اللہ کی بے نیازی اور سچے مومن کی صفات
درس نمبر 219: سورۃ المائدة، آیت نمبر 54 تا 56
- اللہ تعالیٰ کی غنائیت اور بے نیازی کا بیان۔
- دین سے پھر جانے والوں کے انجام اور ان کے متبادل گروہ کا تذکرہ۔
- مومنوں کی باہمی نرمی اور کفار پر سختی۔
- مخلوق کی ملامت کے بجائے صرف اللہ کی رضا کا حصول۔
- محبت اور دشمنی کا معیار: صرف اللہ کی ذات۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ:
يٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤۙ-اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ٘-یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآىٕمٍؕ-ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ (54) اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ (55) وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ۠ (56)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: اے ایمان والو! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھر جائے گا تو اللہ ایسے لوگ پیدا کردے گا جن سے وہ محبت کرتا ہوگا، اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے، جو مومنوں کے لئے نرم اور کافروں کے لئے سخت ہوں گے، اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے، اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جو وہ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا، بڑے علم والا ہے ﴿54﴾ (مسلمانو!) تمہارے یار و مددگار تو اللہ، اس کے رسول اور وہ ایمان والے ہیں جو اس طرح نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں کہ وہ (دل سے) اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہوتے ہیں ﴿55﴾ اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اور ایمان والوں کو دوست بنائے تو (وہ اللہ کی جماعت میں شامل ہو جاتا ہے اور) اللہ کی جماعت ہی غلبہ پانے والی ہے۔ ﴿56﴾
اللہ جل شانہ نے اس میں اپنے جلال کا زور فرمایا ہے کہ اللہ پاک کو کسی کی حاجت نہیں، اللہ پاک کو کسی کی حاجت نہیں، بلکہ ہم سب لوگوں کو اللہ پاک کے کرم کی ضرورت ہے۔ لہٰذا جو لوگ اللہ پاک کی بات مانتے ہیں، تو وہ ان کا اپنا فائدہ ہے، کیونکہ اللہ کے علاوہ کوئی اور بچانے والا نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے دین سے پھر جاتا ہے تو اس سے اللہ پاک کی خدائی میں کوئی نقصان، کوئی کمی نہیں آتی، نہ اللہ پاک کو کوئی نقصان ہوتا ہے، کیونکہ وہ ان تمام چیزوں سے غنی ہے۔ لیکن ان لوگوں کا نقصان ہوگا۔ اور اللہ جل شانہ ایسے اور لوگ پیدا کرے گا، جن سے اللہ پاک محبت کرتے ہوں گے اور وہ اس سے (اللہ تعالیٰ سے) محبت کریں گے۔ اور جن کی صفات یہ ہوں گی کہ مومنوں کے لیے نرم ہوں گے اور کافروں کے لیے سخت ہوں گے۔ اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔
یہ اصل میں، اس میں ہمارے لیے پیغام ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور اللہ جل شانہ کے لیے سب کچھ کریں، اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں۔ بے شک سارے لوگ بھی ہماری تعریف کریں، لیکن اللہ کے ہاں ہمارا معاملہ دوسرا ہو تو یہ تباہی کی بات ہے۔ اور اگر سارے لوگ ہمیں -نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ- یعنی ہماری مذمت کریں اور -نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ- سخت باتیں ہمارے خلاف کہیں، تو ہمارا اس میں کوئی نقصان نہیں اگر اللہ پاک ہمارے ساتھ ہے۔
تو اس وجہ سے یہ چیز اپنے دل میں یاد رکھنی چاہیے کہ ہمارا ملجا و ماویٰ اللہ پاک کی ذات ہے۔ "لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنَ اللهِ إِلَّا إِلَيْهِ"۔ یہ تو ختمِ خواجگان میں ہم کرتے ہیں نا: "لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنَ اللهِ إِلَّا إِلَيْهِ"۔ اللہ پاک ہی کی جگہ ایسی ہے جہاں التجا کی جاتی ہے، اور اللہ پاک ہی نجات دیتا ہے، کوئی بھی اس کے علاوہ نجات نہیں دے سکتا، کسی اور جگہ بھی کسی کی التجا قبول نہیں ہو سکتی۔
اس وجہ سے ہم لوگوں کو صرف اللہ پاک کی طرف متوجہ رہنا چاہیے، اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لوگوں میں بھی اگر ہم کسی کو خوش کرتے ہیں تو اللہ کے لیے خوش کریں۔ اور اگر کسی سے ناراض ہوں تو اللہ کے لیے ناراض ہوں۔ "اَلْحُبُّ فِي اللهِ وَالْبُغْضُ فِي اللهِ" یہ صفات ہیں مومنوں کی کہ اللہ ہی کے لیے محبت کرنا اور اللہ ہی کے لیے بغض رکھنا، یہی اصل میں چیز ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔