قتلِ ناحق کی سنگینی اور ڈاکوؤں کے لیے سخت قرآنی احکامات

درس نمبر 213: سورۃ المائدة، آیت نمبر 32 تا 34

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔
  • معاشرے میں انسانی حرمت کے خاتمے کے خطرناک نتائج۔
  • زمین میں فساد پھیلانے والوں (مسلح ڈاکوؤں) کے لیے چار شرعی سزائیں (قتل، سولی، مخالف سمت سے ہاتھ پاؤں کاٹنا، جلاوطنی)۔
  • اسلامی سزاؤں کے نفاذ کی کڑی شرائط اور ان کا مقصد (عبرت پیدا کرنا)۔
  • گرفتاری سے قبل توبہ کرنے والوں کی معافی کا قانون۔
  • توبہ کے باوجود حقوق العباد (بندوں کے حقوق اور قصاص) کی ادائیگی کی اہمیت۔

الحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ. أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ ۛ كَتَبْنَا عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًاۢ بِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِى الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا ۭ وَمَنْ اَحْيَاهَا فَكَاَنَّمَآ اَحْيَا النَّاسَ جَمِيْعًا ۭ وَلَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنٰتِ ۡ ثُمَّ اِنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِى الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ ﴿32﴾ إِنَّمَا جَزَاؤُا الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿33﴾ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ ۖ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿34﴾

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ.

ترجمہ: اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل کو یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جو کوئی کسی کو قتل کرے، جبکہ یہ قتل نہ کسی اور جان کا بدلہ لینے کے لئے ہو اور نہ کسی کے زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے ہو، تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا،

حاشیہ: مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کے خلاف قتل کا یہ جرم پوری انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ کیونکہ کوئی شخص قتلِ ناحق کا ارتکاب اسی وقت کرتا ہے جب اس کے دل سے انسان کی حرمت کا احساس مٹ جائے۔ ایسی صورت میں اگر اس کے مفاد یا سرشت کا تقاضا ہوگا تو وہ کسی اور کو بھی قتل کرنے سے دریغ نہیں کرے گا، اور اس طرح پوری انسانیت اس کی مجرمانہ ذہنیت کی زد میں رہے گی۔ نیز جب اس ذہنیت کا چلن عام ہوجائے تو تمام انسان غیر محفوظ ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا قتلِ ناحق کا ارتکاب چاہے کسی کے خلاف کیا گیا ہو، تمام انسانوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ جرم ہم سب کے خلاف کیا گیا ہے۔

یہ واقعی بہت عمدہ تشریح ہے، اس آیت مبارکہ کی۔ کیونکہ بظاہر تو یہ لگتا تھا کہ جیسے سارے انسانوں کو قتل کر دیا۔ لیکن یہ ہے کہ یہاں پر یہ بات اس تشریح سے سامنے آ رہی ہے کہ یہ پوری انسانیت خطرے میں ہو جاتی ہے۔ تو تمام انسانوں کو اس کا تدارک کرنا چاہیے۔ یعنی اس چیز سے بچنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ کیونکہ سارے انسان ایسے شخص کے مفادات کے مقابلے میں غیر محفوظ ہو جاتے ہیں۔ مطلب وہ وہ ان کو قتل کر سکتے ہیں۔ تو اس وجہ سے سب کو اس طرح وہ ہونا چاہیے۔

بہرحال یہ ہے کہ

ترجمہ: بنی اسرائیل کو یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جو کوئی کسی کو قتل کرے، جبکہ یہ قتل نہ کسی اور جان کا بدلہ لینے کے لئے ہو اور نہ کسی کے زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے ہو، تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا، اور جو شخص کسی کی جان بچالے تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچالی۔ اور واقعہ یہ ہے کہ ہمارے پیغمبر ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات لے کر آئے، مگر اس کے بعد بھی ان میں سے بہت سے لوگ زمین میں زیادتیاں ہی کرتے رہے ہیں ﴿32﴾

ترجمہ: جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کرتے اور زمین میں فساد مچاتے پھرتے ہیں، ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں قتل کر دیا جائے، یا سولی پر چڑھا دیا جائے، یا ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں،

حاشیہ: پیچھے جہاں انسانی جان کی حرمت کا ذکر تھا وہاں یہ اشارہ بھی دیا گیا تھا کہ جولوگ زمین میں فساد مچاتے ہیں ان کی جان کو یہ حرمت حاصل نہیں ہے۔ اب ان کی مفصل سزا بیان کی جارہی ہے۔ مفسرین اور فقہاء کا اس بات پر تقریباً اتفاق ہے کہ اس آیت میں ان لوگوں سے مراد وہ ڈاکو ہیں جو اسلحے کے زور پر لوگوں کو لوٹتے ہیں۔ ان کے بارے میں جو یہ کہا گیا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کرتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان کے قوانین کی بے حرمتی کرتے ہیں، اور ان کا لوگوں سے لڑنا گویا اللہ اور اس کے رسول سے لڑنا ہے۔ ان لوگوں کے لئے اس آیت میں چار سزائیں بیان کی گئی ہیں۔ ان سزاؤں کی تشریح امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے یہ فرمائی ہے کہ اگر ان لوگوں نے کسی کو قتل کیا ہو، مگر مال لوٹنے کی نوبت نہ آئی ہو تو انہیں قتل کیا جائے گا، مگر یہ قتل کرنا حدِ شرعی کے طور پر ہوگا، قصاص کے طور پر نہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اگر مقتول کے وارث معاف بھی کرنا چاہیں تو ان کی معافی نہیں ہوگی۔ اور اگر ڈاکوؤں نے کسی کو قتل بھی کیا ہو اور مال بھی لوٹا ہو تو انہیں سولی پر لٹکا کر ہلاک کیا جائے گا، اور اگر مال لوٹا ہو اور کسی کو قتل نہ کیا ہو تو ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹا جائے گا۔ اور اگر انہوں نے لوگوں کو صرف ڈرایا دھمکایا ہو، نہ مال لوٹنے کی نوبت آئی ہو، نہ کسی کو قتل کرنے کی تو چوتھی سزا دی جائے گی جس کی تشریح اگلے حاشیے میں آرہی ہے۔ یہاں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم نے ان جرائم کی سزائیں اصولی طور پر بیان فرمائی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں تفصیل بیان فرمائی ہے کہ ان سخت سزاؤں پر عمل درآمد کے لئے کیا شرائط ہیں۔ فقہ کی کتابوں میں یہ ساری تفصیل آئی ہے۔ یہ شرائط اتنی کڑی ہیں کہ کسی مقدمے میں ان کا پورا ہونا آسان نہیں، کیونکہ مقصد ہی یہ ہے کہ یہ سزائیں کم سے کم جاری ہوں، مگر جب جاری ہوں تو دوسرے مجرموں کے لئے سامانِ عبرت بن جائیں۔

ترجمہ: یہ تو دُنیا میں ان کی رُسوائی ہے، اور آخرت میں ان کے لئے زبردست عذاب ہے ﴿33﴾ ہاں وہ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں جو تمہارے اُن کو قابو میں لانے سے پہلے ہی توبہ کر لیں۔ ایسی صورت میں یہ جان رکھو کہ اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ ﴿34﴾

حاشیہ: مطلب یہ ہے کہ اگر وہ گرفتار ہونے سے پہلے ہی توبہ کرلیں اور اپنے آپ کو حکام کے حوالے کردیں تو ان کی مذکورہ سزائیں معاف ہو جائیں گی۔ البتہ چونکہ بندوں کے حقوق صرف توبہ سے معاف نہیں ہوتے، اس لئے اگر انہوں نے مال لوٹا ہے تو وہ مالک کو لوٹانا ہوگا، اور اگر کسی کو قتل کیا ہے تو اس کے وارثوں کو حق ملے گا کہ وہ ان کو قصاص کے طور پر قتل کرنے کا مطالبہ کریں۔ ہاں اگر وہ بھی معاف کردیں یا قصاص کے بدلے خون بہا لینے پر راضی ہو جائیں تو ان کی جان بخشی ہو سکتی ہے۔

اللہ جل شانہ، ہم سب کو شریعت، احکامات پر پورا پورا عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ والحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔