تورات میں تحریف، حبِ مال اور اللہ کے احکام سے روگردانی کے نقصانات
درس نمبر 215: سورۃ المائدة، آیت نمبر 41 تا 42
- سورۃ المائدہ (آیات 41 اور 42) کی تلاوت و تفسیر۔
- خیبر کے یہودیوں کا زنا کے واقعے پر تورات کی سزا (سنگساری) سے فرار اور احکام میں تحریف۔
- احکامِ شریعت کے نفاذ میں دوہرا معیار (اپنے اور دوسروں کے لیے الگ قانون)۔
- یہودیوں میں مال کی شدید محبت، رشوت ستانی اور موجودہ سودی نظام (Capitalism) پر ان کا کنٹرول۔
- انسان کی اصلاح میں حائل رکاوٹیں (جہالت اور نفسانی خواہشات) اور حق کی طلب۔
- اسلامی ریاست میں پبلک لاء (Public Law) اور پرسنل لاء (Personal Law) کا دائرہ کار۔
- شریعت کو صرف اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے اور خلافِ مرضی فیصلہ آنے پر منہ موڑ لینے کی مذمت۔
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ. فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ. بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِينَ قَالُوا آمَنَّا بِأَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِن قُلُوبُهُمْ ۛ وَمِنَ الَّذِينَ هَادُوا ۛ سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِينَ لَمْ يَأْتُوكَ ۖ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ مِن بَعْدِ مَوَاضِعِهِ يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ وَإِن لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوا ۚ وَمَن يُرِدِ اللَّهُ فِتْنَتَهُ فَلَن تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ۚ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَمْ يُرِدِ اللَّهُ أَن يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ ۚ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿41﴾ سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ أَكَّالُونَ لِلسُّحْتِ ۚ فَإِن جَاءُوكَ فَاحْكُم بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ ۖ وَإِن تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَن يَضُرُّوكَ شَيْئًا ۖ وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُم بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ﴿42﴾
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: اے پیغمبر! جو لوگ کفر میں بڑی تیزی دکھا رہے ہیں، وہ تمہیں غم میں مبتلا نہ کریں،
حاشیہ: یہاں سے آیت نمبر 50 تک (یہ آیت نمبر 41 ہے) آیت نمبر 50 تک کی آیتیں کچھ خاص واقعات کے پس منظر میں نازل ہوئی ہیں جن میں کچھ یہودیوں نے اپنے کچھ جھگڑے اس اُمید پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لانے کا ارادہ کیا تھا کہ آپ ان کا فیصلہ ان کی خواہش کے مطابق کریں گے۔ ان میں سے ایک واقعہ تو یہ تھا کہ خیبر کے دو شادی شدہ یہودی مرد و عورت نے زنا کر لیا تھا جس کی سزا خود تورات میں یہ مقرر تھی کہ ایسے مرد و عورت کو سنگسار کر کے ہلاک کیا جائے۔ یہ سزا موجودہ تورات میں بھی موجود ہے (دیکھئے : استثنا 22: 23 و 24) لیکن یہودیوں نے اس کو چھوڑ کر کوڑوں اور منہ کالا کرنے کی سزا مقرر کر رکھی تھی۔ شاید وہ یہ چاہتے تھے کہ اس سزا میں بھی کمی ہو جائے، اس لئے انہوں نے یہ سوچا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں بہت سے احکام تورات کے احکام کے مقابلے میں نرم ہیں، اس لئے اگر آپ سے فیصلہ کرایا جائے تو شاید آپ کوئی نرم فیصلہ کریں۔ اس غرض کے لئے خیبر کے یہودیوں نے مدینہ منورہ میں رہنے والے کچھ یہودیوں کو جن میں سے کچھ منافق بھی تھے ان مجرموں کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، مگر ساتھ ہی انہیں یہ تاکید کی کہ اگر آپ سنگساری کے سوا کوئی اور فیصلہ کریں تو اسے قبول کر لینا، اور اگر سنگساری کا فیصلہ کریں تو قبول مت کرنا۔ چنانچہ یہ لوگ آپ کے پاس آئے۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتا دیا گیا تھا کہ اس کی سزا سنگساری ہے جسے سن کر وہ بوکھلا گئے۔ آپ نے انہی سے پوچھا کہ تورات میں اس کی سزا کیا ہے؟ شروع میں انہوں نے چھپانے کی کوشش کی، مگر آخر میں جب آپ نے ان کے ایک بڑے عالم ابن صوریا کو قسم دی اور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے جو پہلے خود یہودی عالم تھے، ان کا پول کھول دیا تو وہ مجبور ہو گیا اور اس نے تورات کی وہ آیت پڑھ دی جس میں زنا کی سزا سنگساری بیان کی گئی تھی۔ اور یہ بھی بتایا کہ تورات کا حکم تو یہی تھا، مگر ہم میں سے غریب لوگ یہ جرم کرتے تو یہ سزا ان پر جاری کی جاتی تھی، اور کوئی مال دار یا باعزت گھرانے کا آدمی یہ جرم کرتا تو اسے کوڑوں وغیرہ کی سزا دے دیا کرتے تھے۔ پھر رفتہ رفتہ سبھی کے لئے سنگساری کی سزا کو چھوڑ دیا گیا۔ اسی قسم کا ایک دوسرا واقعہ بھی پیش آیا تھا جس کی تفصیل نیچے آیت نمبر 45 کے حاشیے میں آرہی ہے۔
تو یہ اصل میں، بہت سارے لوگ آج کل بھی، وہ کہتے ہیں شریعت نافذ ہونی چاہیے۔ یہ بات بالکل صحیح ہے، شریعت ہی نافذ ہونی چاہیے۔ لیکن وہ جب اپنے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں، یا اپنے رشتہ داروں یا اپنے قریبی لوگوں کا، تو ان کے لیے پھر یہ ملکی قانون، کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ اچھا ٹھیک ہے، ان کے بارے میں، مطلب یہ ہے کہ چونکہ، مخلص نہیں ہوتے، تو لہذا اپنے لیے الگ اور دوسروں کے لیے الگ۔ یہ طریقہ یہودیوں کا تھا۔ لہذا ہم لوگوں کو اس سے بچنا پڑے گا ورنہ یہ خطرناک نتائج والی بات ہے۔
ترجمہ: یعنی ایک تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے زبان سے تو کہہ دیا ہے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں، مگر ان کے دل ایمان نہیں لائے، اور دوسرے وہ لوگ ہیں جنہوں نے (کھلے بندوں) یہودیت کا دین اختیار کر لیا ہے۔ یہ لوگ جھوٹی باتیں کان لگا لگا کر سننے والے ہیں،
حاشیہ: یعنی یہودیوں کے پیشوا جو جھوٹی بات تورات کی طرف منسوب کر کے بیان کر دیتے ہیں، اور وہ ان کی خواہشات کے مطابق ہوتی ہے تو یہ اسے بڑے شوق سے سنتے اور اس پر یقین کرلیتے ہیں، چاہے وہ تورات کے صاف اور صریح احکام کے خلاف ہو اور یہ لوگ جانتے ہوں کہ ان کے پیشواؤں نے رشوت لے کر یہ بات بیان کی ہے۔
اصل میں مال کی محبت انسان سے کیا کچھ نہیں کراتی۔ اور یہودیوں میں تو مال کی محبت تو بہت زیادہ تھی۔ جیسے مطلب یہ ہے، بنیوں میں ہوتا ہے، جو بنیے ہوتے ہیں، ان میں مال کی محبت بہت زیادہ ہوتی ہے کہ چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے۔ تو اسی طرح یہودیوں میں بھی مال کی محبت بہت زیادہ تھی۔ اس لیے سود وغیرہ اور یہ چیزیں ان میں پھلی پھولیں۔ اس وقت بھی موجودہ جو سودی نظام ہے، Capitalism، ان سب کے سرے یہودیت کے ساتھ ملتے ہیں۔ تو پوری دنیا میں بھی جو یہ سود کے کاروبار ہیں یہ سب یہودی کنٹرول کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔
ترجمہ: (اور تمہاری باتیں) ان لوگوں کی خاطر سنتے ہیں جو تمہارے پاس نہیں آئے
حاشیہ: اس سے ان یہودیوں کی طرف اشارہ ہے جو خود تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں آئے، لیکن ان یہودیوں اور منافقوں کو آپ کے پاس بھیج دیا۔ جو لوگ آئے تھے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات اس لئے سننے آئے تھے کہ آپ کا موقف سننے کے بعد ان لوگوں کو مطلع کریں جنہوں نے ان کو بھیجا تھا۔
ترجمہ: جو (اللہ کی کتاب کے) الفاظ کا موقع محل طے ہو جانے کے بعد بھی ان میں تحریف کرتے ہیں۔
یعنی یہ لوگ ساری چیزیں جان کر بھی پھر اس میں تحریف کرتے ہیں۔
ترجمہ: کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو اس کو قبول کر لینا، اور اگر یہ حکم نہ دیا جائے تو بچ کر رہنا۔ اور جس شخص کو اللہ فتنے میں ڈالنے کا ارادہ کرلے تو اسے اللہ سے بچانے کے لئے تمہارا کوئی زور ہرگز نہیں چل سکتا۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ (ان کی نافرمانی کی وجہ سے) اللہ نے ان کے دلوں کو پاک کرنے کا ارادہ نہیں کیا۔
حاشیہ: چونکہ یہ دُنیا آزمائش ہی کے لئے بنائی گئی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو زبردستی راہِ راست پر لاکر اس کے دل کو پاک نہیں کرتا جو ضد پر اڑا ہوا ہو۔ یہ پاکیزگی انہی کو عطا ہوتی ہے جو حق کی طلب رکھتے ہوں، اور خلوص کے ساتھ اسے قبول کریں۔
دیکھیں نا ایک شخص جانتا نہیں، علم نہیں ہے اس کو، لیکن عمل کرنا چاہتا ہے اگر اس کو سچی بات بتا دی جائے۔ تو اس کے اور حق کے درمیان صرف جہالت حجاب ہے۔ یعنی جب علم نہیں ہوگا اس کو تو وہ عمل نہیں کرے گا کیوں اس کو پتہ نہیں ہے۔ اور جب اس کو علم ہو جائے گا تو عمل کر لے گا۔ ایسے لوگ کم نقصان میں ہیں کیونکہ ان کو علم حاصل کر کے بصیرت حاصل ہو جاتی ہے اور پھر عمل کر لیتے ہیں۔ لیکن جن کو علم ہے، اور علم کے باوجود ایسا کرتے ہیں، تو یہ ظاہر ہے مطلب ہے کہ ان کو ہدایت اللہ پاک پھر نہیں دیتے۔ کیونکہ ان کو اس بات کا۔۔۔ یعنی ہاں البتہ اس میں بھی بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی اصلاح نہیں ہو چکی ہوتی لیکن اپنی اصلاح چاہتے ہیں۔
تو جو اپنی اصلاح چاہتے ہیں ان کی اصلاح ہو جاتی ہے۔ مثلاً پہلے ان کا جی نہیں چاہتا ہوگا نماز پڑھنے کے لیے، پھر اصلاح ہو جاتی ہے، پڑھنا شروع کر لیتے ہیں۔ پہلے ان کی اصلاح، نہیں ہوتی تو زکوٰۃ نہیں دیتے۔ پھر جب اصلاح ہو جاتی ہے تو زکوٰۃ دینا شروع کر لیتے ہیں۔ پہلے اصلاح نہیں ہوتی تو رسم و رواج کے مطابق سارے کام کرتے ہیں، پھر جب اصلاح ہو جاتی ہے تو شریعت کے مطابق کام کرنے لگتے ہیں۔
اب ایسے لوگ جو ہوتے ہیں ان کا عمل ٹھیک نہیں ہوتا لیکن کم از کم وہ اصلاح چاہتے ہیں۔ اس کے لیے جو ذرائع ہیں وہ اختیار کرتے ہیں۔ مثلاً کسی شیخ کے ساتھ انہوں نے رابطہ رکھا ہے اپنی اصلاح کے لیے، اور جو وہ بتاتے ہیں اس پر وہ عمل بھی کرتے ہیں۔ تو ایسی صورت میں جو مطلب ظاہر ہے اگر ان سے کمی بیشی ہے تو موجودہ اصلاح نہ ہونے کی صورت کی وجہ سے ہے۔ اور جیسے ان کی وہ اصلاح ہو جائے گی وہ رکاوٹ دور ہو جائے گی۔ مثال کے طور پر جہالت رکاوٹ ہے تو جہالت دور ہونے پر عمل کرے گا، اس پر عمل کرے گا۔ اور اگر جہالت سے آگے بڑھ کر ایک اور رکاوٹ بھی ہے، نفس کی خواہشات، لیکن کم از کم اس کا دل یہ مانتا ہے کہ میں، میری اصلاح ہو جائے، اس کے لیے ذرائع کو اختیار کیے ہوئے ہے، تو ان کی بھی اصلاح ہو جائے گی۔ لیکن کوئی یہ بھی نہیں چاہتا، تو پھر فرماتے ہیں اللہ پاک نہیں چاہتے کہ، مطلب یہ ان لوگوں کی بات ہے۔ تو، دیکھا جائے تو یہ بالکل بات واضح ہو جاتی ہے۔
ترجمہ: ان کے لئے دُنیا میں رُسوائی ہے، اور انہی کے لئے آخرت میں زبردست عذاب ہے ﴿41﴾ یہ کان لگا لگا کر جھوٹی باتیں سننے والے، جی بھر بھر کر حرام کھانے والے ہیں
حاشیہ: یہاں حرام سے مراد وہ رشوت ہے جس کی خاطر یہودی پیشوا تورات کے احکام میں تبدیلیاں کر دیتے تھے۔
تو جو لوگ دین کی تشریح کرنے والے ہیں، جب لوگ رشوت لینا شروع کر لیں مال کی محبت کی وجہ سے، تو پھر یہ کیا ہوتا ہے؟ یہ کھلے بندوں نقصان میں ہو جاتے ہیں، دوسرے لوگوں کو بھی نقصان میں ڈالتے ہیں۔
ترجمہ: چنانچہ اگر یہ تمہارے پاس آئیں تو چاہے ان کے درمیان فیصلہ کردو، اور چاہے ان سے منہ موڑ لو،
کیونکہ چاہتے تو نہیں ہیں۔
حاشیہ: جو یہودی فیصلہ کرانے آئے تھے ان سے جنگ بندی کا معاہدہ تو تھا، مگر وہ باقاعدہ اسلامی حکومت کے شہری نہیں تھے۔ اس لئے آپ کو یہ اختیار دیا گیا کہ چاہیں تو ان کا فیصلہ کردیں اور چاہیں تو انکار فرمادیں۔ ورنہ جو غیر مسلم اسلامی حکومت کے باقاعدہ شہری بن جائیں، ملک کے عام قوانین میں ان کا فیصلہ بھی اسلامی شریعت کے مطابق ہی کرنا ضروری ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ البتہ ان کے خاص مذہبی قوانین جو نکاح، طلاق اور وراثت وغیرہ سے متعلق ہیں، ان میں انہی کے مذہب کے مطابق فیصلہ انہی کے ججوں کے ذریعے کروایا جاتا ہے۔ یہ اصل میں دو باتیں ہیں۔ ایک ہے Public Law اور ایک ہے Personal Law۔ ابھی بھی جو چیزیں ہیں، جو Public Law ہے وہ سب پہ ہوتا ہے۔ مثلاً Traffic کے جو قوانین ہیں۔ یہ چاہے مسلمان ہے چاہے کافر ہے، مطلب ظاہر ہے سب کے لیے مطلب یہ ہے۔ اس طریقے سے اگر کوئی وہ ایسے قانون کی خلاف ورزی کرے جو سب کے لیے ایک جیسا ہے تو ظاہر ہے ان کو بھی سزا ہوگی چاہے مسلمان ہے، چاہے غیر مسلم ہے، چاہے باہر ملک کا ہے، چاہے اس ملک کا ہے۔ لیکن کچھ قوانین ایسے ہوتے ہیں جو Subject to condition ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمان کے لیے ان کے مذہب کے مطابق جیسے نکاح، طلاق وغیرہ ہے۔ اور غیر مسلم کے لیے ان کا جو مذہب ہے ان کے مطابق۔ تو یہ مطلب یہ ہے کہ ابھی بھی باتیں ہیں تو ان کے بارے میں فرمایا چاہے ان کا فیصلہ کرو، چاہے چھوڑ دو۔
تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ ہمارے لیے بھی یہ قانون بن گیا کہ وہ۔۔۔۔
ترجمہ: اور یہ کیسے تم سے فیصلہ لینا چاہتے ہیں جبکہ ان کے پاس تورات موجود ہے جس میں اللہ کا فیصلہ درج ہے؟ پھر اس کے بعد (فیصلے سے) منہ بھی پھیر لیتے ہیں
حاشیہ: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ تورات کے احکام سے منہ موڑ لیتے ہیں، اور یہ بھی کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے فیصلے کی خود درخواست کرنے کے باوجود جب آپ فیصلہ سناتے ہیں تو اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔
اصل میں یہ گویا کہ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں۔ کہ جیسے مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس کو نظر آ رہا ہو کہ شریعت میں میرے لیے آسانی ہے، مطلب یہ ہے کہ شریعت کا فیصلہ ہوگا تو میرے حق میں ہوگا۔ اور وہ جا کے وہ کہتے ہیں جی میں ملکی قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کروانا چاہتا، شریعت کے مطابق فیصلہ کرنا چاہتا ہوں۔ اب جب کسی قاضی کے پاس، یا جو شریعت کے مسائل جانتے ہوں، ان کے پاس جا کے ان کو حَکَم بنایا ہوتا ہے، تو جس وقت ان کے خلاف فیصلہ آ جائے پھر منہ موڑ لیتے ہیں۔
یہ مطلب آج کل بھی اس قسم کی صورتحال ہے۔ تو یہ بات غلط ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے شریعت تو ایسی چیز ہے جو مطلب کسی کو نہیں دیکھتی کہ فلاں کون ہے، بلکہ اس کو دیکھتے ہیں کہ اللہ کا حکم کیا ہے۔ تو ایسی صورت میں اگر کوئی اس کو اپنی مرضی کے مطابق کرنا چاہتا ہے تو یہ بہت خطرناک بات ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسی چیزوں سے بچا دے۔ اور یہ یہودیوں کے طریقے تھے اور جو لوگ ان کے نقش قدم پہ چلیں گے تو بہت سخت نقصان ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ وما علینا الا البلاغ۔