سورۃ المائدہ کا جامع تعارف اور پہلی آیت کی تفسیر
درس نمبر 204: سورۃ المائدة، آیت نمبر 1
- سورۃ المائدہ کا زمانۂ نزول اور تاریخی پس منظر
- سورۃ میں بیان کردہ اہم معاشی، سماجی اور سیاسی احکام
- سورت کا نام "مائدہ" رکھے جانے کی وجہ
- پہلی آیت کی تشریح: معاہدوں کی پاسداری اور جانوروں کی حلت و حرمت
- احکامِ الٰہی پر غیر مشروط عمل اور انسانی عقل کی حدود
- قربانی کے حوالے سے جدید اعتراضات کے جوابات
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيّيْنَ، اَمَّا بَعْدُ۔ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
کل چونکہ سورۃ نساء کا ترجمہ پورا ہو گیا ہے، اور آج ان شاء اللہ سورۃ مائدہ کی ابتدا ہو رہی ہے۔ تو اس کو شروع کرنے سے پہلے اس کا جو تعارف ہے، وہ عرض کیا جاتا ہے۔
تعارف: یہ سورت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کے بالکل آخری دور میں نازل ہوئی ہے۔ علامہ ابو حیانؒ فرماتے ہیں کہ اس کے کچھ حصے صلح حدیبیہ، کچھ فتح مکہ اور کچھ حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئے تھے۔ اس زمانے میں اسلام کی دعوت جزیرہ عرب کے طول و عرض میں اچھی طرح پھیل چکی تھی، دشمنانِ اسلام بڑی حد تک شکست کھا چکے تھے، اور مدینہ منورہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کی ہوئی اسلامی ریاست مستحکم ہو چکی تھی۔ لہٰذا اس سورت میں مسلمانوں کے سماجی، سیاسی اور معاشی مسائل سے متعلق بہت سی ہدایات دی گئی ہیں۔ سورت کا آغاز اس بنیادی حکم سے ہوا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے عہد و پیمان پورے کرنے چاہئیں۔ اس بنیادی حکم میں اجمالی طور پر شریعت کے تمام احکام آگئے ہیں چاہے وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق سے متعلق ہوں یا بندوں کے حقوق سے متعلق۔
اس ضمن میں یہ اصول بڑی تاکید کے ساتھ سمجھایا گیا ہے کہ دشمنوں کے ساتھ بھی ہر معاملہ انصاف کے ساتھ ہونا چاہئے۔ یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ دشمنانِ اسلام اب اسلام کی پیش قدمی روکنے سے مایوس ہو چکی ہے اور اللہ نے اپنا دین مکمل فرما دیا ہے۔
اسی سورت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس قسم کی غذائیں حلال ہیں اور کس قسم کی حرام؟ اسی سلسلے میں شکار کے احکام بھی وضاحت کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ اہل کتاب کے ذبیحے اور ان کی عورتوں سے نکاح کے احکام کا بیان آیا ہے، چوری اور ڈکیتی کی شرعی سزائیں مقرر فرمائی گئی ہیں، کسی انسان کو ناحق قتل کرنا کتنا بڑا گناہ ہے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کا واقعہ ذکر کیا گیا ہے، شراب اور جوئے کو صریح الفاظ میں حرام قرار دیا گیا ہے، وضو اور تیمم کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ یہودیوں اور عیسائیوں نے کس طرح اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد کو توڑا؟ اس کی تفصیل بیان فرمائی گئی ہے۔
"مائدہ" عربی میں دستر خوان کو کہتے ہیں۔ اس سورت کی آیت نمبر 114 میں یہ واقعہ بیان ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ان کے متبعین نے یہ دعا کرنے کی فرمائش کی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے آسمانی غذاؤں کے ساتھ ایک دستر خوان نازل فرمائے۔ اس واقعے کی مناسبت سے اس سورت کا نام "مائدہ" یعنی دستر خوان رکھا گیا ہے۔
اب شروع کرتے ہیں۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنُ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ ۬ؕ اُحِلَّتْ لَکُمْ بَہِیْمَۃُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَحْکُمُ مَا یُرِیْدُ ﴿1﴾
یہ مدنی سورت ہے اور اس میں ایک سو بیس آیات اور سولہ رکوع ہیں
ترجمہ: شروع اللہ کے نام سے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے اے ایمان والو! معاہدوں کو پورا کرو۔ تمہارے لئے وہ چوپائے حلال کر دیئے گئے ہیں جو مویشیوں میں داخل (یا ان کے مشابہ) ہوں
حاشیہ: چوپایہ تو ہر اس جانور کو کہتے ہیں جو چار ہاتھ پاؤں پر چلتا ہو، لیکن ان میں سے صرف وہ جانور حلال ہیں جو مویشیوں میں شمار ہوتے ہیں، یعنی گائے، اونٹ، اور بھیڑ بکری، یا پھر ان مویشیوں کے مشابہ ہوں، جیسے ہرن، نیل گائے وغیرہ۔
ترجمہ: سوائے اُن کے جن کے بارے میں تمہیں پڑھ کر سنایا جائے گا
حاشیہ: ان حرام چیزوں کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر آگے آیت نمبر 3 میں آرہا ہے۔
ترجمہ: بشرطیکہ جب تم احرام کی حالت میں ہو اس وقت شکار کو حلال نہ سمجھو
حاشیہ: یعنی مویشیوں کے مشابہ جانور، مثلاً ہرن وغیرہ اگرچہ حلال ہیں، اور ان کا شکار بھی حلال ہے، لیکن جب حج یا عمرے کے لئے کسی نے احرام باندھ لیا ہو تو ان جانوروں کا شکار حرام ہو جاتا ہے۔
ترجمہ: اللہ جل شانہ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے، اس کا حکم دیتا ہے۔
حاشیہ: اس جملے نے ان تمام سوالات اور اعتراضات کی جڑ کاٹ دی ہے جو لوگ محض اپنی محدود عقل کے سہارے شرعی احکام پر عائد کرتے ہیں، مثلاً یہ سوال کہ جانور بھی تو آخر جان رکھتے ہیں، ان کو ذبح کر کے کھانا کیوں جائز کیا گیا جبکہ یہ ایک جاندار کو تکلیف پہنچانا ہے، یا مثلاً یہ سوال کہ فلاں جانور کو کیوں حلال کیا گیا اور فلاں جانور کو کیوں حرام قرار دیا گیا ہے؟ آیت کے اس حصے نے اس کا مختصر اور جامع جواب یہ دے دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا خالق ہے، وہی اپنی حکمت سے جس بات کا ارادہ فرماتا ہے اس کا حکم دے دیتا ہے۔ اس کا ہر حکم یقیناً حکمت پر مبنی ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اس کے ہر حکم کی حکمت بندوں کی سمجھ میں بھی آئے، لہٰذا بندوں کا کام یہ ہے کہ اس کے ہر حکم کو چون و چرا کے بغیر تسلیم کر کے اس پر عمل کریں۔
اصل میں، ہم لوگ اللہ کے بندے ہیں۔ اور بندگی کی یہ شان ہوتی ہے کہ آقا، مالک، جو حکم دے اس کو فوراً مان لے، ذرہ بھر بھی اس میں ادھر ادھر کا نہ سوچے، تو شریعت جو ہے وہ اصل میں اسی پر ہی مبنی ہے۔ شریعت کے جتنے بھی احکام ہیں، وہ اصل میں بندگی کو پورا کرنے کے احکامات ہیں۔ جیسے کہ اللہ پاک نے قرآن پاک میں فرمایا: "وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ"۔ (نہیں پیدا کیا میں نے انسان اور جنات کو مگر اپنی عبادت کے لیے)، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا آنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم اللہ کی بندگی کریں، اور جو اللہ پاک نے کرنے کو بتایا وہ کریں، جن سے رکنے کا فرمایا ان سے رکیں، تو اس وجہ سے ہم لوگ اس میں عقل نہیں لڑا سکتے۔
عقل کا کام صرف اتنا ہے کہ ہم اللہ پاک کے حکم کو سمجھیں کہ آیا یہ اللہ پاک نے حکم دیا ہے یا نہیں دیا ہے۔ اس کی تفصیلات سے ہم آگاہی حاصل کر لیں، اور اگر حکم دیا ہے تو اس کا مطلب کیا ہے، اس کی تفصیلات کیا ہیں، جزئیات کیا ہیں، ان باتوں کو جاننا، یہ فقہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ چونکہ اللہ جل شانہ نے قرآن اتارا ہے، یعنی آخری کتاب قرآن ہے، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو نافذ کیا ہے، اور اس کے نفوذ کے سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو باتیں فرمائیں، جو کیں، اور جن کو روکا اور جن کو نہیں روکا، یہ سب اسی کی تشریح ہیں۔ لہٰذا حدیث جو کہ اسی کی خبر ہوتی ہے، اس سے وہ سنت کو سمجھا جاتا ہے، اور پھر اس پر مبنی پوری شریعت ہوتی ہے۔
لہٰذا ہم لوگ شریعت پر چلنے کے پابند ہیں۔ جو بھی بات بے شک ہماری سمجھ میں آئے، تو وہ اللہ کا فضل ہے، اور سمجھ میں نہ آئے، تو بندگی یہی ہے کہ اس پر عمل کر لے۔ جیسے حج کے احکامات ہیں، بہت ساری باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں، لیکن ظاہر ہے ہمیں اس پر عمل کرنا ہے۔ اس طریقے سے یہاں پر یہ بات ہے کہ مختلف سوالات جو اٹھائے جاتے ہیں جیسے جانوروں کے بارے میں ابھی فرمایا گیا ہے۔ اور اس طرح یہ قربانی ابھی چونکہ آ رہی ہے، اس کے بارے میں لوگ بہت سارے سوالات اٹھاتے ہیں کہ یہ گوشت کا ضیاع ہے، اور مطلب یہ پیسے غریبوں کو دیے جائیں، اور اچھا ہے ان کا کام ہو جائے گا۔ یہ سب کی سب باتیں الحاد کی باتیں ہیں۔ یہ اس سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ سب سے بڑی بات ہے کہ ہم چونکہ الحمد للہ ایماندار ہیں، اور ایماندار کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا ایمان ہے کہ، یعنی اللہ کو اس کی پوری صفات کے ساتھ مانتے ہیں، اور پیغمبروں کو اور کتابوں کو، اور اس طرح آخرت کو، اور یعنی تقدیر پر، ان سب چیزوں پر ایمان لاتے ہیں۔ تو جب ہم ایک دفعہ اس پر ایمان لے آئے ہیں، تو پھر دین کی تشریح ہم نہیں کر سکتے۔ دین کی تشریح وہی کرے گا جو دین لایا ہے، یا پھر جنہوں نے ان کو دیکھا ہے، یا پھر انہوں نے جن کو سمجھا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ ہم دین کی تشریح خود اپنے طور پر نہیں کر سکتے، جو دین کو لائے۔ اب یہی بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے موقع پر سو اونٹوں کو قربان کیا۔ اب سو اونٹوں کو قربان کرنا، اس وقت کے حالات کو اگر دیکھا جائے، تو صحابہ کرام میں زیادہ تر غریب تھے، کم مالدار تھے۔ تو اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے، ان پیسوں کو ان غریبوں میں بانٹ سکتے تھے۔ لیکن ایسا نہیں کیا، سو اونٹوں کی قربانی کی۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قربانی کا تعلق اس کے ساتھ نہیں ہے کہ لوگوں کو ان چیزوں کا نفع پہنچایا جائے، بلکہ اللہ کا حکم پورا کرنا ہے۔ تو اس طریقے سے ہم لوگ یہاں ایسی باتوں کو نہیں سوچیں گے، بلکہ ہم سوچیں گے اس بات پر کہ کیا ہے، نہیں کیا ہے، کیسے کیا ہے۔ اور اس کی تفصیلات کیا ہیں، ان چیزوں میں غور کریں گے۔ اللہ جل شانہ ہمیں دین کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، اور کسی قسم کے الحاد سے یا کسی قسم کی غلط سوچ سے جس سے ہمارا نقصان ہو، اس سے ہمیں محفوظ فرمائے۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔