یہود و نصاریٰ سے دوستی کی ممانعت اور دلوں کے نفاق کی حقیقت

درس نمبر 218: سورۃ المائدة، آیت نمبر 51 تا 53

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • کفار (یہود و نصاریٰ) کے ساتھ دلی یاری اور موالات (گہرے تعلقات) رکھنے کی شرعی ممانعت۔
  • منافقین کے دلوں کی بیماری، دنیاوی مصلحتوں اور خوف کے تحت غیر مسلموں کی طرف جھکاؤ کا تذکرہ۔
  • اللہ جل شانہٗ کی صفات پر کامل یقین اور توکل نہ ہونے کے دنیاوی و اخروی نقصانات۔
  • عہدِ رسالت کے منافقین اور موجودہ دور کے مرعوب و کمزور مسلمانوں کے رویوں کا موازنہ۔
  • منافقین کے انجامِ کار کی رسوائی، ان کے پوشیدہ رازوں کے فاش ہونے اور اعمال کی بربادی کا بیان۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ۔ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍؕ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ (51) فَتَرَى الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْهِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰۤى اَنْ تُصِیْبَنَا دَآىٕرَةٌؕ-فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِیْنَ (52) وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْۙ-اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْؕ-حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَٝ (53)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اے ایمان والو! یہودیوں اور نصرانیوں کو یار و مددگار نہ بناؤ۔

حاشیہ: اس آیت کی تشریح اور غیر مسلموں سے تعلقات کی حدود کی تفصیل کے لئے دیکھئے سورۃ آل عمران (28:3) کا حاشیہ۔

ترجمہ: چنانچہ جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) روگ ہے، تم انہیں دیکھتے ہو کہ وہ لپک لپک کر اُن میں گھستے ہیں، کہتے ہیں: "ہمیں ڈر ہے کہ ہم پر کوئی مصیبت کا چکر آ پڑے گا" حاشیہ: یہ منافقین کا ذکر ہے جو یہود و نصاریٰ سے ہر وقت گھلے ملے رہتے اور ان کی سازشوں میں شریک رہتے تھے، اور جب ان پر اعتراض ہوتا تو وہ جواب دیتے کہ اگر ہم ان سے تعلقات نہ رکھیں گے تو ان کی طرف سے ہمیں تنگ کیا جائے گا اور ہم کسی مصیبت میں گرفتار ہو سکتے ہیں۔ اور ان کے دل میں یہ نیت ہوتی تھی کہ کسی وقت مسلمان ان کے ہاتھوں مغلوب ہو جائیں گے تو ہمیں بالآخر انہی سے واسطہ پڑے گا۔

یہ اصل میں اللہ جل شانہٗ کی صفات پر یقین نہ ہونا اور اللہ جل شانہٗ پر مکمل توکل نہ لینا، اس کا پھر نتیجہ ہوتا ہے کہ آدمی گومگو کی حالت میں رہتا ہے۔ ایسی صورت جو ہوتی ہے، تو اس میں پھر لوگوں میں نفاق پیدا ہو جاتا ہے۔

مطلب یہ ہے کہ وہ بعض چیزوں میں مسلمانوں سے convinced ہوتے تھے کہ ممکن ہے یہ جیت جائیں اور مطلب یہ ہے کہ پھر ہمیں۔۔۔ اور چونکہ ان کو اس کا خوف بھی تھا کہ اگر وہ مطلب نہ جیتیں تو پھر ان کے ساتھ ہی واسطہ ہوگا، لہٰذا ان کے ساتھ بھی بنا کر رکھتے تھے۔ یعنی اس طریقے سے وہ کر لیتے، ان کے دل میں وہ حقیقتِ اسلام چونکہ نہیں آ چکی ہوتی تھی، اس وجہ سے اس قسم کی صورتیں پیدا ہو جاتی تھیں۔

وہاں اس وقت چونکہ پیغمبر تھا سامنے، لہٰذا ان کا یہ عمل وہ ان کو مکمل کفر میں ڈال دیتا ہے، بلکہ کفر سے بھی زیادہ سخت۔ کیونکہ پیغمبر کے خلاف سازش کرنا تو ظاہر ہے، مطلب کیا ہے اس وقت جو مسلمانوں میں کمزوریاں ہیں، اور وہ اس قسم کی جو حرکتیں کرتے ہیں، تو وہ کفر کی حد تک نہیں لے جاتیں، البتہ ان کو بہت ہی یعنی کافروں جیسی حرکتیں کرنے والے تک ان کو لے جاتی ہیں، اور پھر کیا ہو جاتے ہیں؟ بس ان کا معاملہ پھر اللہ کے حوالے ہوتا ہے کہ وہ کس stage کو touch کر چکے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کو پتا ہوتا ہے کہ آیا وہ اس نفاق کے level کو touch کر چکے ہیں، یا یہ ہے کہ ابھی اس طرف ہیں، لیکن کمزور ہیں۔

جیسے مثال کے طور پر یہاں کچھ لوگ Pro-Americans، Pro-Russians۔۔۔ یا انگریزوں کے دور میں انگریزوں کے آشیاں نشین جو ہوتے تھے، وہ اس قسم کی حرکتیں کرتے تھے۔ یہ جو قرآن پاک میں آئی ہوئی ہیں، تو اس قسم کی حرکتیں، ان کا لائحہ عمل بنتی تھیں، اور ان کے لیے اس قسم کی ہوتی تھیں باتیں۔ تو ایسی صورت میں ان کا معاملہ پھر اللہ کے حوالے ہوتا تھا کہ اللہ جل شانہٗ ان کے ساتھ کیا معاملہ فرماتے ہیں۔ ہم لوگ ظاہر ہے ان کی وہ limits نہیں جانتے ہیں۔

اور یہ فرمایا:

ترجمہ: (لیکن) کچھ بعید نہیں کہ اللہ (مسلمانوں کو) فتح عطا فرمائے یا اپنی طرف سے کوئی اور بات ظاہر کردے

حاشیہ: "کوئی اور بات ظاہر کرنے" سے مراد غالباً یہ ہے کہ ان کے پول وحی کے ذریعے کھول دیئے جائیں اور ان کی رسوائی ہو۔

جیسے بعض منافقین کے ساتھ ہوا۔ ان کا پول ظاہر کر دیا گیا تھا۔

وَيَقُولُ الَّذِينَ اٰمَنُوْا اَهٰٓؤُلَآءِ الَّذِينَ اَقْسَمُوا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ ۙ اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ

ترجمہ: اور (اس وقت) ایمان والے (ایک دوسرے سے) کہیں گے کہ کیا یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے بڑے زور و شور سے اللہ کی قسمیں کھائی تھیں کہ وہ تمہارے ساتھ ہیں۔ ان کے اعمال غارت ہو گئے، اور وہ نامراد ہو کر رہے ﴿53﴾

یہ بات یہ ہے کہ ایسے لوگ جو تھے یعنی ایمان والے، ان کے اوپر بڑی حیرت کریں گے کہ یہ تو عجیب لوگ ہیں، مطلب یہ ہے کہ انہوں نے تو کہا تھا کہ ہم یہ کریں گے، یہ کریں گے، کیونکہ ان کا قسمیں کھانا تو اس لحاظ سے ہوتا تھا کہ وہ ان کو face نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن اصل میں ان کے دل میں ان کے ساتھ ہوتے تھے، لہٰذا یہ حالت ان کی مطلب ظاہر ہو جائے گی، اور جب ظاہر ہو جائے گی، تو پھر ایمان والوں کو اس طرح حیرت ہوگی۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔