حقیقی عقل کا معیار اور دین کا مذاق اڑانے والوں کا انجام
درس نمبر 220: سورۃ المائدة، آیت نمبر 57 تا 60
- دین اسلام اور شعائرِ اسلام (جیسے اذان) کا مذاق اڑانے والوں کی حقیقت اور ان سے دوستی کی ممانعت۔
- قرآن کریم کی روشنی میں 'عقل' کی درست تعریف اور دنیاوی بمقابلہ اخروی کامیابی کا فرق۔
- یہود و نصاریٰ کا مسلمانوں سے محض حسد اور عناد کی بنیاد پر حق کا انکار کرنا۔
- حسد اور غصے جیسی طبعی چیزوں کا عقل پر غالب آکر انسان کو گمراہ کر دینا۔
- غضبِ الٰہی کے شکار لوگوں کا عبرت ناک انجام (بندر اور خنزیر بننا) اور دورِ حاضر میں باطل پرستی کی مثالیں۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(57) وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًاؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ(58) قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُۙ-وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ(59) قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِؕ-مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَؕ-اُولٰٓىٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ(60)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
ترجمہ: اے ایمان والو! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ان میں سے ایسے لوگوں کو جنہوں نے تمہارے دین کو مذاق اور کھیل بنا رکھا ہے اور کافروں کو یار و مددگار نہ بناؤ، اور اگر تم واقعی صاحبِ ایمان ہو تو اللہ سے ڈرتے رہو ﴿57﴾
اور جب تم نماز کے لئے (لوگوں کو) پکارتے ہو تو وہ اس (پکار) کو مذاق اور کھیل کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہ سب (حرکتیں) اس وجہ سے ہیں کہ ان لوگوں کو عقل نہیں ہے۔ ﴿58﴾ تم (ان سے) کہو کہ: ”اے اہل کتاب! تمہیں اس کے سوا ہماری کونسی بات بُری لگتی ہے کہ ہم اللہ پر اور جو کلام ہم پر اتارا گیا اس پر اور جو پہلے اتارا گیا تھا اُس پر ایمان لے آئے ہیں، جبکہ تم میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں؟“ ﴿59﴾
(اے پیغمبر! ان سے) کہو کہ: ”کیا میں تمہیں بتاؤں کہ (جس بات کو تم برا سمجھ رہے ہو) اس سے زیادہ برے انجام والے کون ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے پھٹکار ڈالی، جن پر اپنا غضب نازل کیا، جن میں سے لوگوں کو بندر اور سور بنایا، اور جنہوں نے شیطان کی پرستش کی! وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا بھی بدترین ہے اور وہ سیدھے راستے سے بھی بہت بھٹکے ہوئے ہیں۔“ ﴿60﴾
اللہ جل شانہ ہم سب کو اس سے بچائے۔ اصل میں اس میں یہ بات کی گئی ہے کہ بہت اہم بات ہے کہ جس وقت نماز کے لیے لوگوں کو پکارتے ہیں، جیسے اذان ہے، تو پھر یہ اس پکار کو مذاق اور کھیل کا نشانہ بنا لیتے ہیں۔ لیکن یہ فرمایا: یہ سب حرکتیں اس وجہ سے ہیں کہ ان لوگوں کو عقل نہیں ہے۔ تو یہاں سے عقل کی صحیح definition کا پتہ چلتا ہے کہ عقل ہے کیا؟ مطلب ممکن ہے کہ ایک آدمی اپنے دنیاوی کاموں میں بظاہر بہت اچھا فہیم آدمی ہو اور اپنا کام وہ کر رہا ہو لیکن وہ آخرت سے غافل ہو۔ دوسرا آدمی دنیا کے کاموں میں اتنا زیادہ چست اور چالاک نہ ہو لیکن اپنے دین کے کاموں میں بہت سمجھدار ہو۔ اب اس کا فیصلہ کیسے کیا جائے کہ عقلمند کون ہے اور بے عقل کون ہے؟ تو جو عقلمند ہے وہ اصل میں اپنے بڑے مقصد کو سامنے رکھتا ہے، چھوٹے مقاصد ممکن ہیں اور اس سے اس کا ذہول ہو جائے۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کوئی بڑا مقصد سامنے ہوتا ہے تو چھوٹا مقصد انسان بھول جاتا ہے، لیکن بہرحال اگر مثال کے طور پر کوئی بڑے مقصد کو سمجھتا ہے اور اس کے لیے کوشاں ہے تو یقیناً وہ عقلمند ہے۔ اب ذرا تھوڑا سا غور سے دیکھیں کہ یعنی اس کے فوراً بعد جو آیت ہے، وہ یہ ہے کہ..
ترجمہ: تم (ان سے) کہو کہ: ”اے اہل کتاب! تمہیں اس کے سوا ہماری کونسی بات بُری لگتی ہے کہ ہم اللہ پر اور جو کلام ہم پر اتارا گیا اس پر اور جو پہلے اتارا گیا تھا اُس پر ایمان لے آئے ہیں، جبکہ تم میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں؟“ ﴿59﴾
مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہ پر ایمان تو ہم بھی لائے ہیں اور تم بھی اس پر دعویٰ کرتے ہو کہ، اور جو کلام آپ پر اتارا گیا ہے اس کی ہم نفی نہیں کرتے اور تو جو کلام ہم پر اتارا گیا ہے تم اس کی نفی کرتے ہو۔
تو اب ذرا غور سے دیکھنا چاہیے کہ جو غیر اہلِ کتاب ہیں جن کو یعنی کتاب نہیں دی گئی، Atheist ہیں یا جو بھی ہیں، مشرکین ہیں، ان کی بات تو اور ہے، لیکن جو اہلِ کتاب ہیں ان کے ساتھ تو ایسا ہو چکا ہے پہلے سے۔ ان کو پہلے سے اس چیز کا تجربہ ہے، نبی کا تجربہ ہے، ساتھ کتاب کا تجربہ ہے، ان تمام چیزوں کا تجربہ ہے، تو یہ مطلب ظاہر ہے یہ کیسے انکار کرتے ہیں؟ یہ تو صرف اور صرف حسد والی بات ہے، مطلب وہی بات ہو سکتی ہے ورنہ ان کو چیز تو بالکل اسی طریقے سے، کیونکہ ہم اس کی بھی تصدیق کرتے ہیں اور اپنے جو آئے ہیں مطلب اس کے بارے میں بات بتاتے ہیں۔ تو یہ بات مطلب یہاں پر یہ ہے کہ عقل اصل عقل ان کے پاس نہیں ہے۔ اگر ان کے پاس اصل عقل ہوتی تو کم از کم اس معاملے میں... اب دیکھیں کہ یہود کے بارے میں کم از کم تو یہ بات بالکل آئی ہے کہ ”يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ“ ان کو ایسے جانتے ہیں جیسے کہ اپنے بیٹوں کو جانتے ہیں۔ تو جانتے تو تھے لیکن اس کے باوجود پھر انکار کیوں کرتے تھے؟ تو یہ حسد تھا۔ حسد کیا چیز ہے؟ ایک طبعی چیز ہے۔ تو طبعی چیز اگر عقل پر غالب آ جائے تو عقل کدھر گئی؟ عقل تو فیل ہو گئی۔
عقلمند تو وہ ہے کہ وہ مشکل حالت میں بھی صحیح بات کو سمجھے، جلدی میں بھی صحیح بات کو سمجھے، غصے میں بھی صحیح بات کو سمجھے۔ مطلب گویا کہ جو اس کا اصلی target ہو اس سے مخفی نہیں ہونے پائے۔ یہ عقلمند لوگ ہیں مطلب جو اصل میں۔ جس پر طبیعت غالب آ جائے تو ظاہر ہے وہ عقلمند تو نہیں ہے۔ تو یہاں پر اس کے بارے میں ہمیں ایک light ملتی ہے کہ ہم لوگ جو اصل بات ہے اس کو نہ بھول جائیں۔ دنیا کی بہت ساری باتیں ایسی ہیں جس میں لوگ آگے پیچھے ہوتے رہتے ہیں، یعنی کوئی کم، کوئی زیادہ، کوئی اچھا، کوئی کم۔ لیکن یہ بات ہے کہ یہ جو آخرت والی بات ہے، جو کہ ہمارے یعنی مکمل کامیابی اور مکمل ناکامی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے، اس مسئلے میں ہم لوگ غافل نہ ہونے پائیں۔ اور اس کے بارے میں جو صحیح طریقہ کار ہے وہ ہم لوگ اپنائیں۔ تو یہ ہے کہ دیکھیں نا،
ترجمہ: (اے پیغمبر! ان سے) کہو کہ: ”کیا میں تمہیں بتاؤں کہ (جس بات کو تم برا سمجھ رہے ہو) اس سے زیادہ برے انجام والے کون ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے پھٹکار ڈالی، جن پر اپنا غضب نازل کیا۔
ہم سورۃ فاتحہ میں کہتے ہیں نا ”غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ“، مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کا راستہ نہیں جن پر تو نے غضب نازل کیا ہے۔ اب یہ غضب کن چیزوں پر نازل کیا ہے؟ کن وجوہات پر؟ وجہ یہ ہے کہ یہ باوجود جاننے کے، مانتے نہیں تھے، باوجود جاننے کے، جو نہیں جانتے وہ ایک علیحدہ بات ہے، لیکن جو جانتے ہیں اس کے باوجود اس طرح کرتے ہیں تو پھر...
یہ مشہور واقعہ ہے غالباً حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا کہ وہ کسی ایسی جگہ پہ گئے تھے جو یہودیوں کی تو وہ تھی، تو اس میں کچھ سوال و جواب ہوئے تھے۔ تو اس نے سوال کیا تھا کہ وہ جنت کی جو کنجی ہے وہ کیا ہے؟ وہ مجھے اب تفصیلی واقعہ نہیں، کتابوں میں لکھا ہو گا، لیکن اس میں اخیر میں اس نے بالکل وہی جو تھے رابی، اس نے کہا کہ ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ“ اس کی اس کی چابی ہے۔ تو وہ دوسرے لوگ جو تھے وہ مسلمان ہو گئے تھے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بات کہ ان کو پتہ ہے، ساری چیزیں معلوم ہیں، لیکن کیا کریں مطلب ظاہر ہے حسد، غصے اور ان کی وجہ سے اور حسد پینے کی وجہ سے وہ حق کو جانتے نہیں ہیں۔ تو یہاں پر فرمایا
ترجمہ: جن میں سے لوگوں کو بندر اور سور بنایا،
تو کس کو بندر اور سور بنایا تھا؟ یہودیوں کو بنایا تھا، یہودیوں کے کچھ لوگ تھے۔
ترجمہ: اور جنہوں نے شیطان کی پرستش کی۔
اس وقت بھی satanic کدھر زیادہ ہیں؟ جو یعنی باقاعدہ، اور گائے کی پرستش کس نے کی تھی؟ وہ ساری باتیں ہیں۔ تو یہ
ترجمہ: وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا بھی بدترین ہے اور وہ سیدھے راستے سے بھی بہت بھٹکے ہوئے ہیں۔“ ﴿60﴾
اللہ جل شانہ ہم سب کو ایسی چیزوں سے بچائے جو ہمیں اللہ سے دور کریں، اور ہمیں آخرت کی تیاری کی خوب توفیق عطا فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔