عقیدہ توحید، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشریت اور دین میں غلو کی ممانعت

درس نمبر 224: سورۃ المائدة، آیت نمبر 74 تا 77

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • اللہ تعالیٰ کی صفتِ مغفرت اور توبہ کی اہمیت۔
  • حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہ السلام کا بشری مقام اور ان کا خدا نہ ہونا۔
  • عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث اور باطل خیالات کا مدلل رد۔
  • انسان کا اپنی نفسانی خواہشات کا غلام بن جانا اور اس کے نقصانات۔
  • نفع اور نقصان کا حقیقی مالک صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
  • دین میں غلو (افراط و تفریط) کی سخت ممانعت (یہود و نصاریٰ کے طرزِ عمل کی روشنی میں)۔

الحمد للہ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔

اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَهٗؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(74) مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌۚ-قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُؕ-وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌؕ-كَانَا یَاْكُلٰنِ الطَّعَامَؕ-اُنْظُرْ كَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ(75) قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًاؕ-وَ اللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(76) قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ۠ (77)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔

ترجمہ: کیا پھر بھی یہ لوگ معافی کے لئے اللہ کی طرف رجوع نہیں کریں گے، اور اس سے مغفرت نہیں مانگیں گے؟ حالانکہ اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے ﴿74﴾ مسیح ابن مریم تو ایک رسول تھے، اس سے زیادہ کچھ نہیں، ان سے پہلے (بھی) بہت سے رسول گذر چکے ہیں، اور ان کی ماں صدیقہ تھیں۔ یہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو! ہم ان کے سامنے کس طرح کھول کھول کر نشانیاں واضح کر رہے ہیں! پھر یہ بھی دیکھو کہ ان کو اوندھے منہ کہاں لے جایا جا رہا ہے! ﴿75﴾ (اے پیغمبر! ان سے) کہو کہ: ”کیا تم اللہ کے سوا ایسی مخلوق کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ کوئی نقصان پہنچانے کی طاقت رکھتی ہے، اور نہ فائدہ پہنچانے کی، جبکہ اللہ ہر بات کو سننے والا، ہر چیز کو جاننے والا ہے؟“ ﴿76﴾ (اور ان سے یہ بھی کہو کہ:) ”اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو، اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلو جو پہلے خود بھی گمراہ ہوئے، بہت سے دوسروں کو بھی گمراہ کیا، اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے ﴿77﴾۔

یہ جو ابھی بات آئی کہ یہ دونوں کھانا کھاتے تھے، اور ساتھ یہ بات تھی کہ اُمّہ صدیقہ، یعنی ان کی ماں، صدیقہ تھی۔ تو صدیقہ جو ہے،

حاشیہ: ”صدیقہ“ صدیق کا مؤنث کا صیغہ ہے۔ اس کے لفظی معنی ہیں ”بہت سچا“ یا ”راست باز“۔ اصطلاح میں صدیق عام طور سے ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی پیغمبر کا افضل ترین متبع ہوتا ہے، اور نبوت کے بعد یہ سب سے اونچا مرتبہ ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ حضرت مریم علیہا السلام دونوں کے بارے میں یہاں قرآن کریم نے یہ حقیقت جتلائی ہے کہ وہ کھانا کھاتے تھے، کیونکہ تنہا یہ حقیقت اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ وہ خدا نہیں تھے۔ ایک معمولی سمجھ کا شخص بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ خدا تو وہی ذات ہو سکتی ہے جو ہر قسم کی بشری حاجتوں سے بے نیاز ہو۔ اگر خدا بھی کھانا کھانے کا محتاج ہو تو وہ خدا کیا ہوا؟

اصل میں نبی اللہ کا بندہ ہوتا ہے، مخلوق ہوتا ہے۔ تو وہ اگر کھانا کھا لے، شادی کر لے، بازاروں میں چلے پھرے، تو وہ ان کی پیغمبری پہ کوئی فرق نہیں آتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مخلوق کے لیے عیب نہیں ہے۔ لیکن اگر کسی کو خدا سمجھا جائے، اور پھر اس کے بارے میں یہ بھی مطلب اس کا مشاہدہ ہو کہ وہ کھانا کھاتا ہے، تو اس کو کیسے خدا یقین کر سکتا ہے؟ کیونکہ اللہ پاک ان تمام چیزوں سے پاک ہے۔ اللہ پاک کو ان چیزوں کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

تو جب اس قسم کی بات ہو گئی تو اللہ پاک نے یہ ایک ہی بات کر کے کہ وہ دونوں کھانا کھاتے ہیں اور یہ مشاہدے میں ہے سب کے، یعنی مطلب یہ ہے کہ یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں ہوتی، کھانا تو لوگ سب کے سامنے کھاتے ہیں۔ تو یہ مشاہدے والی بات تھی، تو وہ ایسی بات کر لی جس کے بعد کوئی اور بات کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ تو یہاں پر یہ فرمایا کہ دونوں کھانا کھاتے تھے، تو یہ دونوں خدا نہیں تھے۔ جیسا کہ بعض عیسائیوں کا عقیدہ تھا کہ اللہ بھی خدا ہے، اور عیسیٰ علیہ السلام بھی ہے، اور جبرائیل علیہ السلام بھی ہے، روح القدس۔ اور کچھ لوگ مریم علیہا السلام کو خدا سمجھتے تھے۔ تو اللہ پاک نے ایک ہی بات کر کے ساری بات کو ختم کروا دیا۔

دوسری بات جو یہاں پر ہوئی ہے کہ دیکھو ان کو اوندھے منہ کہاں لے جایا جا رہا ہے۔ تو

حاشیہ: قرآن کریم نے یہاں مجہول کا صیغہ استعمال کیا ہے، اس لئے ترجمہ یہ نہیں کیا گیا کہ ”وہ اوندھے منہ کہاں جا رہے ہیں؟“ بلکہ ترجمہ یہ کیا گیا ہے کہ: ”انہیں اوندھے منہ کہاں لیجایا جا رہا ہے؟“ اور بظاہر مجہول کا یہ صیغہ استعمال کرنے سے اشارہ اس طرف مقصود ہے کہ ان کی نفسانی خواہشات اور ذاتی مفادات ہیں جو انہیں الٹائے جا رہے ہیں۔

مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات کا غلام جب بن جائے، تو غلام آقا کے قبضے میں ہوتا ہے، جس طرف اس کو لے جایا جاتا ہے تو اس طرف جاتا ہے۔ اس طریقے سے جن کی خواہشاتِ نفسانی جو ہیں ان کی مالک ہوں، تو پھر ان کے ساتھ ایسا ہی وہ کرتے ہیں۔ اور ابھی جو تیسری بات ہوئی ہے، "کیا تم اللہ کے سوا کسی ایسی مخلوق کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ کوئی نقصان پہنچانے کی طاقت رکھتی ہے اور نہ فائدہ پہنچانے کی"۔ تو

حاشیہ: حضرت مسیح علیہ السلام اگرچہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر تھے، لیکن کسی کو نفع یا نقصان پہنچانے کی ذاتی صلاحیت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔ اگر وہ کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں تو صرف اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مشیت سے پہنچا سکتے ہیں۔

یعنی اللہ کا بندہ اللہ پاک کی مرضی اور مشیت کے مطابق جو کام وہ ہوتا ہے، وہ کرتا ہے۔ خود اپنی طرف سے وہ کوئی کام چاہتا بھی نہیں ہے، وہ وہی چاہتا ہے جو اللہ پاک چاہتا ہے۔ اور قدرت بھی ظاہر ہے مطلب ہے کہ وہی اللہ کو ہی ہے۔ اصل قدرت تو اللہ تعالیٰ کی ہے۔ تو جو اللہ پاک کسی چیز پر قادر کرائے یعنی کہ اس کو اس کے لیے ممکن کرائے، تو وہی کام کرتا ہے، اور اگر اس کو حکم بھی دیا ہو تب۔ تو یہ بات بھی ہم لوگوں کے لیے ایک وہ سمجھنے والی بات ہے کہ ہم لوگ کوئی ایسی بات نہ کریں جو اللہ پاک نہ چاہتا ہو، اور دوسری بات یہ ہے کہ جو یعنی ایسے اللہ پاک کے برگزیدہ بندے ہوتے ہیں وہ کوئی بات بھی ایسے نہیں کرتے جو اللہ نہیں چاہتا ہو۔

ترجمہ: ان سے یہ بھی کہو کہ اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو۔

یہ غلو، یہ اصل میں جیسے ہوتا ہے نا افراط تفریط۔ تو افراط جو ہوتا ہے وہ غلو ہے۔ یعنی مطلب ہے کہ آپ اپنی حد سے آگے اگر کسی کو لے جائیں تو یہ غلو ہے۔ تو

حاشیہ: ”غلو“ کا مطلب ہے کسی کام میں اس کی معقول حدود سے آگے بڑھ جانا۔ عیسائیوں کا غلو یہ تھا کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعظیم میں اتنے آگے بڑھ گئے کہ انہیں خدا قرار دے دیا،

یہودیوں میں تفریط تھی، یعنی وہ پیغمبروں کے اس status کو نہیں مانتے تھے جو اللہ نے ان کو دیا تھا۔ یعنی ان کو پیغمبری سے کم، عام لوگوں کے برابر سمجھتے تھے۔ جبکہ عیسائیوں میں غلو تھا، یعنی وہ پیغمبروں سے بڑھ کے کوئی وہ سمجھتے تھے، یعنی خدا ان کو مانتے تھے۔ تو یہ مطلب ہے غلو والی بات ہے۔

حاشیہ: کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعظیم میں اتنے آگے بڑھ گئے کہ انہیں خدا قرار دے دیا، اور یہودیوں کا غلو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے محبت کا جو اظہار کیا تھا اس کی بنا پر یہ سمجھ بیٹھے کہ دنیا کے دوسرے لوگوں کو چھوڑ کر بس وہی اللہ کے چہیتے ہیں، اور اس وجہ سے وہ جو چاہیں کریں، اللہ تعالیٰ ان سے ناراض نہیں ہوگا، نیز ان میں سے بعض نے حضرت عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا قرار دے لیا تھا۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو ایسے غلو سے، ایسی تفریطوں سے، ایسی غلط سوچوں سے، ایسے غلط کاموں سے، غلط عقیدوں سے ہماری حفاظت فرمائے۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، والحمد للہ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔