اسلامی سزاؤں کی حکمت، جہاد اور توبہ کے تقاضے

درس نمبر 214: سورۃ المائدة، آیت نمبر 35 تا 40

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • اللہ کے قرب کے لیے وسیلہ (نیک اعمال) اور جہاد (بشمول جہادِ اکبر یعنی نفس کے خلاف جدوجہد) کا مفہوم۔
  • اسلامی سزاؤں (حدود و قصاص جیسے چوری کی سزا اور سنگسار وغیرہ) کی اصل حکمت اور معاشرتی امن۔
  • حدود اللہ کے معاملے میں معذرت خواہانہ (apologetic) رویے اور propaganda کا رد۔
  • حضرت مفتی محمود رحمة الله عليه کا واقعہ اور جامعہ ازہر کے شیخ کی اصلاح۔
  • اللہ تعالیٰ کی صفاتِ کمال "عزیز" اور "حکیم" کا ربط۔
  • توبہ کی قبولیت کی شرائط (ندامت، اصلاح اور حقوق العباد کی ادائیگی)۔
  • قرآن مجید کے علوم تک رسائی کے لیے تدبر اور غور و فکر کی اہمیت۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿35﴾ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿36﴾ يُرِيدُونَ أَن يَخْرُجُوا مِنَ النَّارِ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنْهَا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيمٌ ﴿37﴾ وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَآءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ﴿38﴾ فَمَن تَابَ مِن بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿39﴾ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ وَيَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿40﴾

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور اس تک پہنچنے کے لئے وسیلہ تلاش کرو،

یہ بہت ہی معرکۃ الآراء آیتِ کریمہ ہے۔ یعنی اس کے بارے میں وسیلہ سے جو مراد ہے وہ کیا ہے؟

حاشیہ: ”وسیلہ“ سے یہاں مراد ہر وہ نیک عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا ذریعہ بن سکے، اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے نیک اعمال کو وسیلہ بناو

اور ساتھ یہ فرمایا:

ترجمہ: اور اس کے راستے میں جہاد کرو۔

حاشیہ: ”جہاد“ کے لفظی معنی کوشش اور محنت کرنے کے ہیں۔ قرآنی اصطلاح میں اس کے معنی عام طور سے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے دشمنوں سے لڑنے کے آتے ہیں، لیکن بعض مرتبہ دین پر عمل کرنے کے لئے ہر قسم کی کوشش کو بھی ”جہاد“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں۔

اصل میں انسان جب بھی کوئی نیک کام کرتا ہے تو نفس اس کے اندر رکاوٹ کرتا ہے، رکاوٹ ڈالتا ہے۔ تو نفس اور شیطان کے ساتھ جو لڑنا ہے اس کام کے لیے، اور پھر اس کام کو کرنا، تو ظاہر ہے وہ بھی جہاد میں شامل ہو جاتا ہے۔ بلکہ بعض جگہوں پر تو نفس کے جہاد کو جہادِ اکبر کہا گیا ہے، لہٰذا یہ دونوں اس میں آ جاتے ہیں۔

ترجمہ: اُمید ہے کہ تمہیں فلاح حاصل ہوگی۔ ﴿35﴾ یقین رکھو کہ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، اگر زمین میں جتنی چیزیں ہیں وہ سب ان کے پاس ہوں، اور اتنی ہی اور بھی ہوں، تاکہ وہ قیامت کے دن کے عذاب سے بچنے کے لئے وہ سب فدیہ میں پیش کردیں، تب بھی ان کی یہ پیشکش قبول نہیں کی جائے گی، اور ان کو دردناک عذاب ہوگا ﴿36﴾ وہ چاہیں گے کہ آگ سے نکل جائیں، حالانکہ وہ اس سے نکلنے والے نہیں ہیں، اور ان کو ایسا عذاب ہوگا جو قائم رہے گا ﴿37﴾ اور جو مرد چوری کرے اور جو عورت چوری کرے، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو، تاکہ ان کو اپنے کئے کا بدلہ ملے، اور اللہ کی طرف سے عبرتناک سزا ہو۔ اور اللہ صاحبِ اقتدار بھی ہے، صاحبِ حکمت بھی ﴿38﴾

یعنی صاحبِ اقتدار تو یہ ہے کہ اس کا حکم ہر چیز پر نافذ ہے۔ اور صاحبِ حکمت کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ہر کام میں حکمت ہے۔ مثلاً یہ جو سزائیں ہیں، حد کی سزائیں ہیں، یہ سزائیں جو ہیں بظاہر بہت زیادہ وحشت ناک نظر آتی ہیں۔ مثلاً ہاتھ کاٹنا، اور سنگسار کرنا، اور کوڑے لگانا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بظاہر جس کا propaganda لوگ کرتے ہیں۔ وحشت ناک ان معنوں میں ہے کہ ان کو سن کر اس کے بارے میں سوچ کر لوگ ڈریں اور ایسا کام نہ کریں۔

لیکن اصل میں یہ وحشت ناک نہیں ہیں، بلکہ ایک حکمت ہے۔ اور حکمت یہ ہے کہ مطلب یہ ہے کہ اس کے لیے جو یعنی سزائیں ہیں، وہ کوئی برداشت چونکہ نہیں کر سکتا آسانی کے ساتھ، تو اس صورت میں جب ان کا سنیں گے تو رک جائیں گے۔ مثال کے طور پر ایک دو، تین آدمیوں پہ اگر اس کی حد وغیرہ نافذ ہو گئی، تو کوئی بھی جرأت نہیں کرے گا کہ پھر دوبارہ اس قسم کا کام کر لے۔ مثلاً کسی کو قتل کرے گا تو قصاص اگر دیا جائے گا، تو پھر کوئی قتل نہیں کرے گا۔ اگر کوئی یہ ہے کہ چوری کر کے اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، تو پھر چوری نہیں کرے گا۔ اور اگر کوئی مطلب یہ ہے کہ کسی پہ تہمت لگا دے، اس پہ اسی (80) کوڑے لگائے جائیں، تو وہ پھر وہ تہمت نہیں کرے گا۔ اور اگر زنا کرتا ہے اور اس کو سنگسار کیا جائے، تو پھر ظاہر ہے مطلب ہے کہ زنا سے بچے گا۔

تو اس میں یہی بات ہوتی ہے کہ وہ جیسے مطلب ہے سنگسار والی بات تھی، تو ایک دفعہ حضرت مفتی محمود صاحب رحمة الله عليه بیمار تھے ہسپتال میں داخل تھے، اور ایک عرب شیخ جو تھے، جامعہ ازہر کے، وہ اس نے اس مسئلے پہ چونکہ لوگ شور مچاتے ہیں نا، دنیا بھر میں شور مچتا ہے کہ اوہ یہ تو ایسی سزائیں ہیں، ایسی سزائیں ہیں، تو لوگ apologetic ہو جاتے ہیں۔ تو انہوں نے اس پہ لوگوں کو جمع کرنا شروع کیا تاکہ بجائے سنگسار کرنے کے ان کو گولیوں سے اڑا دیا جائے۔ تو گولیوں سے تو جلدی مر جاتا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ اس کو زیادہ تکلیف نہیں ہوگی اور کام بھی ہو جائے گا۔ تو اس نے سب کے دستخط لیے ہوئے تھے، اور مفتی محمود صاحب رحمة الله عليه چونکہ پاکستان کے اس وقت بہت بڑے علماء میں تھے، تو ان سے بھی دستخط لینے کے لیے آئے تھے۔

تو حضرت تو صاحبِ فراش تھے ہسپتال میں، لیکن اس کے باوجود وہ ان سے ملنے کے لیے گئے۔ تو مفتی صاحب کو جب سارا اپنا فتویٰ سنایا، کہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور میرے پاس تو اتنے سارے لوگوں نے اس پہ دستخط بھی کیے ہیں، تو میں آپ کے دستخط لینے کے لیے بھی آیا ہوں۔ تو کیونکہ مطلب اس سے اس کو تکلیف ہوگی، مطلب یہ ہے کہ گولی بھی تو ایک قسم کا وہ پتھر ہی ہے۔ لہٰذا اس سے، اس سے مر جائے گا جلدی تو یہ مسئلہ نہیں ہوگا۔ کیونکہ گولی کی سزا تو بہت سارے ملکوں میں فائر کر کے کیا جاتا ہے ان کو۔

تو اس پر مفتی محمود صاحب اگرچہ تکلیف میں تھے لیکن بیٹھ گئے۔ فرمایا: کس نے کہا ہے کہ ان کو مارنے کے لیے کیا جا رہا ہے؟ ان کو تو آزاد کرنے کے لیے یہ نظام ہے۔ کیونکہ اس میں یہ بھی ہے کہ جو، اس کو پتھر مارے گا، سب سے پہلے پتھر وہ مارے گا جو شہادت دینے والے ہیں۔ یا جن کا قصاص ہے۔ تو اگر وہ اس اپنی بات سے پھر جائیں، تو یہ بچ جائے گا۔ اور اگر یہ اپنے اس سے پھر جائے، مطلب اگر اپنے اوپر شہادت دی ہوگی، تو تب بھی بچ جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اس کو چھوٹ دی جائے گی۔ تو یہ تو اس کے لیے ہے کہ تاکہ لوگ اس کو دیکھیں، تو عبرت بھی حاصل کریں، لیکن ساتھ ساتھ یہ ہے کہ اس کو واقعی اصلی سزا نہ ملے بس صرف ڈراؤنا ہو۔

تو کہتے ہیں اس کو سن کر شیخ نے کہا، واہ شیخ! میں اس کو کیا سمجھ رہا تھا، اور یہ بات کہہ کر بہت خوش ہو گیا اور اس نے اپنا سارا فتویٰ وغیرہ چھوڑ دیا۔

تو یہ جو یہاں اس آیت کے اندر یہ جو ساتھ ہے نا، تو اس پہ آپ غور کریں۔ مطلب یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے مطلب کہا ہے:

وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ۔

یہاں پر دو مطلب اللہ کے اسم ہیں۔ ایک "عزیز" ہے اور ایک وہ "حکیم" ہے۔ عزیز کا مطلب صاحبِ اقتدار ہے، زبردست ہے۔ اور یہ ہے کہ جو حکیم ہے، تو اس کے ہر کام میں حکمت ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ بظاہر سزا تو ایسی ہے لیکن اس میں مطلب یہ ہے کہ پوری امت۔۔۔ جیسے کہتے ہیں: "وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ"۔ اور تمہارے لیے قصاص کے اندر حیات ہے اے مطلب ہوشیار لوگو۔ تو اب یہ اس کی وجہ یہی ہے کہ مطلب یہ ہے کہ اگر ایک دو آدمیوں پر قصاص جاری ہو جائے، تو پھر باقی سارے لوگ ڈر کے مارے وہ نہیں کریں گے، یعنی قتل نہیں کریں گے۔

فَمَن تَابَ مِن بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿39﴾

ترجمہ: پھر جو شخص اپنی ظالمانہ کارروائی سے توبہ کرلے، اور معاملات درست کرلے، تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لے گا۔

حاشیہ: ڈاکے کی سزا میں بھی اوپر توبہ کا ذکر آیا تھا، مگر وہاں توبہ کا اثر یہ تھا کہ گرفتاری سے پہلے توبہ کرلینے سے حد کی سزا معاف ہو جاتی تھی۔ یہاں اس قسم کے الفاظ نہیں ہیں۔ لہٰذا امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی تشریح کے مطابق چور کی سزا توبہ سے معاف نہیں ہوتی، چاہے وہ گرفتاری سے پہلے توبہ کرلے۔ یہاں صرف یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اس توبہ کا اثر آخرت میں جاری ہوگا کہ اس کا گناہ معاف کر دیا جائے گا۔ اس کے لئے بھی آیت میں دو شرطیں بیان کی گئی ہیں، ایک یہ کہ وہ دل سے شرمندہ ہو کر توبہ کرے، اور دوسرے یہ کہ اپنے معاملات درست کرلے۔ اس میں یہ بات بھی داخل ہے کہ جن جن کا سامان چرایا تھا، ان کو وہ سامان واپس کرے، الا یہ کہ وہ معاف کردیں۔

ہاں، یہ والی بات ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم لوگ، یعنی قرآن پاک کے سیاق و سباق پر اور تمام چیزوں پر غور کریں، تو اس کے اندر بہت سارے علوم ہوتے ہیں۔ بہت سارے علوم ہوتے ہیں، ان علوم تک رسائی کے لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اس طرح اس کو اس میں تدبر کر لیں، غور کر لیں، تاکہ وہ ساری باتیں ہمارے اوپر کھل جائیں۔

ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے﴿39﴾ کیا تم نہیں جانتے کہ آسمانوں اور زمین کی حکمرانی صرف اللہ کے پاس ہے؟ وہ جس کو چاہے عذاب دے اور جس کو چاہے بخش دے، اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے﴿40﴾

صَدَقَ اللهُ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ، وَنَحْنُ عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ وَالشَّاكِرِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔