حالتِ احرام میں شکار کی ممانعت: اطاعتِ الٰہی کا امتحان اور احکامِ کفارہ

درس نمبر 229: سورۃ المائدة، آیت نمبر 94 تا 95

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. ایمان کا اصل امتحان یہ ہے کہ جب دل کسی ناجائز کام کے لیے مچل رہا ہو تو اللہ سے ڈر کر باز آ جائے۔
  2. حج یا عمرے کے احرام میں خشکی کا شکار حرام ہے اور اللہ جانوروں کو قریب بھیج کر انسان کی آزمائش کرتا ہے۔
  3. جاب پر رشوت جیسے حرام مواقع بآسانی ملنے پر بچنا ضروری ہے، اگر کوئی اس وقت پھسل جائے تو ساری عمر اسی پر چلتا ہے۔
  4. احرام میں جان بوجھ کر شکار کرنے پر حرم میں مساوی قربانی، مسکینوں کو کھانا کھلانے یا روزے رکھنے کا کفارہ واجب ہے۔
  5. امام ابو حنیفہ کے نزدیک شکار کی قیمت لگا کر حرم میں قربانی دی جائے، رقم فقراء میں تقسیم ہو یا روزے رکھے جائیں۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ۔ فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُهٗۤ اَیْدِیْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّخَافُهٗ بِالْغَیْبِۚ-فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (94) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ ؕ-وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْیًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِهٖ ؕ-عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ ؕ-وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ(95)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔

ترجمہ: اے ایمان والو ! اللہ تمہیں شکار کے کچھ جانوروں کے ذریعے ضرور آزمائے گا جو تمہارے ہاتھوں اور تمہارے نیزوں کی زد میں آجائیں گے ،

یہاں سے کچھ حج اور عمرے کے جو بیان ہیں، وہ شروع ہوتے ہیں۔

حاشیہ: جب کوئی شخص حج یا عمرے کا احرام باندھ لے تو اس کے لئے خشکی کے جانوروں کا شکار کرنا حرام ہو جاتا ہے۔ عرب کے صحراؤں میں کسی شکار کا مل جانا مسافروں کے لئے ایک نعمت تھی۔ اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ احرام باندھنے والوں کی آزمائش کے لئے اللہ تعالیٰ کچھ جانوروں کو ان کے اتنا قریب بھیج دے گا کہ وہ ان کے نیزوں کی زد میں ہوں گے۔ اس طرح ان کا امتحان لیا جائے گا کہ کیا وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں اس نعمت سے پرہیز کرتے ہیں؟ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے ایمان کا اصل امتحان اسی وقت ہوتا ہے جب اس کا دل کسی ناجائز کام کے لئے مچل رہا ہو، اور وہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس ناجائز کام سے باز آجائے۔

اور یہ تو صرف ایک بات ہے۔ اس طرح مثالیں ہر چیز میں ہیں۔ کہ جس وقت انسان کو یعنی وہ نعمتیں مل رہی ہوتی ہیں یا کچھ چیزیں ایسی مل رہی ہوتی ہیں جس میں حلال اور حرام mix ہوتا ہے۔ تو اس وقت اس حرام سے بچنا یہ بہت ضروری ہو جاتا ہے اور یہی امتحان ہوتا ہے۔ کہ اس وقت اس کے لیے بہت آسان ہوتا ہے اس کو حاصل کرنا۔ تو ایسے وقت میں اللہ پاک سے ڈر کر اس سے رک جانا یہ بڑی بات ہوتی ہے۔

مثلاً کوئی نیا نیا آدمی جاب پہ لگ جاتا ہے۔ تو یہ جو رشوت والے لوگ ہوتے ہیں دینے والے، وہ خود ہی situation create کرتے ہیں اور اس میں مختلف بہانوں سے کوئی چیز پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب اس وقت چونکہ مل رہا ہوتا ہے نا اس کو، تو امتحان تو بڑا شدید ہو جاتا ہے، مطلب آدمی بلکہ وہ اس قسم کی soft باتیں کرتے ہیں۔ وہ آدمی کا ذہن اس طرف خود ہی لے آتے ہیں کہ یہ تو ویسے ہی ہے، یہ تو آپ کی خدمت کر رہے ہیں یا یہ تو تحفہ ہے یا یہ تو اس طرح یہ تو ہمارا دل چاہتا ہے۔ اس قسم کی باتیں کر کے وہ راغب کرتے ہیں۔ اور یہ بڑی عجیب عجیب باتیں ہوتی ہیں، اللہ معاف فرمائے۔ تو یہ اس وقت پھر امتحان ہوتا ہے۔ اور اگر اس وقت کوئی slip ہو گیا، تو پھر ساری عمر پھر چلتا رہے گا اسی پر، پھر وہ بچنا بڑا مشکل ہے۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کو ایسے اوقات پر بہت زیادہ خیال رکھنا پڑے گا۔ کہ وہ گناہ جو ہمارے لیے آسان ہو گیا، تو اصل میں ہمارا امتحان ہو گیا۔ اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے۔

ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو کسی شکار کو قتل نہ کرو۔ اور اگر تم میں سے کوئی اسے جان بوجھ کر قتل کردے تو اس کا بدلہ دینا واجب ہوگا (جس کا طریقہ یہ ہوگا کہ) جو جانور اس نے قتل کیا ہے، اس جانور کے برابر چوپایوں میں سے کسی جانور کو جس کا فیصلہ تم میں سے دو دیانت دار تجربہ کار آدمی کریں گے، کعبہ پہنچا کر قربان کیا جائے، یا (اس کی قیمت کا) کفارہ مسکینوں کو کھانا کھلا کر ادا کیا جائے، یا اس کے برابر روزے رکھے جائیں،

حاشیہ: اگر کوئی شخص احرام کی حالت میں شکار کرنے کا گناہ کرلے تو اس کا کفارہ اس آیت میں بیان کیا گیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس جانور کا شکار کیا ہے، اگر وہ جانور حلال ہو تو اسی علاقے کے دو تجربہ کار، دین دار آدمیوں سے اس جانور کی قیمت لگائی جائے، پھر چوپایوں یعنی گائے، بیل، بکری وغیرہ میں سے اس قیمت کے کسی جانور کی قربانی حرم میں کردی جائے، یا اس کی قیمت فقراء میں تقسیم کردی جائے۔ اور اگر کسی ایسے جانور کا شکار کیا تھا جو حلال نہیں ہے، مثلاً بھیڑیا، تو اس کی قیمت ایک بکری سے زیادہ نہیں سمجھی جائے گی۔ اور اگر کسی شخص کو مالی اعتبار سے قربانی دینے یا قیمت فقراء میں تقسیم کرنے کی گنجائش نہ ہو تو وہ روزے رکھے۔ روزوں کا حساب اس طرح ہوگا کہ اُس جانور کی جو قیمت بنی تھی، اس میں سے پونے دو سیر گندم کی قیمت کے برابر ایک روزہ سمجھا جائے گا۔

یعنی فطرانہ۔

حاشیہ: آیت کی یہ تشریح امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب کے مطابق ہے۔ ان کے نزدیک ”اُس جانور کے برابر چوپایوں میں سے کسی جانور“ کا مطلب یہ ہے کہ پہلے شکار کئے ہوئے جانور کی قیمت لگائی جائے، پھر اس قیمت کا کوئی چوپایہ حرم میں ذبح کیا جائے۔ تفصیل فقہ کی کتابوں میں درج ہے۔

تو یہ بات یہاں پر کی گئی۔ کہ

ترجمہ: یا اس کے برابر روزے رکھے جائیں، تاکہ وہ شخص اپنے کئے کا بدلہ چکھے۔ پہلے جو کچھ ہوچکا اللہ نے اسے معاف کردیا، اور جو شخص دوبارہ ایسا کرے گا تو اللہ اس سے بدلہ لے گا، اور اللہ اقتدار اور انتقام کا مالک ہے ﴿95﴾

اللہ پاک ہم سب کو شریعت پر دل سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔