یہود کا طرزِ عمل، قانونِ مساوات اور قرآنی احکامات
درس نمبر 216: سورۃ المائدة، آیت نمبر 43 تا 47
- یہودیوں کا تورات کے احکامات سے روگردانی کر کے اپنی خواہشات کے مطابق فیصلہ چاہنا۔
- مدینہ کے یہودی قبائل (بنو نضیر اور بنو قریظہ) کے درمیان قصاص اور دیت کے غیر مساوی اور ظالمانہ قوانین کا تاریخی پس منظر۔
- اللہ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والوں کے لیے قرآن مجید میں بیان کردہ تین درجات: کافر، ظالم اور فاسق۔
- تورات اور انجیل کی تصدیق، اور ان کا ہدایت و نور ہونا۔
- آیات کے درست فہم اور صحیح سیاق و سباق کو سمجھنے کی اہمیت تاکہ انتہا پسندی (extremism) سے محفوظ رہا جا سکے۔
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
وَكَيْفَ يُحَكِّمُونَكَ وَعِندَهُمُ التَّوْرَاةُ فِيهَا حُكْمُ اللَّهِ ثُمَّ يَتَوَلَّوْنَ مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ ۚ وَمَا أُولَٰئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ ﴿43﴾ إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ ۚ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِن كِتَابِ اللَّهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ﴿44﴾ وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنفَ بِالْأَنفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ ۚ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهُ ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ﴿45﴾ وَقَفَّيْنَا عَلَىٰ آثَارِهِم بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ ۖ وَآتَيْنَاهُ الْإِنجِيلَ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ ﴿46﴾ وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ الْإِنجِيلِ بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فِيهِ ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴿47﴾
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
ترجمہ: اور یہ کیسے تم سے فیصلہ لینا چاہتے ہیں جبکہ ان کے پاس تورات موجود ہے جس میں اللہ کا فیصلہ درج ہے؟ پھر اس کے بعد (فیصلے سے) منہ بھی پھیر لیتے ہیں
حاشیہ: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ تورات کے احکام سے منہ موڑ لیتے ہیں، اور یہ بھی کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے فیصلے کی خود درخواست کرنے کے باوجود جب آپ فیصلہ سناتے ہیں تو اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔
اصل میں یہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل نہیں کرنا چاہتے۔ تو تورات میں بھی اللہ ہی کا حکم تھا، اور قرآن میں بھی اللہ ہی کا حکم ہے، اور آپ ﷺ فیصلہ قرآن کے مطابق ہی فیصلہ فرماتے تھے۔ تو ان کا صرف یہ والی بات ہوتی کہ ممکن ہے کہ چونکہ آپ ﷺ کے پاس جو احکامات نازل ہوئے ہیں تو ان میں آسانی ہے۔ اس امت میں آسانی تو ہے۔ تو آسانی ہے تو عین ممکن ہے کہ وہ ایسا فیصلہ کریں جو ہماری خواہش کے مطابق ہو۔ جو ہماری خواہش کے مطابق ہو۔ تو ایسا چونکہ... مطلب ظاہر ہے ان کے دل میں چونکہ چور ہوتا تھا، تو یہ بتا دیتے تھے کہ اگر وہ ایسا نرم فیصلہ کر لے تو پھر تو مان لینا، اور اگر یہی فیصلہ کر لے تو پھر نہ مانو۔ یعنی باقاعدہ یہ ان کا طے ہوتا تھا۔ تو اصل میں تو ماننا نہیں تھا، اصل میں تو ماننا نہیں تھا کہ تورات میں جو حکم ان کی مرضی کے خلاف تھا تو اس کو بھی نہیں ماننا تھا، اور جو آپ ﷺ کا طریقہ اس میں، ان کی مرضی کے خلاف تھا، وہ بھی نہیں ماننا تھا۔ تو یہی اصل میں یہاں پر فرمایا گیا ہے۔
ترجمہ: دراصل یہ ایمان والے نہیں ہیں ﴿43﴾ بیشک ہم نے تورات نازل کی تھی جس میں ہدایت تھی اور نور تھا۔ تمام نبی جو اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار تھے، اسی کے مطابق یہودیوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے، اور تمام اللہ والے اور علماء بھی (اسی پر عمل کرتے رہے) کیونکہ ان کو اللہ کی کتاب کا محافظ بنایا گیا تھا، اور وہ اس کے گواہ تھے۔ لہٰذا (اے یہودیو!) تم لوگوں سے نہ ڈرو، اور مجھ سے ڈرو، اور تھوڑی سی قیمت لینے کی خاطر میری آیتوں کا سودا نہ کیا کرو۔ اور جو لوگ اللہ کے نازل کئے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہ لوگ کافر ہیں ﴿44﴾
یہاں مطلب یہودیوں سے یعنی خطاب کیا گیا ہے کہ ان یہودی علماء سے جو فیصلہ مطلب ہے کہ وہ کیا کرتے تھے تھوڑی سی قیمت لینے کے بعد، وہ ان کے حق میں فیصلہ کرتے تھے یعنی جو مجرم تھے۔ تو فرمایا کہ مجھ سے ڈرو اور لوگوں سے نہ ڈرو۔ اور مطلب یہ ہے کہ اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کر لیا کرو۔ اور میری آیتوں کا سودا نہ کیا کرو، اور جو لوگ اللہ کے نازل کیے ہوئے احکام کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہ لوگ کافر ہیں۔
ترجمہ: اور ہم نے اس (تورات میں) ان کے لئے یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت۔ اور زخموں کا بھی (اسی طرح) بدلہ لیا جائے۔ ہاں جو شخص اس (بدلے) کو معاف کردے تو یہ اس کے لئے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔ اور جو لوگ اللہ کے نازل کئے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہ لوگ ظالم ہیں ﴿٤٥﴾
حاشیہ: دوسرا واقعہ ان آیات کے پس منظر میں یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں یہودیوں کے دو قبیلے آباد تھے، ایک بنو قریظہ اور دوسرے بنو نضیر۔ بنو نضیر کے لوگ مال دار تھے، اور بنو قریظہ کے لوگ مالی اعتبار سے ان کے مقابلے میں کمزور تھے۔ اگرچہ دونوں یہودی تھے، مگر بنو نضیر نے ان کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر ان سے یہ ظالمانہ اصول طے کرالیا تھا کہ اگر بنو نضیر کا کوئی آدمی بنو قریظہ کے کسی شخص کو قتل کرے گا تو قاتل سے جان کے بدلے جان کے اصول پر قصاص نہیں لیا جائے گا، بلکہ وہ خوں بہا کے طور پر ستر وسق کھجوریں دے گا (وسق ایک پیمانہ تھا جو تقریباً پانچ من دس سیر کا ہوتا تھا)، اور اگر بنو قریظہ کا کوئی آدمی بنو نضیر کے کسی شخص کو قتل کرے گا تو نہ صرف یہ کہ قاتل کو قصاص میں قتل کیا جائے گا، بلکہ اس سے خوں بہا بھی لیا جائے گا، اور وہ بھی دُگنا۔
"زبردست کا ٹھینگا سر پر"۔ مطلب یہ ہے کہ وہ جیسے آج کل یہ ہوتا ہے جو America کا کوئی شخص، وہ تو ان کے لیے تو اور قانون ہے اور جو مطلب یہ ہے کہ ان کا کوئی آدمی مارے تو ان کے لیے پھر اور قانون ہے۔ مطلب یہ آج کل یہ چیز بھی چل رہی ہے۔ تو، غلط بات ہے مطلب، ظاہر ہے کہ اس طرح تو نہیں ہونا چاہیے۔
حاشیہ: جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو ایک واقعہ ایسا پیش آیا کہ قریظہ کے کسی شخص نے بنو نضیر کے ایک آدمی کو قتل کردیا۔ بنو نضیر نے جب اپنی سابق قرارداد کے مطابق قصاص اور خوں بہا دونوں کا مطالبہ کیا تو قریظہ کے لوگوں نے اسے انصاف کے خلاف قرار دیا اور تجویز پیش کی کہ فیصلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کرایا جائے، کیونکہ اتنا وہ بھی جانتے تھے کہ آپ کا دین انصاف کا دین ہے۔ جب قریظہ کے لوگوں نے زیادہ اصرار کیا تو بنو نضیر نے کچھ منافقین کو مقرر کیا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے غیر رسمی طور پر آپ کا عندیہ معلوم کریں، اور اگر آپ کا عندیہ بنو نضیر کے حق میں ہو تو فیصلہ ان سے کرائیں، ورنہ ان سے فیصلہ نہ لیں۔
وہی والی پرانی ڈگر۔
حاشیہ: اس پس منظر میں یہ آیت بتارہی ہے کہ تورات نے تو واضح طور پر فیصلہ دیا ہوا ہے کہ جان کے بدلے جان لینی ہے، اور اس لحاظ سے بنو نضیر کا مطالبہ سراسر ظالمانہ اور تورات کے خلاف ہے۔
ترجمہ: اور ہم نے ان (پیغمبروں) کے بعد عیسیٰ ابن مریم کو اپنے سے پہلی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا، اور ہم نے ان کو انجیل عطا کی جس میں ہدایت تھی اور نور تھا، اور جو اپنے سے پہلی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والی اور متقیوں کے لئے سراپا ہدایت ونصیحت بن کر آئی تھی ﴿46﴾ اور انجیل والوں کو چاہئے کہ اللہ نے اس میں جو کچھ نازل کیا ہے، اس کے مطابق فیصلہ کریں، اور جو لوگ اللہ کے نازل کئے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہ لوگ فاسق ہیں ﴿47﴾
تو یہ ہے کہ یعنی گویا کہ تین مختلف Categories بیان کی گئی ہیں۔ تو یہ ہے کہ جو اللہ کے حکموں پہ وہ یعنی فیصلہ نہیں کرتے، تو مطلب ظاہر ہے وہ تو یعنی ان کی طرح ہو جائیں گے، کافروں کی طرح ہو جائیں گے۔ اور جو مطلب یہ ہے کہ جو اللہ کے نازل کیے ہوئے احکام کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہ لوگ ظالم ہیں۔ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم پر... تو اس کا مطلب ہے مختلف درجے میں یہ بات ہے کہ یہ بات ایک نظر آ رہی ہے لیکن حکم اس میں چونکہ اس کا سیاق و سباق مختلف ہے۔ یعنی کس reference سے بات کی گئی ہے؟ تو اس reference سے مطلب اس کا... حالانکہ تینوں جگہ پر اللہ کا ہی حکم ہے، لیکن reference کی بات ہے تو اس وجہ سے اس کو اس انداز میں سمجھنا چاہیے کیونکہ بعض extremist اس کو اپنے مطلب کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
یہ معارف القرآن سورہ مائدہ کی آیت نمبر 44، 45، 46۔ یہ میں اس لیے detail میں ذرا کرنا چاہتا ہوں کہ اس پہ کافی debate ہوتا ہے۔ ان شاء اللہ پھر کل اس پر بات، مطلب کی جائے گی کیونکہ اس میں تفصیل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھنے کی توفیق دے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔