شعائرِ اللہ کا احترام، حلال و حرام کی حدود اور شریعت کی بالادستی

درس نمبر 230: سورۃ المائدة، آیت نمبر 96 تا 100

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. حالتِ احرام میں خشکی کا شکار حرام ہے، جبکہ کعبہ شریف، حرمت والے مہینوں اور قربانی کے جانوروں کو قیامِ امن کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔
  2. بعض مفسرین کے مطابق کعبہ شریف کے قیامِ امن کا باعث ہونے کا ایک مطلب یہ ہے کہ اس کے قائم رہنے تک قیامت نہیں آئے گی۔
  3. رسول کی ذمہ داری صرف تبلیغ ہے اور اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کی ہر چیز سمیت انسانوں کے ظاہر و باطن سے پوری طرح باخبر ہے۔
  4. ناپاک اور پاکیزہ چیزیں برابر نہیں ہوتیں، اس لیے محض عام رواج یا فیشن کی وجہ سے مسلمانوں کو کسی ناجائز چیز کو اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
  5. دین کے احکامات اللہ کی طرف سے ہیں، جن میں جمہوریت یا لوگوں کی کثرت و پسند کی بنیاد پر کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ۔ فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

اُحِلَّ لَكُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِلسَّیَّارَةِۚ-وَ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا ؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ (96) جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ الْهَدْیَ وَ الْقَلَآىٕدَ ؕ-ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ (97) اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (98) مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ ؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ(99) قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (100)

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: تمہارے لئے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے، تاکہ وہ تمہارے لئے اور قافلوں کے لئے فائدہ اٹھانے کا ذریعہ بنے، لیکن جب تک تم حالت احرام میں ہو تم پر خشکی کا شکار حرام کر دیا گیا ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کی طرف تم سب کو جمع کر کے لے جایا جائے گا ﴿96﴾ اللہ نے کعبے کو جو بڑی حرمت والا گھر ہے لوگوں کے لئے قیام امن کا ذریعہ بنا دیا ہے، نیز حرمت والے مہینے، نذرانے کے جانوروں اور ان کے گلے میں پڑے ہوئے پٹوں کو بھی (امن کا ذریعہ بنایا ہے)،

حاشیہ: کعبہ شریف اور حرمت والے مہینے کا باعثِ امن ہونا تو ظاہر ہے کہ اس میں جنگ کرنا حرام ہے۔ اس کے علاوہ جو جانور نذرانے کے طور پر حرم لے جائے جاتے تھے، ان کے گلے میں پٹے ڈال دیئے جاتے تھے تاکہ ہر دیکھنے والے کو پتہ چل جائے کہ یہ جانور حرم جارہے ہیں۔ چنانچہ کافر، مشرک، ڈاکو بھی ان کو چھیڑتے نہیں تھے۔ کعبے کے قیامِ امن کا باعث ہونے کے ایک معنی کچھ مفسرین نے یہ بھی بیان فرمائے ہیں کہ جب تک کعبہ شریف قائم رہے گا، قیامت نہیں آئے گی۔ قیامت اس وقت آئے گی جب اسے اُٹھا لیا جائے گا۔

تو یہ مطلب امن کا، وہ تھا۔

ترجمہ: یہ سب اس لئے تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ اسے خوب جانتا ہے، اور اللہ ہر بات سے پوری طرح باخبر ہے ﴿97﴾ یہ بات بھی جان رکھو کہ اللہ عذاب دینے میں سخت ہے، اور یہ بھی کہ اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے ﴿98﴾ رسول پر سوائے تبلیغ کرنے کے کوئی اور ذمہ داری نہیں ہے۔ اور جو کچھ تم کھلے بندوں کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو، اللہ ان سب باتوں کو جانتا ہے ﴿99﴾ (اے رسول! لوگوں سے) کہہ دو کہ ناپاک اور پاکیزہ چیزیں برابر نہیں ہوتیں، چاہے تمہیں ناپاک چیزوں کی کثرت اچھی لگتی ہو۔ لہٰذا اے عقل والو! اللہ سے ڈرتے رہو، تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو ﴿100﴾

حاشیہ: اس آیت نے بتا دیا ہے کہ دُنیا میں بہت مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی ناپاک یا حرام چیز کا رواج اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ وقت کا فیشن قرار پا جاتا ہے، اور فیشن پرست لوگ اسے اچھا سمجھنے لگتے ہیں۔ مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ صرف کسی چیز کے عام رواج کی وجہ سے اسے اختیار نہ کریں، بلکہ یہ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ہدایات کی روشنی میں وہ جائز یا پاک ہے یا نہیں۔

مطلب یہ ہے کہ یہ چیز ہمیں سوچنے پر مجبور کر دے کہ کوئی چیز بے شک کتنا ہی لوگ اس کو پسند کرتے ہوں۔ لیکن لوگوں کے پسند کرنے سے کوئی چیز ٹھیک نہیں ہوتی۔ تو اس سے وہ جمہوریت والی جو بات ہے، یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ دین میں جمہوریت نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ چیز ہے کہ اس میں دیکھا جائے گا کہ صحیح چیز کون سی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو چیز اللہ پاک پسند فرماتے ہیں اور صحیح ہے، ان میں سے جس کو چننا ہو تو بے شک اس کے لیے جمہور کا طریقہ اختیار کر لو، اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن اگر مقابلہ آ گیا۔ کہ اللہ کی بات ایک طرف ہے اور کثرت کی بات دوسری طرف ہے۔ تو اس میں یہ بات نہیں مانی جائے گی۔ مثال کے طور پر پاکستان کے نوے فیصد لوگ اگر اکٹھے ہو کر کہنے لگیں کہ نمازیں پانچ نہیں ہیں، تین ہیں، تو ان کی بات نہیں مانی جائے گی۔ بے شک وہ کثرت میں ہیں۔ لوگ کثرت میں ہیں نا تو لوگوں کی کثرت سے کیا ہوتا ہے؟ دین لوگوں نے تو نہیں بنایا۔ دین تو اللہ پاک نے بنایا ہے، تو اللہ پاک نے جب تک فیصلہ نہیں تبدیل کیا تو اس وقت تک کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ اور اب چونکہ تبدیل نہیں ہو سکتا، مطلب دین، دین میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ تو اب کوئی بھی اس حکم کو، اس وجہ سے ہمارے آئین میں لکھا ہے کہ کوئی قانون اسلام کے خلاف نہیں بنایا جائے گا۔ مطلب یہ بات ہے کیونکہ بنیادی بات یہی ہے کہ دین جو ہے یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ جل شانہ ہی اس کا محافظ ہے اور اللہ پاک ہی اس پہ اجر دیتے ہیں۔ تو اس وجہ سے کسی اور کے کہنے سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔

وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔