دین میں آسانی: غیر ضروری شکوک و شبہات اور رسم و رواج کی اندھی تقلید سے گریز
درس نمبر 231: سورۃ المائدة، آیت نمبر 101 تا 104
- شریعت کے مجمل احکام کو اسی اجمال کے ساتھ تسلیم کر لینا چاہیے اور بلاوجہ سوالات کر کے انہیں اپنے لیے مشکل نہیں بنانا چاہیے۔
- پچھلی امتوں نے بھی غیر ضروری سوالات کر کے اپنے اوپر پابندیاں بڑھوائیں اور پھر ان کی تعمیل سے انکار کر دیا۔
- شرعی احکام پر ان کی منشا کے مطابق عمل کرنے سے شکوک ختم ہوتے ہیں جبکہ محض عقل پر انحصار وسوسوں کا باعث بنتا ہے۔
- زمانۂ جاہلیت میں جانوروں کو بتوں کے نام پر وقف کرنا مشرکین کا اللہ پر جھوٹ باندھنا اور شیطان کا دھوکا تھا۔
- دین کے واضح احکام کے مقابلے میں آباؤ اجداد کی اندھی تقلید اور بے بنیاد رواجوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــٴَـلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْۚ-وَ اِنْ تَسْــٴَـلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ ؕ-عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا ؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ(101) قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ(102) مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآىٕبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍۙ-وَّ لٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ ؕ-وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(103) وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا ؕ-اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْــٴًـا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ(104)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
ترجمہ: اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے بارے میں سوالات نہ کیا کرو جو اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں، اور اگر تم ان کے بارے میں ایسے وقت سوالات کرو گے جب قرآن نازل کیا جارہا ہو تو وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں گی۔
حاشیہ: آیت کا مطلب یہ ہے کہ اوّل تو جن باتوں کی کوئی خاص ضرورت نہ ہو، ان کی کھوج میں پڑنا فضول ہے۔ دوسرے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض اوقات کوئی حکم مجمل طریقے سے آتا ہے۔ اگر اس حکم پر اسی اجمال کے ساتھ عمل کر لیا جائے تو کافی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کو اس میں مزید تفصیل کرنی ہوتی تو وہ خود قرآن کریم یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے ذریعے کر دیتا۔ اب اس میں بال کی کھال نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اگر نزولِ قرآن کے زمانے میں اس کا کوئی سخت جواب آجائے تو خود تمہارے لئے مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔ چنانچہ اس آیت کے شانِ نزول میں ایک واقعہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب حج کا حکم آیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بتایا تو ایک صحابی نے آپ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا حج عمر بھر میں صرف ایک مرتبہ فرض ہے، یا ہر سال کرنا فرض ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال پر ناگواری کا اظہار فرمایا۔ وجہ یہ تھی کہ حکم کے بارے میں اصل یہ ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے خود یہ صراحت نہ کی جائے کہ اس پر بار بار عمل کرنا ہوگا (جیسے نماز روزے اور زکوٰۃ میں یہ صراحت موجود ہے) اس وقت تک اس پر صرف ایک بار عمل کرنے سے حکم کی تعمیل ہو جاتی ہے، اس لئے اس سوال کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ آپ نے صحابی سے فرمایا کہ اگر میں تمہارے جواب میں یہ کہہ دیتا کہ ہاں ہر سال فرض ہے تو واقعی پوری اُمت پر وہ ہر سال فرض ہو جاتا۔
اصل میں اللہ پاک ہمارے ساتھ آسانی کا معاملہ کرنا چاہتے ہیں اور ہم بعض دفعہ اپنے لیے کوئی مشکل بنا دیتے ہیں۔ یہ بہت اہم بات ہے سمجھنا۔ کچھ باتیں ایسی ہیں جن کو اللہ پاک نے اجمالاً بتایا ہے، جیسے تقدیر کی بات ہے۔ تو اب اگر اس میں کوئی کھوج لگائے گا تو پریشان ہی ہوگا کیونکہ پہنچ تو نہیں سکے گا تو خوامخواہ۔ تو جس درجے کی بات کی ہے اس درجے پر ایمان رکھنا چاہیے، بس وہ کافی ہے۔ یا آج کل وہ بہت سارے کام ایسے ہیں جس پہ لوگ بلاوجہ بہت ساری discussions کرتے ہیں، حالانکہ اللہ پاک نے اس میں وسعت رکھی ہوتی ہے، تو اس وسعت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ یہ جو شک میں پڑنے والے لوگ ہوتے ہیں ان کے لیے بھی یہی حکم ہوتا ہے کہ وہ شک میں نہ پڑیں اور جو مطلب صاف بات ہے اس پہ عمل کر لیں جو بتایا گیا ہے۔
وہ ایک دفعہ ایسا ہوا تھا کہ مجھے شک کی بیماری ہو گئی تھی۔ تو سید تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے میں نے کچھ سوالات اس طرح کیے بار بار، تو حضرت سمجھ گئے کہ اس کو مسئلہ ہے۔ تو حضرت نے مجھے فرمایا کہ دیکھو اگر تمہارے کپڑے کا کوئی حصہ ناپاک ہو جائے، تو شریعت کا حکم یہ ہے کہ تین دفعہ اس کو دھو لو اور نچوڑو، اور آخری بار خوب زور سے نچوڑو، بس پاک ہو گیا۔ اور اگر تم عقل کے مطابق کرو گے تو یہ کبھی بھی پاک نہیں ہوگا۔ کیونکہ پانی اگر اس پہ آ گیا تو اب تیسری دفعہ مطلب ظاہر ہے وہ پہلی دفعہ آپ نے ڈالا تو پانی کچھ اور آگے سرایت کر گیا، تو آپ نے سمجھا کہ ناپاک ہو گیا۔ اب آپ نے پھر مزید اس پہ پانی ڈالا، وہاں تک پانی تو مزید آگے پانی سرایت کر گیا، تو پھر وہ مطلب ظاہر ہے پہلی دفعہ ہے اس کے لیے۔ تو پھر آپ نے اس کو دھونا شروع کیا پھر آپ مزید پانی ڈالیں، تو پھر وہ آگے سے، تو آپ کے سارے کپڑے جو ہیں نا وہ دھل جائیں گے لیکن وہ آپ کے خیال میں پاک نہیں ہوگا۔ اس طرح کنویں کی مثال دی کہ کنواں جو ہے، یہ جس کو پاک کرتے ہیں تو جتنے ڈول نکالنے ہوتے ہیں اتنے ڈول نکال لو، تو رسی بھی پاک ہو گئی، ڈول بھی پاک ہو گیا، کنواں بھی پاک ہو گیا۔ اور اگر آپ عقل کے حساب سے کریں تو آپ کہتے ہیں وہ پانی تو ادھر موجود ہے اس کے ساتھ مکس ہو گیا، تو اب تو یہ پاک نہیں ہے۔
تو شریعت کے حکم کو دیکھنا چاہیے، کیونکہ ہم لوگ اصل میں نہیں جانتے، اللہ پاک جانتے ہیں۔ اللہ پاک نے جس حکم کو جس طرح دیا ہے بس اس پر عمل کر لو، اس سے زیادہ آگے پیچھے ہیچ پیچ نہ کیا کرو، یہ بات بہت اہم ہے۔ تو یہاں پر بھی یہی بات ہے کہ جتنا بتایا گیا ہے اتنا ہی اس کو رکھو، اس سے زیادہ آگے نہ لے جاؤ۔
ترجمہ: (البتہ) اللہ نے پچھلی باتیں معاف کر دی ہیں۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا بردبار ہے ﴿101﴾ تم سے پہلے ایک قوم نے اس قسم کے سوالات کئے تھے، پھر ان (کے جو جوابات دیئے گئے ان) سے منکر ہو گئے۔ ﴿102﴾
یہاں پر بھی ایک بات ہے۔۔۔
حاشیہ: اس سے غالباً یہودیوں کی طرف اشارہ ہے جو شریعت کے احکام میں اسی قسم کی بال کی کھال نکالتے تھے، اور جب ان کے اس عمل کے نتیجے میں ان پر پابندیاں بڑھتی تھیں تو انہیں پورا کرنے سے عاجز ہو جاتے، اور بعض اوقات ان کی تعمیل سے صاف انکار بھی کر بیٹھتے تھے۔
مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نے ان پر مہربانی فرمائی تھی۔ اس مہربانی کو بجائے اس کے کہ اس پر شکر کرتے، یہ خوامخواہ ہیچ پیچ میں پڑ جاتے اور اس قسم کے سوالات کرتے تھے جس کی وجہ سے ان پر سختی آ جاتی تھی۔
ترجمہ: اللہ نے کسی جانور کو نہ بحیرہ بنانا طے کیا ہے، نہ سائبہ، نہ وصیلہ اور نہ حامی۔
حاشیہ: یہ مختلف قسم کے نام ہیں جو زمانہ جاہلیت کے مشرکین نے رکھے ہوئے تھے۔ بحیرہ اس جانور کو کہتے تھے جس کے کان چیر کر اس کا دُودھ بتوں کے نام پر وقف کر دیا جاتا تھا۔ سائبہ وہ جانور تھا جو بتوں کے نام کر کے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا، اس سے کسی قسم کا فائدہ اُٹھانا حرام سمجھا جاتا تھا۔ وصیلہ اس اُونٹنی کو کہتے تھے جو لگاتار مادہ بچے جنے، بیچ میں کوئی نر نہ ہو۔ ایسی اُونٹنی کو بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے۔ اور حامی وہ نر اُونٹ ہوتا تھا جو ایک خاص تعداد میں جفتی کر چکا ہو۔ اسے بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا تھا۔
مطلب یہ ہے کہ شیطان نے ان کے اوپر ایسا اثر کر دکھایا تھا کہ جو بھی ذرا valued قسم کی چیز ہوتی، وہ بتوں کے نام کر دیے جاتے اور شرک کا پورا بازار گرم کیا تھا۔ تو ظاہر ہے مطلب یہ طریقہ تو بہت برا تھا، تو اس سے منع کیا گیا۔
ترجمہ: لیکن جن لوگوں نے کفر اپنایا ہوا ہے وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں، اور ان میں سے اکثر لوگوں کو صحیح سمجھ نہیں ہے ﴿103﴾ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو کلام نازل کیا ہے، اس کی طرف اور رسول کی طرف آؤ، تو وہ کہتے ہیں کہ: ”ہم نے جس (دین پر) اپنے باپ دادوں کو پایا ہے، ہمارے لئے وہی کافی ہے۔“ بھلا اگر ان کے باپ دادے ایسے ہوں کہ نہ ان کے پاس کوئی علم ہو، اور نہ کوئی ہدایت تو کیا پھر بھی (یہ انہی کے پیچھے چلتے رہیں گے؟) ﴿104﴾
تو یہاں پر آباؤ اجداد والی جو بات ہے، یہ تو بہت پرانی بات ہے۔ اس میں تو لوگ گویا کہ اس چیز کو ہی زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ یعنی دین کے بعد سب سے بڑی influential چیز ہوتی ہے، رواج ہوتا ہے اور رواج وہ اوپر سے لوگوں میں چلا آ رہا ہوتا ہے۔ تو اس کو لوگ بہت بعض دفعہ جذباتی انداز میں لیتے ہیں کہ ہم باپ دادا کا طریقہ چھوڑ دیں گے؟ اس قسم کی باتیں کر کے وہ اس کے اوپر جم جاتے ہیں، شیطان ان کو جما دیتا ہے۔
حالانکہ باپ دادا جو ہیں، وہ بھی انسان تھے اور انسان کو دھوکا ہو سکتا ہے، نفس کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے، شیطان کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ تو اگر کسی کے پاس علم نہیں ہے یا ہدایت نہیں ہے اور ہدایت نہیں ہے، تو اب ان کی بات بھی مانو گے؟ تو جو دین آیا ہے، اس دین کے مقابلے میں باپ دادا کی بات کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اور اس میں ہم دین کی بات مانیں گے، باپ دادا کی بات نہیں مانیں گے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔