منافقت کا انجام اور حق کی فتح: سچی گواہی کا ایک تاریخی واقعہ
درس نمبر 195: سورة النساء، آیت نمبر 135 تا 138
٭ مہر حال میں عدل و انصاف اور حق پر مبنی گواہی کا قرآنی حکم ٭ والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف بھی سچ بولنے کی تاکید ٭ نفسانی خواہشات کی پیروی اور غلط گواہی دینے کی ممانعت ٭ ارکانِ ایمان پر کامل یقین اور منافقین و مرتدین کے لیے انتباہ ٭ آسمان و زمین پر اللہ کی مکمل حاکمیت اور اس کی بے نیازی ٭ حق گوئی کی روشن مثال: متنازعہ زمین پر ایک مسلمان عالم کی سچی گواہی
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ۔ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚ إِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا ۖ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ أَن تَعْدِلُوا ۚ وَإِن تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا ﴿135﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنزَلَ مِن قَبْلُ ۚ وَمَن يَكْفُرْ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا ﴿136﴾ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا ﴿137﴾ بَشِّرِ الْمُنَافِقِينَ بِأَنَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ﴿138﴾
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: اے ایمان والو! انصاف قائم کرنے والے بنو، اللہ کی خاطر گواہی دینے والے، چاہے وہ گواہی تمہارے اپنے خلاف پڑتی ہو، یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف۔ وہ شخص (جس کے خلاف گواہی دینے کا حکم دیا جارہا ہے) چاہے امیر ہو یا غریب، اللہ دونوں قسم کے لوگوں کا (تم سے) زیادہ خیر خواہ ہے، لہٰذا ایسی نفسانی خواہش کے پیچھے نہ چلنا جو تمہیں انصاف کرنے سے روکتی ہو۔ اور اگر تم توڑ مروڑ کرو گے (یعنی غلط گواہی دو گے) یا (سچی گواہی دینے سے) پہلو بچاؤ گے تو (یاد رکھنا کہ) اللہ تمہارے تمام کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔ ﴿135﴾ اے ایمان والو! اللہ پر ایمان رکھو، اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول پر اتاری ہے اور ہر اس کتاب پر جو اس نے پہلے اتاری تھی۔ اور جو شخص اللہ کا، اس کے فرشتوں کا، اس کی کتابوں کا، اس کے رسولوں کا اور یومِ آخرت کا انکار کرے وہ بھٹک کر گمراہی میں بہت دُور جاپڑا ہے ﴿136﴾ جو لوگ ایمان لائے، پھر کافر ہوگئے، پھر ایمان لائے، پھر کافر ہوگئے، پھر کفر میں بڑھتے ہی چلے گئے، اللہ ان کو بخشنے والا نہیں ہے، اور نہ انہیں راستے پر لانے والا ہے ﴿137﴾ منافقوں کو یہ خوشخبری سنادو کہ ان کے لئے ایک دُکھ دینے والا عذاب تیار ہے ﴿138﴾
یہ جو اس آیت کریمہ میں جن کے بارے میں ذکر ہے،
حاشیہ: اس سے مراد وہ منافق بھی ہوسکتے ہیں جن کا ذکر چل رہا ہے، کیونکہ وہ مسلمانوں کے پاس آکر مسلمان ہونے کا اعلان کرتے تھے، مگر تنہائی میں کفر اختیار کرلیتے تھے، پھر کبھی مسلمانوں کا سامنا ہوتا تو دوبارہ ایمان لانے کا مظاہرہ کرتے، مگر پھر اپنے لوگوں کو اپنے کفر کا یقین دلاتے، اور اپنے عمل سے کفر ہی میں بڑھتے چلے جاتے۔ نیز بعض روایات میں کچھ ایسے لوگوں کا بھی ذکر آیا ہے جو مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہوئے، پھر توبہ کرکے مسلمان ہوئے، مگر بالآخر دوبارہ مرتد ہوکر کفر ہی کی حالت میں مرے۔ آیت کے الفاظ میں دونوں قسم کے لوگوں کی گنجائش ہے۔ اور ان کے بارے میں جو یہ کہا گیا ہے کہ اللہ نہ ان کو بخشے گا، نہ راستے پر لائے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انہوں نے اپنے اختیار سے کفر اور اس کے نتیجے میں دوزخ کی راہ کو چن لیا تو اللہ ان کو زبردستی ایمان اور جنت کے راستے پر نہیں لائے گا، کیونکہ دُنیا دار الامتحان ہے، اور ہر شخص کا انجام اس کے اپنے اختیار سے چنے ہوئے راستے کے مطابق ہوتا ہے۔ اللہ نہ کسی کو زبردستی مسلمان بناتا ہے، نہ کافر۔
یہ اصل میں دیکھا جائے تو اس میں گواہی کا بھی چونکہ پہلے ذکر ہے۔ تو سچی گواہی دینا ایک مسلمان کی شایانِ شان ہے۔ اس میں یہ بھی نہیں دیکھا کون میرا قریب ہے، کون مجھ سے دور ہے۔ کون مسلمان ہے، کون مسلمان نہیں ہے، اس چیز کو بھی نہیں دیکھا۔ جو حق ہے وہ بتائے گا، جو سچ ہے وہ بتائے گا۔
یہ انڈیا میں جو اکٹھے ہم دونوں ممالک تھے، انگریزوں کا دور تھا۔ تو مسلمانوں اور ہندوؤں میں ایک زمین پر تنازعہ ہوا۔ مسلمان کہتے تھے اس علاقے کے کہ یہ ہماری زمین ہے، اور ہندو کہتے تھے کہ ہماری زمین ہے۔ ظاہر ہے معاملہ عدالت میں پہنچا۔ عدالت میں انگریز جج تھا۔ ہندوؤں نے جا کر ان سے کہا کہ مسلمانوں کا ایک بڑا ہے، اس کا نام یہ ہے مولوی صاحب ہیں۔ اگر وہ ہی گواہی دے دے کہ ہندوؤں کی نہیں مسلمانوں کی ہے تو ہم چھوڑ دیں گے۔ اب یہ بات ظاہر ہے انگریز جج کو بڑی اپیل کر گئی کہ یہ تو بات بڑی آسان ہو گئی۔ تو اس نے مسلمانوں کے جو رہنما تھے، جو وفد تھا، ان کو بلایا اور ان سے کہا کہ یہ جو مسلمان مولوی ہے، تو ان کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ کہتے ہیں بہت بڑا اچھا ہے۔ تو کوئی دشمنی تو نہیں تمہاری؟ کہتے ہیں نہیں۔ تو پھر ان کو بلایا سمن کے ذریعے سے۔ اس نے کہا میں کسی انگریز سے نہیں ملتا، میں کسی انگریز کے چہرے کو نہیں دیکھنا چاہتا۔ سچا آدمی تھا۔ تو اس تو انگریز جج نے کہا کہ ہم درمیان میں پردہ لٹکا دیں گے، آپ میرے چہرے کو نہ دیکھیں، صرف میرے سوالوں کے جواب دیں۔ اب ظاہر ہے پھر اس پہ وہ کیا کرتا؟ تشریف لے آئے۔ تشریف لائے تو انگریز جج نے پوچھا کہ یہ زمین جو فلاں جگہ پر ہے، تم جانتے ہو؟ کہتے ہیں انگریز کے بچے میں جانتا ہوں۔ یہی الفاظ تھے۔ تو اس نے کہا یہ زمین مسلمانوں کی ہے یا ہندوؤں کی ہے؟ اس نے کہا انگریز کے بچے یہ ہندوؤں کی ہے۔ تو فیصلہ اس نے ہندوؤں کے حق میں کر دیا۔ لیکن وہاں کھڑے کھڑے کئی ہندو مسلمان ہو گئے۔ تو مؤرخ نے لکھا، مسلمان ہار گیا، اسلام جیت گیا۔ مسلمان ہار گیا، اسلام جیت گیا۔ سارے مسلمان بھی نہیں ہارے تھے، آخر وہ مولوی صاحب تو جیت گئے تھے۔ لیکن بہرحال لوگوں نے اس طرح یہ بنا دیا کہ مسلمان ہار گیا، اسلام جیت گیا۔ اصل میں اسلام بھی جیت گیا اور اصل مسلمان بھی جیت گیا۔
تو بہرحال یہ ہے کہ حکم کیا ہے اللہ تعالیٰ کا؟ حکم اللہ کا یہی ہے کہ چاہے کسی کے بارے میں بھی ہو تو سچ بولنا، جو سچی گواہی ہے اس کو چھوڑنا بھی نہیں ہے اور دینا بھی ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو شریعت مطہرہ کے مطابق پوری زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ پاک اسے ہمارے مقدر فرمائے۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر۔