یہود و نصاریٰ کا طرزِ عمل اور مسلمانوں سے ان کا رویہ
درس نمبر 225: سورۃ المائدة، آیت نمبر 78 تا 82
- بنی اسرائیل پر حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کی زبانی لعنت اور اس کے اسباب۔
- یہودیوں کی مسلمانوں سے شدید حسد و عداوت اور مشرکینِ مکہ سے خفیہ دوستیاں۔
- عیسائیوں (نصاریٰ) کی مسلمانوں سے نسبتاً قربت، ان میں درویشی اور تکبر کا نہ ہونا۔
- ہجرتِ حبشہ کا واقعہ، نجاشی بادشاہ کا مسلمانوں کو پناہ دینا اور مشرکین کا تحفہ واپس کرنا۔
- یہود کا دانستہ حق کی مخالفت کی بنا پر 'مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ' ہونا اور نصاریٰ کا دھوکے کا شکار ہو کر 'ضَالِّينَ' (گمراہ) ہونا۔
- سینٹ پال (St. Paul) کی سازشوں کا ذکر اور عصرِ حاضر میں عیسائیوں کے تیزی سے اسلام قبول کرنے کی وجوہات۔
آپ کی ہدایات کے عین مطابق، آسان ترجمہ قرآن کے متن کو شامل کر کے اور مقرر کی تشریح کو الگ رکھ کر مطلوبہ فارمیٹنگ کے ساتھ فائل تیار کر دی گئی ہے:
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ ؕ-ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ (78) كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُؕ-لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ (79) تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ؕ-لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ(80) وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰـكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ(81) لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَهُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا ۚ-وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰىؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُهْبَانًا وَّ اَنَّهُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ(82)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: بنو اسرائیل کے جو لوگ کافر ہوئے ان پر داؤد اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے لعنت بھیجی گئی تھی۔
حاشیہ: یعنی اس لعنت کا ذکر زبور میں بھی تھا جو حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی، اور انجیل میں بھی تھا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اتری تھی۔
ترجمہ: یہ سب اس لئے ہوا کہ انہوں نے نافرمانی کی تھی، اور وہ حد سے گذر جایا کرتے تھے ﴿78﴾ وہ جس بدی کا ارتکاب کرتے تھے، اس سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کا طرزِ عمل نہایت برا تھا ﴿79﴾ تم ان میں سے بہت سوں کو دیکھتے ہو کہ انہوں نے (بت پرست) کافروں کو اپنا دوست بنایا ہوا ہے۔
حاشیہ: یہ ان یہودیوں کی طرف اشارہ ہے جو مدینہ منورہ میں آباد تھے، اور انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ بھی کیا ہوا تھا، اس کے باوجود انہوں نے درپردہ مشرکین مکہ سے دوستیاں گانٹھی ہوئی تھیں، اور ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے۔ بلکہ ان کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے ان سے یہ تک کہہ دیتے تھے کہ ان کا مذہب مسلمانوں کے مذہب سے اچھا ہے۔
ترجمہ: یقیناً جو کچھ انہوں نے اپنے حق میں اپنے آگے بھیج رکھا ہے وہ بہت برا ہے، کیونکہ (ان کی وجہ سے) اللہ ان سے ناراض ہو گیا ہے، اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے ﴿80﴾ اگر یہ لوگ اللہ پر اور نبی پر اور جو کلام ان پر نازل ہوا ہے اس پر ایمان رکھتے تو ان (بت پرستوں) کو دوست نہ بناتے، لیکن (بات یہ ہے کہ) ان میں زیادہ تعداد ان کی ہے جو نافرمان ہیں ﴿81﴾
ترجمہ: تم یہ بات ضرور محسوس کر لو گے کہ مسلمانوں سے سب سے سخت دشمنی رکھنے والے ایک تو یہودی ہیں، اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو (کھل کر) شرک کرتے ہیں۔ اور تم یہ بات بھی ضرور محسوس کر لو گے کہ (غیر مسلموں میں) مسلمانوں سے دوستی میں قریب تر وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو نصرانی کہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں بہت سے علم دوست عالم اور بہت سے تارک الدنیا درویش ہیں.
حاشیہ: مطلب یہ ہے کہ عیسائیوں میں چونکہ بہت سے لوگ دنیا کی محبت سے خالی ہیں، اس لئے ان میں قبولِ حق کا مادہ بھی زیادہ ہے، اور کم از کم انہیں مسلمانوں سے اتنی سخت دشمنی نہیں ہے، کیونکہ دنیا کی محبت وہ چیز ہے جو انسان کو حق کے قبول کرنے سے روکتی ہے۔ اس کے برعکس یہودیوں اور مشرکینِ مکہ پر دنیا پرستی غالب ہے، اس لئے وہ سچے طالبِ حق کا طرزِ عمل اختیار نہیں کر پاتے۔ عیسائیوں کے نسبۃً نرم دل ہونے کی دوسری وجہ قرآن کریم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ تکبر نہیں کرتے، کیونکہ انسان کی انا بھی اکثر حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ عیسائیوں کو جو مسلمانوں سے محبت میں قریب تر فرمایا گیا ہے اس کا ایک اثر یہ تھا کہ جب مشرکینِ مکہ نے مسلمانوں پر ظلم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تو بہت سے مسلمانوں نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس پناہ لی، اور نہ صرف نجاشی، بلکہ اس کی رعایا نے بھی ان کے ساتھ بڑے اعزاز واکرام کا معاملہ کیا۔ بلکہ جب مشرکینِ مکہ نے اپنا ایک وفد نجاشی کے پاس بھیجا اور اس سے درخواست کی کہ جن مسلمانوں نے اس کے ملک میں پناہ لی ہے انہیں اپنے ملک سے نکال کر واپس مکہ مکرمہ بھیج دے، تاکہ مشرکین ان کو اپنے ظلم کا نشانہ بنا سکیں تو نجاشی نے مسلمانوں کو بلا کر ان سے ان کا موقف سنا اور مشرکینِ مکہ کا مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا، اور جو تحفے انہوں نے بھیجے تھے وہ بھی واپس کر دیئے۔ لیکن یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ عیسائیوں کو جو مسلمانوں سے قریب تر کہا گیا ہے، یہ ان عیسائیوں کی اکثریت کے اعتبار سے کہا گیا ہے جو اپنے مذہب پر عمل کرتے ہوئے دنیا کی محبت سے دُور ہوں، اور ان میں تکبر نہ پایا جاتا ہو۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر زمانے کے عیسائیوں کا یہی حال ہے، چنانچہ تاریخ میں ایسی بھی بہت مثالیں ہیں جن میں عیسائیوں نے مسلمانوں کے ساتھ بدترین معاملہ کیا۔
ایک بات اس سلسلے میں اور عرض کی جا سکتی ہے کہ عیسائی جو ہیں یہ گمراہ لوگ ہیں اور یہود جو ہیں یہ مَغْضُوبُٗ عَلَيْهِمْ ہیں۔ یعنی یہودیوں کو پتا ہے کہ ہم غلطی پر ہیں لیکن اس کے باوجود وہ غلط کر رہے ہیں اور عیسائیوں کو انہوں نے دھوکہ دیا ہے۔ عیسائیوں کو گمراہ کر دیا ہے۔ لہٰذا جب ان کو اصل چیز کا پتا چل جاتا ہے تو پھر وہ واپس ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں تشریف لائیں گے تو جتنے عیسائی ہوں گے وہ سب مسلمان ہو جائیں گے، جبکہ یہودی اور بھی سخت مخالف ہو جائیں گے۔
تو یہودیوں کے اندر اصل میں دشمنی پائی جاتی ہے اور عیسائیوں کو دشمن بنا دیا گیا ہے۔ دونوں میں فرق ہے۔ یہودیوں میں دشمنی پائی جاتی ہے مسلمانوں کے ساتھ حسد کی وجہ سے۔ جبکہ عیسائی ان کے ساتھ حسد کی وجہ سے نہیں کر رہے یہ بات، وہ گمراہ ہو چکے ہیں، ان کو غلط پڑھایا گیا ہے اور غلط سمجھایا گیا ہے۔ اور ان میں اثر یہودیوں کا تھا اس وقت بھی۔ وہ St. Paul جو ہیں وہ جو ان کا یہودی تھا بظاہر عیسائی ہو گیا تھا، تو اس نے ان کو مختلف بارہ شاگردوں کو الگ الگ انجیل سکھا دیا۔
تو یہ مطلب ظاہر ہے کہ ان لوگوں نے، گویا یہودیوں نے، عیسائیوں کو گمراہ کر دیا، تو یہ ضَالِّينَ ہیں۔ اور یہودی مَغْضُوب عَلَيْهِمْ ہیں۔ تو جو مَغْضُوب عَلَيْهِمْ ہیں ان کو تو پتا ہے، لہٰذا ان کے اوپر کوئی چیز اثر نہیں کرتی بلکہ انہوں نے یہاں تک کہا تھا، قرآن پاک میں ہی ہے: وَقَالُوا قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَل لَّعَنَهُمُ اللهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيلًا مَّا يُؤْمِنُونَ۔ کہ انہوں نے کہا کہ ہمارے دل غلاف میں بند ہیں، ان کے اوپر کوئی چیز اثر نہیں کر سکتی۔ اور حالانکہ وہ انہوں نے جو کفر کیا اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ان پر لعنت کی گئی، تو اس وجہ سے تھوڑے لوگ ان کے مسلمان ہوتے ہیں۔ تو یہودیوں کے ابھی تک بھی دیکھیں نا بہت تھوڑے لوگ مسلمان ہوئے ہیں، اس وقت بھی اور اب بھی بہت تھوڑے مسلمان ہوتے ہیں۔
جبکہ عیسائی کثرت کے ساتھ مسلمان ہوتے ہیں، امریکہ میں یا یورپ میں یا جو بھی ہیں، ہاں وہاں پر مطلب ایک عیسائی جلدی مسلمان ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ گمراہ ہیں۔ لہٰذا جب بھی ان کو اپنی گمراہی کا اندازہ ہوتا ہے اور پتا چلتا ہے تو پھر وہ واپس ہو جاتے ہیں۔
اللہ جل شانہ ہمیں دونوں کے شر سے محفوظ فرما دے اور ان کو بھی حق کی ہدایت نصیب فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔