حرمتِ شراب و جوا: شیطانی فتنوں سے بچاؤ، جذبہِ اطاعت اور مقامِ احسان
درس نمبر 228: سورۃ المائدة، آیت نمبر 90 تا 93
- شراب، جوا، بتوں کے تھان اور جوئے کے تیر ناپاک شیطانی کام ہیں جن سے بچنے میں ہی انسان کی فلاح ہے۔
- شیطان ان برائیوں کے ذریعے انسانوں کے درمیان بغض اور دشمنی پیدا کرتا ہے اور انہیں اللہ کی یاد اور نماز سے غافل کر دیتا ہے۔
- شراب عقل ختم کر کے دل میں چھپی نفرتیں ظاہر کرتی ہے جبکہ جوا مال کی محبت کے باعث لڑائیوں کا سبب بنتا ہے۔
- شریعت کے احکامات بتدریج نازل ہوئے، اس لیے قطعی حرمت کے حکم سے پہلے پی گئی شراب پر صحابہ کرام کے لیے کوئی گناہ یا پکڑ نہیں ہے۔
- ایمان اور تقویٰ کے ساتھ احسان کو اپنانا ضروری ہے، جس کا مطلب ہر کام میں یہ تصور رکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ۔ فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ﴿90﴾ اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَآءَ فِى الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ ﴿91﴾ وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاحْذَرُوْا ۚ فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ ﴿92﴾ لَيْسَ عَلَى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْا ؕ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ ﴿93﴾
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔
ترجمہ: اے ایمان والو ! شراب، جوا، بتوں کے تھان اور جوئے کے تیر، یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں، لہٰذا ان سے بچو، تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو ﴿90﴾
حاشیہ: بتوں کے تھان سے مراد وہ قربان گاہ ہے جو بتوں کے سامنے بنادی جاتی تھی، اور لوگ بتوں کے نام پر وہاں جانور وغیرہ قربان کیا کرتے تھے۔ اور جوئے کے تیروں کی تشریح اسی سورت کے شروع میں آیت نمبر 3 کے تحت حاشیہ نمبر 6 میں گزر چکی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جس کے ذریعے سے جوا کھیلا جاتا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ بعض دفعہ وہ قربانی کی وہ جانور ذبح کیا تو اس میں پھر وہ تیر ڈالے، تو اس میں جن کا تیر نکل آتا تو ان کا سب ہو جاتا، ورنہ باقی ختم ہو جاتا۔ تو یہ بھی ایک قسم کا جوا تھا۔ تو یہ چیزیں حرام ہو گئیں، جوا، بتوں کے تھان اور جوئے کے تیر اور شراب، یہ حرام ہو گئے۔ اور فرمایا کہ یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں۔ لہذا ان سے بچنا چاہیے فلاح حاصل کرنے کے لیے۔
ترجمہ: شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض کے بیج ڈال دے، اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے۔ اب بتاؤ کہ کیا تم (ان چیزوں سے) باز آجاؤ گے؟ ﴿90﴾
دیکھیں اس دور کی جو بات ہے۔ اس کو اگر ہم دیکھیں تو ذرا وہ بات سمجھ میں آ جائے گی جو قرآن پاک میں ہے اور اس وقت جو ہو رہا تھا اس کی بات سمجھ میں آ جائے گی۔ شراب اور جوا یہ اب بھی بہت ساری لڑائیوں اور دشمنیوں کی جڑیں ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو شراب کے ذریعے سے انسان اپنے حواس کھو دیتا ہے، عقل ختم ہو جاتی ہے۔ اس وجہ سے وہ سمجھتا نہیں ہے۔ اور وہ جو اس کے اندر جو وساوس ہوتے ہیں، وساوس، جس پر انسان کنٹرول کرتا ہے۔ یا اس کی جو نفسانی خواہشات ہوتی ہیں۔جس پر انسان کنٹرول کرتا ہے۔ وہ جو نفسانی خواہشات پر اور وساوس پر جب اس کا کنٹرول ختم ہو جاتا ہے تو وہ ظاہر ہونے لگتی ہیں۔
مثال کے طور پر ایک شرابی ہے۔ جس نے شراب پی لی ہے۔ تو وہ جو اس بات کو چھپانا چاہتا تھا وہ نہیں چھپا سکے گا، وہ کہہ دے گا۔ مطلب ظاہر ہے کہ وہ تو اس وقت کنٹرول میں نہیں ہو گا۔ تو اگر کسی کے لیے اس کے دل میں بغض ہے، تو وہ ظاہر ہو جائے گا۔ اور اگر کسی کے لیے اس کے دل میں محبت ہے، تو وہ بھی ظاہر ہو جائے گی۔ وہ ایک شرابی تھے۔ مجھے اس وقت نام ان کا بھول رہا ہے، مشہور وہ تھے، شاعر تھے۔ تھے شرابی۔ تو پورا drunk تھے تو لوگ جو ان کے ساتھی تھے ان کو چھیڑ رہے تھے۔ فلاں کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے اس کے بارے میں؟ وہ بد زبانی کر لیتے تھے، فلاں کے بارے میں کیا خیال ہے اس کے بارے میں؟ فلاں کے بارے میں کیا خیال ہے اس کے؟ ایک خبیث نے اس وقت اسے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا خیال ہے؟ تو وہ غصے سے اچھل پڑا۔ اس کے اوپر پل پڑا، کہتے ظالم جو میرے پاس ایک چیز ہے وہ بھی ختم کرنا چاہتے ہو؟ آپ نے اس پاک ہستی کا نام میرے جیسے پلید آدمی کے سامنے کیوں لے لیا؟ وہ اس کو اپنے آپ کو بچانا، اب دیکھو اس کے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت تھیوہ ظاہر ہو گئی۔
اگرچہ تھے شرابی لیکن اسی طرح مطلب یہ ہے کہ جس کے دل میں جو محبت ہوتی ہے وہ بھی ظاہر ہو جاتی ہے، جو نفرت ہوتی ہے وہ بھی ظاہر ہو جاتی ہے۔ اب کم از کم محبت تو کوئی چلو نہیں چھپاتا، بعض دفعہ نہیں چھپاتا بعض دفعہ چھپاتا بھی ہے۔ اگر وہ راز ہو۔ تو چھپاتا بھی ہے لیکن بعض دفعہ نہیں چھپاتا۔ لیکن نفرت کو تو چھپاتا ہے۔ تو جو نفرت ہے وہ بھی ظاہر ہو جاتی ہے۔
اب ذرا تھوڑا سا اس میں ایک نکتہ ہے۔ -واللہ اعلم- یہ ایسا نکتہ ہے جو کہ discussable۔ اکثر میں عرض کرتا رہتا ہوں کہ دل اور دماغ اور قلب و جگر۔ یہ دو chambers ہیں۔ دل اور دماغ جو ہے وہ گویا کہ دماغ سوچتا ہے، دل اس کی تائید کرتا ہے۔ یا رد کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ جیسے ایمان و کفر ہوتا ہے۔ تو اس level کی جو بات ہوتی ہے وہ بھی دل میں ہوتی ہے۔ تو وہ مطلب یہ ہے کہ اس کی تائید کرتا ہے یا اس کو رد کرتا ہے۔ اب اس میں بات یہ ہے کہ جس وقت دماغ پر اثر ہو جاتا ہے یعنی شراب کی وجہ سے۔ تو جو اس کے دل کی بات ہے وہ اکیلی رہ جاتی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ وہ اکیلی رہ جاتی ہے، وہ باہر آ جاتی ہے۔ وہ پھر چھپی نہیں رہ سکتی۔ کیونکہ شراب وہ اثر کرتی ہے کس چیز پر؟ وہ دماغ پر کرتی ہے، عقل کو ختم کر لیتی ہے۔ لہذا وہ ظاہر ہو جاتی ہے۔ جیسے اس صورت میں وہ چونکہ تھی تو لہذا ظاہر ہو گئی ہے اور ساتھ یہ کہ نفرت اگر ہو تو وہ بھی ظاہر ہوگی ، کیونکہ یہ دونوں چیزیں دل میں ہوتی ہیں محبت اور نفرت۔ تو وہ چیز ظاہر ہو جاتی ہے۔ اس وجہ سے جو چیز چھپانا چاہتا ہے planning کے ساتھ کہ وہ نہیں سامنے لانا چاہتا ہے یا اپنے آپ کو کنٹرول کر کے لڑائیوں سے بچتا ہے۔ تو جس وقت شراب پی لی تو وہ بات کر لے گا، جب کر لے گا تو لڑائی ہو جائے گی۔ اور اس طرح کسی اور کے ساتھ وہ تو ظاہر ہے دشمنی ہو جائے گی۔ تو یہ ساری باتیں شراب کی وجہ سے جو ہوتی ہیں وہ تو اس طرح ہوتی ہیں۔
جوا کیا چیز ہے؟ یہ چونکہ نفس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ انسان مال کی محبت کی وجہ سے۔ تو اس میں چیز سامنے ایک ہوتی ہے۔ اور طلب کرنے والے دو ہوتے ہیں۔ تو اب چونکہ peak پر ہوتی ہے، جوا اس وقت انسان کھیلتا ہے جب مال کی محبت peak پہ ہو۔ یعنی اس کے لیے حرام پہ جانے کے لئے اس کو کوئی مشکل نہیں ہوتی اور معاشرے کی خفت سے بچنا بھی اس کے لیے مسئلہ نہیں ہوتا۔ تو یہ peak پہ ہوتی ہے۔ اب جب peak پر ہو تو ایک ہار گیا۔ اور دوسرا جیت گیا۔ تو جو جیت گیا اس کی جیت کو ہارنے والا برداشت نہیں کر پاتا۔ اگر وہ کنٹرول کر لے تو کر لے کنٹرول لیکن وہ کنٹرول lose ہو جاتا ہے۔ تو اکثر جوئے کے بعد لڑائی ہوتی ہے۔ مطلب جوا جب کھیلا جاتا ہے تو اس میں لڑائیاں بالکل معمول کے مطابق ہیں۔ جو جوئے خانے ہیں اس میں باقاعدہ special force وہیں پر موجود ہوتی ہے کہ اگر یہ آپس میں لڑے تو پھر ان کو کیسے separate کیا جائے؟ اس قسم کے غنڈے لوگ وہاں پر جو ہوتے ہیں وہ جوئے خانے میں تو غنڈے لوگ ہی چلتے ہیں آج کل۔ تو وہ موجود ہوتے ہیں تاکہ مطلب ہے کہ ان کی لڑائیوں کو روک سکیں کیونکہ لڑائیاں وہاں پر بالکل فطری ہیں۔ peak پر ہوتی ہے۔
تو شراب ہے، جوا ہے، یہ حرام ہو گیا۔ بتوں کے تھان اور جوئے کے تیر وہ تو اس کے لحاظ سے ہو گیا۔ تو یہ شرک بھی ہے بتوں والا اور یہ سارا تو ناپاک تو کام اس طرح ہے اور دوسری طرف یہ شراب بھی ہے اور جوا بھی ہے، تو فرمایا کہ یہ سب ناپاک شیطانی کام ہے۔ کیونکہ شیطان کیا کام کرتا ہے؟
ترجمہ: شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض کے بیج ڈال دے۔
اب دیکھو یہاں ان دونوں کا ذکر کیا گیا۔ کہ یہ مطلب ہے کہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض کے بیج ڈالے۔ اور دوسری بات یہ فرمائی
ترجمہ: اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے۔
کیونکہ جو شرابی ہوتا ہے۔ یا جو جوئے باز ہوتا ہے۔ یہ جس condition میں ہوتا ہے اس وقت وہ اللہ کو یاد نہیں کر رہا ہوتا۔ اور اللہ کی یاد سے وہ غافل ہوتا ہے۔ اور نماز کی بھی پروا نہیں کرتا۔
یہ شطرنج وغیرہ جو ہے۔ یہ اس قسم کا گیم ہے۔ کہ اس میں جو لگ جائیں تو بالکل پتہ نہیں چلتا، سات سات آٹھ آٹھ گھنٹے بعض دفعہ لگ جاتے ہیں۔ اور مطلب ہے کہ اٹھتے نہیں ہیں اپنے آپ سے۔ لوگوں نے جنازے چھوڑے ہیں اپنے رشتہ داروں کے شطرنج کی وجہ سے۔
تو یہ مطلب یہ ہے کہ اتنا involve کرتا ہے آدمی کو کہ پھر وہ ان چیزوں کی پرواہ نہیں ہوتی۔
اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے۔ اب بتاؤ کہ کیا تم (ان چیزوں سے) باز آجاؤ گے؟ ﴿90﴾
یہ کن سے کہا گیا؟ اس وقت جو تھے صحابہ کرام میں جو مطلب ظاہر ہے شراب تو تھی۔ جوا نہیں تھا۔ وہ تو کافروں میں تھا۔ لیکن شراب اس وقت جو پی جا رہی تھی، اس وقت ظاہر ہے ماشاءاللہ مٹکوں کے مٹکے مدینہ منورہ کی گلیوں میں بہائے جانے لگے۔ اور پھر اس کے بعد وہ بالکل شراب بند ہو گئی۔
تو یہ بات یہ ہے کہ یہ چیز جو ہے وہ ایسی ہے کہ اللہ پاک نے step by step اس چیز کو بند کر لیا۔ یعنی پہلے صرف یہ فرمایا کہ جس وقت شراب کے نشے میں ہو تو اس وقت نماز کے قریب نہ جاؤ۔ یہ ایک اشارہ تھا۔ یہ ایک اشارہ تھا۔ اس کے بعد پھر مزید، پھر اس کے بعد مزید اور اس کے ذریعے سے بالکل واضح طور پہ پابندی لگ گئی۔
ترجمہ: اور اللہ کی اطاعت کرو، اور رسول کی اطاعت کرو، اور (نافرمانی سے) بچتے رہو۔
دیکھیں اس کے فوراً بعد یہ آیا یعنی اللہ کی اطاعت اور رسول کی اطاعت کر کے نافرمانی سے بچتے رہو۔ مطلب یہ ہے کہ نافرمانی کی definition جو ہے وہ تو اللہ اور رسول کی اطاعت سے آئے گی۔ کہ جو چیز اللہ تعالیٰ کہے گا تو اس کی نافرمانی جو ہے وہ نافرمانی ہو گی۔ تو اس نافرمانی سے بچتے رہو۔
ترجمہ: اور اگر تم (اس حکم سے) منہ موڑو گے تو جان رکھو کہ ہمارے رسول پر صرف یہ ذمہ داری ہے کہ وہ صاف صاف طریقے سے (اللہ کے حکم کی) تبلیغ کردیں ﴿92﴾
بات تم تک پہنچا دے۔ اس کے بعد تم نہیں مانتے ہو اس کی ذمہ داری تمہاری بھی ہوئی، تمہاری ہو گی۔
ترجمہ: جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، اور نیکی پر کار بند رہے ہیں، انہوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا ہے، اس کی وجہ سے ان پر کوئی گناہ نہیں ہے،
یعنی پہلے چونکہ حکم نہیں آیا تھا اس وجہ سے اس پر گناہ بھی نہیں تھا۔ کیونکہ حکم کی خلاف ورزی جرم ہے۔ تو حکم آیا نہیں تھا لہذا ان پر گناہ نہیں ہے۔
حاشیہ: جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو بعض صحابہ کرام کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ جو شراب حرمت کا حکم آنے سے پہلے پی گئی ہے، کہیں وہ ہمارے لئے گناہ کا سبب نہ بنے۔
خوف تھا تقویٰ تھا۔
حاشیہ: اس آیت نے یہ غلط فہمی دُور کردی، اور یہ بتادیا کہ چونکہ اس وقت اللہ تعالیٰ نے شراب پینے سے صاف الفاظ میں منع نہیں کیا تھا، اس لئے اس وقت جنہوں نے شراب پی تھی اس پر ان کی کوئی پکڑ نہیں ہوگی۔
کیونکہ یہ اصل میں اس بات کی میں ذرا تھوڑا سا تشریح کر دوں کیونکہ یہ بہت نازک پوائنٹ ہے۔ یہ معاملہ صحابہ کرام کا ہے۔ اب صحابہ کرام جو تھے وہ تو ہر وقت اللہ پاک کے حکم کی فرمانبرداری کرنے والے تھے۔ ہاں! اللہ جل شانہ کی حکمت بالغہ نے جو شریعت کے احکامات ہیں وہ دھیرے دھیرے اتارے۔ یعنی پہلے سے ان کی وہ تمام چیزیں جو ہو سکتی ہیں نافرمانی کے اسباب بن سکتے ہیں وہ چیزیں ختم کروا دیں یا کم کروا دیں۔ تو اس طرح مطلب ہے کہ جب یہ ہو گیا تو پھر اس کے بعد وہ حکم آ جاتا۔ تو اب یہ بات ہے کہ اس وقت چونکہ ہم پر پابندی پہلے سے ہے تو ہم شراب سے نفرت کرتے ہیں۔ الحمدللہ، جو مسلمان ہیں جو صحیح ذہن رکھنے والے ہیں تو وہ شراب سے نفرت کرتے ہیں۔ اب ہمارے لیے یہ قرآن پاک کی جو آیت مبارکہ ہے اس میں جو یہ والی بات ہے اور صحابہ کرام کا جو مقام ہے ان دونوں چیزوں کو جب جمع کر لیں تو وسوسہ شیطانی یہ آ سکتا ہے اور آتا بھی ہے بعض لوگوں کو، اور بعض لوگ تو کہہ بھی دیتے ہیں۔ جو گمراہ لوگ ہوتے ہیں وہ تو کہہ بھی دیتے ہیں کہ نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ شراب پی کر صحابہ کرام یہ تو کیسے؟ وہ تو اونچے کردار کے تھے، اچھے اخلاق کے تھے۔ اس قسم کی باتیں وہ کر سکتے ہیں۔ اس کا جواب بھی اسی میں ہے کہ حکم اللہ کا ہے تمہارا تو نہیں۔ تو فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اور اللہ پاک علیم بھی ہے حکیم بھی ہے۔ اور ظاہر ہے انصاف کرنے والے بھی ہیں۔ تو اب ایسی صورت میں اللہ پاک نے جب ان کو حکم ابھی نہیں دیا تھا تو وہ تو حکم کے پابند تھے نا۔ حکم مانتے تھے۔ تو حکم ماننے میں تو ان سے وہ نہیں ہوئی۔ تو اب جس وقت حکم آ گیا پھر دیکھو کہ کیا کیا انہوں نے۔ پھر تو انہوں نے مٹکے کے مٹکے بہا دیے۔ لیکن جس وقت تک حکم نہیں آیا تھا اس وقت تک وہ شریعت کی رو میں وہ نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ ان کی طرف مجرم کا وہ نہیں ہو سکتا۔ وہ صرف اور صرف یہ ہو سکتا ہے کہ بعض صحابہ کرام کی فطرتاً مطلب ان چیزوں سے نفرت تھی جیسے ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہوں نے کبھی نہیں پی۔ لیکن بعض صحابہ کرام اب دیکھیں اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اگر کسی کی فطرت میں یہ چیز ہو مثلاً اس کی طلب ہو لیکن اس کو حکم دیا جائے کہ نہ پیو، نہ کرو یہ۔ اور وہ اس حکم کو مان لے تو یہ اس کے لیے زبردست مجاہدہ ہو گا۔ اس کو مجاہدے کا اجر ملے گا۔ اس کو مجاہدے کا اجر ملے گا۔ تو اب اس میں بات یہ ہے کہ جیسے ہی حکم آ گیا تو اگر ان کے نفس میں خواہش تھی وہ تو دب گئی۔ ان کے دل میں اگر اس کی محبت تھی وہ ختم ہو گئی۔ اور عقل تو شریعت پر پہلے سے convinced تھی مطلب یہ ہے کہ بات تینوں قسم کی ختم ہو گئی۔ اب اس کے بعد پھر کوئی بات ہی نہیں رہی۔ لہذا ان کے بارے میں ہم کیا بات کر سکتے ہیں؟ ہاں ان کی عظمت کی ہم یہ بات کر سکتے ہیں کہ جتنی ان کے اندر طلب تھی اس طلب کے باوجود انہوں نے جس طریقے سے اس پر حکم پر عمل کیا یہ ان کی greatness ہے۔ یہ ان کی پختگی ہے۔ اللہ پاک کے حکم ماننے پر ان کی پختگی ہے کہ انہوں نے پھر اس کے بعد ذرا اس کی طرف منہ کر کے نہیں دیکھا پھر یہ نہیں بات ہوئی۔
تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم لوگوں کو اس context میں اس کو دیکھنا ہو گا۔ تاکہ یہ جو شیطان ہمارے دلوں میں وسوسہ ڈال سکتا ہے ان وسوسوں سے ہم بچتے رہیں۔
ترجمہ: بشرطیکہ وہ آئندہ ان گناہوں سے بچتے رہیں، اور ایمان رکھیں اور نیک عمل کرتے رہیں، پھر (جن چیزوں سے آئندہ روکا جائے ان سے) بچا کریں، اور ایمان پر قائم رہیں، اور اس کے بعد بھی تقویٰ اور احسان کو اپنائیں۔ اللہ احسان پر عمل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ﴿93﴾
حاشیہ: احسان کے لغوی معنی ہیں ”اچھائی کرنا“۔ اس طرح یہ لفظ ہر نیکی کو شامل ہے، لیکن ایک صحیح حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ تشریح فرمائی ہے کہ انسان اللہ کی عبادت اس طرح کرے جیسے وہ اس کو دیکھ رہا ہے، یا کم از کم اس تصور کے ساتھ کرے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان اپنے ہر کام میں اللہ تعالیٰ کے سامنے ہونے کا دھیان رکھے۔
تو احسان کا جو لغوی معنی ہے وہ تو اچھائی کرنا ہے۔ اس کو change نہیں کیا گیا۔ صرف یہ والی بات ہے اس اچھائی کو حاصل کیسے کیا جائے؟ procedure کیا ہے؟ تو procedure یہ بات ہے کہ جو شخص یہ تصور بنا سکے کہ جیسے وہ اللہ کے سامنے ہے خود بخود اچھائی ہو گی پھر وہ کام اچھا ہی ہو گا۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جن کے لیے ہم کام کر رہے ہیں اگر وہ دیکھ رہا ہو یا اس کو ہم دیکھ رہے ہوں تو پھر وہ کام میں غلطی نہیں ہوتی۔ تو اسی طریقے سے گویا کہ وہ ہمارے لیے یہ procedure ہے لیکن procedure ایسا ہے کہ وہی quality ہے۔ وہی quality ہے۔ تو اس quality کو احسان کہا گیا۔ "أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ"۔ یہ وہی quality ہے۔ تو بس مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں نے اس quality کو حاصل کرنا ہے۔ اور اس کی definition خود بخود ہو جائے گی۔ اس کے مطابق ہو جائے گا۔
اللہ جل شانہ آپ سب کو کیفیت احسان حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس کے لیے جو محنت ہے اس محنت کو بھی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔