خالص عقیدۂ توحید کی اہمیت اور باطل عقائد (تثلیث و شرک) کی تردید

درس نمبر 223: سورۃ المائدة، آیت نمبر 70 تا 73

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • بنو اسرائیل کی سرکشی اور اللہ کے رسولوں کی تکذیب
  • عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث (Trinity) کی وضاحت اور قرآنی دلائل سے اس کا رد
  • معجزات کی ربانی حقیقت اور انہیں سائنسی اصولوں (Scientific ground) پر پرکھنے کی فاش غلطی
  • سورہ اخلاص کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی کامل، بے عیب اور بے نیاز صفات کا بیان
  • امتِ مسلمہ میں غلو کے اثرات اور عقیدہ توحید کو شرک سے پاک رکھنے کی تلقین
  • اسلامی عقائد (توحید، رسالت، معاد اور دیگر بنیادی جزئیات) کو مکمل طور پر تسلیم کرنے کی فرضیت

الحمد للہ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔

لَقَدْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِیْ اِسْرَآئِيْلَ وَاَرْسَلْنَا اِلَيْهِمْ رُسُلًا كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤی اَنْفُسُهُمْ فَرِيْقًا كَذَّبُوْا وَفَرِيْقًا يَّقْتُلُوْنَ ﴿70﴾ وَحَسِبُوْا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَصَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَصَمُّوْا كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ ﴿71﴾ لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ وَقَالَ الْمَسِيْحُ يٰبَنِیْ اِسْرَآئِيْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَرَبَّكُمْ اِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَاْوٰىهُ النَّارُ وَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ﴿72﴾ لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ وَمَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَاِنْ لَّمْ يَنْتَهُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ ﴿73﴾

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: ہم نے بنو اسرائیل سے عہد لیا تھا، اور ان کے پاس رسول بھیجے تھے۔ جب کوئی رسول ان کے پاس کوئی ایسی بات لے کر آتا جس کو ان کا دل نہیں چاہتا تھا تو کچھ (رسولوں) کو انہوں نے جھٹلایا اور کچھ کو قتل کرتے رہے ﴿70﴾۔اور وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ کوئی پکڑ نہیں ہوگی، اس لئے اندھے بہرے بن گئے، پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی تو ان میں سے بہت سے پھر اندھے بہرے بن گئے، اور اللہ ان کے تمام اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے ﴿71﴾ وہ لوگ یقیناً کافر ہو چکے ہیں جنہوں نے یہ کہا ہے کہ ”اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے“ حالانکہ مسیح نے تو یہ کہا تھا کہ ”اے بنی اسرائیل! اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار۔ یقین جانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے، اللہ نے اس کے لئے جنت حرام کر دی ہے، اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے، اور جو لوگ (یہ) ظلم کرتے ہیں، ان کو کسی قسم کے یار و مددگار میسر نہیں آئیں گے“ ﴿72﴾ وہ لوگ (بھی) یقیناً کافر ہو چکے ہیں جنہوں نے یہ کہا ہے کہ: ”اللہ تین میں کا تیسرا ہے“ حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ اور اگر یہ لوگ اپنی اس بات سے باز نہ آئے تو ان میں سے جن لوگوں نے (ایسے) کفر کا ارتکاب کیا ہے، ان کو دردناک عذاب پکڑ کر رہے گا ﴿73﴾۔

یہ اصل میں جو بات ہوئی ہے،

حاشیہ: یہ عیسائیوں کے عقیدہء تثلیث کی طرف اشارہ ہے۔ اس عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ خدا تین اقانیم (Persons) کا مجموعہ ہے، ایک باپ (یعنی اللہ)، ایک بیٹا (یعنی حضرت مسیح علیہ السلام) اور ایک روح القدس۔ اور بعض فرقے اس بات کے بھی قائل تھے کہ تیسری حضرت مریم علیہا السلام ہیں۔ اور ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ تینوں مل کر ایک ہیں۔ یہ تینوں مل کر ایک کس طرح ہیں؟ اس معنی کا کوئی معقول جواب کسی کے پاس نہیں ہے، اس لئے ان کے متکلمین (Theologians) نے اس عقیدے کی مختلف تعبیریں اختیار کی ہیں۔ بعض نے تو یہ کہا کہ حضرت مسیح علیہ السلام صرف خدا تھے، انسان نہیں تھے۔ آیت نمبر 72 میں ان کے عقیدے کو کفر قرار دیا گیا ہے۔ اور بعض لوگ یہ کہتے تھے کہ خدا جن تین اقانیم کا مجموعہ ہے، ان میں سے ایک باپ یعنی اللہ ہے، اور دوسرا بیٹا ہے جو اللہ ہی کی ایک صفت تھی جو انسانی وجود میں حلول کر کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل میں آگئی تھی، لہٰذا وہ انسان بھی تھے، اور اپنی اصل کے اعتبار سے خدا بھی تھے۔ آیت نمبر 73 میں اس عقیدے کی تردید کی گئی ہے۔ عیسائیوں کے ان عقائد کی تفصیل اور ان کی تردید کے لئے دیکھئے راقم الحروف کی کتاب ”عیسائیت کیا ہے؟“۔

یہ اصل میں ایک بڑا ہی معمّہ ان لوگوں نے کھڑا کیا ہے۔ جس کے لیے مختلف تعبیریں یہ لوگ بناتے رہتے ہیں۔ لیکن جس چیز کا کوئی سر و پا نہیں ہو، تو اس کے لیے کیا چیزیں بنائی جا سکتی ہیں؟ تو ہمیشہ وہ پریشان ہی اس میں رہتے ہیں۔ یہ بات ایسی ہے کہ اللہ جل شانہٗ (وہ کہتے ہیں کہ) اللہ باپ ہے۔ اور چونکہ عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے، تو وہ سمجھتے ہیں کہ -نعوذ باللہ من ذلک- اللہ ہی باپ ہے۔ اور مریم علیہا السلام کو بعض لوگ خدا مانتے ہیں، اس کا حصہ مانتے ہیں اور بعض لوگ وہ یعنی روح القدس کو مانتے ہیں۔ کیونکہ جبرائیل علیہ السلام نے نفخ کیا تھا۔

اب یہ جو بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر یعنی یہ کام کروا دیا، خلافِ معمول، اور تو یہ معجزہ تھا۔ تو اب یہ بات ہے کہ یہ اس کو ایک Physical صورت یہ دینا چاہتے ہیں۔ معجزے کی کوئی Physical صورت نہیں ہوتی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے وجود میں آتا ہے اور تمام قوانین کو توڑ کے آتا ہے۔ اس لیے کہتے ہیں کہ بھئی اس سے انسان عاجز ہے۔ تو معجزے کی کوئی تعریف Scientific ground پہ نہیں ہوا کرتی۔ کیونکہ Scientific ground پہ اس کی کوئی تعریف کرے گا تو ظاہر ہے Science کا کوئی قانون اس کو مان نہیں سکے گا۔ صرف اپنے آپ کو جو بس وہ جس کو کہتے ہیں نا وہ دل بہلانے کے لیے وہ مختلف قسم کی باتیں کریں گے۔

مثلاً بعض لوگوں نے وہ جو بارہ چشمے جو بن گئے تھے، تو اس کا ان لوگوں نے کہا کہ یہ مد و جزر تھا۔ حالانکہ مد و جزر سے سرنگیں تو نہیں بنتیں۔ مد و جزر سے تو پانی مسلسل آ رہا ہوتا ہے اور پانی کو، سب چیزوں کو Bulldoze کر کے لے جاتا ہے، جیسے Tsunami ہوتی ہے، اس قسم کی ایک چیز ہوتی ہے۔ مد و جزر جو ہوتا ہے مطلب یعنی پانی چڑھ آتا ہے اور پھر نیچے اتر جاتا ہے۔ تو اس میں سرنگیں وغیرہ تو نہیں بنتیں۔ وہ تو ایک Organized چیز ہوتی ہے۔ تو اللہ جل شانہٗ نے جو معجزہ موسیٰ علیہ السلام کا کر دکھایا، وہ بارہ چشمے جو بن گئے، بارہ نہیں بارہ راستے جو بن گئے تھے۔ اس کا انہوں نے Scientific ground بنانا چاہا تو منہ کی کھائی۔ ہو نہیں سکتا! اس قسم کی چیز وہ بذاتِ خود ایک معجزہ ہوگا اگر ایسا ہوا ہے تو۔ تو بذاتِ خود ایک معجزہ ہوگا۔

تو بہرحال یہ ہے کہ یہ اس قسم کی یہ باتیں یہ لوگ کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہ خدا تھے۔ اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مطلب ظاہر ہے یہ تین ہیں اور تین پھر ایک ہو جاتے ہیں۔ تو ان میں سے جو لوگ ذرا ان کے ملحد تھے، ان کے ملحد، یعنی مطلب یہ ہے کہ جو ان کی باتوں کو نہیں مانتے تھے اور Discussion کرتے تھے Scientific line پر، تو وہ کہتے تھے: 1 + 1 + 1 = 1 کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ تو ہو نہیں سکتا۔ تو بہرحال یہ ہے کہ یہ اس قسم کی جو باتیں کرتے ہیں تو اس کی کوئی بات مطلب وہ نہیں ہوتی لیکن بہرحال یہ اپنے آپ کو تسلی دیتے رہتے ہیں۔

تو اللہ جل شانہٗ کی کوئی اولاد نہیں۔ ہمیں جو عقیدہ سکھایا گیا ہے: قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ اللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ یہ اصل میں اس کی تردید ہے۔ یہ جو ہم کہتے ہیں نا لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ نہ اس نے کسی کو جنا نہ وہ کسی سے جنا گیا۔ یہ ان کا رد ہے اس میں۔ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ ان کی طرح کوئی ہے (ہی نہیں)۔

تو وہ یہ بات وہ ہماری ہے کہ اللہ جل شانہٗ کی صفات جو ہیں سلبیہ وہ اس لیے ہیں کہ کوئی اور مخلوق میں وہ چیزیں آ ہی نہیں سکتیں۔ مطلب اللہ پاک کے علاوہ، مثلاً اللہ پاک نہ کچھ کھاتا ہے، نہ پیتا ہے، اللہ جل شانہٗ کو نیند کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ پاک نہ کسی سے جنا گیا نہ اس نے کسی کو جنا۔ ہاں، ان تمام چیزوں کی اللہ پاک کو ضرورت نہیں ہے۔ اللہ پاک ان تمام کمزوریوں سے پاک ہے۔ سبحان ہے۔ اللہ پاک ان تمام چیزوں سے پاک ہے۔

تو ہمارا عقیدہ یہی ہے کہ اللہ پاک کی جو صفات ہیں وہ کامل ہیں۔ اور اللہ پاک کی صفات کی طرح کسی اور کی صفات نہیں ہو سکتیں۔ یہ ہمارا پکا عقیدہ ہے۔ اور اس میں جو کمزوریاں ہیں وہ ان کی طرف سے آئی ہیں۔ یعنی عیسائیوں کی طرف سے آئی ہیں یا یہودیوں کی طرف سے آئی ہیں۔

مثلاً مجھے گجرات کے ایک بڑے میاں نے (فوت ہو چکے ہیں، اللہ ان کی مغفرت فرمائے، سادہ آدمی تھے) تو مجھے کہا کہ شاہ صاحب! اللہ اور رسول دو ہیں یا ایک ہیں؟ تو میں نے کہا اتنا سادہ ہے کہ اس کے ساتھ علمی بحث تو کرنا ممکن نہیں ہے، میں نے کہا نہیں، دو ہیں۔ بس۔ تو انہوں نے کہا، ٹھیک ہے۔ اب اس کے ساتھ میں علمی بحث کیا کرتا؟ وہ بیچارہ بہت سادہ تھا، لیکن اس نے اتنی باتیں سنی تھیں کہ جس سے اس کے ذہن میں یہی بات آئی تھی کہ وہ اللہ پاک دو ہیں یا ایک ہیں۔

تو یہ باتیں ہمارے ہاں بھی ان چیزوں کی طرف سے چیزیں آئی ہیں کہ آپ ﷺ کی صفات کو اتنا بڑھا دیا جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں ان کو شریک کر دیا جاتا ہے۔ تو یہ تو آپ ﷺ... جیسے عیسیٰ علیہ السلام نے یہ چیزیں نہیں مانیں، اور عیسیٰ علیہ السلام نے ان چیزوں کا انکار کر لیا اور انہوں نے کہا کہ میں تو اللہ کا بندہ ہوں۔ اسی طریقے سے آپ ﷺ نے ان چیزوں کو تسلیم نہیں کیا۔

تو جو شفاعت کا Concept ہے وہ تو اس صورت میں ہے جب انسان کا عقیدہ ٹھیک ہو۔ جب عقیدہ ٹھیک نہ ہو تو پھر تو ابو طالب صاحب سے زیادہ قریب تو نہیں تھے کوئی ان کے لیے۔

تو وہ مطلب یہ ہے کہ یہ جو چیز ہے، یہ ہمیں ماننا چاہیے کہ جو ہمارے عقائد ہیں، اس پہ کوئی Compromise نہیں ہے۔ عقیدہ بالکل ٹھیک ہونا چاہیے۔ ہاں، یہ الگ بات ہے کہ کمزوریاں اعمال میں ہوتی ہیں، اللہ جل شانہٗ رحم فرما دے، اللہ جل شانہٗ فضل فرما دے، آپ ﷺ کی شفاعت کے ذریعے سے اللہ پاک ہمیں معاف کر دے یہ بات ہے۔ لیکن یہ بات ہے کہ عقیدے میں کوئی گڑبڑ ہو، تو عقیدہ بالکل مطلب توحید کا خالص کا رکھنا چاہیے، اور ساتھ ساتھ یہ ہے کہ آپ ﷺ کی رسالت کا رکھنا چاہیے، اور ساتھ ساتھ یہ ہے کہ آخرت کا عقیدہ رکھنا چاہیے۔

یعنی توحید، رسالت اور معاد، یہ تینوں بنیادی عقیدے ہیں۔ پھر اس کے ساتھ متصل، فرشتوں کا اور کتابوں کا، اور آخرت کے دن کا، اور ساتھ تقدیر پر ایمان لانے کا، یہ ساری چیز ان کا عقیدہ ہمیں مطلب جو عقائد کا Set ہے، ان کو پورا پورا ماننا پڑے گا۔ کیونکہ عقائد کے جز نہیں ہوتے کہ آدھا مسلمان ہو، آدھا کافر۔ یہ نہیں ہوتا۔ مطلب یہ ہے کہ یا کافر ہو گا یا مسلمان ہو گا۔ اس کے درمیان کوئی اور چیز نہیں ہے۔

اللہ جل شانہٗ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ اور سچے صحیح عقائد کے اوپر ہمیں پوری زندگی گزارنے کی، اور پھر ان عقائد کے مطابق سچے ستھرے اعمال کرنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔ اور اللہ پاک ان کو قبول فرمائے۔ اس پر راضی ہو جائے اور ایسا راضی ہو جائے کہ پھر پہ ناراض نہ ہو۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔