نظامِ وحی، تسلسلِ انبیاء اور توحید و رسالت کی اہمیت
درس نمبر 201: سورة النساء، آیت نمبر 163 تا 166
- تمام انبیاء کرام پر ایک ہی جیسا نظامِ وحی اور پیغام کا نزول
- انبیاء کی صحیح تعداد اور اللہ تعالیٰ کا اس علم کو اپنے پاس رکھنا
- حق کو پہنچانے کے لیے اللہ اور فرشتوں کی گواہی اور اس کی اہمیت
- خالق اور مخلوق کے درمیان رابطے کے لیے نظامِ رسالت کی ضرورت
- انبیاء کرام کے پاکیزہ کردار پر جھوٹ کا الزام نہ لگ سکنا اور معجزات کی تائید
- کسی ایک نبی کا انکار تمام انبیاء کا انکار اور دائرہ اسلام سے خارج ہونا
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ۔ أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَىٰ نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِهِ ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيسَىٰ وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَيْمَانَ ۚ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا ﴿163﴾ وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۚ وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا ﴿164﴾ رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ﴿165﴾ لَّٰكِنِ اللَّهُ يَشْهَدُ بِمَا أَنزَلَ إِلَيْكَ ۖ أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا ﴿166﴾
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
(اے پیغمبر!) ہم نے تمہارے پاس اسی طرح وحی بھیجی ہے جیسے نوح اور ان کے بعد دوسرے نبیوں کے پاس بھیجی تھی، اور ہم نے ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد کے پاس، اور عیسیٰ، ایوب، یونس، ہارون اور سلیمان کے پاس بھی وحی بھیجی تھی، اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی تھی ﴿163﴾ اور بہت سے رسول ہیں جن کے واقعات ہم نے پہلے تمہیں سنائے ہیں، اور بہت سے رسول ایسے ہیں کہ ہم نے ان کے واقعات تمہیں نہیں سنائے۔ اور موسیٰ سے تو اللہ براہِ راست ہم کلام ہوا ﴿164﴾ یہ سب رسول وہ تھے جو (ثواب کی) خوشخبری سنانے اور (دوزخ سے) ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے تھے، تاکہ ان رسولوں کے آجانے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے سامنے کوئی عذر باقی نہ رہے، اور اللہ کا اقتدار بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل ﴿165﴾ (یہ کافر لوگ مانیں یا نہ مانیں) لیکن اللہ نے جو کچھ تم پر نازل کیا ہے، اس کے بارے میں وہ خود گواہی دیتا ہے کہ اس نے اسے اپنے علم سے نازل کیا ہے، اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں، اور (یوں تو) اللہ کی گواہی ہی بالکل کافی ہے۔ ﴿166﴾
اللّٰہ اکبر۔
اصل میں یہاں پر دو باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ ایک جو ہے وہ توحید ہے اور دوسری رسالت۔ یعنی اللہ جل شانہ ہی سب کچھ کرتے ہیں، اللہ پاک حکیم بھی ہے اور اللہ جل شانہ زبردست بھی۔
انبیاء کرام کا ایک سلسلہ اس میں اللہ پاک نے بیان فرمایا ہے۔ نوح علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام، اسماعیل علیہ السلام، اسحاق علیہ السلام، یعقوب علیہ السلام اور ان کی اولاد۔ اور عیسیٰ علیہ السلام، ایوب علیہ السلام، یونس علیہ السلام، ہارون علیہ السلام، سلیمان علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام۔ اللہ پاک نے بتا دیا ان کے بارے میں۔ اور ساتھ یہ فرمایا کہ بہت سارے انبیاء کرام ایسے ہیں جن کے بارے میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا، اور بہت سارے ایسے پیغمبر ہیں جن کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہیں بتایا گیا۔ اس لیے صحیح تعداد جو ہے انبیاء کرام کی سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں جانتا۔ اللہ جل شانہ نے اس علم کو اپنے پاس رکھا ہے۔ تو یہ جو بعض روایات سے ان کا پتہ چلتا ہے کہ سوا لاکھ کے لگ بھگ ہیں، کم و بیش۔ لیکن یہ ہے کہ اللہ پاک کو پتا ہے کہ اصل تعداد کیا ہے۔
لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان کو اللہ پاک نے وحی کی، ان کو اللہ پاک نے اپنا پیغام دے دیا، یعنی اپنی اپنی امتوں تک پہنچانے کے لیے پیغام دے دیا۔ اب اس کے بعد یہ لوگ مانیں یا نہ مانیں، لیکن اللہ پاک نے جو یہ نظام بنایا ہے اس پر اللہ گواہ ہے۔ اور فرشتے بھی گواہ ہیں۔ کیونکہ سب کے سامنے یہ ہوا ہے، اور ساتھ ایک اللہ پاک تو خود ہی جانتا ہے۔ اللہ جل شانہ کی گواہی اپنے طور پہ کافی ہے۔ لیکن یہ ہے کہ اللہ پاک نے چونکہ ایک نظام بنایا ہے تو اس کے لیے فرشتوں کو بھی گواہ بنا دیا ہے۔ اب اگر کوئی شخص اس کو مانے یا نہ مانے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اب دیکھیں اس میں بات بنیادی طور پر یہ ہے کہ اللہ جل شانہ چونکہ خالق ہیں اور باقی مخلوقات ہیں۔ تو خالق اور مخلوق کے درمیان کوئی مناسبت نہیں ہوتی۔ یعنی اللہ جل شانہ کی ذات وراء الوراء ہے، اس کے بارے میں کوئی جانتا نہیں ہے۔ تو اللہ جل شانہ کو جاننے کے لیے اللہ پاک نے ایک نظام بنا دیا۔ نزول کا۔ اور اس نظام کے ذریعے سے اللہ پاک نے پھر یہ بات پہنچا دی۔ تو ان میں یہ ہے کہ پیغمبروں کا سلسلہ ہے۔ پیغمبروں میں جو اکثر ہیں ان کو تو وحی کے ذریعے سے اطلاعات دی گئیں، اور موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ براہ راست اللہ تعالیٰ مخاطب ہوئے۔ لیکن یہ ہے کہ یہ نظام اللہ پاک نے جو بنایا ہے اس کے ذریعے سے اللہ پاک کی بات لوگوں تک آتی ہے۔
اب اللہ جل شانہ نے ان پیغمبروں کو ایسی شان عطا فرمائی ہوتی تھی، اور ایسا مقام عطا فرمایا ہوتا تھا اپنی قوم میں کہ ان کے اوپر جھوٹ کا الزام کوئی نہیں لگا سکتا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے اوپر جھوٹ کا الزام کوئی نہیں لگا سکتا تھا۔ اور ان کا مقام اتنا پاک ہوتا تھا کہ اس کے اوپر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا تھا۔ تو اس ذریعے سے مطلب یہ ہے کہ ایک ماشاءاللہ ایک نظام لوگوں کے سامنے آ گیا کہ وہ لوگ جو اس قسم کی بات کرتے ہیں جو اپنی زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولتے، تو ظاہر ہے یہ بات پھر سچی ہے۔
اور پھر اللہ پاک ان کے ہاتھوں پر معجزات کا نظام بھی چلائے ہوئے تھا کہ وہ کام جو کہ باقی لوگ نہیں کر سکتے تھے۔ تو جو لوگ سچے ہوتے تھے جیسے عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ، تو وہ تو چہرہ دیکھ کر ہی، اندازہ لگا لیتے تھے اور فوراً ایمان لے آتے تھے۔ لیکن جن لوگوں کو بغض ہوتا تھا یا کینہ ہوتا تھا یا پھر یہ کہ جہالت ہوتی تھی، تو ایسے لوگوں کے سامنے جتنی بھی نشانیاں آتی تھیں، وہ ان کا انکار کرتے تھے۔ اس کو جادو بتاتے۔
تو یہ پورا نظامِ رسالت یہ اللہ جل شانہ کی گواہی کا نظام ہے۔ اس کو، یعنی اگر کوئی -نعوذ باللہ- من ذلک نہیں مانے گا، ان میں سے کسی کو نہیں مانے گا، کیونکہ سب ایک دوسرے کی تائید کر رہے ہیں، تو پھر وہ مسلمان نہیں رہتا۔ اللہ جل شانہ ہمیں اس مبارک سلسلے کی قدردانی کی توفیق عطا فرمائے۔ اور اس کے ذریعے سے جو پیغام آیا ہے اس پیغام کو دل و جان سے تسلیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس کو پورے عالم کے اندر پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے۔
وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔