یہود کا بخل، عالمی فساد اور سرمایہ دارانہ نظام کی حقیقت

درس نمبر 221: سورۃ المائدة، آیت نمبر 61 تا 64

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • سورۃ المائدہ کی آیات مبارکہ کی تلاوت اور بامحاورہ ترجمہ
  • یہودیوں کی ہٹ دھرمی، کفر اور اللہ کی ذات پر بخل کا بہتان
  • موجودہ سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) کا بخل اور سود پر مبنی ہونا
  • دنیا بھر میں جنگوں، فسادات اور اسلحے کی فروخت میں یہودیوں کا کردار
  • یہودیوں کے ظاہری معاہدات اور درپردہ سازشوں کی حقیقت
  • نئی نسل کو بغض، بے اعتمادی اور دوسروں کو حقیر سمجھنے کی تربیت (Training) دینا

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ:

وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُـوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖؕ-وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ(61)

وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَؕ-لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(62) لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَؕ-لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ(63) وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌؕ-غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْاۘ-بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِۙ-یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُؕ-وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاؕ-وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِؕ-كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُۙ-وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًاؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(64)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اور جب یہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ”ہم ایمان لے آئے ہیں“ حالانکہ یہ کفر لے کر ہی آئے تھے، اور اسی کفر کو لے کر باہر نکلے ہیں۔ اور اللہ خوب جانتا ہے کہ یہ کیا کچھ چھپاتے رہے ہیں ﴿61﴾

اور ان میں سے بہت سوں کو تم دیکھو گے کہ وہ گناہ، ظلم اور حرام خوری میں لپک لپک کر آگے بڑھتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جو حرکتیں یہ کرتے ہیں وہ نہایت بری ہیں ﴿62﴾ ان کے مشائخ اور علماء ان کو گناہ کی باتیں کہنے اور حرام کھانے سے آخر کیوں منع نہیں کرتے؟ حقیقت یہ ہے کہ ان کا یہ طرز عمل نہایت برا ہے۔ ﴿63﴾

اور یہودی کہتے ہیں کہ "اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں" ہاتھ تو خود ان کے بندھے ہوئے ہیں، اور جو بات انہوں نے کہی ہے اس کی وجہ سے ان پر لعنت الگ پڑی ہے، ورنہ اللہ کے دونوں ہاتھ پوری طرح کشادہ ہیں، وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ اور (اے پیغمبر!) جو وحی تم پر نازل کی گئی ہے وہ ان میں سے بہت سوں کی سرکشی اور کفر میں مزید اضافہ کر دے گی، اور ہم نے ان کے درمیان قیامت کے دن تک کے لیے عداوت اور بغض پیدا کر دیا ہے۔ جب کبھی یہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں، اللہ اس کو بجھا دیتا ہے، اور یہ زمین میں فساد مچاتے پھرتے ہیں، جبکہ اللہ فساد مچانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ﴿64﴾ یہ جو مطلب یہ ان کے بارے میں ہے کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔

حاشیہ: جب مدینہ منورہ کے یہودیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تنبیہ کے طور پر کچھ عرصے کے لئے معاشی تنگی میں مبتلا کر دیا۔ اس موقع پر بجائے اس کے کہ وہ ہوش میں آتے، ان کے بعض سرداروں نے یہ گستاخانہ جملہ کہا۔ ”ہاتھ کا بندھا ہونا“ عربی میں بخل اور کنجوسی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا ان کا مطلب یہ تھا کہ معاذ اللہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ بخل کا معاملہ کیا ہے۔ حالانکہ بخل کی صفت تو خود ان کی مشہور و معروف تھی، اس لئے فرمایا گیا کہ ”ہاتھ تو خود ان کے بندھے ہوئے ہیں“۔

مطلب یہ یہودی جو ہیں نا، اب بھی بہت بخیل ہیں۔ بخل ان میں، مطلب، کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ یہ Capitalism جو سسٹم جو انہوں نے چلایا ہے یہ بھی اصل میں بخل ہی کی بنیاد پر ہے۔ بنیادی طور پر یہ بخل ہی ہے۔ مطلب دیکھیں نا، Procedure یہ ہے، طریقہ یہ ہے کہ جو مالدار ہے، وہ غریب کو دے۔ یعنی اصولی بات ہے چونکہ وہ محتاج ہے۔ لیکن دیں گے تو کیا؟ یہ تو ان سے لیتے ہیں۔ سود کے ذریعے سے، ان کا جو مال ہوتا ہے، وہ اپنی تجوریوں میں Drain کرتے ہیں۔ تو یہ صرف اور صرف بخل کی وجہ سے ہے، اور مال کی محبت کی وجہ سے ہے۔ تو انہوں نے جو یہ کہا تو یہ اپنے اس کے مطابق کہا کہ جو خود چونکہ ایسے ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ یہ لڑائی کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔ اب بھی دنیا میں اگر کرتے ہیں تو یہی لوگ کرتے ہیں۔ اپنا اسلحہ بیچنے کے لیے، اور اپنے مفادات کے لیے پوری دنیا میں جنگ و جدل کا طوفان ان لوگوں نے برپا کیا ہوتا ہے۔

حاشیہ: یہ یہودیوں کی ان سازشوں کی طرف اشارہ ہے جو وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر کرتے رہتے تھے۔ اگرچہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ بندی کا معاہدہ کر رکھا تھا، لیکن درپردہ وہ اس کوشش میں لگے رہتے تھے کہ مسلمانوں پر کوئی حملہ ہو اور وہ اس میں شکست کھائیں۔ مگر اللہ تعالیٰ ہر موقع پر ان کی سازش کو ناکام بنا دیتے تھے۔

یعنی یہ درپردہ تو دشمن تھے، ظاہری طور پر ان لوگوں نے معاہدہ کیا ہوا تھا کہ ہم آپس میں دوست رہیں گے اور ایک دوسرے کو چھیڑیں گے نہیں۔ تو یہ ابھی بھی ان کا یہی Style ہے۔ مطلب دیکھیں نا عرب امارات اور دوسرے ملکوں کے ساتھ جو ان کے معاہدات ہیں اور جو ان کے ساتھ تو بظاہر تو معاہدات لیکن اندر ہی اندر جڑیں کاٹتے ہیں۔ تو یہ، مطلب، ان کا بالکل یعنی وہی Style چلا آ رہا ہے۔ نہ انہوں نے اپنے حالات سے کچھ سیکھا۔ یعنی بس جس کو کہتے ہیں مغضوب علیہم۔ اللہ تعالیٰ کا ان پر غصہ ہے، ان کا ذہن اس طرف جاتا ہی نہیں ہے۔ خیر کی طرف، وہ نفسِ امارہ ان کے اوپر چھایا ہوا ہے، تو شر کی طرف ہی ان کا ذہن جاتا ہے۔ کبھی بھی ان سے کسی خیر خواہی کی توقع نہیں ہو سکتی۔

اور یہ باقاعدہ Training اپنے بچوں کو اس طرح دیتے ہیں۔ ایک دفعہ ایک یہودی نے بچے کو... کہا کہ Jump لگاؤ میں پکڑ لوں گا۔ تو ظاہر ہے جس وقت اس نے Jump لگایا تو ہٹ گیا تو زمین پر آ گیا۔ تو اس نے کہا آپ نے تو کہا تھا میں کہتے ہیں میں نے آپ کو اس لیے کیا تاکہ آپ کو آئندہ کسی پر اعتماد نہ رہے۔ یعنی خود فیصلہ کرو کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔ یعنی Training ان کی ایسی ہوتی ہے بچپن سے کہ ایک تو بغض ان میں بھر دیتے ہیں، ان لوگوں کے خلاف، اور یہ سوچ ان میں بھر دیتے ہیں کہ ہم Chosen people ہیں اور یہ باقی لوگ کیڑے مکوڑوں کی طرح ہیں۔ تو جیسے کیڑے مکوڑے کو ذبح کرنا یا مارنا یا نقصان دینا، وہ انسان اس کے بارے میں سوچتا نہیں ہے کہ یہ بھی کوئی جرم ہے۔ تو اس طریقے سے یہ بھی یہ نہیں سمجھتے کہ یہ بھی کوئی جرم ہے۔ بلکہ بعض دفعہ اس کو ثواب سمجھتے ہیں۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو ان کے شر سے محفوظ فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔