہے، ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سامنے آتے ہیں، ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: "ماشاءاللہ! کیا سواری پائی ہے! کیا سواری پائی ہے!" تو آپ ﷺ فرماتے ہیں: "سوار بھی کتنا اچھا ہے!" سوار بھی کتنا اچھا ہے! یہ کس کی تصدیق ہے؟ آپ ﷺ کی۔

                  اور " میں حسین سے ہوں ،حسین مجھ سے ہے" یہ کس نے فرمایا ہے؟ پھر یہ دیکھو: "سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ"، ابھی آپ ماشاءاللہ خطبہ میں سنیں گے: "سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ"کون سے ہیں؟ حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما)۔ اور فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کون سی ہیں؟ سَيِّدَةُ النِّسَاءِ۔

                  پھر ایک بات میں عرض کرتا ہوں، موٹی سی بات ہے ، چہل حدیث شریف ہے ایک جو مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے جمع فرمایا ہے صحیح احادیث شریف سے درود شریف کے جو صیغے ہیں اور سلام کے۔ وہ جمع کیے ہیں اور اس کو حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے من وعن لے لیا ہے، اپنے فضائلِ درود میں شامل کیا ہے۔ آپ اس میں دیکھیں پچیس صیغے درود کے ہیں، اس میں غالباً بائیس میں "آل" آتا ہے۔ اب درود ابراہیمی میں بھی کیا ہے؟ "اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراھیم وعلی آل ابراھیم انک حمید مجید۔ اللھم بارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم وعلی آل ابراھیم انک حمید مجید"۔ بار بار ساتھ "آل" آتا ہے۔ آخر ہم لوگ بہرے تو نہیں ہیں، پاگل تو نہیں ہیں، سمجھدار لوگ ہیں۔ اس کا بار بار آنے کا مطلب کیا ہے؟ کہ ان کا ایک مقام ہے نا! ان کا ایک مقام ہے۔

                  تو سب سے پہلے ہمیں اس سے عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ دنیا کی محبت اتنی خبیث چیز ہے کہ اس کی وجہ سے انسان اتنے بڑے لوگوں کے مقابلے میں آ جاتا ہے۔ یقین جانیے میں دعا کرتا ہوں الحمدللہ اس بات کی کہ یا اللہ! مجھے کسی ولی اللہ کے مقابلے میں نہ آنے دے۔ کیونکہ فرماتے ہیں کہ جس نے کسی ولی اللہ کے ساتھ دشمنی کی، اللہ پاک کے ساتھ وہ اعلانِ جنگ ہے۔ تو اگر یہ حضرات اولیاء اللہ نہیں ہیں تو پھر کون تھے اولیاء اللہ؟ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ غوث ہو، قطب ہو، ابدال ہو، جو بھی بڑے سے بڑا ولی ہو، ان کو ملتا ان کی وجہ سے ہے، اہل بیت کی وجہ سے ملتا ہے۔ اگر کوئی نہیں جانتا تو میں ان کا مکتوب شریف دکھا سکتا ہوں، ہمارے پاس ہے۔ تو اس کا مطلب ہے اتنا زیادہ اللہ تعالی نے ان کو مقام دے دیا ہے اور پھر ان کے مقابلے کس چیز کے لیے؟ دنیا کے لیے! انا للہ وانا الیہ راجعون۔ بہت خطرناک بات ہے، تو اس سے تو ایک عبرت حاصل کرنی چاہیے۔

                  دوسری بات یہ ہے کہ دیکھو کچھ لوگ ان کا نام لیتے ہیں اور صحابہ کی مخالفت کرتے ہیں۔ تو یاد رکھو دین جو ہے نا، ہمارے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے آیا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے پاس تین ذریعوں سے آتا ہے؛

                  1۔ عام صحابہ

                  2۔ امہات المومنین

                  3۔ اہل بیت

                  جنہوں نے ان تینوں سے لیا، پورا دین لیا۔ جنہوں ان تینوں سے نہیں لیا، کسی سے لیا کسی سے نہیں لیا، تو ناقص دین لے لیا۔ اور جس نے کسی کی مخالفت کی اس نے کچھ بھی نہیں لیا، کیونکہ اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی۔ آخر ان تینوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روایات موجود ہیں نا، کچھ تو میں نے بتا دی ہیں۔ عام صحابہ کے بارے میں بھی ہے، وہ کیا ہے؟ "اصحابی کالنجوم بأیھم اقتدیتم اھتدیتم" میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں جس کے پیچھے جاؤ گے تو ہدایت پاؤ گے۔ ما انا علیہ واصحابی "جس پر میں چلا ہوں اور جس پر میرے صحابہ چلے ہیں"۔ امہات المومنین، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بارے میں کیا فرمایا ہے؟ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بارے میں کیا فرمایا ہے؟تو اس کا مطلب یہ کہ یہ ساری باتیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہیں ،تو ان میں سے جو جس کی بھی مخالفت کرو اس نے اپنے آپ کو تباہ کر دیا۔ کیونکہ اس نے حضور ﷺ کی مخالفت کی۔ جس نے حضور ﷺ کی مخالفت کی اس کے پاس کیا رہ گیا؟ کچھ بھی نہیں رہ گیا۔ تو اس وجہ سے میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ مخالفت کسی کی نہ کرو۔ سب سے لو! اگر پورا دین لینا چاہتے ہیں صحابہ سے بھی لو، اہل بیت سے بھی لو، امہات المومنین سے بھی لو۔ ورنہ پھر خالی رہ جاؤ گے۔

                  تو اس وجہ سے ایک بات تو میں یہ عرض کرنا چاہتا تھا کہ بعض لوگ Reaction میں آ کر جو لوگ صحابہ کے مخالف ہیں، وہ اہل بیت کے حق میں ہوں، "اوہو پھر ہم بھی اہل بیت کے مخالف"إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ"۔ بھئی ان کی وجہ سے کیا میں نے مجدد صاحب کی مثال دی، ساری عمر انہوں نے صحابہ کرام کے مخالفین کی مخالفت کی، لیکن بتایا کیا؟ بتایا یہ! تو اس کا مطلب ہے کہ ہم لوگوں کو Reaction میں نہیں آنا چاہیے۔ ہم لوگوں کو صحیح بات اپنانی چاہیے اور صحیح بات کیا ہے؟ یہ سارے حق پر تھے۔ یہ سارے حق پر تھے۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑے لوگ تھے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔


                  وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ

                  رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ

                  وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔

                  ل