گناہ اور سفارش سے پرہیز: میرٹ اور دیانت داری کی اہمیت
درس نمبر 205: سورۃ المائدة، آیت نمبر 2
- سورۃ المائدہ کی آیت نمبر ۲ کی تلاوت اور اس کا پس منظر (صلح حدیبیہ کے واقعات)۔
- نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں اجتماعی تعاون کی اہمیت اور فوائد۔
- گناہ، ظلم اور شریعت کے خلاف کاموں میں تعاون کی قطعی ممانعت۔
- روزمرہ زندگی، بالخصوص دفاتر میں میرٹ (Merit) کے خلاف سفارش اور ناجائز دباؤ کا تذکرہ۔
- حضرت شیخ کا اپنا ذاتی واقعہ: بھرتیوں (Recruitment) کے دوران پرانے جاننے والے کی ناجائز سفارش پر حکمت اور استقامت سے انکار۔
- اللہ کی رضا کو لوگوں کی رضا پر ترجیح دینے کا اصولی سبق۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيّيْنَ، اَمَّا بَعْدُ۔ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآئِرَ اللّٰہِ وَ لَا الشَّہْرَ الْحَرَامَ وَ لَا الْہَدْیَ وَ لَا الْقَلَآئِدَ وَ لَاۤ اٰۤمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّہِمْ وَ رِضْوَانًا ؕ وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا ؕ وَ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا ۘ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوٰی ۪ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ ۪ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ﴿2﴾
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
ترجمہ: اے ایمان والو! نہ اللہ کی نشانیوں کی بے حرمتی کرو، نہ حرمت والے مہینے کی، نہ ان جانوروں کی جو قربانی کے لئے حرم لے جائے جائیں، نہ ان پٹوں کی جو ان کے گلے میں پڑے ہوں، اور نہ ان لوگوں کی جو اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی حاصل کرنے کی خاطر بیت حرام کا ارادہ لے کر جا رہے ہوں۔ اور جب تم احرام کھول دو تو شکار کر سکتے ہو۔ اور کسی قوم کے ساتھ تمہاری یہ دشمنی کہ انہوں نے تمہیں مسجد حرام سے روکا تھا تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم (ان پر) زیادتی کرنے لگو۔
حاشیہ: صلح حدیبیہ کے واقعے میں مکہ مکرمہ کے کافروں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کو حرم میں داخل ہونے اور عمرہ کرنے سے روکا تھا، مسلمانوں کو طبعی طور پر اس واقعے پر سخت غم و غصہ تھا، اور یہ احتمال تھا کہ اس غم اور غصے کی وجہ سے کوئی مسلمان اپنے دشمن سے کوئی ایسی زیادتی کر بیٹھے جو شریعت کے خلاف ہو، اس آیت نے متنبہ کر دیا کہ اسلام میں ہر چیز کی حدود مقرر ہیں، اور دشمن کے ساتھ بھی زیادتی کرنا جائز نہیں ہے۔
اور آگے فرماتے ہیں:
ترجمہ: اور نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو، اور گناہ اور ظلم میں تعاون نہ کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے ﴿2﴾
یہ جو اللہ پاک نے فرمایا کہ نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو اور گناہ اور ظلم میں تعاون نہ کرو، یہ بہت عام حکم ہے۔ جو بھی نیکی کا کام ہے اور تقویٰ کا کام ہے، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا جا سکتا ہے۔ لیکن کسی گناہ اور ظلم کے کام میں تعاون کرنا جائز نہیں ہے۔ مثلاً کوئی کسی کو کہہ دے کہ فلاں چیز لے آؤ اور وہ چیز حرام ہے۔ تو ظاہر ہے اس کا وہ حکم ماننا ٹھیک نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ حرام کے اندر اعانت کرنا، یہ جائز نہیں ہے۔
یہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ لوگ اس قسم کے Programs بنا لیتے ہیں جو کہ جائز نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر کوئی Welfare Society کے نام پر کوئی Cinema ارینج کرنا چاہے۔ اب چونکہ وہ جائز نہیں ہے، تو اب اس میں اگر کوئی تعاون کرے گا تو اس حکم میں وہ آ جائے گا، مطلب یہ ہے کہ وہ اس کے لیے جائز نہیں ہو گا۔ اس طرح مطلب بہت ساری باتوں میں ہم اس بات کو لے سکتے ہیں کہ اگر وہ کام جائز نہیں ہے، تو پھر اس میں وہ اعانت جائز نہیں ہو گی۔
ہاں البتہ یہ ہے کہ جو نیکی کے کام ہیں اور تقویٰ کے کام ہیں، تو اس میں بڑھ چڑھ کر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے کیونکہ جو مطلب اجتماعی طور پر کام ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ یعنی تعاون کی بنیاد پر جو کام چلتے ہیں، وہ زیادہ ما شاء اللہ یعنی آسان بھی ہو جاتے ہیں اور پائیدار بھی ہوتے ہیں۔ تو اس سلسلے میں تو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ضروری ہے لیکن کبھی بھی برائی کے سلسلے میں تعاون نہیں کرنا چاہیے۔
بلکہ اس میں ایک بات اور بھی ہے کہ یہ انسان کی عقلی بات ہے کہ خدانخواستہ اگر کسی گناہ اور ظلم کے کام میں کوئی تعاون کر لے، تو اگر وہ متعدی ہو جائے اور وہ چلنا شروع ہو جائے، تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ وہ ایک اپنے لیے ایک مسلسل جیسے گناہ جاریہ ہوتا ہے، وہ سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ تو یہ بہت خطرناک ہے۔ ایسی صورت میں مطلب پہلے سے، یعنی جو دوست ہوں یا رشتہ دار ہوں، ان سے پہلے سے اس بات کو واضح کرنا چاہیے کہ مجھ سے یہ توقع نہ رکھی جائے کہ میں کسی گناہ کے کام میں آپ کے ساتھ تعاون کروں گا۔
اس کا بڑا فائدہ ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پہلے سے انسان طے کروا لے نا، تو پھر اس میں لوگ سمجھتے ہیں بھئی یہ تو ایسا ہی ہے۔ اور آج کل ایک بات میں عرض کرتا ہوں کہ آج کل بہت زیادہ ہے، مثال کے طور پر کوئی شخص افسر ہو جائے کسی محکمے میں، تو رشتہ دار اور پڑوسی اور جاننے والےلوگ جو آتے ہیں، وہ ناجائز کام کے لیے کہتے ہیں۔ اور مطلب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں بھئی اگر جائز ہوتا تو ہم آپ کے پاس آتے؟ یعنی مطلب ہمیں تو اسی میں تعاون کی ضرورت ہے جو کہ جائز نہیں ہے۔ تو یہ بڑی ڈھٹائی کی بات ہے۔ مطلب اس قسم کی بات کرنا، تو اگر وہ اتنی ڈھٹائی کر سکتے ہیں تو پھر ہم کیوں ان کی بات مانیں؟
اس پر میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔ ایک دفعہ دفتر میں میری Duty تھی Recruitment کی، Staff کی۔ اور یہ اسکول کی استانیوں کی Recruitment تھی۔ تو بہرحال یہ کافی مشکل کام ہوتا ہے، بہت ساری تعداد ہوتی ہے۔ تو ہم نے الحمد للہ Merit کی بنیاد پر ساری چیزیں رکھی تھیں۔ تو ان میں سے ایک صاحب تھے جو ہمارے کافی پرانے جاننے والے تھے۔ وہ آئے اور آتے ہی اس نے مطلب دروازہ اس انداز میں کھولا کہ ما شاء اللہ یہ تو مجھے لوگوں نے کہا کہ جی یہ کام شبیر صاحب کے ہاتھ میں، میں نے کہا وہ تو ہمارا پرانا ساتھی ہے وہ تو ان کو تو کہنے کی دیر ہے، بس ہو جائے گا۔ میں نے کہا خدا خیر کرے، کیا مسئلہ لے کے آیا ہے۔
خیر بہرحال اس کو بٹھا لیا، تو اس پہ انہوں نے شروع کیا کہ مطلب اس طرح ایک بچی ہے، اور بہت غریب لوگ ہیں، اور یہ ان کے ساتھ بڑی نیکی ہے، مطلب تعاون کیا جائے۔ تو آپ مطلب یہ نام ہے اور یہ فلاں ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ اچھا، کیا آپ کو مجھ پر یہ اعتماد ہے کہ میں جائز کروں گا، ناجائز نہیں کروں گا؟ آپ کو اعتماد ہے ؟ کہتا ہے ہاں بالکل! میں نے کہا پھر ڈرنے کی کیا بات ہے؟ اگر ان کا حق ہوگا، تو اس کو کسی اور کو کیوں دوں گا؟ وہ تو ظاہر ہے انہی کا ہو گا، تو اس میں تو میں کسی اور کو تو نہیں دوں گا۔
تو اس سے تو اس کا کام نہیں ہوتا تھا۔ تو پھر اس نے شروع کیا جی وہ بڑے یعنی وہ ہیں، مطلب غریب لوگ ہیں اور بہت مستحق ہیں اور یہ اور وہ... میں نے کہا جتنے بھی لوگ اس میں آئے ہیں سب غریب ہیں، کوئی بھی اس طرح گھر سے تو باہر نہیں جاتی نا۔ تو مطلب غریب لوگ ہیں، مستحق لوگ ہیں۔ ہاں البتہ ہمیں چونکہ حوالے کیا گیا ہے تو ہم ان میں Merit کی بنیاد پر جو اصول ہیں، اس کے مطابق ہم کریں گے۔ تو آپ کی بچی پہ کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔ یہ میں آپ کو ان شاء اللہ یقین دلاتا ہوں۔
پھر اس نے دوبارہ نئے سرے سے بات شروع کر لی۔ تقریباً گھنٹہ سوا گھنٹہ میرے ساتھ لگے رہے۔ اس کے لیے میں نے چائے منگوا لی تھی، چائے اس نے پی لی۔ آخر میں جب وقت بہت لگ رہا تھا، تو اس وقت پھر میں نے Final بات کی۔ میں نے کہا بس ایک طریقہ مجھے سکھا دو، تو میں ان شاء اللہ آپ کے ساتھ جو کام ہے وہ سارا کر لوں گا۔ تو اس کو ذرا تسلی ہو گئی کہ بھئی یہ تو کوئی مسئلہ بننے والا ہے۔ تو انہوں نے کہا کیا؟ میں نے کہا کوئی ایسا طریقہ بتاؤ کہ اس میں اللہ بھی راضی رہے اور تم بھی راضی ہو جاؤ۔ بس یہ مجھے بتاؤ، تو میں اس کو سو فیصد کرنے کے لیے تیار ہوں۔ میں نے کہا، اگر اللہ ناراض ہو اور تم راضی ہو نا، تو اس کام کی توقع مجھ سے نہ رکھو۔ کم از کم یہ معاملہ ممکن نہیں ہے۔
تو خواہ مخواہ اپنے آپ کو تھکائیں گے، مزید بھی آپ بات کریں گے تو نتیجہ تو یہی ہو گا۔ تو پھر اس کو میں نے اس طرح رخصت کر لیا۔ تو یہ بات یہ ہے کہ اس پہ بہت زیادہ ضرورت ہے جمنے کی، اور پھر اللہ پاک پھر بندوبست فرما دیتے ہیں۔ اس قسم کے حالات جب آتے ہیں اور اگر کوئی اس میں ثابت قدمی کا ما شاء اللہ یعنی رویہ اختیار کر لے، تو پھر اللہ تعالیٰ کی کھلی مدد بھی آتی ہے۔ تو بعض دفعہ ایسا ہوتا تھا کہ وہ اوپر والے لوگ وہ ہمیں Change کرنا بھی چاہتے تھے کہ بھئی اب Change کر لیں اس کو۔ تو جو Administration والے ہیں، وہ کہتے تھے نہیں نہیں ان کو Change نہ کریں، اس کی وجہ سے ہم بچے ہوئے ہیں۔ کیونکہ وہ Pressure لے لیتے ہیں، باقی لوگ Pressure نہیں لیتے۔
تو مقصد یہ ہے کہ یہ جو چیز ہوتی ہے، اس میں انسان کو جائز کو دیکھنا چاہیے کہ جائز کیا ہے، ناجائز کیا ہے، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے۔ لوگوں کے حکم کے مطابق جائز ناجائز نہیں ہے۔ لوگوں کی اپنی مرضیاں ہوتی ہیں، ان کے نفس کی خواہشات ہوتی ہیں، اس میں بہت بڑی Variations ہوتی ہیں، لیکن جائز شریعت کے مطابق اس میں تعاون ہو، اور جو شریعت کے مطابق ناجائز ہے، بس اس میں اچھے طریقے سے علیحدہ ہو جانا۔ اللہ جل شانہ آپ سب کو اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الحمد للہ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔