اہل کتاب کو تنبیہ اور غلو فی الدین کی ممانعت

درس نمبر 202: سورة النساء، آیت نمبر 167 تا 171

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • کفر اور ظلم کرنے والوں کا انجام
  • رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کی دعوت
  • دین میں غلو (حد سے بڑھنے) کی ممانعت
  • حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اصل مقام
  • عقیدہ تثلیث کی تردید
  • خلق اور امرِ الٰہی (کلمہ کُن) میں فرق

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ قَدْ ضَلُّوا ضَلَالًا بَعِيدًا ﴿167﴾ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَظَلَمُوا لَمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ طَرِيقًا ﴿168﴾ إِلَّا طَرِيقَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا ﴿169﴾ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ مِن رَّبِّكُمْ فَآمِنُوا خَيْرًا لَّكُمْ ۚ وَإِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿170﴾ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ ۚ إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَىٰ مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِّنْهُ ۖ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۖ وَلَا تَقُولُوا ثَلَاثَةٌ ۚ انتَهُوا خَيْرًا لَّكُمْ ۚ إِنَّمَا اللَّهُ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ سُبْحَانَهُ أَن يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ ۘ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ وَكِيلًا ﴿171﴾

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: یقین جانو کہ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا ہے وہ بھٹک کر گمراہی میں بہت دُور نکل گئے ہیں ﴿167﴾ جن لوگوں نے کفر اپنایا ہے، (اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روک کر ان پر) ظلم کیا ہے، اللہ ان کو بخشنے والا نہیں ہے، اور نہ ان کو کوئی اور راستہ دکھانے والا ہے ﴿168﴾ سوائے دوزخ کے راستے کے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ بات اللہ کے لئے بہت معمولی بات ہے ﴿169﴾ اے لوگو! یہ رسول تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق لے کر آگئے ہیں۔ اب (ان پر) ایمان لے آؤ، کہ تمہاری بہتری اسی میں ہے۔ اور اگر (اب بھی) تم نے کفر کی راہ اپنائی تو (خوب سمجھ لو کہ) تمام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے، اور اللہ علم اور حکمت دونوں کا مالک ہے ﴿170﴾ اے اہل کتاب! اپنے دین میں حد سے نہ بڑھو، اور اللہ کے بارے میں حق کے سوا کوئی بات نہ کہو۔ مسیح عیسیٰ ابن مریم تو محض اللہ کے رسول تھے، اور اللہ کا ایک کلمہ تھا جو اس نے مریم تک پہنچایا، اور ایک روح تھی جو اسی کی طرف سے (پیدا ہوئی) تھی

حاشیہ: یہودیوں کے بعد ان آیات میں عیسائیوں کو تنبیہ کی گئی ہے۔ یہودی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جانی دشمن بن گئے تھے، اور دوسری طرف عیسائی آپ کی تعظیم میں حد سے گزر گئے، اور انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہنا شروع کردیا اور یہ عقیدہ اپنالیا کہ خدا تین ہیں، باپ بیٹا اور روح القدس۔ اس آیت میں دونوں کو حد سے گزرنے سے منع کیا گیا ہے، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں وہ معتدل بات بتائی گئی ہے جو حقیقت کے عین مطابق ہے، یعنی وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے، اور اللہ نے ان کو اپنے کلمہ ”کن“ سے باپ کے واسطے کے بغیر پیدا کیا تھا، اور ان کی روح براہِ راست حضرت مریم علیہا السلام کے بطن میں بھیج دی تھی۔

ترجمہ: لہٰذا اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ، اور یہ مت کہو کہ (خدا) تین ہیں۔ اس بات سے باز آجاؤ، کہ اسی میں تمہاری بہتری ہے۔ اللہ تو ایک ہی معبود ہے، وہ اس بات سے بالکل پاک ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے، اور سب کی دیکھ بھال کے لئے اللہ کافی ہے ﴿171﴾

تو یہ یہودیوں اور عیسائیوں، ان دونوں کو بات سمجھائی گئی ہے۔ یہودی تو عیسیٰ علیہ السلام کے دشمن بن کر عیسیٰ علیہ السلام کی مخالفت میں حد سے گزر گئے۔ اور دوسری طرف عیسیٰ علیہ السلام کے جو ماننے والے تھے، وہ عیسیٰ علیہ السلام کے محیر العقول کاموں کی وجہ سے ان کو خدا کا بیٹا سمجھنے لگے۔ بلکہ خدائی میں شریک سمجھنے لگے۔ تین بتا رہے تھے: خدا، خدا کا بیٹا اور روح القدس۔ ان تینوں کو وہ مانتے تھے، یعنی ایک تین ہے اور تین ایک ہے۔

تو یہ چیز ہے کہ ان لوگوں نے بنائی، تو اللہ پاک نے اس کا بھی رد فرما دیا اور فرمایا کہ جو عیسیٰ علیہ السلام ہیں، وہ اللہ پاک کے بندے ہیں، اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ کا کلمہ ہیں جو اللہ پاک نے یعنی کلمۂ کن کے ذریعے سے، یعنی امر کے ذریعے سے اس کو وہ پیدا فرما دیا، یعنی بجائے اس کے کہ وہ process جو natural ہے، جو ہر ایک کے ساتھ ہوتا ہے، اس process کے بغیر اللہ پاک نے امرِ کن سے وہ۔

جیسے ایک ہوتا ہے خلق، اور ایک ہوتا ہے امر۔ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ، یہ جو اس آیت میں فرماتے ہیں نا کہ کیا اللہ کے لیے خلق اور امر نہیں ہ تو اللہ پاک نے جو چیزیں خلق کے ذریعے سے تخلیق کی ہیں، تو اس کا مطلب ہے اس میں تو جو process ہے وہ ہونا ہوتا ہے، اور ایک امر کے ذریعے سے بس "بن جا" اور بن جاتا ہے۔ تو یہ یعنی وہ مطلب ہوتا ہے۔ تو اس میں process involve نہیں ہوتا بلکہ اللہ پاک کا حکم involve ہوتا ہے۔ process میں بھی اللہ کا حکم involve ہوتا ہے لیکن وہ process بھی ہوتا ہے یعنی indirectly ساری چیزیں ہوتی ہیں۔ تو بہرحال یہ ہے کہ وہ تقریباً چیزیں ہو جاتی ہیں جبکہ امر میں براہ راست اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ چیزیں وجود میں آتی ہیں۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو ان چیزوں کا صحیح فہم عطا فرما دے اور کسی قسم کی غلطی میں پڑنے سے محفوظ فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

اہل کتاب کو تنبیہ اور غلو فی الدین کی ممانعت - درسِ قرآن - پہلا دور