بدلتے حالات، شریعت کے مقاصد اور ذرائع کا انتخاب

درس نمبر 217: سورۃ المائدة، آیت نمبر 48 تا 50

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • قرآن مجید کا سابقہ الہامی کتابوں کے لیے محافظ و نگہبان ہونا۔
  • یہود و نصاریٰ کی ہٹ دھرمی اور سابقہ شریعتوں میں تبدیلیوں کی وجوہات۔
  • دینِ اسلام اور شریعتِ محمدی ﷺ کی تکمیل اور تاقیامت اس کی آفاقیت۔
  • مقاصدِ شریعت (Objectives) کا مستقل ہو جانا اور مقاصد کے حصول کے لیے حالات کے مطابق ذرائع (Means) کا بدلنا۔
  • تقدس پرانے طریقوں کا نہیں، بلکہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حکم کا ہے۔
  • اپنی نفسانی خواہشات اور ذاتی آراء کے بجائے ہر دور میں اللہ کے احکامات کے تابع رہنا۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ۔ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ ۖ فَاحْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ عَمَّا جَاءَكَ مِنَ الْحَقِّ ۚ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَٰكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ ۖ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ ۚإِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ ﴿48﴾ وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَن يَفْتِنُوكَ عَن بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللَّهُ إِلَيْكَ ۖفَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا يُرِيدُ اللّٰهُ اَنْ يُصِيْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ ۗ وَاِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُونَ ﴿49﴾ اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۗ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُّوقِنُونَ ﴿50﴾

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اور (اے رسول محمد! صلی اللہ علیہ وسلم) ہم نے تم پر بھی حق پر مشتمل کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان کی نگہبان ہے۔ لہٰذا ان لوگوں کے درمیان اسی حکم کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے، اور جو حق بات تمہارے پاس آگئی ہے اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کے پیچھے نہ چلو۔ تم میں سے ہر ایک (اُمت) کے لئے ہم نے ایک (الگ) شریعت اور طریقہ مقرر کیا ہے

حاشیہ: یہودی اور عیسائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کرنے سے جو انکار کرتے تھے اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ اسلام میں عبادت کے طریقے اور بعض دوسرے احکام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کی شریعت سے مختلف تھے، اور ان لوگوں کو ان نئے احکام پر عمل کرنا بھاری معلوم ہوتا تھا۔ اس آیت نے واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے تحت مختلف پیغمبروں کو الگ الگ شریعتیں عطا فرمائی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ تو ہے ہی کہ ہر زمانے کے تقاضے الگ ہوتے ہیں، لیکن ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ عبادت کا کوئی ایک طریقہ یا کوئی ایک قانون اپنی ذات میں کوئی تقدس نہیں رکھتا، اس میں جو کچھ تقدس پیدا ہوتا ہے وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا جس زمانے میں اللہ تعالیٰ جو حکم دے دیں وہی اس زمانے میں تقدس کا حامل ہے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ جو لوگ ایک طریقے کے عادی ہوجاتے ہیں، وہ اسی کو ذاتی طور پر مقدس سمجھ بیٹھتے ہیں، اور جب کوئی نیا پیغمبر نئی شریعت لے کر آتا ہے تو ان کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ پرانے طریقے کو ذاتی طور پر مقدس سمجھ کر نئے طریقے کا انکار کر بیٹھتے ہیں یا اللہ کے حکم کو اصل تقدس کا حامل سمجھ کر نئے حکم کو دل و جان سے تسلیم کرتے ہیں۔ آگے جو ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ”لیکن (تمہیں الگ شریعتیں اس لئے دیں) تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے“ اس کا یہی مطلب ہے۔

ترجمہ: اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو، اور ان کی اس بات سے بچ کر رہو کہ وہ تمہیں فتنے میں ڈال کر کسی ایسے حکم سے ہٹا دیں جو اللہ نے تم پر نازل کیا ہو۔ اس پر اگر وہ منہ موڑیں تو جان رکھو کہ اللہ نے ان کے بعض گناہوں کی وجہ سے ان کو مصیبت میں مبتلا کرنے کا ارادہ کر رکھا ہے۔

حاشیہ: بعض گناہ اس لیے فرمایا کہ تمام گناہوں کی سزا تو آخرت میں ملنی ہے، البتہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے سے منہ موڑنے کی سزا ان کو دنیا میں ملنی ہے۔ چنانچہ کچھ عرصے کے بعد ان کی عہد شکنی اور سازشوں کے نتیجے میں ان کو جلا وطنی اور قتل کی سزائیں دنیا ہی میں مل گئیں۔

ترجمہ: اور ان لوگوں میں سے بہت سے فاسق ہیں ﴿49﴾ بھلا کیا یہ جاہلیت کا فیصلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ حالانکہ جو لوگ یقین رکھتے ہوں ان کے لئے اللہ سے اچھا فیصلہ کرنے والا کون ہوسکتا ہے؟ ﴿50﴾

یہاں ہمیں ما شاء اللہ بہت اہم باتیں ملی ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ بات ہمیں ملی ہے کہ اللہ کا حکم مقدس ہے۔ اور اللہ پاک نے جس چیز کا حکم دیا ہے، اس حکم پر عمل کرنے کے لیے جو ذریعہ مناسب ہو وہی بہتر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بات ہمیں یاد رکھنی پڑے گی۔ اب جب یہ والی بات سمجھ آئے تو دیکھیں نا، ابتدا میں انبیاء کرام چونکہ تشریف لا رہے تھے، لہٰذا جن انبیاء کرام کے ساتھ شریعت بھی اترتی تھی، تو وقت کے لحاظ سے، زمانے کے لحاظ سے، اس میں تبدیلی ضروری ہوتی تھی۔ تو اس لحاظ سے تبدیلی کرنی پڑی۔ ایک تو زمانے کے لحاظ سے۔

دوسری بات یہ کہ بنی اسرائیل جو تھے، وہ ایک خاص قوم تھی۔ یعنی ان کے اپنے حالات تھے۔ اس وجہ سے ان کو اس کے مطابق، شرعی احکامات دیے گئے۔ جو ان کے حالات تھے۔ مثلاً ان کی بعض نافرمانیاں، جیسے ابھی آ گئیں، بعض نافرمانیاں تھیں، ان نافرمانیوں کی وجہ سے ان کو حکم دیا جیسے گائے والی بات۔ وہ گائے والی بات مشہور گزری ہے کہ ان لوگوں نے چونکہ صحیح عمل نہیں کیا تھا تو اس وجہ سے ان کو وہ تبدیلیاں اس پہ آتی رہیں۔ تو وہ تبدیلی تو بالکل اس نبی کے سامنے ہی ہوئی ہے۔ مطلب وہی نبی، کہہ رہا ہے ان کو لیکن یہ چونکہ نہیں مانتے، وہ کہتے ہیں اچھا کہ مطلب اس میں مزید تفصیل، تو پھر مزید تفصیل آ گئی۔ پھر اس نے پوچھا تو پھر مزید تفصیل آ گئی۔ کیونکہ اللہ پاک کے ساتھ تو احکامات کی کمی نہیں ہے۔ تو وہ اپنے لیے بڑھاتے چلے گئے۔ تو ان کے قومی حالات کی وجہ سے وہ جو شریعت کی باتیں ان کے اوپر اتری تھیں، وہ ان کے لیے خاص تھیں۔

لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر جو شریعت اتری ہے، وہ ہر قوم اور ہر زمانے کے لیے ہے۔ یعنی اس میں مقاصد میں تبدیلی اب نہیں ہوگی۔ ان میں مقاصد میں بھی تبدیلی ظاہر ہے ہو سکتی تھی کیونکہ جو حکم اللہ نے اس وقت اتارا، اس وقت وہی مقصد بن گیا۔ کیونکہ شریعت اتر رہی تھی۔ اب چونکہ شریعت مستقل ہو گئی، الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا، اس کی بنیاد پر، تو اب یہ، مطلب ہے کہ اب یہ مقاصد متعین ہو گئے۔ اب ذرائع صرف تبدیل ہوں گے۔ اس پر عمل کرنے کے ذرائع تبدیل ہوں گے، مقاصد میں اب تبدیلی نہیں ہو گی۔

اس وقت مقاصد میں بھی تبدیلی کی جا سکتی تھی کیونکہ اس وقت شریعت آ رہی تھی۔ مطلب جو جو انبیاء شریعت والے آ رہے تھے، اس کی وجہ سے۔ جیسے کہ یہودیوں کے اوپر جو شریعت اتری تھی اور عیسائیوں کے اوپر جو شریعت، اس میں بہت فرق تھا۔ حالانکہ دونوں بنی اسرائیل تھے۔ لیکن ان میں فرق تھا۔ کیونکہ balance سے out ہو گئے تھے یہودی، ان کو balance پر لانے کے لیے عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت اتری تھی۔ جس کی وجہ سے وہ چیخ اٹھے۔ انہوں نے، مطلب ہے کہ ان کو تسلیم نہیں کیا۔ نتیجتاً وہ مصیبت میں پڑ گئے۔

تو اب یہ گویا مطلب یہ ہے کہ، ایک تو یہ والی بات کہ اس وقت مقاصد میں تبدیلی ہو سکتی تھی، لہٰذا مقاصد میں تبدیلی ہوتی تھی۔ لیکن اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر جب شریعت آ گئی، وہ مکمل شریعت تھی۔ لہٰذا اب اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی، اب صرف ذرائع میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ تو ایک تو یہ والی بات کہ وقت کے ساتھ ساتھ جو تبدیلیاں ہو رہی تھیں۔ اور دوسری بات، مطلب یہ ہے کہ، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو دور آ گیا تو اس میں بالکل قومی والی بات نہیں تھی۔ اس میں پورا domain بڑھ گیا لوگوں کا، وہ اس لحاظ سے اور قیامت تک اس میں تبدیلی نہیں آنی تھی۔ تو اس لحاظ سے اس قسم کی شریعت دی گئی جو اس میں سب میں چل سکتی تھی۔

تو اب یہ ہم لوگوں کو یہ پتہ چل گیا کہ اللہ کا حکم مقدس ہے، اور جس وقت جو حکم اتاریں، وہی ہے۔ وہی مقصد ہے۔ اسی کو پورا کرنا پڑے گا۔ اس میں ہم اپنی رائے نہیں لے سکتے کہ میرے خیال میں یہ اور میرے خیال میں یہ۔ یہ والی بات نہیں ہو سکتی۔ نقصانات اس میں ہو گئے جب انہوں نے ایک چیز کو fix سمجھا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کو درمیان میں اہم نہیں سمجھا، بلکہ اپنے جو وقت کے لحاظ سے جو چیز تھی اس کو ہی اصل سمجھا۔ نہیں، ایسی بات نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ جس وقت جو حکم دے دے، بس ٹھیک ہے، وہی اصل میں وہ والی بات ہے۔ تو یہ ایک تو مطلب یہ والی بات ہے کہ حکم مقدس ہے۔

دوسری بات: اب ہمارے لیے کیا بات ہے؟ ہمارے لیے بالکل وہ نظیر ہے وہ کیا؟ حکم مقدس ہے۔ چاہے حکم تبدیل ہو رہا ہو۔ ان کے لیے اور ہمارے لیے تو یہ بات ہے۔ لیکن اس کے بعد جب شریعت مکمل ہو گئی، اب ہمارے لیے اصل بات یہ ہے کہ اسی مقصد کو پورا کرنے کے لیے جو ذریعہ کارآمد ہو، ہم اس کو بہتر سمجھیں۔ ہم یہ نہ کہیں کہ او! یہ تو پہلے تو یہ چلا آتا ہے۔ جیسے وہاں شریعت پہلے چلی آ رہی تھی، تو اس کو ہم ضروری ملازم نہیں سمجھیں گے، ہم سمجھیں گے کہ اللہ کا حکم اب جدید جو آیا ہے، اصل بات تو یہی ہے۔ تو اس طرح اب، مطلب پہلے جو ذریعہ کام کر رہا تھا وہ ٹھیک تھا اس وقت، اس سے فائدہ ہو رہا تھا۔ لیکن یہ بات ہے کہ اب جو، مطلب یہ ہے کہ اس وقت جو ذریعہ کام دے سکتا ہے، اس وقت یہی ضروری ہے۔

تو یہی بات ہے جیسے دجال جب آئے گا تو بالکل ذرائع تبدیل ہو جائیں گے۔ اس وقت امام مہدی علیہ السلام کے ذریعے سے رہنمائی ہو گی کہ اس وقت کون کون سے ذرائع اختیار کرنے چاہئیں۔ تو یہ ساری باتیں، وقت کے لحاظ سے جو ہوتی ہیں ان کو ہم صاف صاف اچھی طرح سمجھیں کہ جیسے مقصد جو کہ وہ اعلیٰ چیز ہے وہ جب بدل سکتا تھا تو اس وقت وہ اصل نہیں تھا، بلکہ اللہ کا حکم اصل تھا۔ اللہ جو بھی جس کو بھی ہم چیز کو مقصد بنا لیتے۔ مثال کے طور پر اللہ پاک نے یہ حکم دیا تھا کہ خانہ کعبہ کی طرف رخ کر لو۔ اگر اللہ پاک کوئی اور حکم اتارے مثال کے، کہ اب اس طرف رخ کر لو، تو وہی چیز بن جائے گی۔ لیکن اب چونکہ بدل نہیں سکتی تو اب ہم کہتے ہیں کہ بالکل صحیح ہے، یہی کرنا پڑے گا۔ لیکن جن حالات میں بھی یہ کیا جا سکتا ہے، وہی کرنا پڑے گا۔ یعنی ذریعہ جو بھی ہو۔

تو ذرائع تبدیل ہوا کرتے ہیں، جیسے پہلے چیزیں تبدیل ہوتی تھیں، ذرائع تبدیل ہوا کرتے ہیں اور ان ذرائع کی تبدیلی کو بھی recognize کرنا چاہیے۔ اور جس وقت جس ذریعے سے جو کام ہو سکتا ہو، اس ذریعے سے اس کو کرنا چاہیے۔ خوامخواہ اپنی بات کو لازم نہیں سمجھنا چاہیے۔ اپنے خیال کو لازم نہیں سمجھنا چاہیے۔ بلکہ جو مقصدیت ہے، اس کو پورا کرنے کے لیے جس ذریعے کی پہچان ہے اس پر زور دینا چاہیے کہ وہ کس وقت کون سا ہے۔

تو گویا کہ ہمارے لیے اس میں بہت زبردست ما شاء اللہ ایک میسج آ گیا کہ ہم لوگ اس طریقے سے کریں گے۔ اللہ پاک ہم سب سے راضی ہو جائے اور ہمیں صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور جو ہمارے جو خیالات اور اس قسم کی جو چیزیں ہیں جن کی وجہ سے ہم لوگ اصل چیز سے رک سکتے ہیں، اللہ پاک ان کی اصلاح فرمائے۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔