نجاشی کا قبولِ اسلام، یہود و نصاریٰ کا رویہ اور حق کی پہچان
درس نمبر 226: سورۃ المائدة، آیت نمبر 83 تا 86
الحمد للہ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔
وَاِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰی اَعْيُنَهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَ ﴿83﴾ وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَمَا جَآءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ اَنْ يُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِيْنَ ﴿84﴾ فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا ؕ وَ ذٰلِکَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ ﴿85﴾ وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ ﴿86﴾
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
الحمدللہ آج یہ ساتواں پارہ شروع ہو گیا ہے اور فرماتے ہیں
ترجمہ: اور جب یہ لوگ وہ کلام سنتے ہیں جو رسول پر نازل ہوا ہے تو چونکہ انہوں نے حق کو پہچان لیا ہوتا ہے، اس لئے تم ان کی آنکھوں کو دیکھو گے کہ وہ آنسوؤں سے بہہ رہی ہیں،
حاشیہ: جب مسلمانوں کو حبشہ سے نکالنے کا مطالبہ لے کر مشرکینِ مکہ کا وفد نجاشی کے پاس آیا تھا تو اس نے مسلمانوں کو اپنے دربار میں بلا کر ان کا موقف سنا تھا۔ اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے اس کے دربار میں بڑی مؤثر تقریر کی تھی جس سے نجاشی کے دل میں مسلمانوں کی عظمت اور محبت بڑھ گئی، اور اسے اندازہ ہو گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہی آخری نبی ہیں جن کی پیشنگوئی تورات اور انجیل میں کی گئی تھی۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو نجاشی نے اپنے علماء اور راہبوں کا ایک وفد آپ کی خدمت میں بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے سورہ یس کی تلاوت فرمائی۔ جسے سن کر ان لوگوں کی آنکھوں سے آنسو آ گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کلام اس کلام کے بہت مشابہ ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا چنانچہ یہ سب لوگ مسلمان ہو گئے۔
ترجمہ: چنانچہ ان کے اس قول کی وجہ سے اللہ ان کو وہ باغات دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی نیکی کرنے والوں کا صلہ ہے ﴿85﴾ اور جن لوگوں نے کفر اپنایا ہے اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے، وہ دوزخ والے لوگ ہیں ﴿86﴾
تو یہ مطلب ہے کہ یہاں پر اللہ جل شانہ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ جنت میں رہیں گے۔
حاشیہ: اور جب یہ واپس حبشہ گئے تو نجاشی نے بھی اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا.ان آیات میں اس واقعے کی طرف اشارہ ہے۔
بہرحال یہ ہے کہ ایک طرف تو یہود کی چیرہ دستیاں اور اپنے اوپر ظلم اور حقائق سے انکار اور دوسری طرف ان عیسائیوں کا جن کو اللہ جل شانہ نے ہدایت نصیب فرما دی اور قرآن کا ان کے اوپر اثر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہستی کی حقیقت جو ہے نا ان کے اوپر کھل گئی۔ تو انہوں نے نہ صرف مسلمانوں کو باعزت طریقے سے وہاں رہنے دیا بلکہ جو مشرکین تحائف وغیرہ لے کے گئے تھے ان کو دینے کے لیے ان کو بھی واپس کر دیا اور ان سے کہا کہ میں ان کو واپس نہیں کر سکتا ان لوگوں کو۔ تو یہ مطلب ہے کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جو یہود ہیں یہ کیا ہیں یہ مغضوب علیہم ہیں ان کو سچ کا پتہ ہوتا ہے لیکن سچ کے اوپر چلتے نہیں ہیں۔
جبکہ جو عیسائی ہیں یہ گمراہ ہیں۔ تو جنہوں نے گمراہ کیا ہے تو ظاہر ہے انہوں نے ان کو غلط باتیں بتائی ہیں لیکن جب ان کو صحیح بات معلوم ہو جائے گی تو ظاہر ہے یہ مسلمان ہو سکتے ہیں۔ اس وجہ سے عیسائیوں میں کثرت کے ساتھ لوگ مسلمان ہوتے ہیں۔ ہاں جی اور یہودیوں میں بہت کم لوگ مسلمان ہوتے ہیں اب بھی صورتحال یہی ہے۔ ہاں جی تو قیامت کے قریب بھی یہی بات ہوگی جب عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے تو ان کو دیکھ کر سارے عیسائی مسلمان ہو جائیں گے۔ اور یہود اور بھی دشمن ہو جائیں گے۔ پھر اللہ تعالی کی ان کے اوپر پھٹکار تو ہے ہی تو ہر شجر حجر سے آواز آئے گی کہ یہ میرے پیچھے یہودی ہے یہ میرے پیچھے یہودی ہے۔ تو وہ لیکن صرف ایک درخت ہے غرقد کی وہ ان کو پناہ دے گی۔ تو ان کی کاشت آج کل انہوں نے شروع کر لی ہے۔ تو بہرحال ہم لوگوں کو ان آیات مبارکہ سے یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ اللہ جل شانہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔ ظاہر ہے جو بھی حق کو مانتا ہے تو خود اپنے لیے مانتا ہے اور اس کو اللہ پاک نوازتا ہے۔ اور جو لوگ حق کو قبول نہیں کرتے تو اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ معاملہ پھر ان کے ساتھ اس طرح اس کا الٹ ہوتا ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو سمجھ عطا فرما دے
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين