آیتِ تبلیغ کا صحیح پس منظر اور قرآن کی من مانی تفسیر کا انجام

درس نمبر 222: سورۃ المائدة، آیت نمبر 65 تا 69

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • سورہ مائدہ (آیات ۶۵ تا ۷۰) کی تلاوت اور ترجمہ۔
  • اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) کے لیے ایمان اور تقویٰ کی شرط اور دنیوی و اخروی انعامات۔
  • تورات اور انجیل کی اصل تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت۔
  • آیتِ "تبلیغ" کا صحیح مفہوم اور اس کا اصل سیاق و سباق۔
  • قرآن کریم کی من مانی اور جذباتی تشریحات کی تردید۔
  • آئینِ الٰہی کی حفاظت اور اس میں تبدیلی کے عدمِ امکان کا تذکرہ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَلَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ ﴿65﴾ وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا يَعْمَلُوْنَ ﴿66﴾ يٰٓاَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ ﴿67﴾

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِیْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْکَرِیْمُ۔

ترجمہ: اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ضرور ان کی برائیاں معاف کر دیتے، اور انہیں ضرور آرام وراحت کے باغات میں داخل کرتے ﴿65﴾ اور اگر وہ تورات اور انجیل اور جو کتاب (اب) ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے بھیجی گئی ہے اس کی ٹھیک ٹھیک پابندی کرتے تو وہ اپنے اوپر اور اپنے پاؤں کے نیچے ہر طرف سے (اللہ کا رزق) کھاتے۔ (اگرچہ) ان میں ایک جماعت راہ راست پر چلنے والی بھی ہے، مگر ان میں سے بہت سے لوگ ایسے ہی ہیں کہ ان کے اعمال خراب ہیں ﴿66﴾ اے رسول! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی تبلیغ کرو۔ اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو (اس کا مطلب یہ ہوگا کہ) تم نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا۔ اور اللہ تمہیں لوگوں (کی سازشوں) سے بچائے گا۔ یقین رکھو کہ اللہ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ﴿67﴾۔

<<<<<<< HEAD

حاشیہ: اگرچہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ بندی کا معاہدہ کر رکھا تھا، لیکن درپردہ وہ اس کوشش میں لگے رہتے تھے کہ مسلمانوں پر کوئی حملہ ہو اور وہ اس میں شکست کھائیں۔ مگر اللہ تعالیٰ ہر موقع پر ان کی سازش کو ناکام بنا دیتے تھے۔

قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِيْمُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا فَلَا تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ ﴿68﴾ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ هَادُوْا وَالصّٰبِؤُوْنَ وَالنَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ ﴿69﴾ لَقَدْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِیْ اِسْرَآئِيْلَ وَاَرْسَلْنَا اِلَيْهِمْ رُسُلًا كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤی اَنْفُسُهُمْ فَرِيْقًا كَذَّبُوْا وَفَرِيْقًا يَّقْتُلُوْنَ ﴿70﴾

ترجمہ: کہہ دو کہ: ”اے اہل کتاب! جب تک تم تورات اور انجیل پر اور جو (کتاب) تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس (اب) بھیجی گئی ہے اس کی پوری پابندی نہیں کرو گے، تمہاری کوئی بنیاد نہیں ہوگی جس پر تم کھڑے ہو سکو۔“ اور (اے رسول!) جو وحی اپنے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل کی گئی ہے وہ ان میں سے بہت سوں کی سرکشی اور کفر میں مزید اضافہ کر کے رہے گی، لہٰذا تم ان کافر لوگوں پر افسوس مت کرنا ﴿68﴾ حق تو یہ ہے کہ جو لوگ بھی، خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی یا صابی یا نصرانی، اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لے آئیں گے اور نیک عمل کریں گے ان کو نہ کوئی خوف ہوگا، نہ وہ کسی غم میں مبتلا ہوں گے۔ ﴿69﴾

تو یہ مضمون سورہ بقرہ میں بھی گزرا ہے۔ ہاں، اس کی تشریح وہاں پر ہوگی۔ البتہ یہاں پر جو ایک بات آئی ہے، یہ اس کے بارے میں عرض کرنا ضروری ہے۔ یہ آیت ہے:

ققُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِيْمُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا فَلَا تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ ﴿68﴾ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ هَادُوْا وَالصّٰبِؤُوْنَ وَالنَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ ﴿69﴾ لَقَدْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِیْ اِسْرَآئِيْلَ وَاَرْسَلْنَا اِلَيْهِمْ رُسُلًا كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤی اَنْفُسُهُمْ فَرِيْقًا كَذَّبُوْا وَفَرِيْقًا يَّقْتُلُوْنَ ﴿70﴾

ترجمہ: کہہ دو کہ: ”اے اہل کتاب! جب تک تم تورات اور انجیل پر اور جو (کتاب) تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس (اب) بھیجی گئی ہے اس کی پوری پابندی نہیں کرو گے، تمہاری کوئی بنیاد نہیں ہوگی جس پر تم کھڑے ہو سکو۔“ اور (اے رسول!) جو وحی اپنے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل کی گئی ہے وہ ان میں سے بہت سوں کی سرکشی اور کفر میں مزید اضافہ کر کے رہے گی، لہٰذا تم ان کافر لوگوں پر افسوس مت کرنا ﴿68﴾ حق تو یہ ہے کہ جو لوگ بھی، خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی یا صابی یا نصرانی، اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لے آئیں گے اور نیک عمل کریں گے ان کو نہ کوئی خوف ہوگا، نہ وہ کسی غم میں مبتلا ہوں گے۔ ﴿69﴾

حاشیہ: یہی مضمون سورہ بقرہ کی آیت 62 (2:62) میں گذرا ہے۔

ہاں، اس کی تشریح وہاں پر ہوگی۔ البتہ یہاں پر جو ایک بات آئی ہے، یہ اس کے بارے میں عرض کرنا ضروری ہے۔ یہ آیت ہے:

يٰٓاَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ ﴿67﴾

یہ یہاں پر وہ بعض لوگ ایسے ہیں ناعاقبت اندیش، جو کہتے ہیں کہ -نعوذ باللہ من ذالک- یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا تھا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی امامت کا اعلان کر دو، ورنہ اگر نہیں کرو گے تو پھر ایسا ہوگا، ویسا ہوگا۔ یہ اس طرح نہیں ہے۔ دیکھو، سیاق و سباق کیا کہتا ہے؟ سیاق و سباق یہی کہتا ہے کہ یہ تو یہود اور نصاریٰ کے بارے میں بات چل رہی ہے۔ تو ان تک صحیح بات پہنچانے والی بات ہے۔ اس میں اس کا تو ذکر ہی نہیں ہے، کوئی اس کا ذکر تو آتا ہے اس طرح، تو اس کا تو کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔

تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ جو چیز بھی ہو، اس کو سیاق و سباق کے ساتھ دیکھنا پڑتا ہے، شانِ نزول کے مطابق دیکھنا پڑتا ہے، اپنے جذبات کے مطابق نہیں دیکھنا پڑتا، کہ نعوذ باللہ من ذالک میرے جو جذبات ہیں، تو اس کے حساب سے میں سوچوں گا۔ نہیں، اس طرح نہیں ہے۔ قرآن کے اندر اپنی رائے سے کوئی بھی چیز کوئی داخل کرتا ہے تو وہ اپنے لیے جہنم کا گڑھا تیار کرتا ہے کیونکہ یہ تو اللہ کا کلام ہے۔ اللہ کے کلام میں نہ کوئی زیادتی کر سکتا ہے نہ کوئی کمی کر سکتا ہے۔

کسی ملک کا ایک آئین ہوتا ہے، تو اگرچہ لوگوں نے بنایا ہوتا ہے لیکن جن لوگوں نے بنایا ہوتا ہے وہی اس میں تبدیلی کر سکتے ہیں، اس کے علاوہ اگر کوئی تبدیلی کرے گا تو وہ غداری کے زمرے میں آتا ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ اس کو اگر کوئی تبدیل کرے گا تو اس پر بڑی سخت سزا ہے۔ تو اس طریقے سے مطلب ہے کہ جس اللہ نے یہ کلام بھیجا ہے وہ اس میں تبدیلی کر سکتا تھا۔

اب تو اللہ پاک بھی تبدیلی نہیں کرتا کیونکہ تبدیلی کرنے والا نظام اللہ پاک نے پورا فرمایا ہے، یعنی خاتم النبیین تشریف لے آئے، تو اس کے بعد تو اب تبدیلی اس میں کوئی نہیں ہوگی۔ لیکن یہ کہ اگر تبدیلی کرنی تھی تو اللہ پاک نے کرنی تھی۔ کوئی اور اس میں ذرہ بھر بھی تبدیلی نہیں کر سکتا، نہ معنوی نہ لفظی۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو ہدایت نصیب فرما دے۔

تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ جو چیز بھی ہو، اس کو سیاق و سباق کے ساتھ دیکھنا پڑتا ہے، شانِ نزول کے مطابق دیکھنا پڑتا ہے، اپنے جذبات کے مطابق نہیں دیکھنا پڑتا۔ کہ نعوذ باللہ من ذالک میرے جو جذبات ہیں، تو اس کے حساب سے میں سوچوں گا۔ نہیں، اس طرح نہیں ہے۔ قرآن کے اندر اپنی رائے سے کوئی بھی چیز کوئی داخل کرتا ہے تو وہ اپنے لیے جہنم کا گڑھا تیار کرتا ہے کیونکہ یہ تو اللہ کا کلام ہے۔ اللہ کے کلام میں نہ کوئی زیادتی کر سکتا ہے نہ کوئی کمی کر سکتا ہے۔

کسی ملک کا ایک مطلب آئین ہوتا ہے، تو اگرچہ وہ لوگوں نے بنایا ہوتا ہے لیکن جن لوگوں نے بنایا ہوتا ہے وہی اس میں تبدیلی کر سکتے ہیں، اس کے علاوہ اگر کوئی تبدیلی کرے گا تو غداری کے زمرے میں آتا ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ اس کو اگر کوئی تبدیل کرے گا تو اس پر بڑی سخت سزا ہے۔ تو اس طریقے سے مطلب ہے کہ جس اللہ نے یہ کلام بھیجا ہے وہ اس میں تبدیلی کر سکتا تھا۔

اب تو اللہ پاک بھی تبدیلی نہیں کرتا کیونکہ تبدیلی کرنے والا نظام اللہ پاک نے پورا فرمایا ہے، یعنی خاتم النبیین تشریف لے آئے، تو اس کے بعد تو اب تبدیلی اس میں کوئی نہیں ہوگی۔ لیکن یہ کہ اگر تبدیلی کرنی تھی تو اللہ پاک نے کرنی تھی۔ کوئی اور اس میں ذرہ بھر بھی تبدیلی نہیں کر سکتا، نہ معنوی نہ لفظی۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو ہدایت نصیب فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ وَتُبْ عَلَیْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ بِرَحْمَتِكَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔ یہی مضمون سورہ بقرہ کی آیت 62 (2:62) میں گذرا ہے۔