حلال و حرام کے احکام اور قسموں کا کفارہ

درس نمبر 227: سورۃ المائدة، آیت نمبر 87 تا 89

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. اللہ کی حلال کردہ پاکیزہ چیزوں کو اپنے اوپر حرام قرار دینا شریعت کو ہاتھ میں لینے کے مترادف اور بہت بڑا گناہ ہے۔
  2. تکیۂ کلام کے طور پر یا ماضی کی کسی بات کو سچ سمجھ کر کھائی جانے والی لغو قسموں پر کوئی گناہ اور کفارہ نہیں ہوتا۔
  3. ماضی کے کسی واقعے پر جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھانا سخت گناہ ہے جس کا کفارہ صرف سچی توبہ اور استغفار ہے۔
  4. مستقبل کے کسی کام کے لیے پختہ ارادے سے کھائی گئی قسم کو توڑنے کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا، کپڑے دینا، یا تین روزے رکھنا ہے۔
  5. اگر کسی ناجائز کام یا مصلحت کے خلاف قسم کھا لی جائے تو ایسی قسم کو توڑ کر کفارہ ادا کرنا ضروری ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ۔ فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَکُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ ﴿87﴾ وَ کُلُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا ۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ ﴿88﴾ لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِىٓ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ ۚ فَكَفَّارَتُهٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِيْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ ؕ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَيْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ ؕ وَاحْفَظُوْٓا اَيْمَانَكُمْ ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ﴿89﴾

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ نے تمہارے لیے جو پاکیزہ چیزیں حلال کی ہیں ان کو حرام قرار نہ دو، اور حد سے تجاوز نہ کرو۔ یقین جانو کہ اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ﴿87﴾

قانون اس طرح ہے کہ

حاشیہ: جس طرح حرام چیزوں کو حلال سمجھنا گناہ ہے، اسی طرح جو چیزیں اللہ نے حلال کی ہیں ان کو حرام سمجھنا بھی بڑا گناہ ہے۔

اصل میں ایک ہوتا ہے نا قانون کو ہاتھ میں لینا۔ تو وہ تو جرم ہے۔ اسی طریقے سے جو شریعت کو ہاتھ میں لینا ہے، وہ تو اس سے بڑا جرم ہے کیونکہ اللہ پاک کا قانون ہے۔ تو یہ جو لوگ حلال کو حرام قرار دیتے ہیں، حرام کو حلال قرار دیتے ہیں، تو یہ شریعت کو اپنے ہاتھ میں لینے والی بات ہے۔ گویا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم بھی اپنی طرف سے باتیں داخل کر سکتے ہیں۔ تو یہ بات بہت خطرناک ہوتی ہے، تو اس وجہ سے فرمایا کہ اس کو حرام سمجھنا بھی بڑا گناہ ہے۔

حاشیہ: مشرکینِ مکہ اور یہودیوں نے ایسی بہت سی چیزوں کو اپنے اوپر حرام کر رکھا تھا، جس کی تفصیل ان شاء اللہ سورۃُ الانعام میں آئے گی۔

ترجمہ: اور اللہ نے تمہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے حلال پاکیزہ چیزیں کھاؤ، اور جس اللہ پر تم ایمان رکھتے ہو اس سے ڈرتے رہو ﴿88﴾ اللہ تمہاری لغو قسموں پر تمہاری پکڑ نہیں کرے گا،

حاشیہ: ”لغو“ قسموں سے مراد ایک تو وہ قسمیں ہیں جو قسم کھانے کے ارادے کے بغیر محض محاورے اور تکیہ کلام کے طور پر کھالی جاتی ہیں،

ہمارے آفریدی لوگوں میں یہ بہت عام ہے۔ واللہ۔ "واللہ" ساتھ کہتے ہیں، مطلب "واللہ دا کار داسے"۔ وہ، وہ مطلب یہ ہے کہ وہ ان کی نیت نہیں ہوتی قسم کی، بس وہ زبان ان کی ایسی ہے کہ اس پہ یہ چیز چڑھ گئی ہے۔

حاشیہ: اور دوسرے وہ قسمیں بھی لغو کی تعریف میں داخل ہیں جو ماضی کے کسی واقعے پر سچ سمجھ کر کھائی گئی ہوں، مگر بعد میں معلوم ہو کہ جس بات کو سچ سمجھا تھا وہ سچ نہیں تھی۔ اس قسم کی قسموں پر نہ کوئی گناہ ہوتا ہے، اور نہ کوئی کفارہ واجب ہوتا ہے، البتہ بلاضرورت قسم کھانا کوئی اچھی بات نہیں ہے، اس لئے ایک مسلمان کو اس سے احتیاط کرنی چاہئے۔

ترجمہ: لیکن جو قسمیں تم نے پختگی کے ساتھ کھائی ہوں،

حاشیہ: اس سے مراد وہ قسم ہے جس میں آئندہ زمانے میں کوئی کام کرنے یا نہ کرنے کا عہد کیا گیا ہو۔ ایسی قسم کو توڑنا عام حالات میں بڑا گناہ ہے، اور اگر کوئی شخص ایسی قسم توڑ دے تو اس کا کفارہ بھی واجب ہے جس کی تفصیل آیت میں بیان فرمائی گئی ہے۔ ایک تیسری قِسم کی قَسم وہ ہے جس میں ماضی کے کسی واقعے پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا گیا ہو، اور مخاطب کو یقین دلانے کے لئے قسم کھالی گئی ہو۔ ایسی قسم سخت گناہ ہے، مگر دنیا میں اس کا کوئی کفارہ سوائے توبہ اور استغفار کے کچھ نہیں ہوتا۔

مثلاً ایک کام کیا ہے اور وہ قسم کھائے کہ میں نے نہیں کیا۔ تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ وہ ماضی کا وہ ہے لیکن وہ جھوٹ ہے، جھوٹی قسم ہے۔ تو یہ بات، یہ تو معلوم ہے ہمیں کہ یہ جیسے بعض لوگ قرآن پہ ہاتھ رکھ کے کہتے ہیں کہ یہ کام میں نے نہیں کیا۔ لیکن وہ کیا ہوتا ہے؟ اپنی اس بے عزتی سے بچنے کے لیے۔ تو ایسی صورت میں یہ بہت خطرناک بات ہے۔ اور اس سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔ اور توبہ استغفار اس سے تلافی کرنی چاہیے۔

ترجمہ: ان پر تمہاری پکڑ کرے گا۔ چنانچہ اس کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو وہ اوسط درجے کا کھانا کھلاؤ

یعنی جو بعد میں مستقبل والی ہے،

ترجمہ: جو تم اپنے گھر والوں کو کھلایا کرتے ہو، یا ان کو کپڑے دو، یا ایک غلام کو آزاد کرو۔ ہاں اگر کسی کے پاس (ان چیزوں میں سے) کچھ نہ ہو تو وہ تین دن روزے رکھے۔

فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَـٰثَةِ أَيَّامٍ۔

یعنی مطلب ہے جو یہ نہ کر سکے۔ تو پھر تین روزے رکھے۔ وہ یہ والی بات، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ چیزیں موجود ہوں تو پھر تو مطلب یہ نہیں کر سکتے۔ تو یہ ہے کہ

ترجمہ: یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم نے کوئی قسم کھالی ہو (اور اسے توڑ دیا ہو)، اور اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو۔

حاشیہ: مطلب یہ ہے کہ قسم کھالینا کوئی مذاق نہیں ہے، اس لئے اوّل تو قسمیں کم سے کم کھانی چاہئیں، اور اگر کوئی قسم کھالی ہو تو حتی الامکان اسے پورا کرنا ضروری ہے۔ البتہ اگر کسی شخص نے کوئی ناجائز کام کرنے کی قسم کھالی ہو تو اس پر واجب ہے کہ قسم کو توڑے اور کفارہ ادا کرے۔

مثلاً اگر آدمی قسم کھائے کہ میں مسجد نہیں جاوں گا تو ظاہر ہے مطلب وہ تو بات ناجائز ہے، مسجد تو جانا چاہیے۔ تو اس کو توڑنا پڑے گا۔ اور کفارہ بھی دینا پڑے گا، کفارہ اس طرح یعنی اس بے احتیاطی کے ساتھ قسم کھانے کی وجہ سے، بلکہ اس نے ایسی چیز سے قسم کھائی جو کہ کرنی چاہیے تھی۔

حاشیہ: اسی طرح اگر کسی جائز کام کی قسم کھائی، مگر بعد میں اندازہ ہوا کہ وہ کام مصلحت کے خلاف ہے، تب بھی ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت فرمائی ہے کہ ایسی قسم کو توڑ دینا چاہئے، اور کفارہ ادا کرنا چاہئے۔

جی ہاں، اس قسم کی باتیں ہوتی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ مثال کے طور پر اپنے بچوں کے بارے میں کوئی کہہ دے کہ اگر اس نے یہ کام کیا تو پھر میں اس کو یہ نہیں دوں گا۔ اور وہ پتہ چل گیا کہ نہیں، یہ تو مصلحت کے خلاف ہے، اس سے تو کام بگڑ جائے گا۔ نقصان ہو جائے گا۔ تو پھر اس کو توڑنا چاہیے اور ساتھ اس کا کفارہ بھی دینا چاہیے۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو قرآن پاک کے مطابق جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ان سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور جن چیزوں کے کرنے کا حکم دیا ہے اس کو کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ہر قسم کی بے راہ روی سے، غلط سوچ سے، غلط کام سے محفوظ فرمائے

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّآ ۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ۔ سُبْحَـٰنَ رَبِّكَ رَبِّ ٱلْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَـٰمٌ عَلَى ٱلْمُرْسَلِينَ وَٱلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔